# جہازی میڈیا۔۔۔ نظریوں کا نیٹ ورک > ملت اسلامیہ کا تھنک ٹینک ## Posts - [محترم مولانا ابوالکلام آزاد کا خطاب](https://jahazimedia.com/?p=534) - [دھرم پریورتن، سچائی اور پروپیگنڈه](https://jahazimedia.com/?p=532): آر ایس ایس اور اس كے زیر اثر بی جے پی كی طرف سے بار بار تبدیلیٔ مذهب كے خلاف آواز اٹھتی رهتی هے، بھگوا دهشت گرد پریشان هیں كه آخر كیسے هندو سماج كواپنے دھرم پر قائم ركھا جائے اور ان كو اپنے مذهب سے باهر جانے سے روكا جائے، اس كے لئے مختلف ریاستوں میں ’’دھرم پریورتن ‘‘كا قانون لایا گیا، جو لوگ قانونی تقاضوں كو پورا كرتے هوئے مذهب بدلتے اور خاص كر اسلام قبول كرتے، ان كے خلاف ایف آئی آر درج كی جاتی هے، ابھی سپریم كورٹ نے اتر پردیش كی حكومت كو اس حركت پر پھٹكار لگائی هے، افسوس كه بھگوا گروپ اپنی كمی كو دوسروں میں تلاش كرنا چاه رها هے، وه اس پر غور نهیں كرتا كه خود همارے اندر كیا كمی هے؛ بلكه وه مسلمانوں اور عیسائیوں میں قصور تلاش كرتا هے، ان پر ظلم كرتا هے، ان كو بدنام كرتا هے، ان كے خلاف پروپیگنڈه كرتا هے، مسلم لڑكیوں كو مرتد كرنے كے لئے بڑے بڑے انعامات كا اعلان كرتا هے؛ حالاں كه ان كو خود اپنے دامن كا داغ دیكھنے كی ضرورت هے۔اصل بات یه هے كه ہندو مذہب میں بنیادی طور پر کوئی ایسا ٹھوس عقیدہ نہیں پایا جاتا ، جس کو ہندو عقیدہ اور آئیڈیا لوجی (Ideo Logg) کا نام دیا جاسکے ، جو لوگ ’’ رام ‘‘ کو بھگوان اور خدا مانتے ہوں ، وہ بھی ہندو ہیں اور جوگ ’’ راون ‘‘ کو خدا قرار دیتے ہوں اور رام کو بُرا بھلا کہتے ہوں ، وہ بھی ہندو مذہب ہی کے علمبردار ہیں اور نہرو وغیرہ جیسے دانشور جو مورتی پوجا اور دیوی دیوتاؤں کے وجود کو توہم پرستی قرار دیتے ہوں وہ بھی ہندو ہیں ، غرض ہندو مذہب ’’ موم کی ناک ‘‘ ہے ، اس کی جو صورت چاہو ، بنا لو ، توہم پرستی ہی کے نتیجے میں طبقاتی تقسیم ہندو عقیدہ کا اٹوٹ جزء ہے اور اسی لئے ہندستان میں ہزاروں سال سے دبے کچلے ہوئے لوگوں کا احساس ہے کہ ہندو مذہب در اصل مذہبی قالب میں ’’ برہمن واد‘‘ کی حفاظت سے عبارت ہے ، اس نظام نے صدیوں سے دلت اور پست طبقات کو اپنے طاقتور پنجہ میں دبا رکھا ہے ، جب بھی انھوں نے انگڑائی لینے کی کوشش کی ، نہایت ذہانت کے ساتھ ان پر اپنی گرفت اور مضبوط کردی گئی۔حالاںکہ ہمارا موجودہ جمہوری ڈھانچہ ذات پات کے تصور کی نفی کرتا ہے ؛ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ آج بھی برہمنوں کی تعداد تو چارپانچ فیصد سے زیادہ نہیں ، حکومت کے کلیدی عہدوں پر ان کی تعداد ۶۴ فیصد ہے ، سیاسی تبدیلیوں سے چہرے بدلتے ہیں ؛ لیکن اس حقیقت میں کوئی تبدیلی نہیں آتی ، آج تک پست اقوام میں کوئی شنکر اچاریہ اور مٹھ کا سربراہ نہیں بن سکا ، اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ہندو قوم میں یہ مسئلہ محض ایک سماجی مسئلہ نہیں ؛ بلکہ اس کی جڑیں عقیدہ کی گہرائیوں میں پیوست ہیں ، ان حالات نے دبے کچلے لوگوں کو اس بات پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ ہندو ازم کے اس قید خانے سے اپنے آپ کو باہر نکالیں اور باعزت انسان کی طرح سماج میں زندہ رہیں ، اس کے لئے مشہور رہنما امبیڈکر نے بودھ ازم کو قبول کیا ؛ لیکن جلد ہی سمجھ دار اور باشعور لوگوں نے اس حقیقت کو سمجھ لیا کہ یہ شراب کو آب سمجھنے کے مترادف ہے ، بدھسٹ سماج کو ہندو سماج نے اس طرح جذب کر لیا ہے کہ گویا یہ قید خانہ کی ایک کوٹھری سے نکل کر دوسری کوٹھری میں داخل ہونا ہے ، وہی سماج ، وہی تہذیب ، وہی رسوم ورواج ، بس خداؤں میں ایک خدا کا اضافہ ، یا کچھ دیوتاؤں کی تبدیلی ، یہاں تک کہ دستورِ ہند کے مطابق بھی اس تبدیلی ٔمذہب کے باوجود وہ ہندو ہی شمار کیا جاتا ہے ، لوگ یہ بھی محسوس کرنے لگے ہیں کہ جن مذاہب کی پیدائش اور نشوو نما ہندوستان کی سر زمین میں ہوئی ہے ، برہمنوں نے اپنی ذہانت سے ان کا ایسا ’’ ہندو کرن‘‘ کر دیا ہے ، کہ اب کسی کے لئے ان مذاہب میں سے کسی کو اختیار کرنے کے باوجود ہندو سماج کے مظالم سے نجات پانا اور انصاف حاصل کرنا ممکن نہیں ۔اس لئے بے چین اور بے قرار ذہن و فکر رکھنے والوں کے لئے دو ہی راستے رہ گئے ہیں ، عیسائیت یا اسلام ؟ اس سے کسی حقیقت پسند غیر مسلم کو بھی انکار نہیں کہ اسلام کے عقائد اوراُصول جتنے صاف و شفاف ، عقل و فطرت سے ہم آہنگ ، متوازن اور انسانی ضروریات کے لئے موزوں اور مناسب ہیں ، کسی اور مذہب میں اس کی مثال نہیں ملتی ، اللہ کی وحدت اورانسانوں کی وحدت ، یہ اسلام کا انقلابی تصور ہے اور دونوں ایک دوسرے سے مربوط ہیں ، اگر خدا ایک ہے ، اس کا کوئی خاندان ، کنبہ نہیں اور کسی انسانی طبقہ سے اس کی قرابت مندی اوررشتہ داری نہیں تو اس سے خود بخود انسانی وحدت اور مساوات کا تصور اُبھرتا ہے ، پھر اسلام میں کوئی عقیدہ ’’پہیلی‘‘ کی طرح نہیں کہ اس کا سمجھنا مشکل اور سمجھانا مشکل تر ہو ، جیساکہ ہمارے عیسائی بھائیوں کے یہاں ایک میں تین اور تین میں ایک کا تصور (Concept of the Trinity) ہے ، یا ’’ عقیدۂ کفارہ ‘‘ (The Ataoement) ہے کہ غلطی کوئی کرے اور سزا حضرت مسیح علیہ السلام کو جھیلنی پڑے ، اسی لئے مسلمان حالاںکہ اس ملک میں بہت تھوڑی تعداد میں آئے ؛ لیکن اس ملک کے باشندوں نے جو طبقاتی تقسیم کی وجہ سے ظلم وجور سے دو چار تھے اوردیوتاؤں کی ایک فوج کی پرستش کرتے کرتے عاجز آچکے تھے ، انھوں نے اسلام کی دعوت پر لبیک کہا ، افغانستان سے لے کر بنگلہ دیش اور برما تک جو مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد موجود ہے ،وہ اسلام کی اسی کشش کا نتیجہ ہے ۔ بعض لوگ غلط فہمی پیدا کرتے ہیں کہ مسلمانوں نے اس ملک میں جبرا تبدیلی ٔمذہب کرایا ہے ؛ لیکن یہ ایسا جھوٹ ہے کہ خود عقل عام اس کو جھٹلا تی ہے ، ہندوستان کے جنوبی اورساحلی علاقوں میں تو اسلام حضرت عمر فاروق ؓ ہی کے عہد میں آچکا تھا اور نہ صرف پَرْجَا ؛بلکہ بعض راجاؤں نے بھی اسلام قبول کیا تھا ، اس وقت یقیناً درۂ خیبر سے کوئی فوجی قافلہ ہندوستان نہیں پہنچا تھا ، اس وقت جبر و دباؤ کی کیا گنجائش تھی ؟ پھر غو ر کیجئے کہ مسلمانوں نے اس ملک کے مختلف حصوں پر کم و بیش آٹھ سو سال تک حکومت کی ہے ، آج جب حکومت کے بغیر ہندو سماج میں تبدیلی ٔ مذہب کا طوفان اُٹھا ہوا ہے اور کئی ریاستوں میں آبادی کا توازن بدل چکا ہے ، تو اگر اتنا طویل عرصہ جبر و دباؤ سے کام لیا جاتا تو کیا یہ ملک مسلم اکثریت نہیں بن گیا ہوتا ؟ حقیقت یہ ہے کہ جبرو دباؤ تو الگ چیز ہے ، مسلمان حکمرانوں نے تو عام طور پر اسلام کی تبلیغ ودعوت کی طرف بھی توجہ نہیں کی اور اشاعت ِدین کی طرف سے انتہائی تغافل برتا ، ورنہ اگر اس سلسلہ میں تھوڑی بھی کوشش کی جاتی تو اسلام میں جو کشش ہے ، یہی لوگوں کو اسلام کی طرف راغب کرنے کے لئے کافی ہوتی ۔اسلام کے بعد اس ملک کے لوگوں کے لئے زیادہ قابل توجہ مذہب عیسائیت ہے اوراس میں شبہ نہیں کہ پچھلے سو سال میں ہندؤں کی بہت بڑی تعداد نے عیسائیت کو قبول کیا ہے ، اور جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ، کئی ریاستوں میں تو عیسائیت اکثریتی مذہب بن گیا ، میرے خیال میں اس کی بنیادی وجہ دو ہے ، ایک تو مادی وسائل کا استعمال ، ہسپتال ، درسگاہیں اور معاشی فلاح کے مراکز کے قیام و انتظام نے عیسائیت کو اس بات کا موقع فراہم کیا کہ مقامی آبادی میں اثر ونفوذ حاصل کرے اور ان میں داخل ہو سکے ، دوسرے گو عیسائیت ایک عالمی مذہب اور ترقی یافتہ قوم کا مذہب ہونے کی وجہ سے ہندو ازم کے ساتھ مکمل طور پر جذب نہیں کی جاسکتی ؛ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ عیسائیت کا کوئی سماجی تشخص ، نہیں ہے ، شادی ، بیاہ ، سماجی رسم ورواج وغیرہ میں وہ ہندو سماج ہی کا ایک حصہ بن گئے ہیں ، ان کے پاس حلال و حرام اور جائز وناجائز کا کوئی مکمل نظامِ حیات نہیں ، جو ان پر قیود و حدود عائد کرتا ہو اور اپنے پہلے معمولات سے روکتا ہو ، اکثر اوقات تو نام بھی تبدیل نہیں کئے جاتے ، بس کچھ تہواروں کا فرق ہوتا ہے ، شرک پہلے بھی تھا اور اب بھی ہے ، مورتی کی پرستش پہلے بھی تھی اور اب بھی ہے ، اس لئے جب کوئی ہندو عیسائی مذہب قبول کرتا ہے تو اسے بہت ہی معمولی تبدیلیوں سے گذرنا پڑتا ہے ، اس کی عملی زندگی میں تو کوئی انقلاب آتا ہی نہیں اور اسے فکر و عقیدہ کے اعتبار سے بھی کسی غیر معمولی تبدیلی سے گذرنا نہیں پڑتا ۔اسلام مذہب کے معاملہ میں ایسی دو رنگی اور دو عملی کوروا نہیں رکھتا ، اسلام قبول کرنے کا مطلب خداؤں میں ایک خدا کا اضافہ نہیں ؛ بلکہ اللہ سے رشتہ جوڑ کر تمام توہمات سے رشتہ توڑنا ہے ، اس کی عبادتیں الگ ہیں ، اس کے تہوار الگ ہیں ، وہ غیر مسلم خاندانوں سے شادی بیاہ کا تعلق قائم نہیں رکھ سکتا ، وہ ایمان لانے کے بعد اپنے والدین کے ترکہ سے حصہ نہیں پاسکتا ، اس کو کھانے ، پینے ، خریدنے ، بیچنے ، کمانے غرض زندگی کے ہر شعبہ میں حلال و حرام کی حدیں قائم کرنی پڑتی ہیں اور حرام سے بچنا پڑتا ہے ، دین یقیناً آسان ہے ؛ لیکن جو نفس کی ہر خواہش پر لبیک کہنے کا عادی بن چکا ہو ، اس کے لئے حق پر گامزن ہونا ، لوہے کا چنا چبانے کے مترادف ہے ، گویا مسلمان ہونے کے بعد انسان ایک سماج سے دوسرے سماج کی طرف ہجرت کرتا ہے ، اس لئے یہ پھولوں کی سیج نہیں ؛ بلکہ کانٹوں کا فرش ہے ، اسی بنا ء پر جو لوگ خدا سے ڈر کر سچائی اورحقیقت کی تلاش کے جذبے سے معمور ہو کر اور عزم و ارادہ کی قوت سے مسلح ہو کر قدم اُٹھانا چاہیں ، وہی اس راہ پر آسکتے ہیں ، کسی بھی شخص کو حقیر ، معمولی اور مادی مقاصد کے تحت اس راہ میں آبلہ پائی کا حوصلہ نہیں ہو سکتا ؛ چنانچہ ایک تو ان مشکلات اور دوسری طرف دعوتِ اسلام کے کاموں سے غفلت کی بناء پر آزاد ہندوستان میں عیسائیت کی طرف ہندو سماج کا رُجوع زیادہ ہوا ہے ۔ ہندوستان ایک سیکولر اور جمہوری ملک ہے ، جو ہر شخص کو اپنے ضمیر کی آواز پر عمل کرنے کی گنجائش فراہم کرتا ہے ؛ چنانچہ دستورِ ہند کے بنیادی حقوق کی دفعہ : ۲۵ میں تمام شہریوں کے لئے آزادیٔ ضمیر اور آزادی سے مذاہب پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا مساوی حق شامل ہے ، اس لئے سنگھ پریوار کا ’’ دھرم پری ورتن ‘‘ پرچیں بہ جبیں ہونا یقیناً ہندوستان کے دستور سے بغاوت کرنے کے مترادف ہے ، اپنی بیماری کو دور کرنے کے بجائے ان لوگوں کو بُرا کہنا جو بیماری کو بیماری سمجھتے ہیں ، بے وقوفی ہی کہی جاسکتی ہے ۔ اسلام نے بھی ضمیر و اعتقاد کی آزادی کو تسلیم کیا ہے ، اللہ تعالیٰ نے صاف ارشاد فرمایا کہ ہدایت گمراہی کے مقابلہ واضح ہو چکی ہے ؛ لہٰذا دین کے معاملہ میں کوئی جبر و دباؤ نہیں ہے : لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ(البقرۃ : ۲۵۶) رسول اللہ ﷺسے صاف ارشاد فرمایا گیا کہ آپ کا کام صرف نصیحت کرنا ہے ، آپ داروغہ نہیں ہیں کہ ان کو اپنی بات ماننے پر مجبور کردیں : اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَکِّرٌ لَسْتَ عَلَیْھِمْ بِمُصَیْطِرٍ (الغاشیہ : ۲۱-۲۲) ایک موقع پر ارشاد ہوا کہ اگر اللہ چاہتا تو تمام انسان ہی مومن ہو جاتے ، پھر کیا آپ لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور کر دیں گے ؟: اَفَاَنْتَ تُکْرِہُ النَّاسَ حَتّٰی یَکُوْنُوْا مُوْمِنِیْنَ (یونس : ۹۹) پیغمبر اسلام ﷺکو ہدایت فرمائی گئی کہ اگر وہ آپ کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کردیں تو آپ پر کوئی ذمہ داری نہیں ، آپ پر تو محض یہ ہے کہ پیغامِ ہدایت کو صاف صاف اورکھلے طور پر پہنچا دیں اور بس : فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْکَ الْبَلاَغُ الْمُبِیْنُ(النحل : ۸۲) آپ سے فرمایا گیا کہ جو لوگ کفر پر بضد ہیں ان سے کہہ دو کہ تمہارے لئے تمہارا دین ہے اورمیرے لئے میرا دین : لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْن( الکافرون: ۶) ایک اور موقع پر آپ کی زبان سے کہلا گیا کہ ہمارے لئے ہمارےاعمال ہیں اور تمہارے لئے تمہارے اعمال : لَـنَا اَعْمَالُنَا وَ لَکُمْ اَعْمَالُکُمْ( الشوریٰ : ۱۵) غرض عقیدہ و ضمیر کی آزادی کا قائل اسلام بھی ہے ، وہ کسی شخص کو مسلمان ہونے پر مجبور نہیں کرتا ، ہاں جہاں اسلامی حکومت ہو اور ایک شخص نے مسلمان ہونے کی حیثیت سے شہریت قبول کی ہو اور حقوق حاصل کئے ہوں ، اس کا اسلام سے کفر کی طرف سفر کرنا نہ صرف روشنی سے تاریکی کی طرف سفر کرنا ہے ؛ بلکہ گویا ملک سے بغاوت ہے اور بغاوت کسی بھی سیاسی نظام میں ناقابل برداشت ہے ، اسی لئے جہاں اسلامی حکومت ہو وہاں ارتداد موجب قتل ہے ۔ بہرحال تبدیلی ٔ مذہب پر ہونے والی یہ بحثیں مسلمانوں کے لئے مایۂ عبرت ہیں کہ ہندو سماج جو پاکیزہ مذہبی تصورات اور عقل انسانی سے ہم آہنگ عقائد سے محروم اور توہمات کے شکنجہ میں قید ہے اور جو روحانی سکون کے لئے مضطرب اور طبقاتی تقسیم کی وجہ سے مظلوم اور ستم رسیدہ ہے ، اسلام جیسا صاف ستھرا ، پاکیزہ ، روحانی اور اخلاقی قدروں سے معمور ، عقل و فطرت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ، انقلاب انگیز اور انسانیت کی اصلاح کے لئے غیر معمولی صلاحیت کا حامل اور اثر انگیز مذہب و عقیدہ کا حامل ہونے کے باوجود انھوں نے اپنے فرائض سے بےاعتنائی برتی اور آج تک بھی ہم کوئی منظم اور منصوبہ بند ، دعوتی اور تبلیغی سعی و کاوش نہیں کر رہے ہیں ؛ حالاںکہ یہی فریضہ ہے ، جو نصرت خداوندی کی کلید اور خدا کے غیبی نظام کے تحت مسلمانوں کی حفاظت و صیانت کا سب سے بڑا ہتھیار ہے ۔ . - [پریانک کھرگے کا آئینہ جمہوریت کی خود احتسابی کی دعوت](https://jahazimedia.com/?p=528) - [وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی](https://jahazimedia.com/?p=521) - [قرآن حکیم غیر مسلموں کی نظر میں](https://jahazimedia.com/?p=519) - [غزل از حفیظ میرٹھی](https://jahazimedia.com/?p=516): غزلپھر رہے ہیں خود نمائی کو وہ بے پردہ کیے اس ہوس نے کیسے کیسے خوب رو رسوا کیے ہم ضرورت اور انا کی کش مکش دیکھا کیےبھیک ٹھکرایا کیے دامن بھی پھیلایا کیے دیکھنے دیتے نہیں، کچھ سوچنے دیتے نہیں وہ جو بیٹھے ہیں نگاہ و فکر پر قبضہ کیے یہ نہ سنا، یہ نہ پڑھنا، یہ نہ بن جانا کہیں شوق کے دروازے ان پابندیوں نے وا کیے وار کو ان کے کبھی خاطر میں لایا ہی نہیں کتنے دشمن میں نے اس تدبیر سے پسپا کیے چاند کا کردار اپنایا ہے ہم نے دوستو! - [علی گڑھ تحریک اور برصغیر کے مسلمانوں کی فکری و تعلیمی بیداری](https://jahazimedia.com/?p=512) - [ویسٹ یا انویسٹ](https://jahazimedia.com/?p=508) - [16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا](https://jahazimedia.com/?p=504) - [مسلمان اور معاشی دشواریوں کا حل](https://jahazimedia.com/?p=502) - [نشہ کی حقیقت اور اس کا علاج اسلامی تعلیمات کی روشنی میں](https://jahazimedia.com/?p=497): خامہ بکف✍🏻 محمد عادل ارریاوی _____________________________________قارئین کرام : جب انسان اپنی فطری راہوں سے ہٹ کر خواہشات کی بھٹی میں جلنے لگے تب وہ اپنی ہی ذات کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن جاتا ہے ایسی ہی ایک مہلک بیماری نشہ خوری کی عادت ہے جو بظاہر وقتی خوشی دیتاہے حالانکہ یہ خوشی نہیں مگر نشہ خوراس کو خوشی اور سرور تصور کرتے ہیں مگر درحقیقت یہ ایک زہر ہے جو جسم وروح رشتوں سماج اور پوری تہذیب کو اندر ہی اندر کھاجاتا ہے۔سماجی اثرات خاندانوں کا بکھرنا رشتوں کا ٹوٹنا نشہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا ناسور بن جاتا ہے وہ باپ جو کبھی بچوں کا محافظ ہوا کرتا تھا نشے کی گرفت میں آ کر خود ان کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ وہ بیٹا جو ماں کی آنکھوں کا تارا تھا نشے کے دھن کھوجاتاہے،ایسے میں گھر کا سکون تباہ وتاراج ہوجاتاہے،رشتوں کی مضبوطی کمزورپڑ جاتی ہے اور معاشرتی زندگی میں گھن لگ جاتاہے،نشہ کرکےگلیوں میں لڑکھڑاتے ہوئے ،پارکوں میں نشے کے عادی اور سڑکوں پر ادھم مچاتےلڑکےماحول کوخراب کرتے دکھائی دیتےہیں، اوریہ سب ہمارے سماج کے چہرے پر بدنما داغ بن چکے ہیں۔اسلام جو فطرت کی آواز ہے نشے کی ہر قسم کو حرام قرار دیتا ہے قرآنِ حکیم میں ارشاد ہوتا ہے اے ایمان والو! - [تعلیم میں تفریح کی آڑ میں تعلیم کا زوال](https://jahazimedia.com/?p=485) - [سلف صالحین سے بدگمانی سے بچیں](https://jahazimedia.com/?p=475) - [مسجد کے قیام کا مقصد ماضی، حال اور مستقبل ( پہلی قسط )](https://jahazimedia.com/?p=473) - [دعا مومن کا ہتھیار ہے لیکن پیش قدمی بھی ضروری ہے!](https://jahazimedia.com/?p=441) - [جنگل کا قانون](https://jahazimedia.com/?p=424) - [کیا گاندھی جی کے اصول دور حاضر میں بھی کارآمد ہیں؟](https://jahazimedia.com/?p=421) - [حضرت نظام الدین اولیاءؒ کی حیات اور افکار](https://jahazimedia.com/?p=415) - [ووٹ چوری ایک سنگین جرم!](https://jahazimedia.com/?p=382): گناہوں کی قران وحدیث میں بہت مذمت کی گئی ہے ،اور جس کو لوگوں کے عرف میں بھی بہت مذموم سمجھا جاتا ہے،ان میں ایک چوری ہے،اصل میں چوری مالک کی اجازت کے بغیر ایسے مال کے چھپا کر لینے کو کہتے ہیں،جس کو اس نے حفاظت میں رکھا ہو،مثلا اپنے کمرے میں یا اپنے صندوق میں رکھا ہو،اور چوری کی جو شرعی سزا ہے:ہاتھ کا کاٹنا،وہ اسی نوعیت کے فعل پر ہے،اگر کوئی شخص بظاہر کسی غیر محفوظ جگہ سے کوئی چیز اٹھا لے،تو اگرچہ یہ بھی چوری ہے؛لیکن اس پر چوری کی سزا نافذ نہیں ہوتی ،چوری کی سزا کا ذکر خود قرآن مجید میں موجودہے، اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا ہے:چوری کرنے والا مرد ہو یا عورت اس کا ہاتھ کاٹ دو(مائدہ :۳۸)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سزا کو نافذ بھی کیا ہے ،اور چور کا دایاں ہاتھ گٹوں سے کٹوایا ہے(مسلم عن عائشہؓ، حدیث نمبر: ۱۶۸۴، باب حد السرقۃ) اس سے اس جرم کی شناعت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے، چوری اُن سنگین جرائم میں شامل ہے،جن کے لئے حدود مقرر ہیں اور اس کے مرتکب کو مقررہ سخت سزا دی جاتی ہے۔حقیقت میں تو چوری کا تعلق مال کے لینے سے ہے،مگر بے جا طور پر چھپا کر کوئی چیز حاصل کرنے اور اپنی ذمہ داری میں کوتاہی برتنے کو بھی ’’چوری‘‘ کہا جاتا ہے،رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو شخص بغیر دعوت کے کسی دعوت میں شریک ہو جائے،وہ آیا چور بن کر اور واپس ہوا غارت گر بن کر: دخل سارقا وخرج مغیرا (ابو داؤد ،حدیث‌ نمبر: ۳۷۴۱, باب ما جاء فی اجابۃالدعوہ)اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کی چوری کا ذکر فرمایا، اگر کوئ شخص نماز ادا کرے اس کے ظاہری افعال کو انجام دے؛ لیکن صحیح طریقہ پر رکوع سجدہ نہ کرے، تو‌ وہ بد ترین چوری ہے،(سنن دارمی عن ابی قتادہ،حدیث نمبر:۱۳۶۷)گویا اس نے اللہ تعالیٰ کے حق میں سے چوری کی ہے،ایسی چوریوں پر اگرچہ شرعی سزا نافذ نہیں ہوگی؛لیکن یہ بھی ایک سنگین جرم ہے،اور اس سے بچنا بھی ضروری ہے ، اسی طرح اگر کوئی مال اس طرح محفوظ نہ کیا گیا جیسے مثلا کؤی چیز بغیر قفل کے عوامی جگہ پر چھوڑ دی گئی،اور کسی نے اس کو بلا اجازت استعمال کر لیا،تو یہ بھی چوری کے دائرہ میں آتا ہے، جیسے بجلی کی چوری،ظاہر ہے بجلی کسی کمرے یا صندوق میں بند کر کے نہیں رکھی جاتی؛لیکن اگر کوئی شخص غیر مجاز طریقہ پر استعمال کرے اور اس کا بل ادا نہ کرے تو یہ بھی چوری میں شامل ہے،اسی طرح اگر حکومت کو اپنی آمدنی کے بارے میں صحیح معلومات فراہم نہیں کی گئیں، حکومت نے منصفانہ طور پر اس کی آمدنی میں جو ٹیکس رکھا ہے،اس کو ادا نہیں کرے ، اپنی دولت کو چھپائے اور غلط بیانی سے کام لے تو یہ بھی ٹیکس کی چوری ہے اور اس پر بھی انسان اللہ کے پاس جواب دہ ہو سکتا ہے، چوری کی بعض اور صورتیں بھی ہمارے سماج میں پائی جاتی ہیں،جن کا مال سے براہ راست تعلق نہیں ہے ؛مگر عرف میں ان کو چوری کہا جاتا ہے، جیسے امتحان میں کوئی امیدوار کتاب دیکھ کر پرچہ لکھے،یا کسی دوسرے کی مدد سے لکھے تو یہ بھی چوری کہلاتی ہے ، اسی طرح چوری کی ایک قسم وہ ہے،جس کا تعلق تصنیف وتالیف اور علمی سرمایہ سے ہے،کسی کی کتاب دوسرا شخص اپنے نام سے چھاپ لے،کسی کے مضمون کو اس کا حوالہ دیے بغیر اپنے نام سے شائع کر لے،کسی کی تحقیق کو اس کا ذکر کئے بغیر اپنی طرف منسوب کر لے، یا اپنی تحقیق کی حیثیت سے پیش کرے، یہ سب علمی سرقہ کی مختلف شکلیں ہیں اور یہ پہلے بھی پیش آتی رہی ہیں،ایک بڑے صاحب علم نے اپنے معاصر کی اس حرکت کو ہدف بناتے ہوئے ایک رسالہ ’’الفارق بین المصنف والسارق‘‘ تالیف کیا ہے،یہ اور اس طرح کی چوری کی بہت سی صورتیں ہیں، جس پر اگرچہ چوری کی شرعی سزا نافذ نہیں کی جا سکتی؛ مگر یہ ہے بہت مذموم اور شرمناک ، اور جھوٹ اور دھوکہ کے گناہ کو شامل ہے، موجودہ دور میں چوری کی ایک نئی شکل سامنے آئی ہے، جس کا نقصان مال و زر کی چوری سے بھی بڑھ کر ہے، اور وہ ہے ووٹ کی چوری ، یہ چوری چھوٹے موٹے غریب و مفلس اور ان پڑھ لوگ نہیں کرتے؛ بلکہ پڑھے لکھے، ذی حیثیت مالدار اور سماج میں اثر ورسوخ رکھنے والے افراد کرتے ہیں،اور اکثر اوقات اس چوری کا مقصد ہوتا ہے نا جائز طریقہ پر کسی عہدے کو ہتھیا لینا،جو اس کا اصل مستحق تھا اس کو اس سے محروم کر دینا، اور بے جا طریقہ پر اقتدار کی کرسی پر مسلط ہو جانا، جن ممالک میں آمرانہ نظام قائم ہے یا بادشاہت کا دور دورہ ہے، وہاں تو یہ چوری کھلے عام ہوتی ہے ؛ کیونکہ اس کو قانون اور دستور کا حصہ بنا‌ لیا گیا ہے، نہ کؤی زبان ہے جو اسے ٹوک سکے اور نہ کؤی قلم ہے جو اسے روک سکے؛ لیکن وہ ممالک جو جمہوریت اور سیکولرزم کا نعرہ لگاتے ہیں، اور یہ نظریہ ان کے دستور کا حصہ ہے، وہاں بھی مختلف طریقوں پر کہیں چھپ کر، کہیں زور زبردستی سے اور کہیں دھوکہ دہی کے ذریعہ اس عمل کو انجام دیا جاتا ہے، اس وقت ہمارا ملک اسی صورتحال سے دوچار ہے ، پورا ملک ووٹ چوری کے نعرے سے گونج رہا ہے، موجودہ حکومت نے اقتدار کے حرص میں ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانے پر ہیر پھیر کی ہے، جو نام نہیں تھے انہیں شامل کیا گیا ہے ، جو نام‌ شامل تھے انہیں بلا وجہ نکال دیا گیا ہے ، اور دیدہ دلیری یہ ہے کہ جو لوگ اس کے مرتکب ہیں، وہ ووٹر لسٹ کی فہرست اور ووٹنگ کی الیکٹرانک رپورٹ بھی دینے کو تیار نہیں ہیں۔اس پس منظر میں بجا طور پر پورے ملک میں کہرام برپا ہے،اللہ کرے اس کا کچھ بہتر نتیجہ سامنے آئے ۔اگر ہم شرعی نقطۂ نظر سے غور کریں تو بعض اعمال کی حیثیت مقصود کی ہوتی ہے ، قرآن وحدیث میں متعین طور پر ان کا حکم دیا گیا ہے ، جیسے نماز و روزہ ، حج و زکوٰۃ وغیرہ ، بعض اعمال مقصود نہیں ہوتے ہیں ، ان کی حیثیت ذریعہ اور وسیلہ کی ہوتی ہے ، تو جو عمل جس بات کا ذریعہ ہو ، جو حکم اس کا ہوگا ، وہی حکم اس ذریعہ کا بھی ہے ، جیسے چلنا ایک عمل ہے ، اگر انسان اس لئے چلے کہ اسے نماز ادا کرنے کے لئے مسجد پہنچتا ہے ، تو اس کا یہ چلنا بھی عبادت کے درجہ میں ہے ، اوراسے ہر قدم پر نیکی ملے گی ، خود حدیث میں اس کا ذکر آیا ہے ، (مسلم، حدیث نمبر: ۶۵۴) اور اگر کوئی شخص شراب پینے کی نیت سے چلے اور اس کا قدم شراب خانہ کی طرف بڑھ رہا ہو ، تو صرف اس کا شراب پینا ہی گناہ نہیں ہے ؛ بلکہ شراب خانہ کی طرف جانا بھی گناہ ہے ، جوں ہی وہ گھر سے شراب خانہ کی طرف شراب پینے کی نیت سے نکلا ، اسی وقت سے گناہ کا عمل شروع ہو گیا ؛ اس لئے جس عمل کے بارے میں شریعت میں جائز و ناجائز یا پسندیدہ و ناپسندیدہ ہونے کا حکم صریحاً موجود نہیں ہو ، دیکھنا چاہئے کہ وہ کس بات کا ذریعہ بنتا ہے ، ایسی بات کا جو شریعت میں پسندیدہ ہے یا ایسی بات کا جو شرعاً ناپسندیدہ ہے ؟ووٹ کا حق حاصل کرنا اور موقع پر اس حق کا استعمال کرنا اس بات کا ذریعہ بنتا ہے کہ آپ اچھے لوگوں کے ہاتھ میں حکومت کی باگ ڈور سونپیں ، اور بُرے لوگوں کو کرسی اقتدار سے دُور رکھیں ، اور یہ ایک شرعی فریضہ ہے کہ جو شخص جس ذمہ داری کا اہل ہے ، اس کو وہ ذمہ داری سونپی جائے : ’’أنْ تُؤدُّوا لْاَمَانَاتِ اِلٰی اَھْلِھَا‘‘(النساء:۵۸) اور یہ بھی ضروری ہے کہ ظالم کو ظلم سے روکا جائے ، جس کی ایک صورت یہ ہے کہ اس کو اس مقام پر پہنچنے نہیں دیا جائے ، جہاں وہ دوسروں کے ساتھ ظلم ونا انصافی کا ارتکاب کر سکتا ہے : ’’ وَلَا تَرْکَنُوْا اِلَی الَّذِینَ ظُلِمُوا‘‘ (ھود:۱۱۳) اس لئے مسلمانوں کو نہ صرف ایک قومی فریضہ ؛ بلکہ ایک دینی فریضہ کی حیثیت سے بھی اس عمل کو دیکھنا چاہئے ، اور کوشش کرنی چاہئے کہ صد فیصد مسلمانوں کے نام ؛ بلکہ تمام شہریوں کے نام ووٹر لسٹ میں درج ہو جائیں ۔ہندوستان میں اس وقت صورت حال یہ ہے کہ فرقہ پرست اور مسلم مخالف طاقتوں نے چوطرفہ حملہ شروع کر دیا ہے ، اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے اور کمزورکرنے کے لئے جتنے ہتھیار ہو سکتے ہیں ، وہ سب آزمائے جا رہے ہیں ، فسادات کرائے جاتے ہیں ، ہجوم کے ذریعہ قتل کی واردات پیش آرہی ہیں ، ذرائع ابلاغ کو مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے کی اجازت دی گئی ہے ؛ بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کی جار ہی ہے ، سوشل میڈیا کی ایک تربیت یافتہ فوج شب وروز جھوٹی خبریں پھیلانے کا کام کر رہی ہے ، غرض مختلف جہتوں سے اسلام ، مسلمان اور مسلم تاریخ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ، ان سب کے پیچھے اصل میں جو طاقت کام کر رہی ہے ، وہ ہے اقتدار کی طاقت ، اور ہندوستان جیسے ملک میں طاقت کا سرچشمہ ووٹ ہے ۔اللہ تعالیٰ کاا رشاد ہے :اور (اے مسلمانو!) - [آسام کے وزیر اعلیٰ کو بلاتاخیر معطل کیا جائے اور ہیٹ اسپیچ کے مقدمات درج کیے جائیں](https://jahazimedia.com/?p=379) - [ماونٹ بیٹن پلان:تقسیم کے انتظامی مسائل](https://jahazimedia.com/?p=373) - [جمعیت علماء سے وابستگی دنیا میں امن آخرت میں سرخروئی کا ذریعہ ](https://jahazimedia.com/?p=371) - [ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند کی حضرت مفتی محمودؒ کی قبر پر حاضری](https://jahazimedia.com/?p=368) - [مفتی نظام الدین قاسمی جمعیت بلاک بسنت رائے کا بلا مقابلہ صدر منتخب](https://jahazimedia.com/?p=366) - [راجہ مہندر پرتاپ کی ایک نایاب تقریر](https://jahazimedia.com/?p=362) - [جمعیت علمائے ہندکا ہاتھ تقسیم ہندستان کے خون سے پاک ہے](https://jahazimedia.com/?p=359) - [جمعیت اور سنگھ میں زمین وآسمان کا فرق ہے: مسٹر جے پرکاش نرائن](https://jahazimedia.com/?p=356) - [سیاسی تربیت گاہ دار الصنائع کمپنی لمیٹڈ کے متعلق ایک اہم فارمولا](https://jahazimedia.com/?p=354) - [مرحبا سرکار کی آمد مرحبا ( صلی اللہ علیہ وسلم)](https://jahazimedia.com/?p=351) - [جمعیت علمائے گڈا جھارکھنڈ کا دستوری انتخاب](https://jahazimedia.com/?p=349) - [اف ؛ مسلمانوں میں بڑھتا ہوا اختلاف!! ( اللہ رحم کرے)](https://jahazimedia.com/?p=347) - [جمعیۃعلماء چاندنی چوک کا انتخاب بحسن و خوبی مکمل](https://jahazimedia.com/?p=322) - [نئی دہلی میں جمعیت کا انتخابی اجلاس پُرسکون اور روحانی فضا میں منعقد ہوا](https://jahazimedia.com/?p=319) - [ہندوستان کا ترنگا: منظر و پس منظر](https://jahazimedia.com/?p=309) - [کمپنی”گلک” میں خرید و فرخت کا شرعی حکم](https://jahazimedia.com/?p=306): قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! - [اچھے برے حالات پر ہمارا طرز عمل](https://jahazimedia.com/?p=303) - [وقف بائی یوزر کے فیصلے پر جمعیت علمائے ہند کی یہ ہے رائے](https://jahazimedia.com/?p=300) - [اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)](https://jahazimedia.com/?p=297): اﷲ کی طرف سے جو نبی و رسول آتے ہیں ، وہ انسانیت کے لئے نمونہ اور آئیڈیل ہوتے ہیں ، ان کا ہر عمل لوگوں کے لئے دلیل کی حیثیت رکھتا ہے ؛ اسی لئے وہ زندگی کے تمام شعبوں میں اعلیٰ ترین معیار پر قائم رہتے ہیں ، ان کی عبادتیں خشوع و خضوع کا نمونہ ہوتی ہیں ، ان کے معاملات راست گوئی اور پاکیزگی پر مبنی ہوتے ہیں ، ان کی معاشرت حسن سلوک اورسماج کے مختلف طبقہ کے ساتھ اچھے برتاؤ اور حقوق کی ادائیگی کی بہترین مثال ہوتی ہے ، وہ اخلاق کی اعلیٰ ترین سطح پر ہوتے ہیں ، یہ بات اس لئے بھی ضروری ہے کہ نبی کا بنیادی فریضہ دعوت و تبلیغ ہے اور دعوت کے مؤثر ہونے کے لئے ضروری ہے کہ مدعو پر اس کے اخلاق وسلوک کے بہترین نقوش ثبت ہوں ؛ کیوںکہ محبت اور خوش اخلاقی سخت سے سخت دل کو بھی پگھلانے کی طاقت رکھتی ہے ، قرآن مجید میں مختلف انبیاء کرام اور ان کی اقوام کے واقعات ذکر کئے گئے ہیں ، ان واقعات میں قوموں کی اپنے انبیاء کے ساتھ بد سلوکی و بد زبانی اور اس کے مقابلہ میں انبیاء کی طرف سے انتہائی درجہ تحمل و بردباری اور خوش گفتاری کا ذکر ملتا ہے ۔جناب محمد رسول اﷲ ﷺکی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ بلند اخلاق کی اعلیٰ ترین سطح پر تھے ؛ اسی لئے قرآن مجید میں آپ ﷺکے بارے میں کہا گیا ہے : إِنَّـکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ (القلم :۴ ) اکثر اخلاقی کمزوریوں کی بنیاد یہ ہوتی ہے کہ انسان کے قول و فعل میں تضاد ہوتا ہے ، وہ گفتگو تو بہت اونچی کرتا ہے ؛ لیکن عمل میں بہت نیچی سطح پر ہوتا ہے ، آپ ﷺ کی زندگی میں قول و فعل کا تضاد بالکل نہیں تھا ، آپ ﷺ لوگوں کو جس بات کی دعوت دیتے اسی پر آپ ﷺ کا عمل ہوتا ؛ اسی لئے حضرت عائشہؓ نے ایک شخص کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اخلاق محمدی کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ ﷺ سراپا قرآن تھے : کان خلقہ القرآن (مسند احمد : ۶؍۹۱ )آپ ﷺکے مزاج کا نمایاں پہلو تواضع و انکساری کا تھا ، آپ مقام نبوت پر فائز ہیں اور پورا جزیرۃ العرب آپ کے قدموں میں ہے ؛ لیکن تواضع اور سادگی کا حال یہ تھا کہ گھر پر خود جھاڑو دے لیتے، بازار سے سودا لاتے ، جوتی پھٹ جاتی تو اسے سی لیتے ، بکری کا دُودھ دوہ لیتے ، (مسند احمد ، حدیث نمبر : ۲۵۶۶۲) کھانے کے لئے بیٹھتے تو نہایت تواضع کی کیفیت کے ساتھ ، اور فرماتے کہ میں اس طرح کھاتا ہوں جیسے غلام کو کھانا چاہئے : ’’ أنا آ کل کما یأ کل العبد‘‘ اگر کوئی غریب آدمی کسی معمولی سی چیز پر مدعو کرتا تو اس کی دعوت بھی قبول فرمالیتے ، مریضوں کے گھر پہنچ کر ان کی عیادت کرتے ، غلاموں کی دعوت بھی قبول فرماتے ، ہر عام وخاص کے جنازہ میں شریک ہوتے ، گدھے کو معمولی سواری سمجھا جاتا تھا ، مگر آپ اس کی بھی سواری کیا کرتے تھے اور اگر کوئی غلام دعوت دے تو اسے بھی قبول فرماتے تھے ۔ (مدارج السالکین : ۲؍۳۲۸)لوگ تعظیم کے لئے کھڑے ہوتے تو منع فرمادیتے ، اگر کسی باندی کا بھی کوئی کام ہوتا اور وہ بھی سرِ راہ اپنی کسی ضرورت کے لئے روکتی تورُک جاتے ، بڑے تو بڑے ، چھوٹے بچوں کو بھی سلام فرماتے ، (بخاری ، عن انس ؓ، حدیث نمبر : ۶۲۴۷) رفقاء کے ساتھ اس طرح بیٹھتے کہ امتیازی شناخت نہ ہونے کی بناپر لوگ آپ کو پہچان نہیں پاتے ، اپنے لئے تعظیم کے جائز الفاظ بھی پسند نہیں فرماتے ، ایک بار بعض حاضرین نے عرض کیا : آپ ﷺ ہمارے آقا ( سید ) ہیں ، فرمایا : ’’نہیں ، آقا تو خدا کی ذات ہے ‘‘ ایک بار لوگوں نے عرض کیا : آپ ہم میں سب سے افضل وبرتر ہیں ، آپ ﷺ نے اس تعبیر کو بھی پسند نہیں فرمایا ، تواضع و فروتنی کا یہ حال تھا کہ فتح مکہ کے موقعہ پر جب دس ہزار مسلح جاں نثار آپ ﷺکے گرد و پیش تھے ، انکساری کی وجہ سے آپ کا سرمبارک اس قدر جھکا ہوا تھا کہ بار بار اونٹنی کے کوہان سے ٹکراجاتا تھا ۔آپ کا رہن سہن بھی تواضع کا مظہر تھا ؛ ایک بار حضرت عمرؓ بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوئے تو دیکھا کہ آپ کھلی چٹائی پر آرام فرمارہے ہیں ، جس پر کوئی بستر بھی نہیں ہے اورسرمبارک کے نیچے چمڑے کا تکیہ ہے ، جس میں چھالیں بھری ہوئی ہیں ، بدن مبارک پر چٹائی کے نشانات ہیں ، حضرت عمر ؓیہ منظر دیکھ کر رونے لگے ، آپ ﷺنے سبب دریافت کیا ، کہنے لگے : اللہ کے رسول ! - [سری لنکا بنگلہ دیش اور نیپال،، کیا سے کیا ہوگیا!! –(تبدیلی کی لہر)](https://jahazimedia.com/?p=292) - [بعثت نبوی اور ہیٹ کرائم کا خاتمہ](https://jahazimedia.com/?p=253): حجۃ الوداع کے موقع پر نبی نے فرمایا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ، وَأَبَاكُمْ وَاحِدٌ، لَا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى أَعْجَمِيٍّ، وَلَا لِأَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ، إِلَّا بِالتَّقْوَى. - [(قسط رابع) وصالِ نبوی کے بعد ہیٹ کرائم کا دوبارہ آغاز اور اس کی عالمی توسیع](https://jahazimedia.com/?p=250) - [کشمیر کا چار روزہ سفر](https://jahazimedia.com/?p=247) - [جھارکھنڈ کے صوبائی انتخاب میں صدر مولانا عبد القیوم اور خازن شاہ عمیر کے بننے پر مبارک باد](https://jahazimedia.com/?p=243) - [مسلمانوں سے آزاد بھارت بی جے پی کا خواب](https://jahazimedia.com/?p=240) - [مولانا توقیر رضا خان اور دیگر تمام گرفتار شد گان کو فی الفور رہا کیا جائےیوپی حکومت پوری ریاست کو فرقہ پرستی کی آگ میں جھونک رہی ہےآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ](https://jahazimedia.com/?p=236) - [مسجد کے قیام کا مقصد ماضی حال اور مستقبل ( دوسری قسط)](https://jahazimedia.com/?p=231): عَنْ أَنَسٍ قَالَ أُمِرَ بِلاَلٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ، وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ. - [اہل سنت والجماعت کے 15 عقیدے](https://jahazimedia.com/?p=225): مسلک دیو بند کوئی جدید مسلک ہے اور نہ کوئی نیا مذہب؛ بلکہ یہ مسلک قرآن و سنت کا پاسبان، احکام خداوندی اور نصائح محمدی کا منار ہے، ان کا عقیدہ، ذاتی نظریہ اور رجحان خالص قرآن اور احادیث کے مطابق ہے جس میں ( با وجود چودہ سو سال گزر جانے کے) ذرہ برابر فرق، حبہ برابر کمی اور نہ رائی کے دانے کے برابر اختلات پیدا ہوا ہے اور نہ پیدا ہو گا۔ ذیل میں ہم عالم اسلام کے بطل جلیل حضرت اقدس مولانا مفتی سيد عبد الشکور صاحب ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کے مشہور رسالہ عقائد اہل سنت و الجماعت (خلاصہ عقائد اہل سنت والجماعت) کی تلخیص کر کے قارئین کے سامنے پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔عقیدہ نمبر 01: ہمارے اور ہمارے اکابرو مشائخ کے نزدیک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت اعلیٰ درجے کی مراتب، باعث سعادت اور سبب حصول درجات ہے بلکہ واجب کے قریب ہےعقیدہ نمنر 02: مدینہ منورہ کا سفر کرتے وقت رسول اقدس کی قبر اطہر کی زیارت کی نیت کرے اور ساتھ ہی مسجد نبوی اور دیگر مقامات و زیارت گاہ ہائے متبرکہ کی بھی نیت کرے ۔عقیدہ نمبر 03: رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم جہاں پر آرام فرما رہے ہیں وہ جگہ دنیا و ما فیہا؛ حتی کہ عرش و کرسی سے بھی افضل اور بابرکت ہے.عقیدہ نمبر 04: ہمارے اور ہمارے علمائے کرام کے نزدیک دعاؤں میں بزرگان عظام اور صلحائے کرام کا توسل (وسیلہ جائز ہے، مثلاً یوں کہے "اے اللہ میں بوسیلہ فلاں بزرگ کے دعا کی قبولیت اور حاجت برآری چاہتا ہوں یا اس جیسے اور کلمات کہے. - [برادران وطن كے مذهبی تیوهار اورمسلمان!](https://jahazimedia.com/?p=222) - [اورنگ زیب عالمگیرؒ سچائی اور پروپیگنڈه(۲)](https://jahazimedia.com/?p=219) - [اورنگ زیب عالمگیرؒ سچائی اور پروپیگنڈه](https://jahazimedia.com/?p=216) - [عقیدهٔ توحید اور توهم پرستی](https://jahazimedia.com/?p=213) - [اسلامی تناظر میں بہن کے ساتھ حسن سلوک کا واقعہ](https://jahazimedia.com/?p=210): واقعہفتح مکہ کے بعد غزوۂ حنین میں قبیلۂ ہوازن کے کچھ لوگ قیدی بنے۔ ان میں حضرت شیماء رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا:> "میں آپ کی رضاعی بہن ہوں، اور یہ میرا ثبوت ہے۔”نبی ﷺ نے فوراً ان کی بات سنی، ان کا ثبوت مانا، اور پھر نہایت محبت اور عزت سے پیش آئے۔— نبی ﷺ کا حسن سلوک۔1.آپ ﷺ نے انہیں فوراً آزاد فرمایا، اور فرمایا:> "اگر تم چاہو تو میرے ساتھ رہو، اور اگر چاہو تو اپنے قبیلے واپس چلی جاؤ۔”حضرت شیماء رضی اللہ عنہا نے اپنے قبیلے واپس جانے کا انتخاب کیا، تو آپ ﷺ نے ان کے لیے تحفے، سواری اور سامان مہیا کیا۔2. - [پاکستان کے متعلق حضرت مولانا شاہ عطاء اللہ بخاری ؒ کی پوری ہوتی پیشین گوئیاں](https://jahazimedia.com/?p=206): حضرات! آج میں نے کوئی تقریر نہیں کرنی؛ بلکہ چند حقائق ہیں، جنھیں بلا تمہید کہنا چاہتا ہوں۔ آئینی اور غیر آئینی دنیا میں خواہ اس علاقے کا تعلق ایشیا سے ہو، یا یورپ سے، اس وقت جو بحث چل رہی ہے، وہ یہ ہے کہ ہندستان کی ہندو اکثریت کو مسلم اکثریت سے جدا کر کے برصغیر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے، قطع نظر اس کے کہ اس کا انجام کیا ہوگا؟مجھے پاکستان بن جانے کا اتناہی یقین ہے، جتنا اس بات پر کہ صبح کو سورج مشرق ہی سے طلوع ہوگا؛ لیکن یہ پاکستان وہ پاکستان نہیں ہو گا، جو دس کروڑ مسلمانوں کے ذہنوں میں موجود ہے اور جس کے لیے آپ بڑے خلوص سے کوشاں ہیں۔ ان مخلص نو جوانوں کو کیا معلوم کہ کل اُن کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ بات جھگڑے کی نہیں، بات سمجھنے اور سمجھانے کی ہے۔ سمجھا دو، مان لوں گا، لیکن تحریک پاکستان کی قیادت کرنے والوں کے قول و فعل میں بلا کا تضاد ہے اور بنیادی فرق ہے۔ اور اگر مجھے کوئی اس بات کا یقین دلا دے کہ منقسم پاکستان کے کسی قصبے کی گلی میں کسی شہر کے کسی کوچے میں حکومت الہیہ کا قیام اور شریعت اسلامیہ کا نفاذ ہونے والا ہے، تو رب کعبہ کی قسم! - [لڑکی ہے تو گلا کاٹ دیں کیا](https://jahazimedia.com/?p=199): اور جب ان میں سے کسی کو لڑکی کی خوشخبری سنائی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے اور دل ہی دل میں گھٹنے لگتا ہے، جو بری خبر اسے دی گئی ہے اس کی وجہ سے لوگوں سے منہ چھپائے پھرتا ہے۔ سوچتا ہے کہ کیا اس کو ذلت ورسوائی کے باوجود اپنے پاس رکھے، یا اسے زندہ در گورکردے، آہ! - [رحم مادر میں بیٹی کے نام ماں کا خط](https://jahazimedia.com/?p=196): میری پیاری و لاڈلی نور نظر ! - [‬ڈاکٹر سید احمد قادری : افسانے سے صحافت تک](https://jahazimedia.com/?p=193) - [نیا سال 2025](https://jahazimedia.com/?p=176) - [اردو ہے جس کا نام](https://jahazimedia.com/?p=169) - [گاندھی جینتی یا یوم عدم تشدد](https://jahazimedia.com/?p=161) - [ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے](https://jahazimedia.com/?p=158): (۹)ترجمے والی زبان میں الفاظ کی ترتیب کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے، کیوں کہ کبھی ایسا ہوتاہے کہ جملے کے ہر ہر جز کا ترجمہ تو صحیح ہوتاہے، لیکن الفاظ کی ترتیب میں الٹ پھیر ہونے کی وجہ سے جملے کا مفہوم ہی بدل جاتاہے، جیسے: ’حامد پڑھ رہاہے‘ کا انگریزی میں ترجمہ کیا جائے؛ تو ترجمہ ہوگا: Hamid is reading. - [آئی لو محمد۔۔ بٹ!!](https://jahazimedia.com/?p=151) - [صوبہ دہلی کے ضلعی جمعیتوں کے انتخابات شروع۔ ضلع شاہدرہ کا انتخاب مکمل ۔مولانا خلیل احمد متفقہ طور پر صدر منتخب](https://jahazimedia.com/?p=145) - [مومن وہ ہے جو لغو اور لا یعنی سے بچے !](https://jahazimedia.com/?p=120) - [قیام اسرائیل اور قرآن (ایک شرعی تجزیہ)](https://jahazimedia.com/?p=855) - [قصہ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم](https://jahazimedia.com/?p=853) - [بدلتے بھارت میں، بدلہ لینے کا پروان چڑھتا ذہن](https://jahazimedia.com/?p=850) - [مولانا معز الدین احمدؒ یادیں ان کی ، ان کی باتیں](https://jahazimedia.com/?p=848): جمعیت علمائے ہند کی تاریخ کے کچھ حصے تو وہ ہیں، جو کسی نہ کسی کتاب میں چھپے ہوئے ہیں؛ لیکن کچھ تاریخیں ایسی بھی ہیں، جو آج تک حیطہ تحریر میں نہیں لایا گیا ہے، وہ سینہ بہ سینہ ہی منتقل ہوتا آرہا ہے۔ تاریخ کے اس حصہ کا ایک وافر ذخیرہ مولانا کے سینہ میں محفوظ تھا۔ائے کاش! - [مکمل آزادی کا مطالبہ سب سے پہلے کس نے کیا؟](https://jahazimedia.com/?p=845) - [بھارت کی قسطوں کی آئینی آزادی](https://jahazimedia.com/?p=843): پھر 1947ء میں ماؤنٹ بیٹن بھارت کا آخری وائسرائے بن کر آیا۔ پہلے انھوں نے کیبنٹ مشن کے پلان کو منظور کرنے کے لیے کہا؛ لیکن جب مسلم لیگ، جمعیت علمائے ہند اور کانگریس کے درمیان متحدہ قومیت، اکھنڈ بھارت اور مطالبہ پاکستان کے مختلف و متضاد نظریات نے ماؤنٹ بیٹن کو کوئی متفقہ فیصلہ کرنے سے قاصر رکھا، تو بیٹن نے تقسیم ہند کے مطالبہ کو منظور کرتے ہوئے ، 14/اگست1947 کو پاکستان اور 15/اگست 1947 کو بھارت کو مکمل طور پر آزادی دینے کا فیصلہ کردیا. - [قائد جمعیت کی قیدوبند](https://jahazimedia.com/?p=840) - [تہذیب کا جنازہ اور اسٹیج کی چکاچوند](https://jahazimedia.com/?p=838) - [آئینی روایت کا امتحان کرناٹک میں گورنر کا طرزِ عمل اور جمہوریت](https://jahazimedia.com/?p=835) - [واپسی](https://jahazimedia.com/?p=832): ہنستی تھیں، سرگوشیاں کرتیں، اور باپ نصیحت کرتا تو طنز اتر آتا۔ ابا! - [حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کی کتاب التشرف بمعرفۃ احادیث التصوف کی طباعتوں پر ایک نظر](https://jahazimedia.com/?p=830) - [رہبرکارواں جاتارہا!حضرت مولانا خورشید عالم صاحبؒسابق شیخ الحدیث دارالعلوم وقف](https://jahazimedia.com/?p=827) - [ہندستان کے ایک معروف سیاسی قائد اورطبی معالج ڈاکٹر عبدالرحمن ڈمرانوی](https://jahazimedia.com/?p=825) - [تحقیق وتصنیف کے زریں اصول](https://jahazimedia.com/?p=823) - [پرزور اسلوب](https://jahazimedia.com/?p=820): ’’اے مغرور انسان ! - [رنگین اسلوب](https://jahazimedia.com/?p=817): اس شعر کے دوسرے مصرعے کامطلب یہ ہے کہ مرغ کا دل تڑپنا دیکھ کر صیاد کا دم پھڑک جائے، لیکن الفاظ کی نشست میں الٹ پھیر ہونے کی وجہ سے’ تعقید لفظی ‘پیدا ہوگئی ہے؛ کیوں کہ فوری طور پر ذہن اس معنی کی طرف منتقل نہیں ہوتا ؛ بلکہ یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اے مرغ دل ! - [پر شکوہ اسلوب](https://jahazimedia.com/?p=814): ’’اے میری بلبل ہزارداستاں! اے میری طوطیِ شیوہ بیاں! اے میری قاصد! اے میری ترجمان! اے میری وکیل! اے میری زبان! - [مصورانہ اسلوب](https://jahazimedia.com/?p=811): ’’(۱)کیا سمندر سوکھ گئے جو بادل نہیں آتے ؟ سوکھ گئے ۔ سمندر بھی سوکھ گئے ۔ (۲)سمندر ! - [موجز اسلوب](https://jahazimedia.com/?p=808) - [بے تکلف اسلوب](https://jahazimedia.com/?p=805): ’’جب آفتاب چھپا اور ماہتاب نکلا۔ خجستہ یا س بھری ہوئی رخصت لینے طوطے کے پاس گئی اور کہنے لگی اے طوطے! - [سلیس اور سادہ اسلوب](https://jahazimedia.com/?p=802): اے دبدبۂ نظم ! - [مقالہ نگاری کے چند رہ نما اصول](https://jahazimedia.com/?p=799) - [حرف نون کا اعلان وسقوط](https://jahazimedia.com/?p=796) - [تراکیب مُہَنَّد](https://jahazimedia.com/?p=793) - [رموز اوقاف](https://jahazimedia.com/?p=790): (۵) ندائیہ لفظوں کے بعد، جیسے: بھائیو، بہنو، دوستو، بزرگو! - [اردو املا: چند ضروری اصول](https://jahazimedia.com/?p=787) - [مصوتے، مصمتے اور فارسی و عربی الاصول کی شناخت کے اصول](https://jahazimedia.com/?p=784) - [اردو کی تاریخ اور مدارس کی اردو خدمات](https://jahazimedia.com/?p=781) - [آنکھوں کی ٹھنڈک](https://jahazimedia.com/?p=779): سیرت کا ایک اور اہم واقعہ بھی رجب ہی میں پیش آیا ، جو معراج ہی سے متعلق ہے اوروہ ہے : پانچ وقتوں کی نمازوں کا فرض ہونا ، یوں تو نمازیں پہلی اُمتوں پر بھی فرض تھیں ، خود قرآن مجید میں اس کا اشارہ موجود ہے ، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبۃ اللہ کی تعمیر کرتے ہوئے اس کی غرض یہی بتائی کہ یہاں نمازیں قائم کی جائیں گی ، (ابراہیم: ۳۵) اور اپنے ساتھ ساتھ اپنی ذریت کے لئے بھی دُعا فرمائی کہ بار الٰہا ! - [ہندستان اس طرح آزاد ہوا](https://jahazimedia.com/?p=777) - [خلاصہ تحریک آزادی ہند اور جمعیت علمائے ہند](https://jahazimedia.com/?p=771): اس کانفرنس کے ایک اجلاس میں مولانا محمد علی جوہر صاحب نے یہ تاریخی جملہ کہا کہ: ’’ مائی لارڈ! - [جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: بارھواں سال: 1930ء](https://jahazimedia.com/?p=768) - [جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم:گیارھواں سال:1929ء](https://jahazimedia.com/?p=766) - [جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم:دسواں سال: 1928ء](https://jahazimedia.com/?p=764) - [جمعیت علمائے ہند قدم بہ قدم: نواں سال:1927ء](https://jahazimedia.com/?p=761) - [جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: ساتواں سال: 1925ء](https://jahazimedia.com/?p=756) - [جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: چھٹا سال: 1924ء](https://jahazimedia.com/?p=753) - [حجۃ الاسلام اکیڈمی دیوبند کی کامیابی کا راز](https://jahazimedia.com/?p=751) - [ایک روحانی سفر کی روداددیوبند سے بوڑیہ (ہریانہ) تک](https://jahazimedia.com/?p=749) - [حضرت مولاناحافظ پیرذوالفقار احمدصاحب نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ](https://jahazimedia.com/?p=745) - [جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم:آٹھواں سال: 1926ء](https://jahazimedia.com/?p=742) - [جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم:پانچواں سال: 1923ء](https://jahazimedia.com/?p=740) - [جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم:چوتھا سال: 1922ء](https://jahazimedia.com/?p=737) - [جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: تیسرا سال:1921ء](https://jahazimedia.com/?p=731) - [جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: دوسرا سال: 1920ء](https://jahazimedia.com/?p=729) - [جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: پہلا سال: 1919ء](https://jahazimedia.com/?p=727) - [مولانا سید ہاشم ندوی](https://jahazimedia.com/?p=723) - [ہندوتو، آگے کا سوال](https://jahazimedia.com/?p=718) - [فرقہ واریت کی زد میں تعلیم اور مسلمانوں کا غیر محفوظ مستقبل](https://jahazimedia.com/?p=714) - [کیا مسلمانوں کے اندر اتحاد کی گنجائش ہے؟](https://jahazimedia.com/?p=712) - [آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں](https://jahazimedia.com/?p=709) - [وحی خداوندی به مقابله عقل انسانی](https://jahazimedia.com/?p=706) - [جناب پرواز رحمانی کی وفات](https://jahazimedia.com/?p=704): دہلی کے سابق ایڈیٹر جناب پرواز رحمانی کی وفات پر ہندوستان ہی نہیں بلکہ اردوکی نئی پرانی بستیوںخصوصاً میدان صحافت میں ایک قسم کاسناٹاساچھایااورماتم کے گھنے بادل دکھائی پڑتے ہیں کہ آج جناب عبدالحق بہ تخلص پروازؔ رحمانی کی صورت میں اردوکی ایماندارانہ اورعادلانہ صحافت کے ایک عہدکاخاتمہ ہوگیاہے،اللہ تعالیٰ سےدعاہے کہ رب غفوران کواپنے شایان شان سایہ عاطفت میںخلدبریں میں مقام عطافرمائے۔اس رنج کی گھڑی میں ہر چار چھ گھنٹے کے وقفہ وقفہ سے کسی نہ کسی قلم کار، اردو کے سپاہی، صحافت وعلم وادب کے دلدادہ کامرحوم کو خراج عقیدت یاتعزیتی پیغام واٹس ایپ ،نیز دیگر سوشل میڈیا پر دیکھنے کو مل رہاہے ،احقر نے بھی موصوف کی الفت کے تقاضہ سے سرشار ایک قطعہ تاریخ وفات کہاہے، حالانکہ مرحوم کے حق میں محترم دوست اورمشہور قطعہ تاریخ وفیات کے ماہر شاعر جناب مظفرنایابؔ صاحب کاشاندارخراج تحسین قطعہ تاریخ کی صورت میں کل ہی موصول ہوگیاتھا۔بہرحال! - [همیں خود اپنا احتساب كرنا چاهئے!](https://jahazimedia.com/?p=701) - [نئے بھارت کی بھیانک تصویر](https://jahazimedia.com/?p=698) - [خدا كا وجود اور كائنات كی شهادت](https://jahazimedia.com/?p=694) - [سال نو کا جشن اورمسلمان](https://jahazimedia.com/?p=691) - [جارحانہ و نفرت پسند ہندوتو کی زد میں بھارت](https://jahazimedia.com/?p=688) - [نصابِ دارالعلوم ہی کیوں ؟](https://jahazimedia.com/?p=685) - [انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!](https://jahazimedia.com/?p=683): اسلام کی نگاہ میں سب سے بڑا گناہ اللہ کے ساتھ شرک اور کفر ہے ، اس کی سزا ہمیشہ کے لئے دوزخ ہے ، جو شخص کفر کی حالت میں دنیا سے چلا جائے ، اس پر جنت کے دروازے بند ہیں اور ہمیشہ کے لئے آتشیں دوزخ کی آغوش اس کی رفیق رہے گی ، کفر کے بعد ایک ہی عمل ہے جس کے بارے میں فرمایا گیا کہ اس کا مرتکب ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا ، اس پر اللہ کا غضب ہوتا رہے گا اور اللہ کی لعنت برستی رہے گی ، کتنا گھبرادینے اور تڑپا دینے والا ہے یہ ارشاد ربانی : وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَھَنَّمُ،خَالِدًا فِیْھَا وَغَضَبَ اﷲُ عَلَیْہِ وَلَعْنَہٗ وَاَعَدَّ لَہٗ عَذَابًا عَظِیْمًا ۔ (النساء : ۹۳)جو جان بوجھ کر کسی مسلمان کو قتل کرے اس کا بدلہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا ، اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہو اور اللہ نے اس کے لئے بھیانک عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ کتنی لرزہ براندام کردینے والی ہے یہ آیت ! - [پریم بنام پرستش](https://jahazimedia.com/?p=681) - [جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ گڈا کا سالانہ تعلیمی رپورٹ](https://jahazimedia.com/?p=671) - [تعارف مفتی محمد نظام الدین قاسمی بانی مہتمم جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ](https://jahazimedia.com/?p=669): معزز علمائے کرام! - [سکریٹری رپورٹ جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے ضلع گڈا جھارکھنڈ](https://jahazimedia.com/?p=666): اس بیداری مہم کے بعد جمعیت کو لوگوں نے قریب سے جانا اور ممبر سازی میں زبر دست انقلاب آیا اور پہلی بار بلاک سطح پر اڑتالیس سو سے زائد ممبر سازی ہوئی جمعیۃ علماء بلاک بسنت رائے ضلع گڈا کی انتخابی نشست کا انعقاد بعد نماز مغرب مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ کے دفتر میں عمل میں آیا، اس انتخاب کی خصوصیت یہ رہی کہ اس میں دستوری انتخابی ضابطہ کی مکمل پاسداری کی گئی، اس میں نگراں کی حیثیت سے مولانا محمد یاسین صاحب جہازی انچارج شعبہ دعوت اسلام جمعیۃ علمائے ہند کی شرکت رہی، مولانا یاسین صاحب نے تلاوت کلام پاک کے بعد انتخاب کے اصول و ضوابط کو نہ صرف پڑھ کر سنایا بلکہ بہت سے مقامات پر استفسار کے بعد مکمل وضاحت کی، اس کے بعد ہی انتخابی کارروائی عمل میں آئی، چنانچہ ضابطہ کے مطابق 59 افراد مجلس منتظمہ کے ممبران قرار پائے پھر مجلس منتظمہ کے ان ممبران کے ذریعہ مجلس منتظمہ کے عہدیداران کا انتخاب عمل میں آیا، اس کے مطابق مفتی سفیان ظفر قاسمی استاد مدرسہ حسینیہ تجوید القرآن دگھی کو صدر اور مفتی نظام الدین قاسمی مہتمم مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہازقطعہ کو جنرل سکریٹری مقرر کیا گیا، جمعیۃ کے خازن مولانا سرفراز قاسمی نائب مہتمم مدرسہ رحمانیہ جہازقطعہ قرار پائے جبکہ نائب صدر کے طور پر مولانا محمد سرفراز قاسمی سانکھی سابق استاذ:دارالعلوم الاسلامیہ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ اور قاری ارشاد صاحب کدمہ سابق استاد مدرسہ عربیہ اسلامیہ خرد سانکھی کو منتخب کیا گیا اور نائب ناظم کے طور پر مفتی زاہد امان قاسمی مہتمم جامعہ خدیجۃ الکبری بسنت رائے اور ڈاکٹر نسیم صاحب مانجر اور معاون کے طور پر محمد شاہد جھپنیاں کو منتخب کیا گیا. - [استقبالیہ برائے مفتی محمد نظام الدین قاسمی](https://jahazimedia.com/?p=660): معزز صدرِ محفل، دہلی سے تشریف لائے ڈاکٹر انیس الرحمان صاحب اور مولانا محمد یاسین جہازی صاحب،محترم علما و مفتیانِ کرام، جامعۃ الہدی جہاز قطعہ کے اراکین ، طلبا، اساتذہ اور عملہ ،جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے کے ذمہ داران، معزز ائمہ و خطبا، سماجی و سیاسی شخصیات، عمر دراز بزرگوں، نوجوانوں، ساتھیو اور دور و نزدیک سے تشریف لانے ہوئے مہمانانِ گرامی! - [کارروائی رپورٹ سالانہ تعلیمی پروگرام جامعۃ الہدی جہاز قطعہ گڈا جھارکھنڈو تقریب استقبالیہ جمعیت علمائے بسنت رائے](https://jahazimedia.com/?p=655) - [کارروائی رپورٹ سالانہ تعلیمی پروگرام جامعۃ الہدی جہاز قطعہ گڈا جھارکھنڈ](https://jahazimedia.com/?p=657): معزز صدرِ محفل، دہلی سے تشریف لائے ڈاکٹر انیس الرحمان صاحب اور مولانا محمد یاسین جہازی صاحب،محترم علما و مفتیانِ کرام، جامعۃ الہدی جہاز قطعہ کے اراکین ، طلبا، اساتذہ اور عملہ ،جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے کے ذمہ داران، معزز ائمہ و خطبا، سماجی و سیاسی شخصیات، عمر دراز بزرگوں، نوجوانوں، ساتھیو اور دور و نزدیک سے تشریف لانے ہوئے مہمانانِ گرامی! - [مسجد ضرار کی بنیاد](https://jahazimedia.com/?p=652) - [جہاد کے متعلق جہالت و بے خبری](https://jahazimedia.com/?p=650) - [جہاد، حقیقت اور پروپیگنڈه](https://jahazimedia.com/?p=648) - [اقتدار کے ایوانوں میں لرزش کانگریس کی داخلی جنگ اور کرناٹک کا بے چین سیاسی منظرنامہ](https://jahazimedia.com/?p=644) - [دائرہ حربیہ کے متعلق جمعیت علما کا ایک اہم فیصلہ](https://jahazimedia.com/?p=641) - [بھارت كی تعمیر وترقی میں مسلمانوں كا حصه](https://jahazimedia.com/?p=639) - [ہندستانی تاریخ کے تین عجوبے](https://jahazimedia.com/?p=636): تعجب ہے کہ برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندستان پر قبضہ بھی کیا، ظلم بھی کیے، پھر کہیں برطانیہ پوری دنیا میں بدنام نہ ہوجائے، اس لیے تاجِ برطانیہ نے اسی کمپنی کو پونے چار کروڑ پاؤنڈ کے عوض خرید لیا—مگر اس کی ادائیگی ہندستان کے کھاتے میں ڈال دی! - [مسجد کا پیغام](https://jahazimedia.com/?p=633): اس بات میں کسی کو اختلاف نہیں ہو سکتا کہ موجودہ دور میں ہم مسلمانوں پر شدید قسم کی غفلت اور بے عملی مسلط ہوگئی ہے۔ اور اس بے عملی کا تعلق کسی خاص شعبہ حیات سے نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبہ میں ہم اپنے فرائض سے مجرمانہ غفلت برت رہے ہیں۔ اس عمومی دینی انحطاط کا ایک چھوٹا سا شعبہ یہ بھی ہے کہ ہم نے مساجد کا حق ادا کرنے اور اس کے پیغام کی نشر و اشاعت میں اس حد تک غفلت سے کام لیا کہ اندیشہ ہے کہ ہم پر حضور علی ہے کا یہ ارشاد صادق نہ آرہا ہو کہ مساجدهم عامرة وهى خراب انکی مسجدیں ( ظاہری طور پر آباد ہوں گی لیکن ( در حقیقت ) ویران ۔ ۔ جب ہم قرآن کریم سنت المان نماز امربالم جب ہم قرآن کریم سنت نبویہ خیرالقرون کے تعامل اور سلف صالحین کے طرز پر غور کرتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ اس دور کی مسجدیں در حقیقت مسلمانوں کے روحانی مراکز کی حیثیت رکھتی تھیں ۔ مساجد ہ ہیں ذکر اللہ نماز امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جیسے فرائض ادا کیے جاتے تھے۔ انہی میں قرآن وسنت کی تعلیم اسلام کی طرف دعوت کا اہتمام نو خیرنس کی صحیح اسلامی تربیت باطنی تزکیہ اور عوام الناس کے ذہنوں کو دینی نقل و حرکت اور اپنی ہر ادا سے اسلام کی تبلیغ کرتے تھے۔ خطوط پر استوار کیا جاتا تھا۔ یہی سے دین اسلام کی دعوت کے وہ سپاہی نمودار ہوتے تھے جو صرف زبان اور ہاتوں سے نہیں بلکہ اپنی ایک ایکجب یہ سارے کام اسی سرگرمی سے مسجد میں انجام دیئے جاتے تھے تو ہر مسجد اپنے محلہ کیلئے ہر بھلائی کا منبع اور ہر ہدایت کا سر چشمہ بن گئی تھی۔ جو مسلمانوں میں خالص دینی روح پھونکی تھی اور ان میں ایسی دینی غیرت و حمیت پیدا کر و حمیت پیدا کر دی تھی کہ وہ نہ کبھی کسی بیرونی ترغیب و ترہیب کے آگے سرجھکانے کیلے تیار تھے اورنہ کی باطل نظریہ عمل کواپنانے کا خیال ان کے دل میں آسکتا تھا۔ خواہ اس باطل نظریہ عمل کا ظاہری روکار کتنا دلکش ہو اور خواہ ساری دنیا اس کی شہرت اور رواج سے گونج رہی ہو۔اگر ہم مختصر لفظوں میں مسجد کے پیغام کو تعبیر کرنا چاہیں تو وہ یہ ہے دعوت الی اللہ کلمہ حق کی نشر واشاعت خالص اسلامی ذہنیت کی تعمیر اور ایک ایسی عام دینی و روحانی فضا کا قیام جس میں نیکیوں کو خود بخود فروغ ہو اور برائیاں اپنی موت آپ مر جائیں۔ جن مساجد میں یہ سارے کام قابل ذکر اہتمام کے ساتھ ہوتے ہیں انکی تعداد بہت تھوڑی ہے یا جو حضرات اپنی مسجدوں میں ان دینی خدمات کا اہتمام کرتے ہیں تو عام طور سے یہ سارے کام کسی طور پر انجام دیتے ہیں جو عموما اپنی حقیقت اور روح سے خالی ہوتے ہیں۔ جو صرف کانوں تک پہنچتے ہیں دل میں داخل نہیں ہوتے ۔مسجد کے پیغام کو زندہ کرنے کیلئے چندا ہم تجاویز1ائمہ مساجد ایسے علماء میں سے منتخب کئے جائیں جنہوں نے اسلامی علوم کو ماہر اساتذہ سے حاصل کیا ہو۔-2 ہر مسجد میں ایک ایسی کمیٹی ہو جو امام اور اہل محلہ پر مشتمل ہو ۔ جو دعوت و تبلیغ کیلئے ایک عملی نظام بنائے ۔ جس کے تحت یہ سبلوگ ہر روز یا ہر ہفتے محلے کی عوام کے پاس جا کر ان سے شخصی ملاقاتیں کرے ۔ انہیں نماز کی پابندی، مسجد کی حاضری کی دعوت، نیکیوں کی ترغیب اور برائیوں سے باز رہنے کی تلقین کریں۔ لیکن یہ سارا کام نرمی، محبت و شفقت اور حکمت و موعظہ حسنہ کے اصول پر ہونا چاہیے۔3. - [بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر](https://jahazimedia.com/?p=630): 🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔المعہد العالی الاسلامی میں منعقدہ سہ روزہ سمینار کا اختتاممولانا عتیق بستوی، مولانا خالد سیف اللّٰہ رحمانی اور دیگر کے خطابات ، مختلف تجاویز کی منظوریحیدرآباد،23نومبر(پریس نوٹ) المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد کے زیر اہتمام منعقدہ قومی سیمینار بہ عنوان :”بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار”بتاریخ 21، 22، 23 نومبر 2025ء میں مختلف موضوعات پر 60 سے زائد مقالات پیش کئے گئے، سیمینار اس ناقابل انکار حقیقت کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے کہ ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل ہے، سیمینار کی مختلف نشستوں میں ملک کے علماء ودانشوران، مؤرخین، ماہرین تعلیم، محققین اور سماجی وسیاسی رہنماؤں نے اپنی وقیع آراء سے یہ حقیقت اجاگر کی کہ مسلمان نہ صرف اس ملک کے معمارِ اوّل رہے ہیں بلکہ آج بھی اس کے استحکام، امن اور ترقی کے ضامن ہیں۔ان علمی وفکری مباحث کے نتیجے میں جو نکات سامنے آئے، ان کی روشنی میں درجِ ذیل تجاویز وسفارشات اتفاقِ رائے سے پیش کی جا رہی ہیں تاکہ یہ سیمینار محض علمی نشست نہ رہے بلکہ ایک فکری تحریک اور عملی منشور کی صورت اختیار کرے۔ اختتامی نشست میں جناب اقبال احمد انجینیئر معزز ٹرسٹی معہد نے یہ تجاویز پڑھ سنائے ،تجاویز و سفارشات1. - [بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام](https://jahazimedia.com/?p=627) - [جمعیت علمائے ہند کے 106سال مکمل، تاسیس کی مستند کہانی](https://jahazimedia.com/?p=622) - [بم دھماکے ، اسلامی نقطۂ نظر](https://jahazimedia.com/?p=619): بم دھماکوں سکے واقعات بڑھتے جارہے ہیں ، جہاز اور ٹرین میں تو دھماکے ہوہی رہے تھے ، اب عبادت گاہیں بھی ان کا نشانہ بن رہی ہیں ، عبادت گاہ خواہ کسی قوم کی ہو ، اس کا بنیادی مقصد ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بندگی کرنا ہوتا ہے ، ایسی جگہوں کی بے احترامی سے گذرکر وہاں آنے والوں پر جان لیوا حملے کرنا یقیناً انسانیت سوز عمل ہے ۔حالت امن کی تو بات ہی اور ہے ، حالت جنگ میں بھی صحابہ ؓ کو جن باتوں کی تلقین کی جاتی اور رسول ﷺ فوج بھیجتے وقت جو ہدایات دیتے ، ان میں ایک یہ بھی ہوتی کہ مذہبی پیشواؤں اور عبادت گاہوں کے خادموں کو قتل نہ کیا جائے ؛ چنانچہ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما کی روایت میں ہے کہ رسول اﷲ ﷺ فوج روانہ کرتے وقت یہ ہدایات دیتے :تم لوگ اﷲ کے نام سے نکلو ، ایمان نہ لانے والوں سے اﷲ ہی کے لئے جہاد کرو ، دھوکہ نہ دو ، خیانت نہ کرو ، کسی کو مثلہ نہ کرو ، بچوں کو اور چرچ والوں کو قتل نہ کرو ۔ ( مسند احمد،حدیث نمبر:۲۷۲۸ )اس سے اسلام کی فراخدلی ، وسیع القلبی اور کشادہ چشمی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عین جنگ کے وقت جب اکثر قانون کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے اور یہ بھی اس زمانہ میں جب قوموں کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں تھا اور نہ جنگ کے کسی قانون پر حکومتوں نے دستخط کئے تھے ،یک طرفہ طورپر آپ ﷺنے مہذب قوانین جنگ انسانیت کو دیا اور دوسری قوموں کے مذہبی جذبات کو ملحوظ رکھا ۔بم دھماکوں کے سلسلے میں اسلامی نقطۂ نظر کو جاننے کے لئے چند اُمور کو ملحوظ رکھنا چاہئے :(۱) ان دھماکوں میں صرف قصور وار اور مجرمین کی جانیں نہیں جاتیں ؛ بلکہ بے قصور لوگ بھی اس کی زد میں آجاتے ہیں ۔(۲) ان دھماکوں میں بوڑھے ، بچے ، عورتیں بھی نشانہ بنتے ہیں ۔(۳) مہلوکین کی جانیں اس طرح جاتی ہیں کہ ان کے جسم کے پرخچے اُڑ جاتے ہیں ، بعض دفعہ تو سر ایسا غائب ہوتا ہے کہ بغیر سر کے آخری رسوم انجام دی جاتی ہیں ۔(۴) یہ بنیادی طورپر آتشیں ہتھیار ہے ، اسی لئے دھماکہ کا شکار ہونے والوں کے چہرے جھلس جاتے ہیں ؛ بلکہ پورا جسم ہی ، بارود وغیرہ سے بنیادی طورپر آگ پیدا ہوتی ہے اوریہی آگ دوسرے مہلک مادوں کو لے کر پوری طاقت کے ساتھ اپنے ماحول میں بکھرجاتی ہے اورجہاں تک پہنچتی ہے ، آفت ڈھاتی چلی جاتی ہے ۔اب آئیے ان نکات کے بارے میں شرعی نقطۂ نظر سے غور کریں :(۱) حالت ِامن میں شریعت کا اُصول واضح ہے کہ جو شخص مجرم نہ ہو ، اس پر ہاتھ اُٹھانا جائز نہیں ؛ کیوںکہ ایک کے عمل کی ذمہ داری دوسرے پر نہیں :’’ لا تزر وازرۃ وزر اُخریٰ ‘‘ بلکہ ممکن حد تک میدانِ جنگ میں بھی اس کو ملحوظ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے ، عرب میں لوگ مزدوروں اور غلاموں کو پکڑلیتے تھے اور زبردستی اپنے ساتھ جنگ میں لے جاتے تھے ، ان کی رضامندی شامل نہیں ہوتی تھی ، اسی لئے آپ ﷺ نے مزدوروں اور غلاموں کو بھی جنگ میں نشانہ بنانے سے منع فرمایا : ’’فنهانا أن نقتل العسفاء والوصفاء‘‘۔ ( مسند احمد،حدیث نمبر:۱۵۴۲۰)(۲) بوڑھوں ، بچوں اور عورتوں کو عام حالات میں تو کجا ؟ حالت جنگ میں بھی نشانہ بنانے سے منع کیا گیا ہے ، حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے بہ سند صحیح منقول ہے کہ آپ ﷺنے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ، (مجمع الزوائد : ۵؍۳۱۶)،اسی مضمون کی روایت حضرت کعب بن مالک ؓ کے صاحبزادے سے بھی منقول ہے ، (حوالۂ سابق : ۵؍۳۱۵) ایک اور روایت میں بوڑھوں کا ذکر بھی ہے اور اس کے راوی بھی حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما ہیں ، (حوالۂ سابق : ۵؍۳۱۷) بعض جنگوں میں آپ ﷺنے خواتین کی لاش دیکھی تو اس پر سخت ناگواری کا اظہار فرمایا ، (دیکھئے : حوالۂ سابق : ۵؍۳۱۶) جب حالت جنگ میں بوڑھوں ، خواتین اور بچوں کی یہ رعایت ہے تو معتدل حالات میں میں کیوں کر ایسے اقدام کا جواز ہوسکتا ہے ، جس میں ان کمزوروں کی جانیں جائیں ؟(۳) حدیث میں بار بار مثلہ سے منع کیا گیا ہے ، یہ ممانعت عام حالات میں تو ہے ہی ، جنگ میں بھی اس کو خاص طورپر منع فرمایا گیا ؛ کیوںکہ عربوں کا طریقہ یہ تھا کہ وہ جب اپنے دشمنوں پر فتح پاتے تو نہ صرف ان کو قتل کرتے ؛ بلکہ نہایت ایذا رسانی سے ان کی جان لیتے اورپھر ان کومثلہ بھی کرتے ، ناک کاٹ دیتے ، آنکھیں نکال لیتے ، کان کاٹ دیتے ، یہاں تک کہ مقتول کی کھوپڑی میں شراب پی کر اپنی بڑائی اور قوت کا اظہار کرتے ، رسول اﷲ ﷺ نے اس غیر انسانی حرکت کو نہایت شدت سے منع کیا اور فرمایا کہ اگر کوئی شخص قتل کا مستحق ہو ، یعنی قانونی طور پر اس كا جرم ثابت هو تو اسے بہتر طریقہ پر قتل کرو ، ایذا نہ پہنچاؤ اور مثلہ نہ کرو ، جنگ کے موقع پر آپ ﷺنے جو ہدایات دی ہیں ، ان میں کثرت سے مثلہ کی ممانعت کا ذکر موجود ہے ، (دیکھئے : باب مانہی عن قتلہ من النار وغیر ذالک ، مجمع الزوائد : ۵؍۱۸-۳۱۵) بلکہ اگر کسی شخص نے کسی بے قصور کو قتل کرتے وقت ایذا رسانی اورمثلہ کرنے کا طریقہ اختیار کیا ہو ، تب بھی حکم ہے کہ جب بدلہ میں اسے قتل کیا جائے ، تو سیدھے طور پر تلوار سے قتل کردیا جائے : ’’ لا قود إلا بالسیف‘‘(ابن ماجہ ، عن نعمان بن بشیر،حدیث نمبر:۲۶۶۷) دھماکہ کے ذریعہ انسانی جسم کا جو حشر ہوتا ہے ، وہ یقیناً مثلہ کی بدترین صورت ہے ۔(۴) رسول اﷲ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی انسان دوسرے انسان یاحیوان کو آگ میں جلانے کی سزا دے ؛ کیوںکہ یہ سزا دینا اﷲ ہی کے شایانِ شان ہے : ’’فإنہ لا یعذب بالنار الا رب النار‘‘( سنن ابوداؤد،حدیث نمبر:۲۶۷۳)؛ بلکہ آپ ﷺنے تو کھیتیوں کو بھی جلانے سے منع فرمایا ، ( مجمع الزوائد عن ثوبان : ۵؍۳۱۷) اور بم بنیادی طورپر آتش گیر ہتھیار ہے ۔اس لئے شرعی نقطۂ نظر سے بم دھماکہ جنگ کے علاوہ عام حالات میں کرنا کسی طرح درست نہیں ، اس طرح کے دھماکو ں کو ایشیاء میں دراصل یہودی دہشت گردوں نے رواج دیا ، جنھوں نے ۱۹۴۷ء میں بڑے پیمانے پر فلسطین میں بم دھماکے کئے ، مسلمانوں اور عیسائیوں کو اس کا نشانہ بنایا اور اب یہ انتقام و احتجاج کا ایک اندھا ہتھیار ہوگیا ہے ،جن جمہوری ممالک میں دستوری معاہدہ کی بنیاد پر مختلف قومیں ایک دوسرے کے ساتھ رہتی ہیں اور وہاں احتجاج اور حصول انصاف کے جائز راستے کھلے ہوئے ہیں ، وہاں ایسے دھماکوں کا کوئی جواز نہیں ہوسکتا ، رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس نے کسی مُعاهِد پر ظلم کیا ، یا اس کو نقصان پہنچایا تو میں اس کی طرف سے قیامت کے دن فریق بن کر کھڑا ہوں گا :الا من ظلم معاھداً أو أنقض … فأنا حجیجہ یوم القیامۃ ۔ ( ابوداؤد ، حدیث نمبر : ۳۰۵۲)البتہ ہماری حکومت کے لئے دو باتیں قابل غور ہیں : ایک یہ کہ کسی شخص کو ثبوت و شواہد کے بغیر مجرم کے کٹہرے میں کھڑا کردینا کھلی ہوئی ناانصافی ہے ، مسلمانوں پر ظلم روا رکھا جاتا ہے ، خود حکومت کے قائم کئے ہوئے کمیشن فرقہ پرست تنظیموں اور پولیس عہدیداروں کو قصور وار ٹھہراتی ہیں ؛ لیکن ان کے خلاف کوی ایکشن نہیں لیا جاتا اور اگر اکثریت کو کہیں کوئی نقصان پہنچے تو بلا ثبوت مسلمانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے ؛ حالاںکہ اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لئے فرقہ پرستوں نے ان کے خلاف سازش رچی ہو ۔دوسرے : مسلمان محسوس کرتے ہیں کہ ان پر جو ظلم و ستم ہوتا ہے ، اس پر ظالموں کے ہاتھ تھامے نہیں جاتے ، نہ پولیس انھیں انصاف دیتی ہے ، نہ عدالتیں ان کو انصاف دینے کے لئے حرکت میں آتی ہیں ، بھاگلپور ، مرادآباد اور گجرات کے قتل عام کو عرصہ ہوگیا ؛ لیکن کوئی قابل ذکر کارروائی نہیںکی گئی ؛ بلکہ شقی القلب عہدیداروں کو ترقیوں سے نوازا گیا ؛ لیکن جب مسلمانوں پر کوئی الزام آتا ہے ، تو نہایت برق رفتاری کے ساتھ اس کی تحقیق کی جاتی ہے ، یہاں تک کہ بعض بے قصور لوگوں کو مجرم کے کٹہرے میں کھڑا کردیا جاتا ہے ، جب تک یہ ناانصافی اور دو نظری ختم نہیں ہوگی ، ملک میں حقیقی امن و آشتی قائم نہ ہوسکے گی ۔بہرحال ! - [مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں](https://jahazimedia.com/?p=616) - [سلطنت آصفیہ کی ہندو نوازی](https://jahazimedia.com/?p=614) - [وندے ماترم کا نیا شوشہ](https://jahazimedia.com/?p=610) - [تکبیرِ تشریق کی شرعی حیثیت](https://jahazimedia.com/?p=607) - [قلمِ رواں کی ایک اور روشن کاوش](https://jahazimedia.com/?p=604): الحمدللہ یہ خبر دل میں مسرت کے چراغ روشن کر گئی کہ قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان، نئی دہلی کی جانب سے آپ کی ساتویں تصنیف *"خزانوں کی تلاش"* زیورِ طبع سے آراستہ ہو کر اہلِ ذوق کے لیے دسترس میں آگئی ہے۔ بے شک یہ آپ کی علمی جستجو، مسلسل محنت اور اخلاصِ نیت کا روشن ثمرہ ہے، جس پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ بالخصوص بچوں کے لیے سائنسی کہانیاں نہایت دلچسپ اور موثر اسلوب میں پیش کرنا، اُنہیں جمادات کے فوائد اور روزمرہ زندگی میں ان کے سائنسی استعمال سے واقف کروانا، ایک نہایت کارآمد، بامقصد اور قابلِ قدر تعلیمی خدمت ہے۔ یقیناً یہ کتاب نئی نسل میں مشاہدہ، غور و فکر، اور تحقیق کی روشنی کوپروان چڑھائے گی. - [اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے 34ویں فقہی سمینار کی روداد](https://jahazimedia.com/?p=602): علم و بصیرت کی روشنی میں اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا 34واں تین روزہ فقہی سمینار 8 نومبر 2025 کو جمشید پور (جھارکھنڈ) کی روح پرور فضا میں نہایت پُروقار انداز میں منعقد ہوا۔افتتاحی اجلاس کی صدارت حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی دامت برکاتہم (صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ) نے فرمائی۔پروگرام کا آغاز قاری فیروز انصاری کی خوش الحان تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس نے ماحول کو نورِ قرآن سے منور کر دیا۔بعد ازاں مولانا زاہد حسین ندوی نے کلامِ اقبال کے اشعار پیش کر کے فکری و ادبی فضا کو معطر کر دیا۔مولانا زین العابدین مظاہری نے پرتاثیر انداز میں مہمانوں کا خیر مقدم کیا اور اکیڈمی کے سیکرٹری مفتی عبید اللہ اسعدی صاحب نے سمینار کے اغراض و مقاصد اور موضوعات کا تعارف کرایا۔اسٹیج پر ملک کے مقتدر و ممتاز علماء جلوہ افروز تھے، جن میں مولانا عتیق احمد بستوی، مفتی احمد دیولوی، مولانا انیس الرحمن قاسمی، مولانا رحمت اللہ میر قاسمی، مفتی صادق محی الدین نظامی اور ڈاکٹر عبد اللہ جولم شامل تھے۔ان حضرات نے مختصر؛ مگر جامع خطابات کے ذریعے شرکاء کو فکر و بصیرت کی روشنی بخشی۔افتتاحی تقریب کی نظامت ڈاکٹر محمد اعظم ندوی نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دی،جب کہ آخر میں مفتی نشاط احمد مظاہری نے تمام مہمانانِ گرامی کا شکریہ ادا کیا۔*شرکاء اور موضوعات*اس فقہی سمینار میں ملک بھر کے تقریباً 250 ممتاز علماء، مفتیانِ کرام، ماہرینِ فقہ اور محققین نے شرکت فرمائی۔سمینار میں چار نہایت اہم اور عصری موضوعات زیرِ بحث آئے:1. - [غزہ کی خاموش چیخیں اور ایمان کا چراغ](https://jahazimedia.com/?p=599): زمین کی گود میں کبھی ایسی بستیاں آباد تھیں جہاں اذانوں کی صدا فضا کو معطر کرتی، جہاں بچوں کی ہنسی اور ماؤں کی دعائیں امن کی نشانی تھیں۔ مگر آج وہی بستیاں خون و آنسو میں لتھڑی ہیں۔ غزہ وہ مقدس اور متبرک شہر جس نے انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والتسلیم کے قدموں کی خاک جذب کی، آج ظلم و بربریت کی دھول میں لپٹا ہوا ہے۔ وہاں کے لوگ خالی پیٹ ضرور ہیں، لیکن دلوں میں ایمان کی روشنی روشن ہے۔ وہ بھوکے ہیں مگر صبر اور غیرت کے پیکر ہیں۔ دنیا کے شور و شر کے بیچ ان کے ہونٹ خاموش ہیں، مگر دلوں میں یقین کی صدا گونج رہی ہے۔ یہ وہ قوم ہے جو ملبے پر بھی "اللّٰہ اکبر" کہہ کر اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔فرمانِ الٰہی ہے: "وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ" (سورۃ البقرہ، آیت: 155) ترجمہ: اور دیکھو ہم تمہیں آزمائیں گے ضرور، (کبھی) خوف سے ، اور (کبھی) بھوک سے، اور (کبھی) مال و جان اور پھلوں میں کمی کرکے۔ اور جو لوگ (ایسے حالات میں) صبر سے کام لیں ان کو خوشخبری سنا دو۔ (آسان ترجمہ قرآن از مفتی محمد تقی عثمانی جلد اول صفحہ 109) غزہ کی سرزمین آج بھی اپنے زخمی وجود کے ساتھ آسمان کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہی ہے۔ وہاں کے چہرے، جن پر کبھی ایمان کی روشنی اور عزم کی چمک دیکھی جاتی تھی، آج بھوک، پیاس، اور اذیت کے غبار میں چھپ چکے ہیں۔ یہ وہی ارضِ مقدس ہے جہاں انبیائے کرام علیہم السلام نے توحید کی مشعلیں روشن کیں، مگر آج وہاں کے بچے نوالۂ رزق کے لیے آسمان کی طرف ہاتھ پھیلائے کھڑے ہیں۔ ان کے ہونٹ خشک ہیں، مگر زبانوں پر شکوہ نہیں۔ سسکیاں ہیں مگر دلوں میں یقین کی حرارت باقی ہے۔ یہیں سے سنائی دیتی ہیں غزہ کی خاموش چیخیں، جو دلوں کو جھنجوڑ کر ایمان کے چراغ کو روشن کرتی ہیں۔ دنیا کے ضمیر پر گویا پتھر رکھ دیا گیا ہے۔ وہی اقوام جو انسانیت، آزادی، اور مساوات کے نعرے لگاتی ہیں، آج ظلم کے مجرموں کے ساتھ کھڑی ہیں۔ وہی طاقتیں جو امن کے سفیر ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں، آج خاموش تماشائی بن کر معصوم بچوں کے جسموں پر برسنے والے بارود کو دیکھ رہی ہیں۔ انسانی حقوق کے علمبردار، انسانیت کے سب سے بڑے قاتلوں کے حامی بن چکے ہیں۔ ظلم نے اپنی آخری حدوں کو پار کر لیا ہے اور انصاف کہیں گہرے غاروں میں دفن ہوچکا ہے۔خداوندِ قدوس نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا: "وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللّٰهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ" (سورۃ آلِ عمران، آیت: 169) ترجمہ: اور (اے پیغمبر!) - [ووٹ کی شرعی حیثیت اور ہماری قومی و ملی ذمہ داریاں](https://jahazimedia.com/?p=595): محمد ابوذر مفتاحی! - [تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟](https://jahazimedia.com/?p=585) - [الیکشن میں مسلمانوں کے لئے ترجیحات](https://jahazimedia.com/?p=581) - [بہار الیکشن میں مسلم ووٹنگ بینک کی سیاست۔ مفادپرستی یا مجبوری](https://jahazimedia.com/?p=579) - [متفقہ فتویٰ علمائے ہند پر دستخط کرنے والے 460 علمائے کرام کی فہرست](https://jahazimedia.com/?p=572) - [باب اول در بیان انجام مداہنت](https://jahazimedia.com/?p=569): اگر علمائے کرام بھی علمائے یہود کی طرح مداہنت اختیار کریں گے ،یعنی 1۔ ائمہ مساجد،حق جانتے ہوئے بھی مقتدیوں کی اصلاح نہیں کریں گے ،اور متولی سے ڈریں گے۔2۔ خطبائے کرام، حق جانتے ہوئے بھی نہیں بولیں گے اور نذرانہ کا خوف کریں گے ۔3۔ علمائے کرام، ارباب مدارس ،اور اسلامی ذمہ اداروں کے ذمے داران شرعی امور کے خلاف انجام پانے معاملات پر آواز بلند نہیں کریں گے، 4۔ ذمہ دار سماجی و سیاسی رہ نما اپنے فرائض منصبی سے کوتاہی برتتے ہوئے حق گوئی سے کام نہیں لیں گے، خلاصہ یہ کہ مداہنت سے کام لیں گے ،تو انھیں بھی علمائے یہود و نصاری کے اس انجام کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔دیکھیے درج ذیل تفسیری حوالہ"یہودیوں کی اخلاقی و عملی بر بادیآگے یہاں دوسری و تیسری آیت میں بھی انہی یہو دو بد باطنوں کا ذکر ہے اور ان کی اخلاقی اور عملی بر بادی کو ظاہر فرمایا گیا ہے۔بنی اسرائیل یعنی یہود کا یہی حال تھا کہ یہ لوگ عموماً دنیوی لذات و شہوات میں منہمک ہو کر خدا تعالیٰ کی عظمت و جلال اور اس کے قوانین و احکام کو بھلا بیٹھے اور جو مذہبی پیشوا کہلاتے تھے انہوں نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ترک کر دیا کیونکہ دنیا کی حرص اور اتباع شہوات میں وہ اپنے عوام سے بھی آگے تھے۔ مخلوق کا خوف یا دنیا کا لالچ حق کی آواز بلند کرنے سے مانع ہوتا تھا علمائے یہود کی اس غلط روش کو سخت بری عادت بتلایا گیا کہ جو اپنا فرض منصبی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر چھوڑ بیٹھے تھے اور یہ جانتے بوجھتے ہوئے کہ اگر ہم عوام کو ان کی غلط باتوں پر روک ٹوک اور منع کریں گے تو وہ ہماری بات سنیں گے اور باز آ جائیں گے پھر بھی عوام کے نذرانوں کے لالچ یا ان کے بد اعتقاد ہو جانے کے خوف سے ان مذہبی پیشوا اور علمائے یہود کے دلوں میں حمایت حق کا کوئی داعیہ پیدا نہ ہوتا اور سکوت و مداہنت برتتے اور یہ ان کے عوام بدکاروں کے اعمال بد سے بھی زیادہ اشد جرم تھا۔علماء و مشائخ کی مداہنت کے نتائجعلماء و مشائخ کے اسی سکوت اور مداہنت سے پہلی قومیں تباہ ہوئیں۔ اس لئے امت محمدیہ کو قرآن وحدیث کے بیشمار نصوص میں بہت ہی سخت تاکید و تہدید کی گئی ہے کہ کسی وقت اور کسی شخص کے مقابلہ میں اس فرض امر بالمعروف اور نہی عن المنکر “ کے ادا کرنے سے تغافل نہ برتیں۔ چنانچہ بلیغ اشارہ اس امر کی طرف اس آیت میں بھی ہے کہ مشائخ اور علماء پر لازم ہے کہ عوام کو حق تعالیٰ کی نافرمانی اور دینی اور اخلاقی تباہی سے روکیں اور جہاں تک ممکن ہو قو لی اور عملی کوششیں لوگوں کی اصلاح و نصیحت کے واسطے صرف کریں۔حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ مشائخ اور علماء کی ڈانٹ اور تنبیہہ کے لئے اس سے زیادہ سخت آیت قرآن پاک میں کوئی نہیں ہے۔ حضرت علی نے اپنے ایک خطبہ میں اللہ تعالیٰ کی حمدوث ثنا کے بعد فرمایا۔ لوگو! - [سیاسی شعور کی موت](https://jahazimedia.com/?p=567) - [باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش](https://jahazimedia.com/?p=563) - [کرناٹک میں قیادت کی خاموش جنگ ](https://jahazimedia.com/?p=560) - [حلال ذبیحہ کا مسئلہ](https://jahazimedia.com/?p=552) - [قائد جمعیت مولانا محمود اسعد مدنی صاحب کی تاریخ و  تحسین و تبریک](https://jahazimedia.com/?p=546) - [مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم 2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب](https://jahazimedia.com/?p=542): نئی دہلی، 29 اکتوبر 2025:جمعیت علمائے ہند کی عاملہ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس آج نئی دہلی کے آئی ٹی او واقع مدنی ہال میں جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وقف ترمیمی ایکٹ 2025، مسلمانوں پر دراندازی اور آبادیاتی تبدیلی کے الزامات، فلسطین امن معاہدہ اور ملک کی موجودہ صورتحال میں مسلم اقلیتوں کے خلاف گھیراؤ جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔--- مولانا محمود اسعد مدنی دوبارہ صدر منتخباجلاس میں جمعیت علمائے ہند کے دستور کی دفعہ 52 کے تحت نئے دورِ صدارت کے لیے مولانا محمود اسعد مدنی کو اتفاقِ رائے سے صدر منتخب کیا گیا۔ تمام ریاستی عاملہ کمیٹیوں نے بھی ان کے نام کی سفارش کی۔اس طرح 2024 تا 2027 کے لیے مولانا محمود اسعد مدنی کو صدر منتخب قرار دیا گیا اور انہوں نے آئینی ضوابط کے مطابق عہدہ سنبھال لیا۔--- عاملہ کمیٹی کی اہم تجاویز و بیانات1. - [فلسفے کی تعلیم: روایت نہیں، ضرورت](https://jahazimedia.com/?p=540) - [فلسفے کی تعلیم: روایت نہیں، ضرورت](https://jahazimedia.com/?p=538) - [مسائل احرام](https://jahazimedia.com/?p=1177): حضرت سفید ابن زبیر بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے عرض کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے جس وقت احرام باندھا، تو آپﷺ کے تلبیہ کے بارے میں صحابہ کرام کے اختلاف سے حیران ہوں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا میں اس کو سب سے اچھا جانتا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے تو صرف ایک حج کیا ہے اور یہیں سے وہ لوگ مختلف ہوئے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ حج کے لیے نکلے ، جب ذوالحلیفہ کی مسجد میں دو رکعت نماز پڑھی، تو آپ ﷺ نے اسی مجلس میں احرام باندھا۔ آپ ﷺجب دو رکعت سے فارغ ہوئے، تو آپ ﷺنے حج کا تلبیہ پڑھا، تو بہت سے لوگوں نے اس کو سنا اور میں نے بھی اس کو یاد رکھا ۔ پھر آپ ﷺسوار ہوئے اور اونٹنی کھڑی ہوئی، تو پھر آپ ﷺنے تلبیہ پڑھا۔اور ایک قوم نے اس کو آپ ﷺ سے محفوظ کیا۔ اور یہ اس لیے کہ لوگ گروہ در گروہ آرہے تھے ، تو جب آپﷺ کو اونٹنی لے کر کھڑی ہوئی اور آپ ﷺ نے تلبیہ پڑھا،تو لوگوں نے سنا اور انھوں نے کہنا شروع کیا کہ جس وقت اونٹنی آپ ﷺ کو لے کر کھڑی ہوئی، اس وقت آپ ﷺ نے تلبیہ پڑھا۔ پھر رسول اللہ ﷺ چلے۔ جب میدان کی بلندی پر چڑھے ،تو پھر آپ ﷺ نے تلبیہ پڑھا، اس کو ایک قوم نے آپ ﷺ سے سنا اور انھوں نے کہنا شروع کیا کہ آپ ﷺ نے احرام کا تلبیہ اس وقت پڑھا جب کہ میدان کی بلندی پر چڑھے۔ خدا کی قسم ! - [احرام کی قسمیں](https://jahazimedia.com/?p=1175) - [احرام کا بیان ](https://jahazimedia.com/?p=1173) - [میقات کا بیان ](https://jahazimedia.com/?p=1171) - [حج کی سنتوں کابیان](https://jahazimedia.com/?p=1169) - [حج کے واجبات کا بیا ن ](https://jahazimedia.com/?p=1167) - [حج فرض کے صحیح ہونے کی شرطوں کا بیان ](https://jahazimedia.com/?p=1165) - [حج صحیح ہونے کی شرطوں کا بیان ](https://jahazimedia.com/?p=1163) - [اداکے واجب ہونے کی شرطوں کا بیان ](https://jahazimedia.com/?p=1161): عن ابن عباس ؓ قال: قال رسول اللہ ﷺ:لا یخلون رجل بامرۃ ولا تسافرن امـرأۃ الا ومعھامحرم۔ فقال رجل: یا رسول اللہ ﷺ ! - [حج کے فرض ہونے کی شرطوں کا بیان ](https://jahazimedia.com/?p=1159) - [حج کی فضیلتوں کا بیان](https://jahazimedia.com/?p=1157): ایک حدیث میں ہے کہ جب حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ نیکی والے حج کا بدلہ جنت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے، تو صحابہ کرا مؓ نے دریافت فرمایا: حضور ﷺ! - [حج کی فرضیت کا بیان ](https://jahazimedia.com/?p=1154): فرمایا کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آیا اورعرض کیا: یا رسول اللہ! - [قصہ حجۃ الوداع](https://jahazimedia.com/?p=1149): یہاںتک کہ جب آپ ﷺکا آخری طواف مروہ پر ہوا ( یعنی سات چکر مروہ پر آکر پورے ہوگئے )تو آپ ﷺنے مر وہ پر سے لوگوں کو پکارا اور لوگ نیچے تھے، پس آپﷺ نے فرمایا :جو کچھ مجھے پیچھے معلوم ہو ا،اگر میں اس کو پہلے جا نتا تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لیتا اور میں نے اس کو عمرہ کر لیا (طواف اور سعی کو میں نے عمرہ میں شمار کیا ،تم لوگ بھی اس کو عمرہ کر لو، آگے حج کا عمل ہوگا اور سر منڈاواکر عمرہ کے احرام کو ختم کر دو اور عمرہ سے حلال ہوجاؤ،مگر کسی نے سر نہیں منڈایا، سب آپﷺ کو دیکھنے لگے کہ دیکھیں آپﷺ سر منڈاتے ہیں یا نہیں، تو آپﷺ نے اپنا عذر بیان فرمایا کہ میرے ساتھ چوںکہ قربانی کا جانور ہے ،اس لیے میرے لیے عمرہ سے حلال ہونا درست نہیں ہے۔ اگر مجھے پہلے سے معلوم ہوتا کی میری اطاعت نہ کریںگے اور وہ میری عمل کی اقتدا کریں گے، تو میں قربانی کا جانورہی ساتھ نہ لا تا اورمیں سر منڈا کر حلال ہوجاتا، پس تم میں سے جس کے پاس قربانی کا جانور ساتھ نہیں ہے، وہ حلال ہوجائے اور اس کو عمرہ کرلے (جہالت کے عقیدے کو توڑنے کے لیے یہ آپﷺ نے حکم دیا اس لیے کہ وہ ایام حج میں عمرہ کو افجر فجور سمجھتے تھے ورنہ اختیا رہے کہ عمرہ نہ کرے اور ایام حج میں صر ف حج کرے )پھر سراقہ ابن مالک ابن جعشم کھڑے ہوئے اور عرض کیایا رسول اللہ ﷺ!یہ عمرہ حج میں داخل ہوا اسی سال کے لیے یا ہمیشہ کے لیے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کودوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کیا اور فرمایا: عمرہ حج میں داخل ہوا ،عمرہ حج میں داخل ہوا ہمیشہ کے لیے ،ہمیشہ کے لیے۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن سے رسول اللہ ﷺ کی قربانی کے اونٹ لے کر آ ئے اور حضورﷺ نے فرمایا: جس وقت تم نے احرام باندھا تھا، اس وقت کیا کہا؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میں نے کہا: اے اللہ! - [سمویدا](https://jahazimedia.com/?p=1147) - [بنگال میں ایس آئی آر :نشانے پر مسلمان!](https://jahazimedia.com/?p=1145) - [اب وہ جمعہ جمعہ نظر آئیں گے!!](https://jahazimedia.com/?p=1143) - [بچوں كے لئے دینی تعلیم كی اهمیت](https://jahazimedia.com/?p=1140): _________Khalid Saifullah RahmaniGen.Secretary : Islamic Fiqh Academy,India Director : Al Mahadul A'ali Al Islami Hyderabad.E-mail :ksrahmani@yahoo.comWebsite: www.khalidrahmani. - [قربانی کی حقیقت اور ہماری ترجیحات کا بحران](https://jahazimedia.com/?p=1138) - [ڈیجیٹل دور میں بچوں کے عقائد کا تحفظ ایک سنجیدہ فکر](https://jahazimedia.com/?p=1136) - [غزل](https://jahazimedia.com/?p=1124) - [روح کیاہے؟](https://jahazimedia.com/?p=1122): پندرھویں پارہ کی سورہ بنی اسرائیل کی آیت نمبر (85) کی تفسیر میں ناچیز نے حجۃ اللہ فی الارض حضرت الشاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے سامعین کے سامنے روح کی حقیقت بیان کرتے ہوئے جو کچھ عرض کیا، اس کا خلاصہ درج ذیل ہے ۔ارشاد خداوندی ہے کہ الرُّوحُ مِن أمرِ رَبّی (سورۃ: الاسراء،آیۃ:۸۵، پ:۱۵)جب آپ سے روح کی حقیقت کے بارے میں سوال کیا گیا ، تو زبان قدسی سے اس کی حقیقت یہ بتلائی گئی کہ وہ ایک چیز ہے، جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے بدن میں پیدا ہوتی ہے، جس سے حیوان جی اٹھتا ہے۔ اور جب یہ چیز بدن سے نکل جاتی ہے، تو اس پر موت طاری ہوجاتی ہے۔ایک دوسری جگہ ارشاد ہے کہ ألا لہ الخلق والأمر (سورۃ : الاعراف، آیۃ:پ: ۸)سنو! - [ہمارے گناہوں سے رسولِ اکرم ﷺ کو تکلیف پہنچتی ہے](https://jahazimedia.com/?p=1120) - [ماں جی آخر سوکھی روٹی کون کھاتا ہے](https://jahazimedia.com/?p=1116) - [گرمائی تعطیل بچوں كی بنیادی دینی تعلیم كا زریں موقع!](https://jahazimedia.com/?p=1113) - [اسرائیل کا وجود ایک ظلم ہے](https://jahazimedia.com/?p=1099) - [اشتعال انگیزی اور قانون کے غلط استعمال کا بڑھتا رجحان،](https://jahazimedia.com/?p=1097) - [ نبی اکرم  ﷺ کا آخری حج (حجۃ الوداع)قدم بہ قدم، منزل بہ منزل](https://jahazimedia.com/?p=1095): جب فضالہ اسلمی رضی اللہ عنہ اورصحابہ کو حضور ﷺ کے اونٹ کے گم ہونے کی اطلاع ملی، تو وہ آپﷺ کے لیے کھانا تیار کر کے لائے۔ حضور ﷺ نے حضرت ابوبکر کو آواز دی کہ آؤ اللہ تعالیٰ نے بہترین غذا عطا فرمائی ہے،مگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کافی غصے میں تھے، اور غلام کو ڈانٹ ڈپٹ رہے تھے ۔حضور اکرم ﷺنے ان سے کہا: ائے ابوبکر! - [باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا](https://jahazimedia.com/?p=1084) - [ نبی اکرم  ﷺ کا آخری حج (حجۃ الوداع)قدم بہ قدم، منزل بہ منزل](https://jahazimedia.com/?p=1082): جب فضالہ اسلمی رضی اللہ عنہ اورصحابہ کو حضور ﷺ کے اونٹ کے گم ہونے کی اطلاع ملی، تو وہ آپﷺ کے لیے کھانا تیار کر کے لائے۔ حضور ﷺ نے حضرت ابوبکر کو آواز دی کہ آؤ اللہ تعالیٰ نے بہترین غذا عطا فرمائی ہے،مگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کافی غصے میں تھے، اور غلام کو ڈانٹ ڈپٹ رہے تھے ۔حضور اکرم ﷺنے ان سے کہا: ائے ابوبکر! - [نبی اکرم ﷺ کا آخری حج (حجۃ الوداع): قدم بہ قدم ، منزل بہ منزل](https://jahazimedia.com/?p=1075) - [مدرسہ کے بچوں کو چائلڈ لائن کے حوالے کرنے کی مذمت](https://jahazimedia.com/?p=1071) - [حقیقی گھر کی طرف واپسی](https://jahazimedia.com/?p=1068): گزشتہ دنوںمشہورنام نہاد سماجی تنظیم آرایس ایس کے قائد جناب موہن بھاگوت صاحب نے بھارت کے مسلمانوں اورعیسائیوں کو ’’گھرواپسی‘‘کی دعوت دی ہے، گھرواپسی سے ان کی مراد ہے: اِن مذہبی اکائیوں کا ہندو دھرم اورنئی اصطلاح میں ’’سناتن دھرم‘‘ کو قبول کرلینا، ملک کے دستور میں جو مذہبی آزادی کا حق رکھاگیاہے، اس کے تحت ہرشخص کو اپنی پسند کے مطابق مذہب اختیار کرنے کا حق دیاگیاہے؛ لیکن اس سے یہاں کےفرقہ پرست عناصر کو بہت تکلیف ہے، وہ جس مذہب کی پیروی کرتے ہیں، وہ انسانوں کے درمیان نابرابری پر مبنی ہے، اس میں عورتوں کو سماجی حقوق سے محروم رکھاگیاہے، مذہبی فرائض کو صرف برہمن اور اعلیٰ ذات کے افراد ہی انجام دے سکتے ہیں، دوسرے لوگ مذہبی رہنمائی کا فریضہ تو کیاانجام دیں گے، وہ بعض مندروں میں بھی داخل نہیں ہوسکتے، اس کی تعلیمات قدم قدم پر عقل اورفطرت سے ٹکراتی ہیں، جو مورتیاں بولنے سے اورحرکت کرنے سے محروم ہیں، اور خود اپنے آپ سے ایک مکھی کو نہیں بھگاسکتیں، ان کو خداقراردیتے ہیں، جو عورت بیوہ ہوجائے، خواہ وہ کتنی ہی کم عمر ہو، اس پر نکاح کا دروازہ بند کردیاجاتاہے، انسانوں کےایک طبقہ کو اتنا حقیر سمجھاجاتاہے کہ اگر کھانے یاپانی کے برتن میں ان کا ہاتھ لگ جائے تو اس کو ناپاک اورناقابل استعمال باور کیاجاتاہے، ظاہر ہے کہ ایسے مذہب کے بارے میں کیسے امید کی جاسکتی ہے کہ نئے اورسمجھ دار لوگ اس کوقبول کریں گے! - [اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی ](https://jahazimedia.com/?p=1065) - [حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت](https://jahazimedia.com/?p=1062) - [فرقہ وارانہ سیاست کا تاریخی پس منظر اور جمعیت علمائے ہند کا معقول اصولی موقف](https://jahazimedia.com/?p=1059) - [ہندستان فرقہ پرستی کی راہ پر](https://jahazimedia.com/?p=1057) - [اتراکھنڈ و گجرات میں منظور یونیفارم سول کوڈ قطعی منظور نہیںآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ](https://jahazimedia.com/?p=1054): نئی دہلی:3/اپریل 2026 گجرات قانون ساز اسمبلی کی جانب سے منظور کیے گئے نام نہاد یونیفارم سول کوڈ (UCC) بل پر جو اس وقت گورنر کی منظوری کا منتظر ہے، ملک کے محب وطن شہریوں کو بجا طور پرشدید آئینی، قانونی اور جمہوری تحفظات ہیں۔یہ امر نہایت تشویش کا باعث ہے کہ جس قانون کو’’ یونیفارم سول کوڈ “کا نام دیا گیا ہے، وہ بادی النظر میں آئین کی روح سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ اس قانون کے ذریعے نہ صرف مقننہ کے اختیارات اور آئینی جواز سے متعلق سنجیدہ سوالات پیدا ہوتے ہیں بلکہ یہ آئین کے حصہ سوم میں شہریوں کو حاصل بنیادی حقوق، مذہبی آزادی، مساوات اور شخصی آزادی سے راست متصادم بھی ہے۔واضح رہے کہ یونیفارم سول کوڈ آئین کے حصہ چہارم یعنی ریاستی پالیسی کے رہنما اصولوں میں شامل ہے، جو بنیادی حقوق کی طرح براہِ راست قابلِ نفاذ نہیں ہیں۔ عدالتیں اس کے نفاذ کے لیے ریاست کو پابند نہیں کر سکتیں، بلکہ اس ضمن میں قانون سازی کا اختیار صرف مقننہ کو حاصل ہے۔ علاوہ ازیں آرٹیکل 44 کی روح یہ ہے کہ ایسا کوئی بھی ضابطہ پورے ملک کے تمام شہریوں پر یکساں طور پر نافذ ہو۔ گجرات میں منظور شدہ یہ قانون نہ تو پورے ملک پر نافذ ہے اور نہ ہی خود ریاست کے تمام طبقات پر یکساں لاگو ہوتا ہے۔جب کہ اس قانون سے شیڈولڈ ٹرائبز اور آئینی طور پر محفوظ روایتی حقوق رکھنے والے طبقات کو مستثنیٰ رکھا گیا ہے، اس لئے اس کوحقیقی معنوں میں یونیفارم سول کوڈ نہیں کہا جاسکتا۔ اس پس منظر میں اس قانون کو UCC کا نام دینا ایک گمراہ کن اور فریب پر مبنی طرزِ عمل ہے۔دستور ساز اسمبلی کی بحثوں کے دوران ڈاکٹر بی۔ آر۔ امبیڈکر نے واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ ایسا کوئی قانون شہریوں پر زبردستی مسلط نہیں کیا جائے گا اور اس کے نفاذ میں عوامی رضامندی کو بنیادی حیثیت دی جائے گی۔ اسی اصول کے تحت 21ویں اور 22ویں لا کمیشن نے عوامی آراء طلب کی تھیں۔ 21ویں لا کمیشن کی درخواست پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے کمیشن میں حاضر ہو کر نہ صرف اس کی مخالفت کی تھی بلکہ اپنے دلائل کو تحریری شکل میں کمیشن کو پیش بھی کیا تھا۔ چنانچہ کمیشن نے واضح طور پر کہا تھا کہ موجودہ حالات میں UCC نہ ضروری ہے اور نہ ہی مناسب۔ جب کہ 22ویں لا کمیشن کی جانب سے کوئی حتمی سفارش سامنے نہیں آئی ہے۔اس کے باوجود گجرات حکومت نےایک کمیٹی تشکیل دے کرعوام سے آراء طلب کیں۔ہماری دانست میں اکثریت نے اس کی مخالفت کی تھی مگر اس کی رپورٹ کو منظر عام پر نہیں لایا گیا ۔ایسا کرناشفافیت کے اصولوں کے منافی ہے۔ اس طرزِ عمل سے یہ تأثر مضبوط ہوتا ہے کہ مشاورتی عمل محض رسمی کارروائی تھا اور عوامی آراء کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔مزید تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ یہ قانون، جیسا کہ ریاست اتراکھنڈ میں پہلے نافذ کیا گیا، اکثریتی نظریات اور سماجی تصورات کو اقلیتی طبقات، بالخصوص مسلمانوں، پر مسلط کرنے کی نا پاک کوشش ہے۔ اسلامی شریعت سے متعلق متعدد معاملات، مثلاً نکاح، طلاق، وراثت، جانشینی اور خاندانی قوانین، جو مذہبی عقائد اور شخصی قوانین کا حصہ ہیں، ان میں مداخلت آئین کے تحت حاصل مذہبی آزادی کے بنیادی حق سے متصادم ہے۔گجرات یوسی سی میں اسلامی شریعت سے ماخود متعدد مذہبی احکام اور طریقہ کار کوممنوع اور قابل سزا قرار دیا گیا ہے۔ اور ان کی جگہ ہندو رسوم ونظریات کو مسلمانوں پر نافذ کیا جا رہا ہے، جیسے تعددازدواج کی اجازت، بعض قریبی رشتوں کے درمیان نکاح کی اجازت، طلاق کا اسلامی طریقہ ، وراثت اور جانشینی کے اسلامی اصول وغیرہ۔ مسلم پرسنل لا بورڈ اور متعدد دینی تنظیموں نے اتراکھنڈ کے یوسی سی کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے جو اس وقت زیر سماعت ہے۔یہ امر نہایت افسوس ناک ہے کہ ایک غیر لازمی رہنما اصول کو نافذ کرنے کے نام پر شہریوں کے بنیادی حقوق اور مذہبی آزادیوں کو محدود کیا جائے۔ ایسا اقدام آئین کے بنیادی ڈھانچے، خصوصاً سیکولرازم، مساوات اور انصاف کے اصولوں کے صریحاََ منافی ہے۔مزید برآں، اس قانون کے نفاذ کا وقت بھی سوالات کو جنم دیتا ہے، کیونکہ ملک کی بعض ریاستوں میں ریاستی انتخابات اور گجرات کے بلدیاتی انتخابات سے قبل اس کی منظوری سیاسی مقاصد اور انتخابی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھی جا رہی ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ آئینی قانون سازی کو سیاسی مصلحتوں کے تابع کیا جا رہا ہے۔آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ اور مسلمانوں کی دینی و ملی تنظیمیں مطالبہ کر تی ہیں کہ اتراکھنڈ اور گجرات میں UCCکے نفاذ کو فوری طور پر روک دیاجائے، انہیں مکمل آئینی جانچ کے عمل سے گزارا جائے، اور عائلی قوانین میں کسی بھی ممکنہ اصلاح کو آئینی تحفظات، اسٹیک ہولڈرس سےوسیع تر مشاورت،اور قانونی تقاضوں کے مطابق ہی آگے بڑھایا جانا چاہئے۔پریس کو مخاطب کر نے والے مولانا محمد علی محسن تقوی، نائب صدر بورڈ ، امام وخطیب شیعہ جامع مسجد دہلیمولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی، نائب صدر بورڈ و صدرمرکزی جمیعت اہل حدیث ہند جناب ملک معتصم خان، نائب امیر جماعت اسلامی ہند، رکن بورڈایڈوکیٹ طاہرایم حکیم، ممبر مسلم پرسنل لا بورڈڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس ترجمان آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ-------------------------------------------------------PRESS RELEASEAIMPLB Rejects UCC in Uttarakhand and Gujarat, Calls It Constitutionally Unsustainable and Politically MotivatedNew Delhi, April 3, 2026:The All India Muslim Personal Law Board (AIMPLB) has strongly opposed the so-called Uniform Civil Code (UCC) recently passed by the Gujarat Legislative Assembly and earlier implemented in Uttarakhand, describing it as constitutionally flawed, legally untenable, and fundamentally violative of religious freedom and civil liberties.Addressing the media in New Delhi, senior representatives of the Board said that the Gujarat UCC Bill, currently awaiting the Governor’s assent, has raised grave constitutional, legal, and democratic concerns among citizens across the country. - [امت مسلمہ پر یلغار](https://jahazimedia.com/?p=1052) - [زکوٰۃ کا بدلتا منظرنامہ اور “زکوٰۃ مافیا” کی حقیقت — ](https://jahazimedia.com/?p=1046) - [ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم](https://jahazimedia.com/?p=1042) - [فرقہ پرست ہندو استھان میں بدلتا بھارت](https://jahazimedia.com/?p=1039) - [سرور کائنات ﷺ کی عید](https://jahazimedia.com/?p=1035): آپ ﷺ کا حجرہ مبارکہ مسجد نبوی سے متصل تھا، یہاں مسجد نبوی میں کچھ حبشی تماشہ دکھا رہے تھے اور آس پاس بچوں کی بھیڑ جمع تھی۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ چوں کہ کم سن تھیں، اس لیے ان کی بھی خواہش ہوئی، تو سرورکائناتﷺنے انھیں اپنے کاندھے کے آڑ سے اس وقت تک دکھاتے رہے، جب تک کہ خود اماں حضرت عائشہ ؓ تھک نہیں گئیں۔ اتنے میں حضرت عمر ؓ آگئے، انھوں نے دیکھا کہ مسجد نبوی میں تماشہ کیا جارہا ہے، اس لیے حبشیوں کو مارنے کے لیے کنکریاں اٹھانے لگے، تو حضورﷺ نے دیکھ کر فرمایا کہ ائے عمر! - [عید کی رات آئیے کچھ خاص کرتے ہیں](https://jahazimedia.com/?p=1031) - [مبارک پور کی ایک پرنور شب: اہلِ دل کی صحبت میں](https://jahazimedia.com/?p=1029) - [ایران اسرائیل امریکہ جنگ میں کس کو کس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے](https://jahazimedia.com/?p=1025) - [بھارت کی فرقہ وارانہ تقسیم کی مہم](https://jahazimedia.com/?p=1022) - [بجٹ، بیانیہ اور حقیقت کرناٹک میں اقلیتوں کے نام پر سیاست یا حقائق کی تحریف؟](https://jahazimedia.com/?p=1018) - [روزہ کے آداب](https://jahazimedia.com/?p=1013) - [ہندوتو کی سمت اور رفتار](https://jahazimedia.com/?p=1010) - [نتیش کمار کا راجیہ سبھا کا رخ: اقتدار سے فاصلہ یا نئی حکمت عملی!](https://jahazimedia.com/?p=1007) - [فلسطین کی غلامی سے اسرائیل کے ناپاک وجود تک ہندستانی مسلمانوں کی جدوجہد](https://jahazimedia.com/?p=1004) - [مختصر واقعہ شہادت حضرت حسین رضی اللہ عنہ](https://jahazimedia.com/?p=1002): بہر کیف حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی کسی بات کا ان پر اثر نہیں ہوا اور عمرو ابن سعد نے پہلا تیر چلاتے ہوئے جنگ کاآغاز کردیا۔ایک ایک کرکے فدائے حسینی شہید ہوگئے ، یہاں تک کہ خاندان نبوت کے ایک ایک چراغ جام شہادت نوش کرتے چلے گئے ، سب سے پہلے علی اکبر شہید ہوئے پھر حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے بیٹے حضرت قاسم نے جام شہادت پیا۔ عین لڑائی کے دوران حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے یہاں ایک بچے کی پیدائش ہوئی ۔ آپ رضی اللہ عنہ کان میں اذان دینے کے لیے آگے بڑھے ہی تھے کہ ایک تیر آیا اور اس نومولود بچے کو زخمی کر شہید کرگیا۔ آپ نے وہ تیر حلق سے نکالا تو خون کا فورا پھوٹ پڑا، خون کو چلو میں لے کر آپ نے آسمان کی طرف اچھالتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ائے اللہ! - [حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی مبارک](https://jahazimedia.com/?p=1000): مجلس نکاح منعقد ہوئی ۔ خود سرور کائنات ﷺنے بصیروت افروز خطبہ نکاح پڑھا اور ارشاد فرمایا کہ ائے علیؓ! - [ہجری کی تاریخ](https://jahazimedia.com/?p=998) - [دہلی کی قدیم تاریخی مساجد کی موجودہ صورت حال](https://jahazimedia.com/?p=996): اس مسجد کے ارد گرد بہت بڑی جگہ ہے ، جو تقریبا ویران اور خراب ہے ۔ پچھلے سال کچھ غیور مسلمانوں نے قانونی کارروائی کے بغیر کھول کر نماز پڑھنے کی کوشش کی، لیکن گورنمنٹ نے اپنی طاقت و قوت کے بل بوتے پر اسے قفل بند کردیا ۔ ابھی اس میں نماز اذان کچھ بھی نہیں ہوتی۔ یہ مسجد مسلمانوں کے غیرت ایمانی کو للکار رہی ہے اور پکار رہی ہے کہ ہے کوئی ! - [سماوی، انسانی، شیطانی آفات اور تحفظ کے فطری طریقے](https://jahazimedia.com/?p=994) - [حساب خودی](https://jahazimedia.com/?p=992): اپنا محاسبہ شروع کرنے سے پہلے آئیے ایک واقعہ ذہن نشین کرتے چلیں کہ پہلے زمانے میں ایک عبادت گزار شخص تھا۔ ایک فاحشہ اور بدکار عورت نے اسے اپنے دام تزویر میں پھنسانے کی کوشش کی۔ اور ایک لونڈی کو پیغام دے کر اس کے پاس بھیجا کہ میں تمہیں گواہی کے لیے اپنے پاس بلا رہی ہوں (گواہی کے لیے جانا فرض تھا) چنانچہ وہ مرد صالح اس لونڈی کے ساتھ چلا آیا۔ وہ نیک شخص مطلوبہ مکان کے جس کمرے میں داخل ہوتا۔ لونڈی اس کا دروازہ مقفل (بند) کر دیتی۔ اس طرح وہ اس خوبصورت عورت کے پاس پہنچ گیا۔ وہاں عورت کے علاوہ ایک لڑکا تھا اور ایک طرف شراب کا جام رکھا ہوا تھا۔ اب اس بدکار عورت نے اس نیک آدمی سے کہا۔ انی واللہ مادعوتک للشھادۃ اللہ کی قسم! - [اولیاء اللہ کے مشن: حاجی نور الحسن مرحوم کی یاد میں](https://jahazimedia.com/?p=990) - [ہمارے اعمال برکات سے محروم کیوں ہوجاتے ہیں](https://jahazimedia.com/?p=988) - [اعتكاف، احكام وآداب](https://jahazimedia.com/?p=985): انسان کا رشتہ اپنے خالق سے یہ ہے کہ خدا مالک ہے اور انسان اس کا مملوک ، خدا معبود ہے اور انسان اس کا عبد ، خدا آقا ہے اور انسان اس کا بندہ اور غلامِ بے دام ، غلام کا کمال یہ ہے کہ اس کا آقا اس سے خوش ہو ، مملوک کے لئے سب سے بڑا شرف یہ ہے کہ اسے مالک کی خوشنودی حاصل رہے ، عاشق کو اپنے معشوق کی راہ میں لٹ کر بھی ایک لطف آتا ہے اور محب اپنے محبوب کے لئے کھو کر بھی پانے کی لذت محسوس کرتا ہے ، اسی محبت اور غلامی اور بندگی کے احساس کو عملی پیکر دینے کے لئے عبادت کے طریقے مقرر کیے گئے اور ان کو انسان کا اصل مقصد وجود قرار دیا گیا :’’ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالاِنْسَ اِلاَّ لِیَعْبُدُوْنَ ‘‘۔اسلام میں عبادت کے جو طریقے مقرر کئے گئے ہیں ان میں قدم قدم پر اپنی بندگی ، نیستی اور خدا کے ساتھ محبت اور شیفتگی کا اظہار ہے ، نماز کی کیفیت کو دیکھئے کہ غلام اپنے آقا کے سامنے نگاہ نیچی کیے ہوئے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہے ، بار بار اپنے خدا کی کبریائی کا نعرہ لگا تا ہے ، کبھی کمر تک جھکتا ہے ، کبھی نگاہ جھکائے دو زانو بیٹھتا ہے اور کبھی اپنی پیشانی زمین پر رگڑتا ہے ، زکوٰۃ دینا اپنی ذات اور اپنے مال پر خدا کی حکومت کا اعتراف کرنا ہے ، روزہ اور حج بھی خدا کی بندگی ہے ؛ لیکن اس میں خوف سے زیادہ اپنے مالک کی محبت کا اظہار ہے ، روزہ دار کو دیکھئے ! - [ڈیجیٹل محبت، آن لائن کھیل اور کم سن ذہنایک خاموش سماجی بحران کی دستک](https://jahazimedia.com/?p=983) - [دارالامان میں نفلی صدقے کا وجوب](https://jahazimedia.com/?p=981) - [تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی اور ترک موالات کا آغاز کیسے ہوا؟](https://jahazimedia.com/?p=977) - [طرزِ داستان بدلے](https://jahazimedia.com/?p=974): طرزِ داستان بدلے!! - [آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے](https://jahazimedia.com/?p=967) - [قوتِ آزادی](https://jahazimedia.com/?p=965) - [رمضان اور ہمارا ذوق و شوق](https://jahazimedia.com/?p=962): ایک مومن کی شان یہ ہے کہ اسے رمضان مقدس کے حوالے سے پرجوش اور سراپا استقبال ہوجانا چاہیے، لیکن وائے ناکامی! - [طرحی غزل](https://jahazimedia.com/?p=959) - [تراویح: استحباب، تاکید اور تعداد؟](https://jahazimedia.com/?p=956): ان رسول اللہ ﷺ خرج لیلۃ من جوف اللیل، فصلی فی المسجد، و صلٰی رجال بصلاتہ، فاصبح الناس، فتحدثوا، فاجتمع اکثر منھم، فصلیٰ فصلوا معہ، فاصبح الناس فتحدثوا، فکثر اھل المسجد من اللیلۃ الثالثۃ، فخرج رسول اللہ ﷺ فصلیٰ فصلوا بصلاتہ، فلما کانت اللیلۃ الرابعۃِ عجز المسجد عن اھلہ، حتٰی خرج لصلاۃ الصبح، فلما قضٰی الفجر، اقبل علیٰ الناس، فتشھد، ثم قال اما بعد! - [شب قدر: مسائل، فضائل اور اسراروحکم](https://jahazimedia.com/?p=952) - [وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد](https://jahazimedia.com/?p=949) - [روزے کا احترام](https://jahazimedia.com/?p=946) - [رمضان اور تکوینی نظام میں تبدیلیاں](https://jahazimedia.com/?p=943) - [دارالعلوم دیوبند کی "مسجدِ قدیم"](https://jahazimedia.com/?p=940) - [جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں](https://jahazimedia.com/?p=936): ایجوکیشن پیسہ کمانے کے لیے نہیں؛ بلکہ تہذیب اور زندگی میں ڈسپلن پیدا کرنے کے لیے ہے. ایسا فارمولہ صرف مذہب اسلام کے پاس ہے، اس لیے سچا پکا مسلمان بنیں. - [سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات](https://jahazimedia.com/?p=933): جمعیت علمائے ہند اور جماعت اسلامی ہند کے اشتراک سے جواہر لال نہرو بھون نئی دہلی میں 27 ؍جولائی 2024 ءکو بروز ہفتہ ووٹر بیداری کے تعلق سے ایک پروگرام منعقد کیا گیا، جس میں جمعیت علمائے ہند سے مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی جنرل سکریٹری جمعیت علمائے ہند ،مولانا غیور احمد قاسمی آرگنائزر جمعیت علمائے ہند ،مولانا ذاکر قاسمی آرگنائزر جمعیت علمائے ہند ،مولانا وحید الزماں صاحب قاسمی آرگنائزر جمعیت علمائے ہند اور راقم محمد یاسین جہازی نے شرکت کی ریاستی جمعیت علمائے ہریانہ کی طرف سے مولانا محمد یحییٰ کریمی صاحب ناظم اعلیٰ جمعیت علمائے ہریانہ،پنجاب ہماچل پردیش کی قیادت اور مفتی سلیم احمد ساکرس کی نگرانی میں ایک بڑی تعداد نے شرکت کی. - [استھانواں کے محسن اعظم الحاج سید تقی الدین استھانوی مرحوم](https://jahazimedia.com/?p=931) - [مولانا سید سلیمان اشرف بہاری ۔۔حالات زندگی سے متعلق چند اہم اطلاعات](https://jahazimedia.com/?p=929) - [پاکی](https://jahazimedia.com/?p=926) - [مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی](https://jahazimedia.com/?p=923) - [عورت فطرت کے آئینے میں](https://jahazimedia.com/?p=920) - [اپنی اپنی بولیاں سب بول کر اڑجائیں گی](https://jahazimedia.com/?p=918): قلم کی روح کیا اس لیے بے چین ہے کہ وہ افسانۂ ہجرو فراق کی خامہ فرسائی کررہا ہے ؟ دلِ قرطاس کیا اس لیے ماتم آسا ہے کہ حکایت بر ق خرمن کی منظر آرائی سے کرب و کسک محسوس ہورہی ہے … ہاں! - [تحریک ریشمی رومال خط نمبر تین](https://jahazimedia.com/?p=915) - [تحریک ریشمی رومال کا خط نمبر دو](https://jahazimedia.com/?p=913) - [تحریک ریشمی رومال کا پہلاخط](https://jahazimedia.com/?p=909) - [غالب نامہ کا متن](https://jahazimedia.com/?p=906) - [تحریک ریشمی رومال کے خدو خال](https://jahazimedia.com/?p=904): ایشا یورپ اور افریقہ کے مسلمان اپنے آپ کو ہر قسم کے ہتھیار سے مسلح کرکے خدا کے راستے میں جہاد کرنے کے لیے کود پڑے ہیں، ترکی فوج اور مجاہدین اسلام، دشمنوں پر غالب آگئے ہیں، اس لیے مسلمانو! - [کیا چندہ لینے دینے کے لیے رمضان ہی ضروری ہے؟](https://jahazimedia.com/?p=900): حضرت عبد اللہ ابن مسعود ؓ سے ایک شخص نے پوچھا کہ آپ حضرات رمضان کا استقبال کیسیکرتے تھے؟ انھوں نے جواب دیا کہ صحابہ کو جب چاند نظر آجاتا تھا، تو کسی بھی مسلم بھائی کے لیے دل میں کینہ نہیں رکھتے تھے۔ یعنی اپنا دل بالکل صاف کرلیا کرتے تھے۔ حضرت عمر ؓ رمضان میں مسجدوں کو چراغوں سے منور کیا کرتے تھے۔ مسجدوں میں قمقمے لگانے اور تراویح کی نماز باجماعت ادا کرنے کا سلسلہ حضرت عمرؓ نے ہی شروع کیا ہے۔ ابن اسحاق الہمدانی فرماتے ہیں کہ رمضان کی ایک رات میں حضرت علی ؓ گھر سے باہر نکلے تو کیا دیکھتے ہیں کہ چراغوں سے مسجد جگمگا رہی ہے اور تراویح میں قرآن کی تلاوت سے فضاوں میں نورانیت چھائی ہوئی ہے۔ یہ منظر دیکھ کر بے ساختہ حضرت علی کی زبان سے حضرت عمر کے لیے یہ دعا نکلی کہ نور اللہ لک یابن الخطاب فی قبرک، کما نورت مساجد اللہ بالقرآن۔ائے ابن اخطاب! - [ جمعیت علما کی ضرورت اور شرعی حیثیت ](https://jahazimedia.com/?p=898) - [عدالت (مراد آباد) میں حضرت شیخ الاسلام کا بیان](https://jahazimedia.com/?p=895): علی ہذا القیاس میں نے وہ ہلاکت آمیز مصیبتیں ،جو کہ ایام جنگ ہندستان میں پیش آنے والی ہیں اور وہ مصائب جو کہ برطانوی حکام کی پالیسیوں سے ہندستان کے باشندوں کو انتہائی فلاکت ؛بلکہ ہلاکت کے گھاٹ اتارچکی ہیں اور ان کا خود انصاف پسند اور انسانیت کے ہمدرد مشہور انگریز اقرار کر رہے ہیں، دکھلا ئیں کہ ایسی مصیبت کے وقت میں از بس ضروری ہو جاتا ہے کہ اپنے جھگڑوں کو چھوڑ دیا جائے اور مشتر کہ مصیبت کو دور کرنے کی انتہائی کوشش عمل میں لائی جائے۔ گاؤں میں آگ لگتی ہے، سیلاب آتا ہے، تو لوگ اپنے پرانے جھگڑوں، نسلی تمیز، اختلاف عقائد کو بھلا دینا ضرور سمجھ کر سب کے سب آگ بجھانے میں لگ جاتے ہیں۔ یہی حال تم لوگوں کا ہونا چاہیے، ہندستان میں بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ ہندستانیوں کے موجودہ مصائب کو -جو کہ برطانوی حکام کی غلط پالیسیوں سے پیداہوتے ہیں، جھٹلاتے ہیں اور غافل لوگوں کو دھوکا دے کر کہتے ہیں کہ یہ باتیں چند سر پھروں کی بنائی ہوئی ہیں۔ حال آں کہ واقعہ ایسا نہیں ہے۔ اس لیے میں نے تاریخی شہادتیں( جن میںسے بہت بڑا حصہ مجھ کو یاد بھی ہے اور بہت کثیر حصہ میرے پاس معتبر تاریخوں سے تحریری نوٹ میں ہے )معتبرانگریزوں کے حوالوں سے پیش کی تھیں، ان کے ناموں اور عبارتوں میں خطب عشوا کیا گیا ہے۔ یہ نوٹ میرے پاس موجود ہیں، جن کے مآخذ کو پوری تفصیل کے ساتھ پیش کر سکتا ہوں۔ خلاصہ ان کا ان پالیسیوں پر تنقید کرنا ہے، جو کہ غلط کار برطانوی مدبرین نے ہندستان میں جاری کرکے برطانوی قوم اور برطانوی امپریلزم اور برطانوی تاریخ کو بدنام کیا ہے اور برطانوی رعایا کی بربادی کا سبب بنے ہیں۔ کسی پالیسی اور حکمت عملی اور سسٹم پر تنقید کرنا، اس پر پروٹسٹ اور احتجاج کرنا اس کو پبلک میں پیش کر کے اس کے خطرات کو بتلانا اور اس کے خراب نتائج کو مشہور کرنا نہ قانونا جرم ہے اور نہ اسے گورنمنٹ سے نفرت پھیلانا شمار کیا جاتا ہے۔ ہمیشہ سے انگلستان اور ہندستان میں یہ طرز چلا آتا ہے اور یہ اس زمانے میں از بس ضروری ہے؛ ورنہ کوئی گورنمنٹ اندھیر نگری سے محفوظ نہیں رہ سکتی۔ اس کو سر جان شور،سول میرٹ، ڈبلیو جی پیڈر، سر ولیم ڈگبی، ایس ٹاونشنڈ ، لارڈ سالسبری، لارڈ ولیم بنٹک، بروکس، ایچ ایم ہنڈولن، ایڈورڈ نامسن، لارڈ کینگ، ایچ ایچ ولسن، اے اے بروسل، پیٹر فریمین، ڈبلیو ایس بلنٹ، لارڈ نارتھ بروک، مسٹر سیکڈانلڈ وغیرہ کہتے رہے ہیں۔ یقینا یہ لوگ برطانیہ کے دشمن نہ تھے اور نہ برطانوی قوم، یا حکومت سے نفرت پھیلانے والے تھے۔ ہاں! - [مولانا سجادصاحبؒ اور جمعیت علمائے ہند](https://jahazimedia.com/?p=891) - [آسان انگریز قواعد](https://jahazimedia.com/?p=881) - [اهل مدارس كی خدمت میں چند گزارشات](https://jahazimedia.com/?p=875): شعبان کا مہینہ برصغیر میں ایک خاص روایت کا حامل ہوگیا ہے ؛ کیوں کہ دینی مدارس کا آغاز شوال سے ہوتا ہے اور شعبان پر تعلیم اور حساب و کتاب کا اختتام عمل میں آتا ہے ، جو مدارس ابتدائی تعلیم کے ہیں ، ایک خاص حد تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد طلباء وہاں سے نسبتاً بڑے مدارس میں منتقل ہوجاتے ہیں ، جن درس گاہوں میں حفظ قرآن کی تعلیم کا نظم ہے ، وہاں یہی تکمیل درس قرآن کا موسم ہوتا ہے ، جہاں دورۂ حدیث تک یا تخصصات کی تعلیم کا انتظام ہے ، وہاں سے طلباء سند ِفراغت حاصل کرتے ہیں ، یہ ان کی زندگی میں ایک نیا مرحلہ اور نیا موڑ ہوتا ہے ، اب انھیں اُمت کے مختلف کاموں کی ذمہ داری انجام دینی ہوتی ہے ، عام طورپر امامت ، خطابت ، مکتب کی تعلیم یا نسبتاً اونچی جماعتوں کی تدریس ان سے متعلق ہوتی ہے ؛ لیکن ان کی جدوجہد کا دائرہ اسی میں محدود نہیں ہوتا ، وہ ان کاموں کو کرتے ہوئے دوسرے اُمور بھی انجام دیتے ہیں اور اُمت کی دوسری دینی ضروریات بھی ان ہی سے پوری ہوتی ہیں ، مسلمانوں میں اختلاف ہوجائے تو ان کے درمیان صلح کرانا ، اور سماج میں جو بھی مسئلہ پیش آئے ، ان کے بارے میں شرعی احکام کی رہنمائی کرنا ، سماج کو نیکی کی طرف بلانا اور برائی سے روکنا ، ہر عالم اس کو اپنا فریضہ سمجھتا ہے ، اور اپنی صلاحیت اور توفیق کے مطابق اسے انجام بھی دیتا ہے ، اس لحاظ سے ان کی ذمہ داریاں بڑی اہم ہیں اور بحیثیت مجموعی اُمت کو اسلام سے مربوط رکھنے اوران کے شیرازہ کو بکھراؤ سے بچانے میں ان فضلاء کا بڑا اہم رول ہے ۔ ان مدارس کا نظام سادگی پر رکھا گیا ہے ، سادہ عمارت ، سادہ رہن سہن ، خورد ونوش کا سادہ انتظام ، پہننے اوڑھنے میں سادگی ، ہر طرح کے تکلفات اور تعیشات سے دور ، ابتداء ً ان مدارس کا یہی مزاج تھا اور بہت سے دینی درس گاہیں اپنے زمانہ کے معیار زندگی کے اعتبار سے اسی روش پر قائم ہیں ، ایسا لگتا ہے کہ تحریک مدارس کے مؤسسین نے قصداً یہ طرز عمل اختیار کیا تھا ؛ تاکہ ان مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے لوگ مشکل حالات میں کام کرنے کے عادی رہیں اور دین کی خدمت انجام دے سکیں ، یہ نہایت اہم پہلو ہے ، اور ہمارے فضلاء کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہمیشہ اس کو ملحوظ رکھیں ۔ اﷲ تعالیٰ کو جن لوگوں سے اپنے دین کاکام لینا مقصود ہوتا ہے ، ان کی تربیت کا بھی انتظام کیا جاتاہے اور اس کا سب سے اہم حصہ یہ ہوتا ہے کہ انھیں مشقتیں جھیلنے اور خلاف طبیعت باتیں برداشت کرنے کی عادت ہوجائے ، قرآن مجید نے انبیاء کرام کے واقعات کو تفصیل سے بیان کیا ہے ، ان میں زیادہ تر واقعات انبیاء اور ان کی اقوام کے درمیان کشمکش اورمخالفین حق کی جانب سے ایذاء رسانی کے ہیں ، رسول اﷲ ﷺ آخری نبی اور انسانیت کے لئے اُسوۂ کاملہ تھے ، اس لئے آپ اور زیادہ ابتلاؤں سے گذارے گئے اور آپ کو اوروں سے بڑھ کر آزمائش کی بھٹیوں میں تپایا گیا ، غور کیجئے ! - [شعبان](https://jahazimedia.com/?p=873): ماہ اسلامی کے تسلسل میں آٹھواں نمبر شعبان کا ہے۔ اس کی صفت معظم ہے یعنی ایسا مہینہ، جو عظمت و تقدس کا حامل ہے۔ اس کی عظمت و بزرگی کی کئی وجوہات ہیں۔ اس کی پہلی وجہ تو یہ ہے کہ یہ مہینہ سرورکونین ﷺ کا مہینہ ہے۔ اس کا دوسرا عنوان شہر رسول بھی ہے۔ اور یہ بات آپ بخوبی جانتے ہیں کہ، جس چیز کی نسبت سرورکائنات ﷺ سے ہوجائے تو اس کی عظمت و تقدس کی کیا شان ہوسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ رمضان کے بعد سب سے زیادہ اسی مہینہ میں روزہ کا اہتمام فرمایا کرتے تھے۔ اس مہینہ کی فضیلت کی یہ دوسری وجہ تھی اور تیسری وجہ یہ ہے کہ اسی مہینہ میں بارگاہ خدا وندی میں بندوں کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں۔ اسی لیے نبی اکرم ﷺ اپنے روزہ کی وجہ بتاتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ میں پسند کرتا ہوں کہ میرے اعمال کی پیشی کے وقت میں روزہ کی حالت میں رہوں۔ چوتھا سبب یہ ہے کہ یہی وہ مہینہ ہے، جس میں انسان کی تقدیریں مرتب ہوتی ہیں۔ پورے سال معرض وجود میں آنے والوں اور اسی طرح دنیا سے جانے والوں کی فہرست بنائی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں ان کے مقدرات کا بھی فیصلہ ہوتا ہے۔ علامہ ابن رجب حنبلی ؒ نے لطائف المعارف میں لکھا ہے کہ حسن ابن سہیلؒ نے کہا کہ شعبان اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ایک مکالمہ ہوا۔ شعبان نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ درخواست پیش کی کہ ائے اللہ! - [شودروں کے زمرے میں، مسلمانوں کو ڈالنے کی مہم](https://jahazimedia.com/?p=870) - [جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ کی تاریخ](https://jahazimedia.com/?p=866) - [توہین رسالت کے مجرمین کے  خلاف کرنے کےضروری کام](https://jahazimedia.com/?p=864) - [زمانہ بدل گیا](https://jahazimedia.com/?p=862) - [لمحہ مسرت میں افسردگی](https://jahazimedia.com/?p=860) - [رحم مادرمیں بیٹی کے نام ماں کا خط](https://jahazimedia.com/?p=857): میری پیاری و لاڈلی نور نظر ! - [محترم مولانا ابوالکلام آزاد کا خطاب](https://jahazimedia.com/?p=534) - [دھرم پریورتن، سچائی اور پروپیگنڈه](https://jahazimedia.com/?p=532): آر ایس ایس اور اس كے زیر اثر بی جے پی كی طرف سے بار بار تبدیلیٔ مذهب كے خلاف آواز اٹھتی رهتی هے، بھگوا دهشت گرد پریشان هیں كه آخر كیسے هندو سماج كواپنے دھرم پر قائم ركھا جائے اور ان كو اپنے مذهب سے باهر جانے سے روكا جائے، اس كے لئے مختلف ریاستوں میں ’’دھرم پریورتن ‘‘كا قانون لایا گیا، جو لوگ قانونی تقاضوں كو پورا كرتے هوئے مذهب بدلتے اور خاص كر اسلام قبول كرتے، ان كے خلاف ایف آئی آر درج كی جاتی هے، ابھی سپریم كورٹ نے اتر پردیش كی حكومت كو اس حركت پر پھٹكار لگائی هے، افسوس كه بھگوا گروپ اپنی كمی كو دوسروں میں تلاش كرنا چاه رها هے، وه اس پر غور نهیں كرتا كه خود همارے اندر كیا كمی هے؛ بلكه وه مسلمانوں اور عیسائیوں میں قصور تلاش كرتا هے، ان پر ظلم كرتا هے، ان كو بدنام كرتا هے، ان كے خلاف پروپیگنڈه كرتا هے، مسلم لڑكیوں كو مرتد كرنے كے لئے بڑے بڑے انعامات كا اعلان كرتا هے؛ حالاں كه ان كو خود اپنے دامن كا داغ دیكھنے كی ضرورت هے۔اصل بات یه هے كه ہندو مذہب میں بنیادی طور پر کوئی ایسا ٹھوس عقیدہ نہیں پایا جاتا ، جس کو ہندو عقیدہ اور آئیڈیا لوجی (Ideo Logg) کا نام دیا جاسکے ، جو لوگ ’’ رام ‘‘ کو بھگوان اور خدا مانتے ہوں ، وہ بھی ہندو ہیں اور جوگ ’’ راون ‘‘ کو خدا قرار دیتے ہوں اور رام کو بُرا بھلا کہتے ہوں ، وہ بھی ہندو مذہب ہی کے علمبردار ہیں اور نہرو وغیرہ جیسے دانشور جو مورتی پوجا اور دیوی دیوتاؤں کے وجود کو توہم پرستی قرار دیتے ہوں وہ بھی ہندو ہیں ، غرض ہندو مذہب ’’ موم کی ناک ‘‘ ہے ، اس کی جو صورت چاہو ، بنا لو ، توہم پرستی ہی کے نتیجے میں طبقاتی تقسیم ہندو عقیدہ کا اٹوٹ جزء ہے اور اسی لئے ہندستان میں ہزاروں سال سے دبے کچلے ہوئے لوگوں کا احساس ہے کہ ہندو مذہب در اصل مذہبی قالب میں ’’ برہمن واد‘‘ کی حفاظت سے عبارت ہے ، اس نظام نے صدیوں سے دلت اور پست طبقات کو اپنے طاقتور پنجہ میں دبا رکھا ہے ، جب بھی انھوں نے انگڑائی لینے کی کوشش کی ، نہایت ذہانت کے ساتھ ان پر اپنی گرفت اور مضبوط کردی گئی۔حالاںکہ ہمارا موجودہ جمہوری ڈھانچہ ذات پات کے تصور کی نفی کرتا ہے ؛ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ آج بھی برہمنوں کی تعداد تو چارپانچ فیصد سے زیادہ نہیں ، حکومت کے کلیدی عہدوں پر ان کی تعداد ۶۴ فیصد ہے ، سیاسی تبدیلیوں سے چہرے بدلتے ہیں ؛ لیکن اس حقیقت میں کوئی تبدیلی نہیں آتی ، آج تک پست اقوام میں کوئی شنکر اچاریہ اور مٹھ کا سربراہ نہیں بن سکا ، اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ہندو قوم میں یہ مسئلہ محض ایک سماجی مسئلہ نہیں ؛ بلکہ اس کی جڑیں عقیدہ کی گہرائیوں میں پیوست ہیں ، ان حالات نے دبے کچلے لوگوں کو اس بات پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ ہندو ازم کے اس قید خانے سے اپنے آپ کو باہر نکالیں اور باعزت انسان کی طرح سماج میں زندہ رہیں ، اس کے لئے مشہور رہنما امبیڈکر نے بودھ ازم کو قبول کیا ؛ لیکن جلد ہی سمجھ دار اور باشعور لوگوں نے اس حقیقت کو سمجھ لیا کہ یہ شراب کو آب سمجھنے کے مترادف ہے ، بدھسٹ سماج کو ہندو سماج نے اس طرح جذب کر لیا ہے کہ گویا یہ قید خانہ کی ایک کوٹھری سے نکل کر دوسری کوٹھری میں داخل ہونا ہے ، وہی سماج ، وہی تہذیب ، وہی رسوم ورواج ، بس خداؤں میں ایک خدا کا اضافہ ، یا کچھ دیوتاؤں کی تبدیلی ، یہاں تک کہ دستورِ ہند کے مطابق بھی اس تبدیلی ٔمذہب کے باوجود وہ ہندو ہی شمار کیا جاتا ہے ، لوگ یہ بھی محسوس کرنے لگے ہیں کہ جن مذاہب کی پیدائش اور نشوو نما ہندوستان کی سر زمین میں ہوئی ہے ، برہمنوں نے اپنی ذہانت سے ان کا ایسا ’’ ہندو کرن‘‘ کر دیا ہے ، کہ اب کسی کے لئے ان مذاہب میں سے کسی کو اختیار کرنے کے باوجود ہندو سماج کے مظالم سے نجات پانا اور انصاف حاصل کرنا ممکن نہیں ۔اس لئے بے چین اور بے قرار ذہن و فکر رکھنے والوں کے لئے دو ہی راستے رہ گئے ہیں ، عیسائیت یا اسلام ؟ اس سے کسی حقیقت پسند غیر مسلم کو بھی انکار نہیں کہ اسلام کے عقائد اوراُصول جتنے صاف و شفاف ، عقل و فطرت سے ہم آہنگ ، متوازن اور انسانی ضروریات کے لئے موزوں اور مناسب ہیں ، کسی اور مذہب میں اس کی مثال نہیں ملتی ، اللہ کی وحدت اورانسانوں کی وحدت ، یہ اسلام کا انقلابی تصور ہے اور دونوں ایک دوسرے سے مربوط ہیں ، اگر خدا ایک ہے ، اس کا کوئی خاندان ، کنبہ نہیں اور کسی انسانی طبقہ سے اس کی قرابت مندی اوررشتہ داری نہیں تو اس سے خود بخود انسانی وحدت اور مساوات کا تصور اُبھرتا ہے ، پھر اسلام میں کوئی عقیدہ ’’پہیلی‘‘ کی طرح نہیں کہ اس کا سمجھنا مشکل اور سمجھانا مشکل تر ہو ، جیساکہ ہمارے عیسائی بھائیوں کے یہاں ایک میں تین اور تین میں ایک کا تصور (Concept of the Trinity) ہے ، یا ’’ عقیدۂ کفارہ ‘‘ (The Ataoement) ہے کہ غلطی کوئی کرے اور سزا حضرت مسیح علیہ السلام کو جھیلنی پڑے ، اسی لئے مسلمان حالاںکہ اس ملک میں بہت تھوڑی تعداد میں آئے ؛ لیکن اس ملک کے باشندوں نے جو طبقاتی تقسیم کی وجہ سے ظلم وجور سے دو چار تھے اوردیوتاؤں کی ایک فوج کی پرستش کرتے کرتے عاجز آچکے تھے ، انھوں نے اسلام کی دعوت پر لبیک کہا ، افغانستان سے لے کر بنگلہ دیش اور برما تک جو مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد موجود ہے ،وہ اسلام کی اسی کشش کا نتیجہ ہے ۔ بعض لوگ غلط فہمی پیدا کرتے ہیں کہ مسلمانوں نے اس ملک میں جبرا تبدیلی ٔمذہب کرایا ہے ؛ لیکن یہ ایسا جھوٹ ہے کہ خود عقل عام اس کو جھٹلا تی ہے ، ہندوستان کے جنوبی اورساحلی علاقوں میں تو اسلام حضرت عمر فاروق ؓ ہی کے عہد میں آچکا تھا اور نہ صرف پَرْجَا ؛بلکہ بعض راجاؤں نے بھی اسلام قبول کیا تھا ، اس وقت یقیناً درۂ خیبر سے کوئی فوجی قافلہ ہندوستان نہیں پہنچا تھا ، اس وقت جبر و دباؤ کی کیا گنجائش تھی ؟ پھر غو ر کیجئے کہ مسلمانوں نے اس ملک کے مختلف حصوں پر کم و بیش آٹھ سو سال تک حکومت کی ہے ، آج جب حکومت کے بغیر ہندو سماج میں تبدیلی ٔ مذہب کا طوفان اُٹھا ہوا ہے اور کئی ریاستوں میں آبادی کا توازن بدل چکا ہے ، تو اگر اتنا طویل عرصہ جبر و دباؤ سے کام لیا جاتا تو کیا یہ ملک مسلم اکثریت نہیں بن گیا ہوتا ؟ حقیقت یہ ہے کہ جبرو دباؤ تو الگ چیز ہے ، مسلمان حکمرانوں نے تو عام طور پر اسلام کی تبلیغ ودعوت کی طرف بھی توجہ نہیں کی اور اشاعت ِدین کی طرف سے انتہائی تغافل برتا ، ورنہ اگر اس سلسلہ میں تھوڑی بھی کوشش کی جاتی تو اسلام میں جو کشش ہے ، یہی لوگوں کو اسلام کی طرف راغب کرنے کے لئے کافی ہوتی ۔اسلام کے بعد اس ملک کے لوگوں کے لئے زیادہ قابل توجہ مذہب عیسائیت ہے اوراس میں شبہ نہیں کہ پچھلے سو سال میں ہندؤں کی بہت بڑی تعداد نے عیسائیت کو قبول کیا ہے ، اور جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ، کئی ریاستوں میں تو عیسائیت اکثریتی مذہب بن گیا ، میرے خیال میں اس کی بنیادی وجہ دو ہے ، ایک تو مادی وسائل کا استعمال ، ہسپتال ، درسگاہیں اور معاشی فلاح کے مراکز کے قیام و انتظام نے عیسائیت کو اس بات کا موقع فراہم کیا کہ مقامی آبادی میں اثر ونفوذ حاصل کرے اور ان میں داخل ہو سکے ، دوسرے گو عیسائیت ایک عالمی مذہب اور ترقی یافتہ قوم کا مذہب ہونے کی وجہ سے ہندو ازم کے ساتھ مکمل طور پر جذب نہیں کی جاسکتی ؛ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ عیسائیت کا کوئی سماجی تشخص ، نہیں ہے ، شادی ، بیاہ ، سماجی رسم ورواج وغیرہ میں وہ ہندو سماج ہی کا ایک حصہ بن گئے ہیں ، ان کے پاس حلال و حرام اور جائز وناجائز کا کوئی مکمل نظامِ حیات نہیں ، جو ان پر قیود و حدود عائد کرتا ہو اور اپنے پہلے معمولات سے روکتا ہو ، اکثر اوقات تو نام بھی تبدیل نہیں کئے جاتے ، بس کچھ تہواروں کا فرق ہوتا ہے ، شرک پہلے بھی تھا اور اب بھی ہے ، مورتی کی پرستش پہلے بھی تھی اور اب بھی ہے ، اس لئے جب کوئی ہندو عیسائی مذہب قبول کرتا ہے تو اسے بہت ہی معمولی تبدیلیوں سے گذرنا پڑتا ہے ، اس کی عملی زندگی میں تو کوئی انقلاب آتا ہی نہیں اور اسے فکر و عقیدہ کے اعتبار سے بھی کسی غیر معمولی تبدیلی سے گذرنا نہیں پڑتا ۔اسلام مذہب کے معاملہ میں ایسی دو رنگی اور دو عملی کوروا نہیں رکھتا ، اسلام قبول کرنے کا مطلب خداؤں میں ایک خدا کا اضافہ نہیں ؛ بلکہ اللہ سے رشتہ جوڑ کر تمام توہمات سے رشتہ توڑنا ہے ، اس کی عبادتیں الگ ہیں ، اس کے تہوار الگ ہیں ، وہ غیر مسلم خاندانوں سے شادی بیاہ کا تعلق قائم نہیں رکھ سکتا ، وہ ایمان لانے کے بعد اپنے والدین کے ترکہ سے حصہ نہیں پاسکتا ، اس کو کھانے ، پینے ، خریدنے ، بیچنے ، کمانے غرض زندگی کے ہر شعبہ میں حلال و حرام کی حدیں قائم کرنی پڑتی ہیں اور حرام سے بچنا پڑتا ہے ، دین یقیناً آسان ہے ؛ لیکن جو نفس کی ہر خواہش پر لبیک کہنے کا عادی بن چکا ہو ، اس کے لئے حق پر گامزن ہونا ، لوہے کا چنا چبانے کے مترادف ہے ، گویا مسلمان ہونے کے بعد انسان ایک سماج سے دوسرے سماج کی طرف ہجرت کرتا ہے ، اس لئے یہ پھولوں کی سیج نہیں ؛ بلکہ کانٹوں کا فرش ہے ، اسی بنا ء پر جو لوگ خدا سے ڈر کر سچائی اورحقیقت کی تلاش کے جذبے سے معمور ہو کر اور عزم و ارادہ کی قوت سے مسلح ہو کر قدم اُٹھانا چاہیں ، وہی اس راہ پر آسکتے ہیں ، کسی بھی شخص کو حقیر ، معمولی اور مادی مقاصد کے تحت اس راہ میں آبلہ پائی کا حوصلہ نہیں ہو سکتا ؛ چنانچہ ایک تو ان مشکلات اور دوسری طرف دعوتِ اسلام کے کاموں سے غفلت کی بناء پر آزاد ہندوستان میں عیسائیت کی طرف ہندو سماج کا رُجوع زیادہ ہوا ہے ۔ ہندوستان ایک سیکولر اور جمہوری ملک ہے ، جو ہر شخص کو اپنے ضمیر کی آواز پر عمل کرنے کی گنجائش فراہم کرتا ہے ؛ چنانچہ دستورِ ہند کے بنیادی حقوق کی دفعہ : ۲۵ میں تمام شہریوں کے لئے آزادیٔ ضمیر اور آزادی سے مذاہب پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا مساوی حق شامل ہے ، اس لئے سنگھ پریوار کا ’’ دھرم پری ورتن ‘‘ پرچیں بہ جبیں ہونا یقیناً ہندوستان کے دستور سے بغاوت کرنے کے مترادف ہے ، اپنی بیماری کو دور کرنے کے بجائے ان لوگوں کو بُرا کہنا جو بیماری کو بیماری سمجھتے ہیں ، بے وقوفی ہی کہی جاسکتی ہے ۔ اسلام نے بھی ضمیر و اعتقاد کی آزادی کو تسلیم کیا ہے ، اللہ تعالیٰ نے صاف ارشاد فرمایا کہ ہدایت گمراہی کے مقابلہ واضح ہو چکی ہے ؛ لہٰذا دین کے معاملہ میں کوئی جبر و دباؤ نہیں ہے : لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ(البقرۃ : ۲۵۶) رسول اللہ ﷺسے صاف ارشاد فرمایا گیا کہ آپ کا کام صرف نصیحت کرنا ہے ، آپ داروغہ نہیں ہیں کہ ان کو اپنی بات ماننے پر مجبور کردیں : اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَکِّرٌ لَسْتَ عَلَیْھِمْ بِمُصَیْطِرٍ (الغاشیہ : ۲۱-۲۲) ایک موقع پر ارشاد ہوا کہ اگر اللہ چاہتا تو تمام انسان ہی مومن ہو جاتے ، پھر کیا آپ لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور کر دیں گے ؟: اَفَاَنْتَ تُکْرِہُ النَّاسَ حَتّٰی یَکُوْنُوْا مُوْمِنِیْنَ (یونس : ۹۹) پیغمبر اسلام ﷺکو ہدایت فرمائی گئی کہ اگر وہ آپ کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کردیں تو آپ پر کوئی ذمہ داری نہیں ، آپ پر تو محض یہ ہے کہ پیغامِ ہدایت کو صاف صاف اورکھلے طور پر پہنچا دیں اور بس : فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْکَ الْبَلاَغُ الْمُبِیْنُ(النحل : ۸۲) آپ سے فرمایا گیا کہ جو لوگ کفر پر بضد ہیں ان سے کہہ دو کہ تمہارے لئے تمہارا دین ہے اورمیرے لئے میرا دین : لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْن( الکافرون: ۶) ایک اور موقع پر آپ کی زبان سے کہلا گیا کہ ہمارے لئے ہمارےاعمال ہیں اور تمہارے لئے تمہارے اعمال : لَـنَا اَعْمَالُنَا وَ لَکُمْ اَعْمَالُکُمْ( الشوریٰ : ۱۵) غرض عقیدہ و ضمیر کی آزادی کا قائل اسلام بھی ہے ، وہ کسی شخص کو مسلمان ہونے پر مجبور نہیں کرتا ، ہاں جہاں اسلامی حکومت ہو اور ایک شخص نے مسلمان ہونے کی حیثیت سے شہریت قبول کی ہو اور حقوق حاصل کئے ہوں ، اس کا اسلام سے کفر کی طرف سفر کرنا نہ صرف روشنی سے تاریکی کی طرف سفر کرنا ہے ؛ بلکہ گویا ملک سے بغاوت ہے اور بغاوت کسی بھی سیاسی نظام میں ناقابل برداشت ہے ، اسی لئے جہاں اسلامی حکومت ہو وہاں ارتداد موجب قتل ہے ۔ بہرحال تبدیلی ٔ مذہب پر ہونے والی یہ بحثیں مسلمانوں کے لئے مایۂ عبرت ہیں کہ ہندو سماج جو پاکیزہ مذہبی تصورات اور عقل انسانی سے ہم آہنگ عقائد سے محروم اور توہمات کے شکنجہ میں قید ہے اور جو روحانی سکون کے لئے مضطرب اور طبقاتی تقسیم کی وجہ سے مظلوم اور ستم رسیدہ ہے ، اسلام جیسا صاف ستھرا ، پاکیزہ ، روحانی اور اخلاقی قدروں سے معمور ، عقل و فطرت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ، انقلاب انگیز اور انسانیت کی اصلاح کے لئے غیر معمولی صلاحیت کا حامل اور اثر انگیز مذہب و عقیدہ کا حامل ہونے کے باوجود انھوں نے اپنے فرائض سے بےاعتنائی برتی اور آج تک بھی ہم کوئی منظم اور منصوبہ بند ، دعوتی اور تبلیغی سعی و کاوش نہیں کر رہے ہیں ؛ حالاںکہ یہی فریضہ ہے ، جو نصرت خداوندی کی کلید اور خدا کے غیبی نظام کے تحت مسلمانوں کی حفاظت و صیانت کا سب سے بڑا ہتھیار ہے ۔ . - [پریانک کھرگے کا آئینہ جمہوریت کی خود احتسابی کی دعوت](https://jahazimedia.com/?p=528) - [وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی](https://jahazimedia.com/?p=521) - [قرآن حکیم غیر مسلموں کی نظر میں](https://jahazimedia.com/?p=519) - [غزل از حفیظ میرٹھی](https://jahazimedia.com/?p=516): غزلپھر رہے ہیں خود نمائی کو وہ بے پردہ کیے اس ہوس نے کیسے کیسے خوب رو رسوا کیے ہم ضرورت اور انا کی کش مکش دیکھا کیےبھیک ٹھکرایا کیے دامن بھی پھیلایا کیے دیکھنے دیتے نہیں، کچھ سوچنے دیتے نہیں وہ جو بیٹھے ہیں نگاہ و فکر پر قبضہ کیے یہ نہ سنا، یہ نہ پڑھنا، یہ نہ بن جانا کہیں شوق کے دروازے ان پابندیوں نے وا کیے وار کو ان کے کبھی خاطر میں لایا ہی نہیں کتنے دشمن میں نے اس تدبیر سے پسپا کیے چاند کا کردار اپنایا ہے ہم نے دوستو! - [علی گڑھ تحریک اور برصغیر کے مسلمانوں کی فکری و تعلیمی بیداری](https://jahazimedia.com/?p=512) - [ویسٹ یا انویسٹ](https://jahazimedia.com/?p=508) - [16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا](https://jahazimedia.com/?p=504) - [مسلمان اور معاشی دشواریوں کا حل](https://jahazimedia.com/?p=502) - [نشہ کی حقیقت اور اس کا علاج اسلامی تعلیمات کی روشنی میں](https://jahazimedia.com/?p=497): خامہ بکف✍🏻 محمد عادل ارریاوی _____________________________________قارئین کرام : جب انسان اپنی فطری راہوں سے ہٹ کر خواہشات کی بھٹی میں جلنے لگے تب وہ اپنی ہی ذات کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن جاتا ہے ایسی ہی ایک مہلک بیماری نشہ خوری کی عادت ہے جو بظاہر وقتی خوشی دیتاہے حالانکہ یہ خوشی نہیں مگر نشہ خوراس کو خوشی اور سرور تصور کرتے ہیں مگر درحقیقت یہ ایک زہر ہے جو جسم وروح رشتوں سماج اور پوری تہذیب کو اندر ہی اندر کھاجاتا ہے۔سماجی اثرات خاندانوں کا بکھرنا رشتوں کا ٹوٹنا نشہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا ناسور بن جاتا ہے وہ باپ جو کبھی بچوں کا محافظ ہوا کرتا تھا نشے کی گرفت میں آ کر خود ان کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ وہ بیٹا جو ماں کی آنکھوں کا تارا تھا نشے کے دھن کھوجاتاہے،ایسے میں گھر کا سکون تباہ وتاراج ہوجاتاہے،رشتوں کی مضبوطی کمزورپڑ جاتی ہے اور معاشرتی زندگی میں گھن لگ جاتاہے،نشہ کرکےگلیوں میں لڑکھڑاتے ہوئے ،پارکوں میں نشے کے عادی اور سڑکوں پر ادھم مچاتےلڑکےماحول کوخراب کرتے دکھائی دیتےہیں، اوریہ سب ہمارے سماج کے چہرے پر بدنما داغ بن چکے ہیں۔اسلام جو فطرت کی آواز ہے نشے کی ہر قسم کو حرام قرار دیتا ہے قرآنِ حکیم میں ارشاد ہوتا ہے اے ایمان والو! - [تعلیم میں تفریح کی آڑ میں تعلیم کا زوال](https://jahazimedia.com/?p=485) - [سلف صالحین سے بدگمانی سے بچیں](https://jahazimedia.com/?p=475) - [مسجد کے قیام کا مقصد ماضی، حال اور مستقبل ( پہلی قسط )](https://jahazimedia.com/?p=473) - [دعا مومن کا ہتھیار ہے لیکن پیش قدمی بھی ضروری ہے!](https://jahazimedia.com/?p=441) - [جنگل کا قانون](https://jahazimedia.com/?p=424) - [کیا گاندھی جی کے اصول دور حاضر میں بھی کارآمد ہیں؟](https://jahazimedia.com/?p=421) - [حضرت نظام الدین اولیاءؒ کی حیات اور افکار](https://jahazimedia.com/?p=415) - [ووٹ چوری ایک سنگین جرم!](https://jahazimedia.com/?p=382): گناہوں کی قران وحدیث میں بہت مذمت کی گئی ہے ،اور جس کو لوگوں کے عرف میں بھی بہت مذموم سمجھا جاتا ہے،ان میں ایک چوری ہے،اصل میں چوری مالک کی اجازت کے بغیر ایسے مال کے چھپا کر لینے کو کہتے ہیں،جس کو اس نے حفاظت میں رکھا ہو،مثلا اپنے کمرے میں یا اپنے صندوق میں رکھا ہو،اور چوری کی جو شرعی سزا ہے:ہاتھ کا کاٹنا،وہ اسی نوعیت کے فعل پر ہے،اگر کوئی شخص بظاہر کسی غیر محفوظ جگہ سے کوئی چیز اٹھا لے،تو اگرچہ یہ بھی چوری ہے؛لیکن اس پر چوری کی سزا نافذ نہیں ہوتی ،چوری کی سزا کا ذکر خود قرآن مجید میں موجودہے، اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا ہے:چوری کرنے والا مرد ہو یا عورت اس کا ہاتھ کاٹ دو(مائدہ :۳۸)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سزا کو نافذ بھی کیا ہے ،اور چور کا دایاں ہاتھ گٹوں سے کٹوایا ہے(مسلم عن عائشہؓ، حدیث نمبر: ۱۶۸۴، باب حد السرقۃ) اس سے اس جرم کی شناعت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے، چوری اُن سنگین جرائم میں شامل ہے،جن کے لئے حدود مقرر ہیں اور اس کے مرتکب کو مقررہ سخت سزا دی جاتی ہے۔حقیقت میں تو چوری کا تعلق مال کے لینے سے ہے،مگر بے جا طور پر چھپا کر کوئی چیز حاصل کرنے اور اپنی ذمہ داری میں کوتاہی برتنے کو بھی ’’چوری‘‘ کہا جاتا ہے،رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو شخص بغیر دعوت کے کسی دعوت میں شریک ہو جائے،وہ آیا چور بن کر اور واپس ہوا غارت گر بن کر: دخل سارقا وخرج مغیرا (ابو داؤد ،حدیث‌ نمبر: ۳۷۴۱, باب ما جاء فی اجابۃالدعوہ)اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کی چوری کا ذکر فرمایا، اگر کوئ شخص نماز ادا کرے اس کے ظاہری افعال کو انجام دے؛ لیکن صحیح طریقہ پر رکوع سجدہ نہ کرے، تو‌ وہ بد ترین چوری ہے،(سنن دارمی عن ابی قتادہ،حدیث نمبر:۱۳۶۷)گویا اس نے اللہ تعالیٰ کے حق میں سے چوری کی ہے،ایسی چوریوں پر اگرچہ شرعی سزا نافذ نہیں ہوگی؛لیکن یہ بھی ایک سنگین جرم ہے،اور اس سے بچنا بھی ضروری ہے ، اسی طرح اگر کوئی مال اس طرح محفوظ نہ کیا گیا جیسے مثلا کؤی چیز بغیر قفل کے عوامی جگہ پر چھوڑ دی گئی،اور کسی نے اس کو بلا اجازت استعمال کر لیا،تو یہ بھی چوری کے دائرہ میں آتا ہے، جیسے بجلی کی چوری،ظاہر ہے بجلی کسی کمرے یا صندوق میں بند کر کے نہیں رکھی جاتی؛لیکن اگر کوئی شخص غیر مجاز طریقہ پر استعمال کرے اور اس کا بل ادا نہ کرے تو یہ بھی چوری میں شامل ہے،اسی طرح اگر حکومت کو اپنی آمدنی کے بارے میں صحیح معلومات فراہم نہیں کی گئیں، حکومت نے منصفانہ طور پر اس کی آمدنی میں جو ٹیکس رکھا ہے،اس کو ادا نہیں کرے ، اپنی دولت کو چھپائے اور غلط بیانی سے کام لے تو یہ بھی ٹیکس کی چوری ہے اور اس پر بھی انسان اللہ کے پاس جواب دہ ہو سکتا ہے، چوری کی بعض اور صورتیں بھی ہمارے سماج میں پائی جاتی ہیں،جن کا مال سے براہ راست تعلق نہیں ہے ؛مگر عرف میں ان کو چوری کہا جاتا ہے، جیسے امتحان میں کوئی امیدوار کتاب دیکھ کر پرچہ لکھے،یا کسی دوسرے کی مدد سے لکھے تو یہ بھی چوری کہلاتی ہے ، اسی طرح چوری کی ایک قسم وہ ہے،جس کا تعلق تصنیف وتالیف اور علمی سرمایہ سے ہے،کسی کی کتاب دوسرا شخص اپنے نام سے چھاپ لے،کسی کے مضمون کو اس کا حوالہ دیے بغیر اپنے نام سے شائع کر لے،کسی کی تحقیق کو اس کا ذکر کئے بغیر اپنی طرف منسوب کر لے، یا اپنی تحقیق کی حیثیت سے پیش کرے، یہ سب علمی سرقہ کی مختلف شکلیں ہیں اور یہ پہلے بھی پیش آتی رہی ہیں،ایک بڑے صاحب علم نے اپنے معاصر کی اس حرکت کو ہدف بناتے ہوئے ایک رسالہ ’’الفارق بین المصنف والسارق‘‘ تالیف کیا ہے،یہ اور اس طرح کی چوری کی بہت سی صورتیں ہیں، جس پر اگرچہ چوری کی شرعی سزا نافذ نہیں کی جا سکتی؛ مگر یہ ہے بہت مذموم اور شرمناک ، اور جھوٹ اور دھوکہ کے گناہ کو شامل ہے، موجودہ دور میں چوری کی ایک نئی شکل سامنے آئی ہے، جس کا نقصان مال و زر کی چوری سے بھی بڑھ کر ہے، اور وہ ہے ووٹ کی چوری ، یہ چوری چھوٹے موٹے غریب و مفلس اور ان پڑھ لوگ نہیں کرتے؛ بلکہ پڑھے لکھے، ذی حیثیت مالدار اور سماج میں اثر ورسوخ رکھنے والے افراد کرتے ہیں،اور اکثر اوقات اس چوری کا مقصد ہوتا ہے نا جائز طریقہ پر کسی عہدے کو ہتھیا لینا،جو اس کا اصل مستحق تھا اس کو اس سے محروم کر دینا، اور بے جا طریقہ پر اقتدار کی کرسی پر مسلط ہو جانا، جن ممالک میں آمرانہ نظام قائم ہے یا بادشاہت کا دور دورہ ہے، وہاں تو یہ چوری کھلے عام ہوتی ہے ؛ کیونکہ اس کو قانون اور دستور کا حصہ بنا‌ لیا گیا ہے، نہ کؤی زبان ہے جو اسے ٹوک سکے اور نہ کؤی قلم ہے جو اسے روک سکے؛ لیکن وہ ممالک جو جمہوریت اور سیکولرزم کا نعرہ لگاتے ہیں، اور یہ نظریہ ان کے دستور کا حصہ ہے، وہاں بھی مختلف طریقوں پر کہیں چھپ کر، کہیں زور زبردستی سے اور کہیں دھوکہ دہی کے ذریعہ اس عمل کو انجام دیا جاتا ہے، اس وقت ہمارا ملک اسی صورتحال سے دوچار ہے ، پورا ملک ووٹ چوری کے نعرے سے گونج رہا ہے، موجودہ حکومت نے اقتدار کے حرص میں ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانے پر ہیر پھیر کی ہے، جو نام نہیں تھے انہیں شامل کیا گیا ہے ، جو نام‌ شامل تھے انہیں بلا وجہ نکال دیا گیا ہے ، اور دیدہ دلیری یہ ہے کہ جو لوگ اس کے مرتکب ہیں، وہ ووٹر لسٹ کی فہرست اور ووٹنگ کی الیکٹرانک رپورٹ بھی دینے کو تیار نہیں ہیں۔اس پس منظر میں بجا طور پر پورے ملک میں کہرام برپا ہے،اللہ کرے اس کا کچھ بہتر نتیجہ سامنے آئے ۔اگر ہم شرعی نقطۂ نظر سے غور کریں تو بعض اعمال کی حیثیت مقصود کی ہوتی ہے ، قرآن وحدیث میں متعین طور پر ان کا حکم دیا گیا ہے ، جیسے نماز و روزہ ، حج و زکوٰۃ وغیرہ ، بعض اعمال مقصود نہیں ہوتے ہیں ، ان کی حیثیت ذریعہ اور وسیلہ کی ہوتی ہے ، تو جو عمل جس بات کا ذریعہ ہو ، جو حکم اس کا ہوگا ، وہی حکم اس ذریعہ کا بھی ہے ، جیسے چلنا ایک عمل ہے ، اگر انسان اس لئے چلے کہ اسے نماز ادا کرنے کے لئے مسجد پہنچتا ہے ، تو اس کا یہ چلنا بھی عبادت کے درجہ میں ہے ، اوراسے ہر قدم پر نیکی ملے گی ، خود حدیث میں اس کا ذکر آیا ہے ، (مسلم، حدیث نمبر: ۶۵۴) اور اگر کوئی شخص شراب پینے کی نیت سے چلے اور اس کا قدم شراب خانہ کی طرف بڑھ رہا ہو ، تو صرف اس کا شراب پینا ہی گناہ نہیں ہے ؛ بلکہ شراب خانہ کی طرف جانا بھی گناہ ہے ، جوں ہی وہ گھر سے شراب خانہ کی طرف شراب پینے کی نیت سے نکلا ، اسی وقت سے گناہ کا عمل شروع ہو گیا ؛ اس لئے جس عمل کے بارے میں شریعت میں جائز و ناجائز یا پسندیدہ و ناپسندیدہ ہونے کا حکم صریحاً موجود نہیں ہو ، دیکھنا چاہئے کہ وہ کس بات کا ذریعہ بنتا ہے ، ایسی بات کا جو شریعت میں پسندیدہ ہے یا ایسی بات کا جو شرعاً ناپسندیدہ ہے ؟ووٹ کا حق حاصل کرنا اور موقع پر اس حق کا استعمال کرنا اس بات کا ذریعہ بنتا ہے کہ آپ اچھے لوگوں کے ہاتھ میں حکومت کی باگ ڈور سونپیں ، اور بُرے لوگوں کو کرسی اقتدار سے دُور رکھیں ، اور یہ ایک شرعی فریضہ ہے کہ جو شخص جس ذمہ داری کا اہل ہے ، اس کو وہ ذمہ داری سونپی جائے : ’’أنْ تُؤدُّوا لْاَمَانَاتِ اِلٰی اَھْلِھَا‘‘(النساء:۵۸) اور یہ بھی ضروری ہے کہ ظالم کو ظلم سے روکا جائے ، جس کی ایک صورت یہ ہے کہ اس کو اس مقام پر پہنچنے نہیں دیا جائے ، جہاں وہ دوسروں کے ساتھ ظلم ونا انصافی کا ارتکاب کر سکتا ہے : ’’ وَلَا تَرْکَنُوْا اِلَی الَّذِینَ ظُلِمُوا‘‘ (ھود:۱۱۳) اس لئے مسلمانوں کو نہ صرف ایک قومی فریضہ ؛ بلکہ ایک دینی فریضہ کی حیثیت سے بھی اس عمل کو دیکھنا چاہئے ، اور کوشش کرنی چاہئے کہ صد فیصد مسلمانوں کے نام ؛ بلکہ تمام شہریوں کے نام ووٹر لسٹ میں درج ہو جائیں ۔ہندوستان میں اس وقت صورت حال یہ ہے کہ فرقہ پرست اور مسلم مخالف طاقتوں نے چوطرفہ حملہ شروع کر دیا ہے ، اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے اور کمزورکرنے کے لئے جتنے ہتھیار ہو سکتے ہیں ، وہ سب آزمائے جا رہے ہیں ، فسادات کرائے جاتے ہیں ، ہجوم کے ذریعہ قتل کی واردات پیش آرہی ہیں ، ذرائع ابلاغ کو مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے کی اجازت دی گئی ہے ؛ بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کی جار ہی ہے ، سوشل میڈیا کی ایک تربیت یافتہ فوج شب وروز جھوٹی خبریں پھیلانے کا کام کر رہی ہے ، غرض مختلف جہتوں سے اسلام ، مسلمان اور مسلم تاریخ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ، ان سب کے پیچھے اصل میں جو طاقت کام کر رہی ہے ، وہ ہے اقتدار کی طاقت ، اور ہندوستان جیسے ملک میں طاقت کا سرچشمہ ووٹ ہے ۔اللہ تعالیٰ کاا رشاد ہے :اور (اے مسلمانو!) - [آسام کے وزیر اعلیٰ کو بلاتاخیر معطل کیا جائے اور ہیٹ اسپیچ کے مقدمات درج کیے جائیں](https://jahazimedia.com/?p=379) - [ماونٹ بیٹن پلان:تقسیم کے انتظامی مسائل](https://jahazimedia.com/?p=373) - [جمعیت علماء سے وابستگی دنیا میں امن آخرت میں سرخروئی کا ذریعہ ](https://jahazimedia.com/?p=371) - [ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند کی حضرت مفتی محمودؒ کی قبر پر حاضری](https://jahazimedia.com/?p=368) - [مفتی نظام الدین قاسمی جمعیت بلاک بسنت رائے کا بلا مقابلہ صدر منتخب](https://jahazimedia.com/?p=366) - [راجہ مہندر پرتاپ کی ایک نایاب تقریر](https://jahazimedia.com/?p=362) - [جمعیت علمائے ہندکا ہاتھ تقسیم ہندستان کے خون سے پاک ہے](https://jahazimedia.com/?p=359) - [جمعیت اور سنگھ میں زمین وآسمان کا فرق ہے: مسٹر جے پرکاش نرائن](https://jahazimedia.com/?p=356) - [سیاسی تربیت گاہ دار الصنائع کمپنی لمیٹڈ کے متعلق ایک اہم فارمولا](https://jahazimedia.com/?p=354) - [مرحبا سرکار کی آمد مرحبا ( صلی اللہ علیہ وسلم)](https://jahazimedia.com/?p=351) - [جمعیت علمائے گڈا جھارکھنڈ کا دستوری انتخاب](https://jahazimedia.com/?p=349) - [اف ؛ مسلمانوں میں بڑھتا ہوا اختلاف!! ( اللہ رحم کرے)](https://jahazimedia.com/?p=347) - [جمعیۃعلماء چاندنی چوک کا انتخاب بحسن و خوبی مکمل](https://jahazimedia.com/?p=322) - [نئی دہلی میں جمعیت کا انتخابی اجلاس پُرسکون اور روحانی فضا میں منعقد ہوا](https://jahazimedia.com/?p=319) - [ہندوستان کا ترنگا: منظر و پس منظر](https://jahazimedia.com/?p=309) - [کمپنی”گلک” میں خرید و فرخت کا شرعی حکم](https://jahazimedia.com/?p=306): قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! - [اچھے برے حالات پر ہمارا طرز عمل](https://jahazimedia.com/?p=303) - [وقف بائی یوزر کے فیصلے پر جمعیت علمائے ہند کی یہ ہے رائے](https://jahazimedia.com/?p=300) - [اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)](https://jahazimedia.com/?p=297): اﷲ کی طرف سے جو نبی و رسول آتے ہیں ، وہ انسانیت کے لئے نمونہ اور آئیڈیل ہوتے ہیں ، ان کا ہر عمل لوگوں کے لئے دلیل کی حیثیت رکھتا ہے ؛ اسی لئے وہ زندگی کے تمام شعبوں میں اعلیٰ ترین معیار پر قائم رہتے ہیں ، ان کی عبادتیں خشوع و خضوع کا نمونہ ہوتی ہیں ، ان کے معاملات راست گوئی اور پاکیزگی پر مبنی ہوتے ہیں ، ان کی معاشرت حسن سلوک اورسماج کے مختلف طبقہ کے ساتھ اچھے برتاؤ اور حقوق کی ادائیگی کی بہترین مثال ہوتی ہے ، وہ اخلاق کی اعلیٰ ترین سطح پر ہوتے ہیں ، یہ بات اس لئے بھی ضروری ہے کہ نبی کا بنیادی فریضہ دعوت و تبلیغ ہے اور دعوت کے مؤثر ہونے کے لئے ضروری ہے کہ مدعو پر اس کے اخلاق وسلوک کے بہترین نقوش ثبت ہوں ؛ کیوںکہ محبت اور خوش اخلاقی سخت سے سخت دل کو بھی پگھلانے کی طاقت رکھتی ہے ، قرآن مجید میں مختلف انبیاء کرام اور ان کی اقوام کے واقعات ذکر کئے گئے ہیں ، ان واقعات میں قوموں کی اپنے انبیاء کے ساتھ بد سلوکی و بد زبانی اور اس کے مقابلہ میں انبیاء کی طرف سے انتہائی درجہ تحمل و بردباری اور خوش گفتاری کا ذکر ملتا ہے ۔جناب محمد رسول اﷲ ﷺکی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ بلند اخلاق کی اعلیٰ ترین سطح پر تھے ؛ اسی لئے قرآن مجید میں آپ ﷺکے بارے میں کہا گیا ہے : إِنَّـکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ (القلم :۴ ) اکثر اخلاقی کمزوریوں کی بنیاد یہ ہوتی ہے کہ انسان کے قول و فعل میں تضاد ہوتا ہے ، وہ گفتگو تو بہت اونچی کرتا ہے ؛ لیکن عمل میں بہت نیچی سطح پر ہوتا ہے ، آپ ﷺ کی زندگی میں قول و فعل کا تضاد بالکل نہیں تھا ، آپ ﷺ لوگوں کو جس بات کی دعوت دیتے اسی پر آپ ﷺ کا عمل ہوتا ؛ اسی لئے حضرت عائشہؓ نے ایک شخص کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اخلاق محمدی کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ ﷺ سراپا قرآن تھے : کان خلقہ القرآن (مسند احمد : ۶؍۹۱ )آپ ﷺکے مزاج کا نمایاں پہلو تواضع و انکساری کا تھا ، آپ مقام نبوت پر فائز ہیں اور پورا جزیرۃ العرب آپ کے قدموں میں ہے ؛ لیکن تواضع اور سادگی کا حال یہ تھا کہ گھر پر خود جھاڑو دے لیتے، بازار سے سودا لاتے ، جوتی پھٹ جاتی تو اسے سی لیتے ، بکری کا دُودھ دوہ لیتے ، (مسند احمد ، حدیث نمبر : ۲۵۶۶۲) کھانے کے لئے بیٹھتے تو نہایت تواضع کی کیفیت کے ساتھ ، اور فرماتے کہ میں اس طرح کھاتا ہوں جیسے غلام کو کھانا چاہئے : ’’ أنا آ کل کما یأ کل العبد‘‘ اگر کوئی غریب آدمی کسی معمولی سی چیز پر مدعو کرتا تو اس کی دعوت بھی قبول فرمالیتے ، مریضوں کے گھر پہنچ کر ان کی عیادت کرتے ، غلاموں کی دعوت بھی قبول فرماتے ، ہر عام وخاص کے جنازہ میں شریک ہوتے ، گدھے کو معمولی سواری سمجھا جاتا تھا ، مگر آپ اس کی بھی سواری کیا کرتے تھے اور اگر کوئی غلام دعوت دے تو اسے بھی قبول فرماتے تھے ۔ (مدارج السالکین : ۲؍۳۲۸)لوگ تعظیم کے لئے کھڑے ہوتے تو منع فرمادیتے ، اگر کسی باندی کا بھی کوئی کام ہوتا اور وہ بھی سرِ راہ اپنی کسی ضرورت کے لئے روکتی تورُک جاتے ، بڑے تو بڑے ، چھوٹے بچوں کو بھی سلام فرماتے ، (بخاری ، عن انس ؓ، حدیث نمبر : ۶۲۴۷) رفقاء کے ساتھ اس طرح بیٹھتے کہ امتیازی شناخت نہ ہونے کی بناپر لوگ آپ کو پہچان نہیں پاتے ، اپنے لئے تعظیم کے جائز الفاظ بھی پسند نہیں فرماتے ، ایک بار بعض حاضرین نے عرض کیا : آپ ﷺ ہمارے آقا ( سید ) ہیں ، فرمایا : ’’نہیں ، آقا تو خدا کی ذات ہے ‘‘ ایک بار لوگوں نے عرض کیا : آپ ہم میں سب سے افضل وبرتر ہیں ، آپ ﷺ نے اس تعبیر کو بھی پسند نہیں فرمایا ، تواضع و فروتنی کا یہ حال تھا کہ فتح مکہ کے موقعہ پر جب دس ہزار مسلح جاں نثار آپ ﷺکے گرد و پیش تھے ، انکساری کی وجہ سے آپ کا سرمبارک اس قدر جھکا ہوا تھا کہ بار بار اونٹنی کے کوہان سے ٹکراجاتا تھا ۔آپ کا رہن سہن بھی تواضع کا مظہر تھا ؛ ایک بار حضرت عمرؓ بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوئے تو دیکھا کہ آپ کھلی چٹائی پر آرام فرمارہے ہیں ، جس پر کوئی بستر بھی نہیں ہے اورسرمبارک کے نیچے چمڑے کا تکیہ ہے ، جس میں چھالیں بھری ہوئی ہیں ، بدن مبارک پر چٹائی کے نشانات ہیں ، حضرت عمر ؓیہ منظر دیکھ کر رونے لگے ، آپ ﷺنے سبب دریافت کیا ، کہنے لگے : اللہ کے رسول ! - [سری لنکا بنگلہ دیش اور نیپال،، کیا سے کیا ہوگیا!! –(تبدیلی کی لہر)](https://jahazimedia.com/?p=292) - [بعثت نبوی اور ہیٹ کرائم کا خاتمہ](https://jahazimedia.com/?p=253): حجۃ الوداع کے موقع پر نبی نے فرمایا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ، وَأَبَاكُمْ وَاحِدٌ، لَا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى أَعْجَمِيٍّ، وَلَا لِأَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ، إِلَّا بِالتَّقْوَى. - [(قسط رابع) وصالِ نبوی کے بعد ہیٹ کرائم کا دوبارہ آغاز اور اس کی عالمی توسیع](https://jahazimedia.com/?p=250) - [کشمیر کا چار روزہ سفر](https://jahazimedia.com/?p=247) - [جھارکھنڈ کے صوبائی انتخاب میں صدر مولانا عبد القیوم اور خازن شاہ عمیر کے بننے پر مبارک باد](https://jahazimedia.com/?p=243) - [مسلمانوں سے آزاد بھارت بی جے پی کا خواب](https://jahazimedia.com/?p=240) - [مولانا توقیر رضا خان اور دیگر تمام گرفتار شد گان کو فی الفور رہا کیا جائےیوپی حکومت پوری ریاست کو فرقہ پرستی کی آگ میں جھونک رہی ہےآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ](https://jahazimedia.com/?p=236) - [مسجد کے قیام کا مقصد ماضی حال اور مستقبل ( دوسری قسط)](https://jahazimedia.com/?p=231): عَنْ أَنَسٍ قَالَ أُمِرَ بِلاَلٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ، وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ. - [اہل سنت والجماعت کے 15 عقیدے](https://jahazimedia.com/?p=225): مسلک دیو بند کوئی جدید مسلک ہے اور نہ کوئی نیا مذہب؛ بلکہ یہ مسلک قرآن و سنت کا پاسبان، احکام خداوندی اور نصائح محمدی کا منار ہے، ان کا عقیدہ، ذاتی نظریہ اور رجحان خالص قرآن اور احادیث کے مطابق ہے جس میں ( با وجود چودہ سو سال گزر جانے کے) ذرہ برابر فرق، حبہ برابر کمی اور نہ رائی کے دانے کے برابر اختلات پیدا ہوا ہے اور نہ پیدا ہو گا۔ ذیل میں ہم عالم اسلام کے بطل جلیل حضرت اقدس مولانا مفتی سيد عبد الشکور صاحب ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کے مشہور رسالہ عقائد اہل سنت و الجماعت (خلاصہ عقائد اہل سنت والجماعت) کی تلخیص کر کے قارئین کے سامنے پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔عقیدہ نمبر 01: ہمارے اور ہمارے اکابرو مشائخ کے نزدیک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت اعلیٰ درجے کی مراتب، باعث سعادت اور سبب حصول درجات ہے بلکہ واجب کے قریب ہےعقیدہ نمنر 02: مدینہ منورہ کا سفر کرتے وقت رسول اقدس کی قبر اطہر کی زیارت کی نیت کرے اور ساتھ ہی مسجد نبوی اور دیگر مقامات و زیارت گاہ ہائے متبرکہ کی بھی نیت کرے ۔عقیدہ نمبر 03: رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم جہاں پر آرام فرما رہے ہیں وہ جگہ دنیا و ما فیہا؛ حتی کہ عرش و کرسی سے بھی افضل اور بابرکت ہے.عقیدہ نمبر 04: ہمارے اور ہمارے علمائے کرام کے نزدیک دعاؤں میں بزرگان عظام اور صلحائے کرام کا توسل (وسیلہ جائز ہے، مثلاً یوں کہے "اے اللہ میں بوسیلہ فلاں بزرگ کے دعا کی قبولیت اور حاجت برآری چاہتا ہوں یا اس جیسے اور کلمات کہے. - [برادران وطن كے مذهبی تیوهار اورمسلمان!](https://jahazimedia.com/?p=222) - [اورنگ زیب عالمگیرؒ سچائی اور پروپیگنڈه(۲)](https://jahazimedia.com/?p=219) - [اورنگ زیب عالمگیرؒ سچائی اور پروپیگنڈه](https://jahazimedia.com/?p=216) - [عقیدهٔ توحید اور توهم پرستی](https://jahazimedia.com/?p=213) - [اسلامی تناظر میں بہن کے ساتھ حسن سلوک کا واقعہ](https://jahazimedia.com/?p=210): واقعہفتح مکہ کے بعد غزوۂ حنین میں قبیلۂ ہوازن کے کچھ لوگ قیدی بنے۔ ان میں حضرت شیماء رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا:> "میں آپ کی رضاعی بہن ہوں، اور یہ میرا ثبوت ہے۔”نبی ﷺ نے فوراً ان کی بات سنی، ان کا ثبوت مانا، اور پھر نہایت محبت اور عزت سے پیش آئے۔— نبی ﷺ کا حسن سلوک۔1.آپ ﷺ نے انہیں فوراً آزاد فرمایا، اور فرمایا:> "اگر تم چاہو تو میرے ساتھ رہو، اور اگر چاہو تو اپنے قبیلے واپس چلی جاؤ۔”حضرت شیماء رضی اللہ عنہا نے اپنے قبیلے واپس جانے کا انتخاب کیا، تو آپ ﷺ نے ان کے لیے تحفے، سواری اور سامان مہیا کیا۔2. - [پاکستان کے متعلق حضرت مولانا شاہ عطاء اللہ بخاری ؒ کی پوری ہوتی پیشین گوئیاں](https://jahazimedia.com/?p=206): حضرات! آج میں نے کوئی تقریر نہیں کرنی؛ بلکہ چند حقائق ہیں، جنھیں بلا تمہید کہنا چاہتا ہوں۔ آئینی اور غیر آئینی دنیا میں خواہ اس علاقے کا تعلق ایشیا سے ہو، یا یورپ سے، اس وقت جو بحث چل رہی ہے، وہ یہ ہے کہ ہندستان کی ہندو اکثریت کو مسلم اکثریت سے جدا کر کے برصغیر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے، قطع نظر اس کے کہ اس کا انجام کیا ہوگا؟مجھے پاکستان بن جانے کا اتناہی یقین ہے، جتنا اس بات پر کہ صبح کو سورج مشرق ہی سے طلوع ہوگا؛ لیکن یہ پاکستان وہ پاکستان نہیں ہو گا، جو دس کروڑ مسلمانوں کے ذہنوں میں موجود ہے اور جس کے لیے آپ بڑے خلوص سے کوشاں ہیں۔ ان مخلص نو جوانوں کو کیا معلوم کہ کل اُن کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ بات جھگڑے کی نہیں، بات سمجھنے اور سمجھانے کی ہے۔ سمجھا دو، مان لوں گا، لیکن تحریک پاکستان کی قیادت کرنے والوں کے قول و فعل میں بلا کا تضاد ہے اور بنیادی فرق ہے۔ اور اگر مجھے کوئی اس بات کا یقین دلا دے کہ منقسم پاکستان کے کسی قصبے کی گلی میں کسی شہر کے کسی کوچے میں حکومت الہیہ کا قیام اور شریعت اسلامیہ کا نفاذ ہونے والا ہے، تو رب کعبہ کی قسم! - [لڑکی ہے تو گلا کاٹ دیں کیا](https://jahazimedia.com/?p=199): اور جب ان میں سے کسی کو لڑکی کی خوشخبری سنائی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے اور دل ہی دل میں گھٹنے لگتا ہے، جو بری خبر اسے دی گئی ہے اس کی وجہ سے لوگوں سے منہ چھپائے پھرتا ہے۔ سوچتا ہے کہ کیا اس کو ذلت ورسوائی کے باوجود اپنے پاس رکھے، یا اسے زندہ در گورکردے، آہ! - [رحم مادر میں بیٹی کے نام ماں کا خط](https://jahazimedia.com/?p=196): میری پیاری و لاڈلی نور نظر ! - [‬ڈاکٹر سید احمد قادری : افسانے سے صحافت تک](https://jahazimedia.com/?p=193) - [نیا سال 2025](https://jahazimedia.com/?p=176) - [اردو ہے جس کا نام](https://jahazimedia.com/?p=169) - [گاندھی جینتی یا یوم عدم تشدد](https://jahazimedia.com/?p=161) - [ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے](https://jahazimedia.com/?p=158): (۹)ترجمے والی زبان میں الفاظ کی ترتیب کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے، کیوں کہ کبھی ایسا ہوتاہے کہ جملے کے ہر ہر جز کا ترجمہ تو صحیح ہوتاہے، لیکن الفاظ کی ترتیب میں الٹ پھیر ہونے کی وجہ سے جملے کا مفہوم ہی بدل جاتاہے، جیسے: ’حامد پڑھ رہاہے‘ کا انگریزی میں ترجمہ کیا جائے؛ تو ترجمہ ہوگا: Hamid is reading. - [آئی لو محمد۔۔ بٹ!!](https://jahazimedia.com/?p=151) - [صوبہ دہلی کے ضلعی جمعیتوں کے انتخابات شروع۔ ضلع شاہدرہ کا انتخاب مکمل ۔مولانا خلیل احمد متفقہ طور پر صدر منتخب](https://jahazimedia.com/?p=145) - [مومن وہ ہے جو لغو اور لا یعنی سے بچے !](https://jahazimedia.com/?p=120) - [ایس آئی آر کے تعلق سے بیداررہنے کی ضرورت، غفلت نہ برتی جائے](https://jahazimedia.com/?p=1473) - [سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات](https://jahazimedia.com/?p=1471): جمعیت علمائے ہند اور جماعت اسلامی ہند کے اشتراک سے جواہر لال نہرو بھون نئی دہلی میں 27 ؍جولائی 2024 ءکو بروز ہفتہ ووٹر بیداری کے تعلق سے ایک پروگرام منعقد کیا گیا، جس میں جمعیت علمائے ہند سے مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی جنرل سکریٹری جمعیت علمائے ہند ،مولانا غیور احمد قاسمی آرگنائزر جمعیت علمائے ہند ،مولانا ذاکر قاسمی آرگنائزر جمعیت علمائے ہند ،مولانا وحید الزماں صاحب قاسمی آرگنائزر جمعیت علمائے ہند اور راقم محمد یاسین جہازی نے شرکت کی ریاستی جمعیت علمائے ہریانہ کی طرف سے مولانا محمد یحییٰ کریمی صاحب ناظم اعلیٰ جمعیت علمائے ہریانہ،پنجاب ہماچل پردیش کی قیادت اور مفتی سلیم احمد ساکرس کی نگرانی میں ایک بڑی تعداد نے شرکت کی. - [جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں](https://jahazimedia.com/?p=1469): ایجوکیشن پیسہ کمانے کے لیے نہیں؛ بلکہ تہذیب اور زندگی میں ڈسپلن پیدا کرنے کے لیے ہے. ایسا فارمولہ صرف مذہب اسلام کے پاس ہے، اس لیے سچا پکا مسلمان بنیں. - [توہین رسالت کے مجرمین کے  خلاف کرنے کےضروری کام](https://jahazimedia.com/?p=1467) - [اصلاح معاشرہ کانفرنس لوگائیں گڈا (22مئی 2009ء)کی ایک رپورٹ](https://jahazimedia.com/?p=1465) - [۱۸؍ اور ۲۱؍ سے پهلے نكاح](https://jahazimedia.com/?p=1463) - [پاکستان اور ہندستانی مسلمان](https://jahazimedia.com/?p=1461) - [کیا یورپ واقعی سونے کی چڑیا ہے؟](https://jahazimedia.com/?p=1455) - [عوامی و فرقہ وارانہ اتحاد، توڑنے کی مہم](https://jahazimedia.com/?p=1453) - [کب تک بیٹیاں رشتوں کے انتظار میں بیٹھی رہیں گی؟](https://jahazimedia.com/?p=1451) - [عملی اسلام کہاں ہے……؟](https://jahazimedia.com/?p=1449) - [حکومت اپنے شہریوں کو مشکوک کیوں بنارہی ہے؟](https://jahazimedia.com/?p=1447) - [شہری حقوق کے تحفظ کے لیے SIR کے عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ضروری: مولانا محمد یاسین جہازی](https://jahazimedia.com/?p=1445) - [ظلم کبھی دائمی نہیں ہوتا](https://jahazimedia.com/?p=1443) - [گیروا ندی کے ساحل سے بلند ہوا ذکر و ضرب کا غلغلہ](https://jahazimedia.com/?p=1440): ـپروگرام کے اختتام پر پرتکلف ضیافت کا اہتمام کیا گیا، جس کی میزبانی شاعرِ اسلام و مداحِ خیرالانام مولانا محمد شمیم صاحب نے اپنے مدرسہ میں نہایت خلوص کے ساتھ کی۔ آخر میں ان کا شکریہ ادا کیا گیا، اور جمعیت علمائے بسنت رائے کا وفد رات گئے خستہ حال سڑکوں سے گزرتے ہوئے تقریباً 11 بجے اپنے اپنے گھروں کو پہنچا. - [گنگا کے پار دو دلوں کا ملاپ — ایک یادگار علمی، فکری اور دعوتی سفر کی داستان](https://jahazimedia.com/?p=1437): لوٹ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو! - [دھپرا بستی میں جمعیت علمائے بسنترائے کے زیر اہتمام “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” میں ایس آئی آر پر رہنمائی](https://jahazimedia.com/?p=1433) - [ہندستانی جیل خانوں کے بڑھتے مسائل،توجہ کی ضرورت!](https://jahazimedia.com/?p=1431) - [اقوام متحدہ کی فلسطین رپورٹ میں لرزہ خیز انکشافات](https://jahazimedia.com/?p=1428) - [تعلیمی پالیسی اور مدارسِ اسلامیہ: تحفظ اور اصلاح کا متوازن راستہ](https://jahazimedia.com/?p=1423) - [نیشنل کریکولم فریم ورک فار فاؤنڈیشنل اسٹیج کے حوالے سے چند ضروری خلاصے](https://jahazimedia.com/?p=1421) - [ایک اور ایک دو نہیں گیارہ بنیں: مولانا محمود مدنی صدر جمیعت علمائے ہند](https://jahazimedia.com/?p=1417) - [دھرمستھلا، کراس ووٹنگ اور قیادت کا بحرانکرناٹک کی سیاست آخر کس سمت بڑھ رہی ہے؟](https://jahazimedia.com/?p=1414) - [ووٹر لسٹ کی خصوصی نظر ثانی اور ہماری ذمہ داریاں: صدر جمعیت علمائے بسنت رائے کا ایک ضروری خطاب](https://jahazimedia.com/?p=1411): ترجمہ: نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون کرو اور گناہ و زیادتی کے کاموں میں تعاون نہ کرو۔ (المائدۃ: 2)معزز حاضرینِ مسجد! - [حضرت حسین ہم شرمندہ ہیں](https://jahazimedia.com/?p=1408): ہم شرمندہ ہیں، کیونکہ ہم نے آپ کی پاکیزہ قربانی کو ناپاک کر دیا۔ ہم شرمندہ ہیں، کیونکہ ہم نے آپ کی شہادت کا مذاق بنا دیا۔ ہم شرمندہ ہیں، کیونکہ ہم نے آپ کی آل و اولاد کی عظیم قربانیوں کو ڈرامہ بنا کر اسٹیجوں کی زینت بنا دیا اور لوگوں کی آنکھوں اور کانوں کی تفریح کا سامان مہیا کیا۔ ہم شرمندہ ہیں، کیونکہ ہم نے آپ کی مصیبت کو ایک تہوار اور پارٹی کا رنگ دے کر دیگیں چڑھانی شروع کر دیں۔ ہم شرمندہ ہیں، کیونکہ ہم نے باطل کے سامنے آپ کے ڈٹ جانے اور جم جانے کے عظیم کردار کو سمجھنے کے بجائے محض نمائش بنا کر دنیا کے سامنے پیش کیا۔اے نواسۂ رسولؐ! - [اہل بیت اور اہل سنت](https://jahazimedia.com/?p=1406): اللہ تعالیٰ نے نیکی کے کاموں میں تعاون کرنے کا حکم دیا ہے ، اور گناہ کے کاموں میں مددگار بننے سے منع فرمایا ہے : تَعَاوَنُوْا عَلیَ البِرِّ وَالتَّقْویٰ وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الإثمِ وَالعُدْوَان (المائدۃ :۲) نیکی کے کام میں تعاون کی صورتوں میں ایک نہایت ہی اہم صورت یہ ہے کہ داعیان حق کا ساتھ دیاجائے ؛ کیوں کہ اگر خیر و بھلائی کی دعوت میں بہت سے لوگ شریک ہو جائیں تو اس کا نتیجہ خیز اور ثمر آور ہونا آسان ہو جاتا ہے ، اور دعوت کا کام ایک انفرادی عمل سے بڑھ کر تحریک بن جاتا ہے ، دنیا میں جتنے لوگوں نے خیر و صلاح کی دعوت دی ہے ، ان میں سب سے برگزیدہ ہستیاں وہ تھیں ، جن کے سروں پر اللہ تعالیٰ نے نبوت کا تاج رکھا تھا ، ان ہی ہستیوں کو ہم نبی کہتے ہیں ، انبیاء کا کام بہت دشوار ہوا کرتا تھا ؛ کیوں کہ وہ اس دور میں مبعوث کئے جاتے تھے ، جب سماج میں بگاڑ اپنی انتہا پر پہنچ جاتا تھا اور عمل کے بگاڑ کے ساتھ انسان کی سوچ بھی بگڑ جاتی تھی ، یہاں تک کہ وہ بری باتوں کو اچھی بات ، تاریکی کو روشنی اور رات کو دن سمجھنے لگتے تھے ، ان کو اس غلط موقف سے ہٹانے اور صحیح راستہ پر لانے کے لئے بڑی محنتوں اور ریاضتوں سے گزرنا پڑتا تھا ، علمی بصیرت ، کردار کی پاکیزگی ، تفہیم کی صلاحیت اور سب سے بڑھ کر خیر خواہی اور درد مندی کا غیر معمولی جذبہ، یہ سب مل کر حالات کو بدلتے تھے ؛ اسی لئے انبیاء کے رفقائے عالی مقام کا بڑا اونچا مقام ہے ۔قرآن مجید نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مخلص ساتھیوں، حضرت یوشع علیہ السلام کے فرماں بردار سپاہیوں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ثابت قدم حواریوں کا اسی حیثیت سے ذکر کیا ہے، رسول اللہ ﷺ پر چوں کہ سلسلۂ نبوت ختم کر دیا گیا ،آپ ﷺ کی نبوت کسی ایک گروہ ، علاقہ، نسل اور خاندان کے لئے نہیں تھی؛ بلکہ پوری دنیائے انسانیت کے لئے تھی؛ اس لئے آپ کو نسبتاً زیادہ مخلص ، جاں نثار، صاحب ِبصیرت ، عالی حوصلہ ، جذبۂ ایمانی سے سرشار ، مصیبتوں اور آزمائشوں کی آگ سے گزرنے اور طوفان سے ٹکرانے کی صلاحیت رکھنے والے معاونین وانصار عطا فرمائے گئے ؛ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے خود قرآن مجید میں ان کی تعریف وتوصیف فرمائی، اور پیغمبر اسلام ﷺ کی زبانِ حق ترجمان سے ان کے لئے مژدۂ حق سنایا گیا ، رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ ۔نبی کے علاوہ کسی کی شخصیت معصوم نہیں ہوتی ، اس میں صحابہؓ اور اهل بیت بھی شامل ہیں ؛ بلکہ یہ بھی ہوا کہ جس بات کا ارتکاب نبی کے شایان شان نہیں تھا ، من جانب اللہ صحابہ سے اس کا ارتکاب کرایا گیا ؛ تاکہ اُمت جن واقعات سے دو چار ہو سکتی ہو ، اس کا حل اس کے سامنے آجائے ؛ اسی لئے اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ جس شخص نے بھی بحالت ایمان رسول اللہ ﷺ کا دیدار کیا اور ایمان ہی پر اس کی موت ہوئی ، وہ صحابی ہے ، اور ہر صحابی عادل اور عنداللہ مغفور ہے،صحابہؓکی عظمت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دو بار فرمایا کہ میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو ، اللہ سے ڈرو ، ان سے محبت میری محبت کی دلیل ہے اور ان سے بغض مجھ سے بغض رکھنا ہے : اللّٰه اللّٰه فی أصحابی، لا تتخذوھم غرضاً من بعدي ، من أحبھم فبحبي أحبھم ، ومن أبغضھم فببغضي أبغضھم (ترمذی ، حدیث نمبر: ۳۸۶۲) بعض روایتوں میں یہ بھی ہے کہ آپ نے اپنے تمام صحابہؓ کو ستاروں کے مماثل قرار دیا ہے : أصحابي کالنجوم بأیھم اقتدیتم اھتدیتم (جمع الفوائد ، حدیث نمبر: ۸۵۵۴)اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہر صحابی کو اللہ تعالیٰ نے اپنی خوبیوں کے اعتبار سے اُمت کے لئے مشعل راہ بنایا ہے ، اگرچہ یہ روایت سند کے اعتبار سے حد درجہ ضعیف ہے ؛ بلکہ بعض حضرات نے موضوع (من گھڑت) قرار دیا ہے ؛ لیکن بعض اہل فن جیسے : امام احمدؒ کے نزدیک دوسری روایات سے مطابقت کی وجہ سے مضمون کے اعتبار سے اس کو معتبر مانا گیا ہے ۔ (المعتبر فی تخریج احادیث المنھاج والمختصر:۴۸)پھر یوں تو تمام ہی صحابہ آپ کے برگزیدہ رفقاء اور اُمت کے لئے مرکز محبت اورلائق احترام ہیں؛ لیکن صحابہ میں بھی فرق مراتب ہے ، خلفاء راشدین سب سے افضل ہیں ، یہاں تک کہ امام ابو حنیفہؒ نے حضرت ابو بکرؓ وعمرؓ کی فضیلت کے قائل ہونے اور حضرت عثمانؓ و علیؓ سے محبت رکھنے کو اہل سنت والجماعت کا شعار قرار دیا ہے، اسی طرح ایمان لانے کے اعتبار سے جن لوگوں نے شرفِ سبقت حاصل کیا، ان لوگوں کا خصوصی درجہ ہے ، جن کو قرآن نے ’’سَابِقُوْنَ اوّلُوْنَ ‘‘(التوبۃ : ۱۰۰) کہا ہے ، ان میں اُم المؤمنین حضرت خدیجہ ، حضرت ابو بکر، حضرت عثمان غنی ، حضرت علی اور حضرت زید بن حارثہ-- رضی اللہ عنہم -- شامل ہیں ، پھر وہ صحابہؓ ہیں جو مدینہ ہجرت کرنے سے پہلے مشرف بہ ایمان ہوئے ، ان ہی میں مہاجرین حبشہ بھی ہیں ، پھر بدری صحابہؓ ہیں ، جنھوں نے جان ہتھیلی پر رکھ کر حق وباطل کے اس پہلے معرکہ میں شرکت کی، رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا : یہ بارگاہ ربانی کے وہ مقبول بندے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا : آج کے بعد تم سب مغفور ہو ، (بخاری ، حدیث نمبر: ۹۰۴۸) اس کے بعد ان صحابہؓ کا نمبر آتا ہے ، جو ۶؍ھ میں صلح حدیبیہ کے موقع سے بیعت رضوان میں شریک ہوئے ، اس وقت صورت حال ایسی تھی کہ ظاہری اسباب کے اعتبار سے اگر جنگ ہوتی تو ان میں سے کوئی فرد شاید بچ نہیں پاتا ؛ اسی لئے بعض صحابہؓ نے اس بیعت کو موت پر بیعت قرارد دیا ہے ، (بخاری ، حدیث نمبر: ۴۱۶۹) اس واقعہ کے دو سال بعد فتح مکہ کا معرکہ پیش آیا، اور جوق درجوق لوگ ایمان لائے،بحیثیت مجموعی ان کو آخری درجے میں رکھا گیا ہے ۔بعض دوسری حیثیتوں سے بھی صحابہؓ کے درمیان فرق مراتب پایاجاتا ہے ، جیسے اُمور قضاء میں حضرت علیؓ کو ، فقہ میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓکو ، تفسیر میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ کو، اور حدیث میں حضرت ابوہریرہؓ کو خصوصی مقام حاصل ہے، اور اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ تو علوم اسلامی کے تمام ہی میدانوں میں نمایاں حیثیت کی حامل ہیں ، بعض صحابہ کو مخصوص اخلاقی اوصاف میں خصوصی مقام حاصل تھا ، جیسے حضرت ابوبکر صدیقؓ اُمت کے ساتھ رحم اورفتنہ ارتداد کے مقابلہ میں ، حضرت عمرؓ جوش حق اور معاملہ فہمی میں ، حضرت عثمان غنیؓ حیا اورانفاق میں ، حضرت ابو ذر غفاریؓ زہد میں ، حضرت خالد بن ولیدؓ اور حضرت ابو عبیدہؓ جذبۂ جہاد میں ، حضرت سلمان فارسیؓ دعوتِ اسلام میں ، اور شعراء بارگاہِ نبوی حضرت حسان بن ثابتؓ اورحضرت عبداللہ بن رواحہؓ وغیرہ شعروادب کے ذریعہ اسلام اور پیغمبر اسلام کے دفاع میں ؛ اگرچہ ان اوصاف میں دوسرے صحابہ بھی شریک تھے ؛ لیکن ان کو امتیازی حیثیت حاصل تھی ۔اسی طرح فضیلت کا ایک اہم سبب رسول اللہ ﷺ سے قرابت ہے ، یوں تو مکہ کے اکثر خاندانوں میں آپ کی رشتہ داریاں تھیں اور بنو اُمیہ اور بنو ہاشم دو بڑے قبائل تھے ، جن میں باہم کافی رشتہ داریاں تھیں ، خود آپ کے دو داماد حضرت عثمان غنیؓ اور حضرت ابو العاصؓ بنو اُمیہ سے تھے ؛ لیکن بنو ہاشم اور بنو مطلب سے آپ کی قربت سب سے بڑھ کر تھی ، انھوں نے اسلام اور پیغمبر اسلام کی نصرت و حمایت میں سب سے زیادہ حصہ لیا، اور دین حق کے لئے سب سے زیادہ آزمائشوں اور ابتلاؤں کو برداشت کیا ، یہاں تک کہ بنو ہاشم جب دامن اسلام میں نہیں آئے تھے ، اس وقت بھی انھوں نے رسول اللہ ﷺ کی مکمل پشت پناہی کی ، شعب ابی طالب میں بائیکاٹ کا جو تکلیف دہ واقعہ پیش آیا ، اس میں بھی بنوہاشم آپ کے ساتھ رہے ، اورآپ کا ساتھ دینے کی وجہ سے وہ بھی اس آزمائش سے دوچار کئے گئے ، اللہ کا جو فیصلہ ہو وہ تو پورا ہو کر ہی رہتا ہے ؛ لیکن ظاہری اسباب کے لحاظ سے اگر بنو ہاشم مشکلات اور مصیبت کی ان گھڑیوں میں آپ کے ساتھ نہیں ہوتے تو آپ کا تیرہ سال تک مکہ مکرمہ میں قیام کرنا دشوار ہوتا ؛ اس لئے بحیثیت قبیلہ وخاندان بنو ہاشم کو خاص فضیلت حاصل ہے ؛ چنانچہ حضرت واصلہ بن اسقعؓ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کنانہ کو ، کنانہ میں سے قریش کو ، قریش میں سے بنو ہاشم کو اور بنو ہاشم میں سے مجھ کو منتخب فرمایا ، (مسلم عن ابی عمار ، حدیث نمبر: ۲۲۷۶) رسول اللہ ﷺتک بعض لوگوں کی کچھ بات پہنچی جو آپ کو ناگوار گزری ، آپ منبر پر چڑھے ، دریافت فرمایا : میں کون ہوں ؟ صحابہؓ نے عرض کیا : آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : میں عبداللہ بن عبدالمطلب کا بیٹا محمد ہوں ، اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو مجھے سب سے بہتر مخلوق میں رکھا ، قبائل کو پیدا فرمایا تو مجھے سب سے بہتر قبیلے میں رکھا ، ان کو مختلف گھروں میں بانٹا تو مجھے سب سے اچھے گھرانے میں رکھا ، تو میں گھرانے کے اعتبار سے بھی اور اپنی ذات کے اعتبار سے بھی تم سب میں بہتر ہوں : أنا خیر کم بیتا وخیرکم نفسا (مسند احمد عن عباد ، حدیث نمبر: ۱۷۸۸) اس لئے بنو ہاشم کو ایک خاص فضیلت حاصل ہے ، اور انھیں بعض خصوصیات نبوی میں شامل کیا گیا ہے ، جیسے انبیاء کے لئے صدقہ حرام ہے ، اور بنو ہاشم کے لئے بھی آپ نے صدقہ کو منع فرمادیا ، پھر بنو ہاشم میں آپ کی اولاد اطہار اور ازواج مطہرات کا خاص درجہ ہے ، ازواج مطہرات کی آپ سے قربت اور آپ کے مشن کو کامیاب کرنے کے لئے ان کی قربانیاں نیز آپ کے علوم کی نشر و اشاعت میں ان کا حصہ محتاج بیان نہیں ہے ، وہ پوری اُمت کی مائیں ہیں ، خود ارشاد خداوندی ہے کہ نبی اہل ایمان کے لئے ان کی اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں ، اورنبی کی تمام ازواج مطہرات پوری اُمت کی واجب الاحترام مائیں ہیں : ’’ اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَاَزْوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمْ‘‘ (الاحزاب:۶) رسول اللہ ﷺسے جو درود شریف منقول ہیں ، ان میں عام طور پر تو آل اطہار کو شریک فرمایا گیا ہے ، جیسے درود ابراہیمی’ ’اللّٰھم صل علی محمد وعلیٰ آلہ‘‘ لیکن بعض درودوں میں آپ کی اولاد اطہار کے ساتھ ساتھ ازواج مطہرات کو بھی شامل کیا گیا ہے، جیسے : اللّٰھم صلی علیٰ محمد وأزواجہ وذریتہ (بخاری عن ابی حمید ساعدی ، حدیث نمبر: ۳۳۶۹)آپ کے اہل بیت میں براہِ راست جو حضرات شامل تھے ، حضرت عائشہؓ کی روایت میں ایک واقعہ نقل کیا گیا ہے ، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرت فاطمہ ، حضرت علی ، حضرت حسن اور حضرت حسین -- رضی اللہ تعالیٰ عنہم -- تھے ، (مسلم ، حدیث نمبر : ۲۴۲۴) نیز حضرت عمر بن ابی سلمہؓ سے روایت ہے کہ جب آپ ﷺ پر اہل بیت سے متعلق یہ آیت نازل ہوئی : اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًا (الاحزاب: ۳۳) تو آپ ﷺ نے حضرت فاطمہؓ، حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کو بلایا ، ان کو ایک کپڑا اوڑھایا اور اپنے پیچھے حضرت علی كرم الله وجھه کو رکھا ، اور ان کو بھی کپڑا اوڑھایا اور دُعاء فرمائی : اے اللہ ! - [ہماری نسل نو کے ایمان و تعلیم کے لیے فرشتے نہیں،رسول نہیں ،دہلی مُمبئی کے علما نہیں ، بلکہ ہمیں خود آنا ہوگا](https://jahazimedia.com/?p=1403): پروگرام کے اختتام پر مفتی قاضی عبد الرحمن قاسمی نے تمام شرکاء، علماء، ذمہ داران اور بالخصوص خواتین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں تعاون کرنے والے تمام افراد کی خدمات کو سراہا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ علاقے میں اصلاحِ معاشرہ اور دینی بیداری کی یہ کوشش آئندہ بھی جاری رہے گی۔قابلِ ذکر ہے کہ اس پروگرام کی مکمل تیاری، رابطہ کاری اور انتظامی ذمہ داری مفتی قاضی عبد الرحمن قاسمی نے انجام دی، جنہوں نے مقامی ذمہ داران اور عوام کو ساتھ لے کر اس پروگرام کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ جبکہ پروجیکٹر اور تکنیکی انتظامات کی ذمہ داری محمد اسماعیل صاحب اور محمد فرقان صاحب نے بحسن و خوبی انجام دی۔بعد ازاں مولانا عرفان صاحب مظاہری نے دعا خوانی کرائی اور یہ پروگرام اختتام پذیر ہوا . - [گاؤں گاؤں بیداری پروگرام سے جنرل سکریٹری جمعیت علمائے گڈا کا حیات افروز پیغام](https://jahazimedia.com/?p=1400) - [خطرے میں شہریوں کی آزادی و حقوق](https://jahazimedia.com/?p=1398) - [مختصر واقعہ شہادت حضرت حسین رضی اللہ عنہ](https://jahazimedia.com/?p=1396): حضرت علیؓ نے کوفہ کو اپنا دارالخلافہ قرار دیا تھا ۔ اس لیے وہاں ان کے حامی بہت زیادہ تھے۔حضرت علی کی شہادت کے بعد لوگوں نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔ آپ کے اعلان خلافت سے اہل شام نے کوفہ پر حملہ کا ارادہ کیا اور دونوں فوجوں کا مدائن میں سامنا ہوا، لیکن قبل از جنگ حضرت حسن نے خلافت سے دستبرداری پر صلح کرلی ۔اور حضرت امیر معاویہ کو بادشاہ تسلیم کرلیا گیا۔حضرت امیر معاویہؓ کے انتقال کے بعد کوفیوں نے یزید کو اپنا خلیفہ تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور حضرت حسین کو لکھا کہ آپ تشریف لائیے ۔ ہم آپ کا ساتھ دیں گے۔ ادھر یزید نے حاکم مدینہ ولید بن عتبہ کو لکھا کہ وہ یزید کے لیے حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے بیعت لیں ، جب قاصد کے ذریعے یہ خبر ان تک پہنچائی ، تو انھوں نے کہا کہ مجھ جیسا آدمی خفیہ بیعت نہیں کرسکتا ، جب بیعت عام ہوگی تو میں بھی آجاوں گا۔ اور یہ کہہ کر مدینہ سے مکہ چلے آئے اور کوفیوں کے خطوط کے پیش نظر پہلے اپنے چچا حضرت مسلم بن عقیل کو بیعت کے لیے بھیجا ۔ جب حضرت مسلم وہاں پہنچے تو حالات کو سازگار پایا اور اٹھارہ ہزار کوفیوں نے حضرت حسین کے نام پر آپ کے ہاتھ پر بیعت کی، جس کی وجہ سے انھوں نے حضرت حسین کو لکھ دیا کہ آپ تشریف لائیں ، یہاں کے حالات سازگار ہیں۔ خط پاکر حضرت حسین رضی اللہ عنہ سفر کی تیاری کرنے لگے حالاں کہ روانگی کی خبر سن کر حضرت عبد اللہ ابن عباسؓ ،حضرت عبداللہ ابن جعفرؓ اور دیگر حضرات نے یہی مشورہ دیا کہ عراق والے دغاباز ہیں۔ آپ وہاں جانے کا ارادہ ترک کردیجیے؛ لیکن حضرت حسین رضی اللہ عنہ پھر بھی نکل پڑے۔مکہ سے روانگی کے راستے میں مقام صفاح پر مشہور شاعر فرزدق سے ملاقات ہوئی تو ان سے وہاں کے حالات پوچھے جانے پر ان کاجواب تھا کہ ان کے دل آپ کے ساتھ ہیں؛ مگر تلواریں بنی امیہ کے ساتھ ہیں۔نواسہ رسول کی آمد کی خبر سن کر اہل عراق بہت زیادہ پرجوش ہوگئے۔ یہ جوش دیکھ کر حاکم عراق عبیداللہ ابن زیاد کی سخت گیری شروع کردی ، جس سے اہل کوفہ ڈر گئے اور حضرت مسلم ابن عقیل کا ساتھ چھوڑرتے چلے گئے، یہاں تک کہ آپ جب کوفہ کی مسجد میں پہنچے ، تو اٹھارہ رہزار میں سے صرف تین آدمی آپ کے ساتھ رہ گئے تھے۔ پھر بالآخر آپ کو شہید کردیا گیا۔زرود یا ثعلبیہ نامی مقام پر مسلم بن عقیل کی شہادت کی خبر ملی، تو آپ نے واپسی کا ارادہ فرمالیا ، مگر ان کے رشتہ داروں کی ضد کی وجہ سے پھر عا زم سفر ہوگئے۔قادسیہ سے تھوڑا آگے بڑھے تو والی عراق عبید اللہ بن زیاد کے عامل حصین بن نمیرتیمی کی طرف سے حر بن یزید حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا راستہ روکنے کے لیے ایک ہزار فوج لے کر آگئے ، دونوں میں گفت و شنید ہونے کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ اس راستہ کو اختیار کریں گے جو نہ کوفہ جاتا ہو اور نہ مدینہ۔اور حر اپنی فوج کے ساتھ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ ساتھ رہا اور کہیں جانے دینے سے راستہ روکے رکھا، بالآخر ۲؍ محرم الحرام ۶۱ ہجری مطابق ۲؍ اکتوبر ۶۸۰ ء کو عبیداللہ بن زیاد کی طرف ایک خط آیا جس میں یہ لکھا تھا کہ حضرت حسین اور ان کے ساتھیوں کو کہیں جانے مت دو اور ایک ایسی جگہ اترنے پر مجبور کرو جو چٹیل میدان ہو ، پانی کا انتظام نہ ہو ، غرض وہاں کوئی بھی وسائل حیات میسر نہ ہو۔ چنانچہ حر نے اس خط پرعمل کرتے ہوئے مقام کربلا پر اترنے پر مجبور کردیا۔۳ ؍ محرم کو عمرو ابن سعد ،ابن زیاد کے حکم سے چار ہزار اور بروایت دیگر چھ ہزار فوج لے کر یہاں پہنچ گیا اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے آنے کا سبب معلوم کیا ، تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیتے ہوئے کوفہ والوں کی طرف سے بھیجے گئے دعوتی خطوط دکھائے اور کہا کہ میں کوفہ والوں کے بلانے پر آیا ہوں۔لیکن اگر میرا آنا گوارا نہیں ہے ، تو میں لوٹ جانے کے لیے تیار ہوں۔یہ بات عمرو بن سعد نے عبیداللہ بن زیاد کو بتائی ، تو اس نے لکھا کہ پنجہ میں پھنسنے کے بعد نجات پانا چاہتا ہے، اس لیے حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں پر سختیاں بڑھا دو۔ معاملہ کے سلجھانے کے لیے حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے عمرو بن سعد کے ساتھ کئی خفیہ ملاقاتیں کیں ،جن میں آپ رضی اللہ عنہ نے تین صورتیں پیش کیں کہ (۱) جہاں سے میں آیا ہوں مجھے وہیں لوٹ جانے دو۔(۲) مجھے خود یزید سے اپنا معاملہ طے کرنے دو۔(۳) مجھے مسلمانوں کی کسی سرحد پر نکل جانے دو۔اس مضمون پر مشتمل ایک خط عمرو بن سعد نے عبیداللہ بن زیاد کو لکھا ۔ اس خط کی اس کے مشیر شمر ذی الجوشن نے مخالفت کی اور کہا کہ قبضہ میں آئے شخص کو جانے دیں گے تو وہ عزت و قوت حاصل کرلیں گے اور آپ کمزور ہوجائیں گے۔ چنانچہ عبیداللہ بن زیاد نے شمر کے مشورہ پر عمل کرتے ہوئے شمر کو ہی ایک خط دے کر کربلا بھیجا جس کا مضمون یہ تھا کہ اگر حضرت حسین رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہمارے حوالے ہوجائیں، تو لڑائی نہ کی جائے ، ورنہ وہ جنگ کے لیے تیار رہیں۔۱۰؍ محرم۶۱ ھ مطابق ۱۰؍ اکتوبر ۶۸۰ ء کو ایک طرف سے عمرو بن سعد فوج لے کر نکلا ،ادھر حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے حامیوں کی صفیں قائم کیں۔ ادھر سے پانچ ہزار فوج تھی جب کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ کل ۷۲؍ آدمی تھے۔جب صفیں تیار ہوگئیں تو حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے فوجوں کے سامنے نہایت پرجوش تقریر کی ، جس میں انھوں نے کہا کہ میرا حسب و نسب یاد کرو، میں کوں ہوں؟ کیا میں تمھارے نبی کا نواسہ نہیں ہوں؟ کیا سید الشھدا حضرت حمزہ میرے چچا نہیں تھے؟ کیا تم نے رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان میرے بارے میں نہیں سنا کہ الحسن والحسین سیدا شباب اہل الجنۃ؟، سنو ، ذرا غور کرو کہ کیا تم اس پیشانی کو زخمی کروگے جس کو بارہارسول خدا چوما کرتے تھے، کیا ان آنکھوں کو بینائی سے محروم کروگے ، جنھوں نے رسول اللہ کا دیدار کیا ہے، یہ میرے سر پر پگڑی دیکھوسرور کائنات کی ہے ، کیا تم اسے خاک و خون میں غلطاں کروگے، میرے ہاتھ میں یہ تلوار حیدر کرار کی ہے، کیا تم اس سے مقابلہ کروگے۔ بہر کیف حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی کسی بات کا ان پر اثر نہیں ہوا اور عمرو ابن سعد نے پہلا تیر چلاتے ہوئے جنگ کاآغاز کردیا۔ایک ایک کرکے فدائے حسینی شہید ہوگئے ، یہاں تک کہ خاندان نبوت کے ایک ایک چراغ جام شہادت نوش کرتے چلے گئے ، سب سے پہلے علی اکبر شہید ہوئے پھر حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے بیٹے حضرت قاسم نے جام شہادت پیا۔ عین لڑائی کے دوران حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے یہاں ایک بچے کی پیدائش ہوئی ۔ آپ رضی اللہ عنہ کان میں اذان دینے کے لیے آگے بڑھے ہی تھے کہ ایک تیر آیا اور اس نومولود بچے کو زخمی کر شہید کرگیا۔ آپ نے وہ تیر حلق سے نکالا تو خون کا فورا پھوٹ پڑا، خون کو چلو لے کر آپ نے آسمان کی طرف اچھالتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ائے اللہ! - [جمعیت علمائے بسنت رائے کا بارھواں ’عوامی بیداری پروگرام‘ سمری میں کامیابی کے ساتھ منعقد؛ نوجوانوں کی فکری و تعلیمی تربیت پر زور](https://jahazimedia.com/?p=1393) - [گیارھواں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام میں مدنی مسجد ہوئی نورانی](https://jahazimedia.com/?p=1390) - [حضرت عبد الرحمن بن زبیر القرضی اور حضرت تمیمہ بنت وہب (میاں بیوی) رضی اللہ عنہما کے کھدبۃ الثوب کا مکمل واقعہ](https://jahazimedia.com/?p=1383): حضرت رفاعہ قرظی رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی تمیمہ بنت وہب رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی، تو انہوں نے عبدالرحمن بن زبیر قرظی رضی اللہ عنہ سے نکاح کر لیا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ تمیمہ ایک سبز رنگ کی اوڑھنی اوڑھے ہوئے آئیں اور انہوں نے اپنے نئے شوہر کی مار پیٹ کی شکایت کی اور حضرت عائشہ کو اپنی جلد پر پڑنے والے نیلے یا سبز نشانات دکھائے۔ چنانچہ جب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور عورتیں ایسے معاملات میں ایک دوسرے کی مدد کرتی ہی ہیں تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: میں نے کبھی ایسا ظلم نہیں دیکھا جیسا مومن عورتوں پر ہوتا ہے! - [نوجوانوں نے لیا ریل کے بجائے ری یل زندگی گزارنے کا عہد](https://jahazimedia.com/?p=1380) - [بنگلہ دیش اور جمعیت علمائے ہند کا تاریخی کردار](https://jahazimedia.com/?p=1377) - [چاۓ پینا تو اک بہانہ ہے](https://jahazimedia.com/?p=1375) - [جمعیت علمائے بسنت رائے کا نواں ”گاؤں گاؤں نوجوانوں اور عوامی بیداری پروگرام“ جمنی کولہ میں کامیابی کے ساتھ منعقد](https://jahazimedia.com/?p=1372) - [نیا ڈیہہ بانکا بہار میں اکابر علمائے کرام کی بہار](https://jahazimedia.com/?p=1369) - [اہلِ مدارس کے لیے تعلیمی ایجوکیشن پالیسیز میں اہم فارمولے](https://jahazimedia.com/?p=1367): حکومت کی جانب سے ہر چند سال بعد ملکی سطح پر تعلیمی جائزے کے حوالے سے ایک جامع رپورٹ اور تعلیمی پالیسی سامنے آتی ہے، جس میں عصری تقاضوں اور موجودہ دور کے بچوں کی نفسیات کے مطابق تدریسی طریقے اور رہنما اصول پیش کیے جاتے ہیں۔ یہ دستاویزات دراصل دنیا کے ممتاز اور انتہائی ماہرینِ تعلیم کے طویل تجربات، گہرے مشاہدات اور غور و فکر کا نچوڑ ہوتی ہیں۔ چنانچہ، اربابِ مدارس اور ذمہ دارانِ تعلیم کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان رپورٹس کا گہرا مطالعہ کریں، ان کے تعمیری پہلوؤں سے فائدہ اٹھائیں اور اپنے اپنے اداروں کے مزاج و ماحول کی مناسبت سے، جہاں تک ممکن ہو، ان مفید فارمولوں کو نافذ العمل کرنے کی کوشش کریں۔اسی سلسلے میں قومی نصابی فریم ورک 2023 (NCF 2023) اور قومی تعلیمی پالیسی کے تحت ایک ایسے طالب علم کا خاکہ پیش کیا گیا ہے جس کی شخصیت کی ہمہ جہت اور متوازن ترقی (Holistic Development) ہوئی ہو۔ اس کے بنیادی نکات اور ان کا عملی مفہوم درج ذیل ہیں:A. - [احوال و کوائف اور تعارف حضرت مولانا مفتی محمد شوکت علی صاحب بھاگلپوری دامت برکاتہم شیخ الحدیث : دار العلوم سعادتِ دارین ستپون ، ضلع : بھروچ ، گجرات](https://jahazimedia.com/?p=1365): ایک قابل ذکربات یہ ہے کہ۱۴۰۴؁ھ کے وسط میں مدرسہ مظاہرعلوم سہارنپور کے قضیۂ نامرضیہ کے بعد ، حضرت اقدس مفتی محمود حسن گنگوہی نور اﷲ مرقدہٗ حالات سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے ساؤتھ افریقہ چلے گئے تھے ، اور قریب ڈیڑھ سال تک وہیں تشنگانِ راہِ سلوک کو ہدایت و معرفت کا جام پلاتے ، اور علوم و معارف کا دریا بہاتے رہے ، ڈیڑھ سال بعد غالباً اواخر ذی الحجہ ۱۴۰۵؁ھ میں واپسی ہوئی ، دیوبند تشریف لائے ، اربابِ شوریٰ دار العلوم دیوبند ، اور حضرت مہتمم صاحب کی درخواست پر خلوت گاہ قاسمیؔ چھتہ مسجد میں مستقل قیام منظور فرماکر ، اصلاح و تربیت کا سلسلہ پھر سے شروع فرمادیا ، دیکھتے ہی دیکھتے چھتہ مسجد کی پرانی بہاریں پھرسے لوٹ آئیں ، مہمانوں کی آمدو رفت ، حلقۂ ذکر،اصلاحی ، تربیتی ، روحانی خصوصی مجالس اور عصرو عشاء بعد کی عمومی مجالس کی بہاریں روز افزوں ہوگئیں ، بندہ بھی عصرو عشاء بعد کی مجلسوں میں شریک ہوکر علمی سوالات کرنے لگا ، اور حضرت سے اتنا مانوس ہوگیا کہ : کئی بار تو مناظرانہ اندازِ گفتگو تک کی نوبت آجاتی، حضرت کوئی بات فرماتے تو میں عرض کرتا کہ : سُلّم میں ایسا لکھاہے ، حضرت اُس کا جواب دیتے تو میں پھر عرض کرتاکہ : حضرت شرح عقائد میں ایسا لکھاہے، کبھی کسی اور کتاب کا حوالہ دے کر اِشکال کرتا ، حضرتِ والا انتہائی شفقت و محبت سے اِس قدر آسان انداز میں جواب مرحمت فرماتے کہ : پوری بات سمجھ میںآجاتی، حضرتِ والا نے اپنے اندازِ ظریفانہ و دلبرانہ سے میرا دل ایسا موہ لیاکہ : ایک دومہینے کے اندر بندہ حضرت والا پر بدل و جان فریفتہ و گرویدہ ہوگیا ، اِس دوران حضرتِ والا نے میرا نام ہی ’’ٹانٹ والا‘‘ رکھ دیا ، پھر ایک دِن خود ہی فرمایا : ارے جانو ہو! - [بھارت فرقہ پرستی اور تعصب کی تباہی کے دہانے پر](https://jahazimedia.com/?p=1363) - [یو پی کے علمائے کرام کا جھارکھنڈ کےجامعۃ الہدی میں استقبال](https://jahazimedia.com/?p=1360) - [بے نقاب ہوتا ہندوتو کا چہرہ](https://jahazimedia.com/?p=1358) - [نجات کے حصول کے لئے تین چیزوں پر عمل کرنے کی ضرورت](https://jahazimedia.com/?p=1356): ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جامع مسجد سجور اور مسجد ابوبکر صدیق جواکھر میں ممتاز عالم دین مولانا سرفراز احمد قاسمی کا خطاب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بھاگلپور 14 جون (پریس ریلیز)آج مسلمان پریشان ہے،در در کی ٹھوکریں کھارہاہے،مشکلات کا شکار ہے،چاروں جانب مسائل سے گھرا ہوا ہے ،ارد گرد مسائل کا انبار ہے،مسلمان ان سے نجات حاصل کرنے اور انکے حل کے لئے سرگرداں ہے،ہم نجات کی تلاش میں ہیں،چھٹکارے اور نجات کے راستے تلاش کر رہے ہیں لیکن نجات کی راہیں کیا ہیں؟یہ کہاں ملے گی؟نجات کا حصول کیسے ہوگا؟ اسکا طریقہ کار کیاہو؟ قرآن وشریعت میں یہ ساری رہنمائی اور اسکا حل پوری تفصیل کے ساتھ موجود ہے،سوال یہ ہے کہ پھر ہم اسلامی تعلیمات اور قرآنی ہدایات کو چھوڑکر دوسری طرف نجات کیوں تلاش کررہے ہیں؟ان خیالات کا اظہار ملک کے ممتاز عالم دین اور معروف صحافی مولانا سرفراز احمد قاسمی جنرل سکریٹری کل ہند معاشرہ بچاؤ تحریک حیدرآباد نے اپنے خطاب کے دوران کیا،وہ جامع مسجد سجور اور مسجد ابوبکر صدیق میں اجتماع سے خطاب کررہے تھے،انہوں نے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کی جس انداز میں تربیت اور ان کی اصلاح فرمائی،اس کی مثال تاریخ میں کہیں اور نہیں ملتی،یہ صرف اسلام ہی خصوصیت ہے،اسلام ایک ایسا واحد مذہب ہے جس نے تربیت اور ٹریننگ کے بعد صحابہ کی ایسی جماعت تیار کی جو زندگی کے ہر شعبے اور موڑ پر رہنما اور قیامت تک آنے والی انسانیت کے لیے مشعل راہ ہے،ایک حدیث کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ حضرت عقبہ ابن عامر رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ یا رسول اللہ نجات کس میں ہے؟ نجات کے حصول کا طریقہ کیا ہے اور نجات کہاں ملے گی؟مین نجات حاصل کرنا چاہتا ہوں،ذخیرہ حدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم سے اگر کوئی دنیا کا بھی سوال کرتا تو آپ ہمیشہ ایسی تعلیم دیتے جس کی بنیاد پر وہ دین کی طرف مائل ہوجاتا تھا،ایسا نہیں تھا کہ کوئی ہم سے دنیا کا راستہ پوچھے تو دنیا ہی کا راستہ بتاؤں،ایک مرتبہ حضرت حکیم ابن حزام تشریف لائے اورعرض کیا اے اللہ کے رسول! - [جمعیت علمائے ہند کا 6 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ](https://jahazimedia.com/?p=1354) - [جمعیت علمائے بسنت رائے کے گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کے سلسلے میں مفتی محمد نظام الدین کا سمری جامع مسجد میں جمعہ کا خطاب، مشاورتی نشست میں 20 جون کو عوامی بیداری پروگرام کا فیصلہ](https://jahazimedia.com/?p=1350) - [جمعیت علمائے بسنت رائے کا آٹھواں ”گاؤں گاؤں نوجوانوں اور عوامی بیداری پروگرام“ لیتھا میں کامیابی کے ساتھ](https://jahazimedia.com/?p=1348) - [رحلت نبوی ﷺ: تاریخ بہ تاریخ لمحہ بہ لمحہ](https://jahazimedia.com/?p=1343): "اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ الْأَعْلَى"(اے اللہ! - [علماء عوام کے دروازے پر: گاؤں بیداری پروگرام کے سلسلے میں جمنی کولہ میں مشاورتی نشست، 16 جون کی تاریخ طے](https://jahazimedia.com/?p=1340) - [جنود ربانی کے مقاصد اور مناصب](https://jahazimedia.com/?p=1336): مقامِ قائم مقامِ جنرل: تہران. کابل. - [تحریکِ ریشمی رومال: معاونین و ہمدردان کی ایک تاریخی فہرست](https://jahazimedia.com/?p=1332) - [مردم شماری میں حصہ لینا قومی ومذهبی فریضه](https://jahazimedia.com/?p=1330) - [اقتدار کی منتقلی سے حکمرانی کے امتحان تککرناٹک میں نئی قیادت کے سامنے سیاسی استحکام اور سماجی توازن کا چیلنج](https://jahazimedia.com/?p=1328) - [وندے ماترم کو لازمی قرار دینا بنیادی حقوق اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ](https://jahazimedia.com/?p=1326): آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے مغربی بنگال حکومت کی جانب سے ریاست کے سرکاری اسکولوں اور سرکار سے تسلیم شدہ دینی مدارس میں طلبا و طالبات کے لیے صبح کی اسمبلی میں وندے ماترم کے تمام بندوں کی قرأت کو لازمی قرار دینے کے فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس نوٹیفکیشن کو فوری طور پر واپس لیا جائے، یا کم از کم مسلم طلبا و طالبات کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے ایک پریس بیان میں کہا کہ کسی بھی طالب علم کو اس کے مذہبی عقائد کے خلاف کوئی کلمہ یا نغمہ پڑھنے پر مجبور کرنا نہ صرف دستور ہند کے بنیادی حقوق، بالخصوص آرٹیکل 19، 25 اور 28(3) کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے Bijoe Emmanuel v. - [جمعیت علمائے بسنترائے کی گاؤں گاؤں بیداری مہم جاری موکل چک میں ساتواں’’بیداری پروگرام‘‘ کا کامیاب انعقاد](https://jahazimedia.com/?p=1324) - [جمعیت علمائے بسنت رائے کے زیر اہتمام “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” کے لیے افراد سازی کے مقصد سے تربیتی نشست کا انعقاد](https://jahazimedia.com/?p=1321) - [جمعیت علمائے بسنترائے کا چھٹا "گاؤں گاؤں بیداری پروگرام" سانکھی میں کامیابی کے ساتھ منعقد](https://jahazimedia.com/?p=1319) - [بھاگلپور و اطرافِ بھاگلپور کی گمشدہ تاریخ کو منظرِ عام پر لانے کے لیے عظیم الشان سیمینار کی تیاری — دگھی گڈا میں اہم مشاورتی نشستب](https://jahazimedia.com/?p=1315) - [نوجوانوں کو مقصدِ حیات کا پیغام: جہاز قطعہ میں بیداری مہم جاری](https://jahazimedia.com/?p=1312) - [نوجوانوں کی اصلاح اور بیداری وقت کی اہم ضرورت: مفتی محمد نظام الدین قاسمی](https://jahazimedia.com/?p=1306) - [بھارت کو کیا بنانے کی کوشش ہے؟](https://jahazimedia.com/?p=1304) - [دو سادہ نکاح، سنتی طرزِ عمل کی عملی مثال — فضول رسومات کے خلاف بامعنی پیغام](https://jahazimedia.com/?p=1298) - [پچوا قطعہ میں ایمان و شعور کا محاسبہ — “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” کا مؤثر پیغام](https://jahazimedia.com/?p=1287) - [سیرتِ نبویؐ سے عملی وابستگی کی اپیل](https://jahazimedia.com/?p=1285) - [قربانی تقریبا 4300سال پرانی عبادت ہے۔جہاز قطعہ گڈا، جھارکھنڈ میں عید الاضحیٰ کا — دل کش منظر۔](https://jahazimedia.com/?p=1282) - [گوشت خوری اور مختلف مذاهب كی تعلیمات!](https://jahazimedia.com/?p=1280): اسلام نے جہاں انسان کو اپنے کرم سے سرفراز فرمایا ، وہیں بے زبان جانوروں کو بھی اپنی رحمت ِبے کراں سے مالا مال کیا ہے ، اسلام سے پہلے عربوں کے گزر بسر کا ذریعہ یہی جانور تھے ، ان کا دُودھ غذا کا کام دیتا تھا ، ان کی پشت سواری اور بار برداری کا سب سے بڑا ذریعہ تھی ، ان کی تجارت کا دارو مدار ان ہی سواریوں پر تھا ، ان کے چمڑوں سے بھی مختلف کام لئے جاتے تھے ؛ لیکن ان سب کے باوجود جانوروں کے ساتھ ان کا سلوک بڑا بےرحمانہ تھا ، آپ ﷺ نے اس کو منع فرمایا ، جانور کے منھ پر مارنے کی ممانعت کی ، (سنن ابوداؤد ، حدیث نمبر : ۲۵۶۴) لوگ جانوروں کو باہم لڑاتے اور اس کا تماشہ دیکھتے تھے، آپ ﷺ نے اس درندگی کو روکا ، (سنن ابو داؤد ، حدیث نمبر : ۲۵۶۲) جانور کی خوراک اورضروریات کی رعایت کرنے کا بھی حکم دیا ، ایک اُونٹ کو دیکھا کہ اس کا پیٹ پشت سے لگا ہوا ہے ، آپ ﷺنے فرمایا : ان کے معاملہ میں خدا سے ڈرو ، (سنن ابوداؤد ، حدیث نمبر : ۲۵۴۸) آپ ﷺ نے ہدایت فرمائی کہ اگر سر سبز و شاداب موسم میں سفر کرو تو آہستہ چلاؤ اور جانور کو اس سے فائدہ اُٹھانے کا موقع دو ، اور قحط کا موسم ہو تو تیز تیز چلاؤ ، (سنن ابو داؤد ، حدیث نمبر : ۲۵۶۹) آپ ﷺنے اس بات کی بھی تلقین کی کہ جو جانور جس کام کے لئے ہے ، اس سے وہی کام لو ؛ اس لئے آپ ﷺ نے جانور کو منبر (اسٹیج ) بنانے سے منع فرمایا ، (سنن ابو داؤد ، حدیث نمبر : ۲۵۶۹۵) مطلب یہ ہے کہ جانور کو اسٹیج کے طور پر استعمال نہ کیا جائے ؛ کیوںکہ رُکی ہوئی حالت میں بوجھ کا احساس بڑھ جاتا ہے ، چلتی ہوئی حالت میں کم ہوتا ہے ۔آپ ﷺنے فرمایا کہ آخرت کا ثواب وعذاب جانوروں کے ساتھ اچھے اور بُرے سلوک سے بھی متعلق ہے ، قیامت کے دن ایک عورت محض اس لئے دوزخ میں ڈالی جائے گی کہاس نے ایک بلی کو باندھ رکھا تھا ، اسے اس کا موقع نہیں دیا گیا کہ وہ خود کھائے اوردوڑدھوپ کر اپنی ضرورت پوری کرے ، (بخاری، باب فضل سقی الماء حدیث نمبر: ۲۳۶۵) اور ایک شخص اس بناء پر جنت میں داخل کیا جائے گا کہ اس نے ایک پیاسے کتے کی پیاس دُور کی ہوگی اور اسے پانی پلایا ہوگا ، (حوالۂ سابق، حدیث نمبر: ۲۳۶۳) آپ ﷺ نے فرمایا کہ انسان کی لگائی ہوئی کھیتیوں میں سے چرند و پرند جو کھالیں ، اس پر بھی صدقہ کا ثواب ہے ۔ ( صحیح بخاری، باب فضل الزرع والفرس، حدیث نمبر: ۲۳۲۰) اسلام نے گوشت خوری کو لازم تو نہیں کیا ہے ، مگر اس کی اجازت ضرور دی ہے ؛ لیکن بلا وجہ جانوروں کو مارنے کے درپے ہونا درست نہیں ہے ، کسی صاحب نے ایک گوریا پکڑ رکھی تھی اور اس کی ماں بے قرار تھی، آپ ﷺ نے اس پر ناگواری کا اظہار فرمایا، آپ ﷺ نے فرمایا کہ بلا ضرورت ایک گوریّا کو ذبح کرنے پر بھی جواب دہی ہے ؛ (السنن الکبریٰ للنسائی، باب من قتل عصفوراً بغیر حقہا، حدیث نمبر: ۴۵۱۹) اسی لئے جو چیزیں انسانی کام نہیں آتیں ، آپ ﷺنے ان کو مارنے سے منع فرمایا ، چیونٹی ، شہد کی مکھی اور ھُدْ ھُدْ وغیرہ کے مارنے کی آپ ﷺ نے صراحتاً ممانعت فرمائی، (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر: ۵۷۲۸) کسی جاندار کے جلانے کو آپ ﷺ نے شدت سے روکا ہے ، ایک دفعہ لوگوں نے ایسی جگہ چولہا سلگایا ، جہاں چیونٹی کے بِل تھے ، آپ ﷺنے چولہا بجھانے کا حکم دیا ، (سنن ابی داؤد، باب فی قتل الذر، حدیث نمبر: ۵۲۶۸)خود حدیث میں ایک پیغمبر کا ذکر ہے ، جن کے حکم سے چیونٹیاں جلائی گئی تھیں ، اسی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب فرمایا ۔ (صحیح مسلم ، حدیث نمبر : ۲۲۴۱)بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ اسلام نے گوشت خوری کی اجازت دے کر بے رحمی کا ثبوت دیا ہے ، ہمارے بعض ناواقف ہندو بھائیوں کے یہاں تو اسلام نام ہی گوشت خوری کا ہے ، اس سلسلہ میں اول تو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ ہندوستانی مذاہب کے سوا دُنیا کے تمام مذاہب میں گوشت خوری کی اجازت دی گئی ہے اور گوشت کو ایک اہم انسانی غذا تسلیم کیاگیا ہے ، ہندوستانی نژاد مذاہب میں بھی حقیقت یہ ہے کہ سوائے ’’ جین مذہب‘‘ کے ، تمام مذاہب میں گوشت خوری کا جواز موجود تھا ، بودھ مذہب میں بھی گوشت کھایا جاتا تھا ، بعد میںانھوں نے اہنسا کا تقاضا سمجھا کہ گوشت خوری ترک کردی جائے ، اس لئے منع کردیا گیا ، آج کل ہندو بھائیوں کے یہاں یہ بات مشہور ہوگئی ہے کہ ان کے یہاں گوشت خوری سے منع کیا گیا ہے ؛ لیکن یہ محض اپنے مذہب اور اپنی تاریخ سے ناواقفیت ہے ، خود ویدوں میں جانوروں کے کھانے پکانے اور قربانی کا تذکرہ موجود ہے، رگ وید میں ہے : اے اندر ! - [جھپنیاں بستی میں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کا دوسرا پروگرام منعقد](https://jahazimedia.com/?p=1276) - [عید قرباں](https://jahazimedia.com/?p=1273) - [یوم عرفہ](https://jahazimedia.com/?p=1271): اللہ اللہ یہ عرفات کا لق و دق ویرانہ، جو نہ انسان کے بسنے کے لائق ہے نہ حیوان کے اور جہاں سال بھر انسانی آبادی تو الگ رہی، پرندہ بھی پر نہیں مارتا، دم کے دم میں آن کی آن میں کیا سے کیا ہوجاتا ہے، دن بھر کے لیے سینکڑوں نہیں، ہزاروں کا نہیں، لاکھوں کی آبادی کا ایک عظیم الشان شہر آباد ہوجاتا ہے، ان میں بوڑھے بھی ہوتے ہیں اور جوان بھی، بچے بھی اور عورتیں بھی، شہ زور پہلوان بھی اور لب مرگ کمزور و ناتواں بھی، گورے بھی کالے بھی، سانولے بھی پیلے بھی، مشرقی بھی مغربی بھی، جنوبی بھی شمالی بھی، عالم بھی عامی بھی، امیر بھی فقیر بھی، عابد بھی و زاہد بھی، فاسق و فاجر بھی اور یہ سارا مجمع کیوں آپ ہی آپ اکٹھا ہو رہا ہے؟ کوئی دلچسپ تماشہ ہونے والا ہے؟ کوئی بزم مشاعرہ ہے؟ کوئی ہنسنے ہنسانے والی نقل دکھائی جائے گی؟ کوئی گھوڑ دوڑ ہے؟ پولو ہے، ہاکی، فٹ بال کا میچ ہے؟ رستم دوران گاما پہلوان کی کشتی کا دنگل ہے؟ ہالی ووڈ کی کوئی نئی فلم آئی ہوئی ہے؟ کوئی مشہور ایکٹرس بےحجابی کے ساتھ اسٹیج پر نمودار ہونے والی ہے؟ تجارتی مصنوعات کی نمائش ہونے والی ہے؟ ڈربی سویپ ۔(sweep)۔ہے؟ گھوڑوں اور ہاتھیوں کا بازار لگنے والا ہے؟ کسی کانفرنس کسی کانگریس کا افتتاح ہے؟ کسی لیڈر کا لکچر ہو نے والا ہے؟ کسی درگاہ پر عرس ہورہا ہے؟ کسی دیوی دیوتا کی پوجا ہونے والی ہے؟ کوئی گنگا اشنان ہے؟ کوئی کمبھ میلا ہے؟ بجز ایک اللہ کی عبادت کے، بجز ایک اللہ کے حکم کی تعمیل کے، بجز ایک اللہ کے نام پر مرمٹنے کی تمنا کے اور کون سی شے ان ہزارہا بندوں کو، ان لاکھوں کلمہ گویوں کو یہاں اس تپتی ہوئی ریت میں گھسیٹ کر لائی ہیں؟ مجمع دنیا میں اور بہت سے ہوتے رہتے ہیں۔ میلے ٹھیلے خدا معلوم کتنے ہوتے رہتے ہیں، کھیل تماشوں میں ٹھٹ کے ٹھٹ ہر جگہ لگ جاتے ہیں لیکن اللہ کے نام پر جمع ہونے والوں کا لبیک لبیک کی رٹ لگا کر اللہ کا نام جپنے والوں کا، اور محض بن دیکھے مولا و مالک کے آگے رونے اور گڑگڑانے جھکنے اور گرنے والوں کا اتنا بڑا مجمع دریاؤں اور سمندروں کو پارکر کے پہاڑوں کو پھاند کرکے دنیا کے طول و عرض میں کہیں، اور وقت کے کسی حصہ میں کبھی ہوتا ہے؟ دعائیں، ان اللہ والوں کی نہ قبول ہوں گی تو اور کس کی ہوں گی؟ بےحساب رحمتوں اور بیشمار برکتوں کا نزول ان کے سروں پر نہ ہوگا تو کس پر ہوگا؟ مشہور ہے کہ آدم علیہ السلام کی توبہ اسی مقام پر اور آج ہی کے دن قبول ہوئی تھی، یہ روایت صحیح ہو یا نہ ہو لیکن بہرحال بنی آدم اپنے گناہوں کے بخشوانے کے لیے آج سے بہتر تاریخ اور یہاں سے بہتر زمین اور کونسی ڈھونڈ کر لائیں گے؟ دنیا کی کوئی قوم، روئے زمین کا کوئی مذہب، اس خالص توحید و خالص خدا پرستی کے عظیم الشان مظاہرہ کا نمونہ پیش کرسکتا ہے؟ کسی نے کبھی پیش کیا، کوئی آج پیش کررہا ہے؟ کوئی آئندہ کبھی پیش کرے گا؟ بتوں کے بندے بے شمار، حرص و ہوا کے پرستار لاتعداد، سیر و تماشہ کے سودائی بےگنتی لیکن دنیا آئے، پارکوں اور سبزہ زاروں کی سیر کرنے والی دنیا آئے، بازاروں اور نمائش گاہوں کی گشت لگانے والی دنیا آئے، عجائب خانوں اور چڑیا خانوں میں وقت گزارنے والی، دنیا آئے اور بیسویں صدی عیسوی میں ایک بار ذرا اللہ کی فوج کے ان سپاہیوں کو، اپنے رب کے ان مستوں کو اور دیوانوں کو دیکھے کہ اس چلچاتی دھوپ میں، تپتی ہوئی ریت کے اوپر ننگے سر اور پسینہ میں شرابور، مٹی میں اٹے ہوئے اور خاک میں لتھڑے ہوئے کس کس طرح جھک جھک کر اور گر گر کر، رو رو کر، گڑ گڑا کر اپنے ان دیکھے مولا و مالک کے آگے مانگنے اور بھیک مانگنے کے لیے کن کن آرزؤں اور تمناؤں کے ساتھ ہجوم شوق و اشتیاق کے ساتھ، اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے ہیں! - [تاریخی مساجد کو مندر میں بدلنے کی مہم](https://jahazimedia.com/?p=1268) - [بلاک بسنترائے میں جمعیت علما کا گاؤں گاؤں بیداری پروگرام شروع، کیتھ پورا سے باضابطہ آغاز](https://jahazimedia.com/?p=1265) - [جھارکھنڈ کے ضلع گڈا میں واقع جمعیت علمائے بسنت رائے کی اراکینِ منتظمہ کا اہم مشاورتی اجلاس جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ میں کامیابی کے ساتھ منعقد’’جمعیت علمائے ہند ہی کیوں؟‘‘، فکری و دستوری تربیت، حالاتِ حاضرہ، نوجوانوں کی رہنمائی اور گاؤں گاؤں بیداری مہم پر جامع غور و خوض](https://jahazimedia.com/?p=1258) - [کمال مولا مسجد مقدمہ:حالیہ عدالتی فیصلے نے تاریخ، انصاف اور بھارتیہ سیکولرازم کے تئیں بھروسہ کو ختم کر دیا: ایم.ڈبلیو.انصاری -آئی پی ایس (ریٹائرڈ۔ڈی.جی)](https://jahazimedia.com/?p=1251) - [ہندوستانی مسلمان اورمناسب حکمت عملی کی ضرورت!](https://jahazimedia.com/?p=1249) - [فتنوں کے سدِّ باب میں علماءِ حق کا کردار: امت کی بقا کا ضامن](https://jahazimedia.com/?p=1247): آج جبکہ امتِ مسلمہ مختلف قسم کے فتنوں، گمراہیوں اور خود ساختہ دعووں کی زد میں ہے، ایسے وقت میں اہلِ حق علماءِ کرام کا بروقت اقدام نہ صرف قابلِ تحسین ہے بلکہ پوری امت کے لیے باعثِ اطمینان بھی ہے۔ دہلی کے علاقۂ خوریجی میں جس انداز سے ایک گمراہ کن فتنہ سر اٹھا رہا تھا، وہ اگر ابتدا ہی میں نہ روکا جاتا تو نہ جانے کتنے سادہ لوح مسلمان اس کے دامِ فریب میں گرفتار ہوجاتے۔ الحمد للہ! - [جامع مسجد مولانا کمال الدین دھار کے بارے میں چند ضروری تاریخیں](https://jahazimedia.com/?p=1245) - [قربانی میں اسلامی اصلاحات](https://jahazimedia.com/?p=1241): اسلام میں قربانی کا جو طریقہ رائج ہے، وہ وہی طریقہ ہے، جس کی شروعات سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہوئی ہے۔ اس کی مختصر تاریخ یہ ہے کہایک دن ابراہیم علیہ السلام نے اسماعیل علیہ السلام سے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ تمہیں ذبح کررہا ہوں۔ اب تم بتاؤ کہ تمہاری کیا رائے ہے؟ اسماعیل علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ مجھے ثابت قدیم پائیں گے۔ جب ابراہیم علیہ السلام نے اسماعیل علیہ السلام کو منہ کے بل ذبح کرنے لیے لٹایا تو خدا کی طرف سے آواز آئی: اے ابراہیم! - [کمال مولا مسجد کو مندر قرار دینے کا فیصلہ](https://jahazimedia.com/?p=1238) - [انصاف پسند اور مظلوم برادرانِ وطن کے ساتھ مل کر جدوجہد](https://jahazimedia.com/?p=1235) - [زہریلی تاریخ نگاری کا تدارک](https://jahazimedia.com/?p=1233) - [ملک معاشی ایمرجنسی کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے؟](https://jahazimedia.com/?p=1230) - [اسلام کی بنیاد دوچیزوں پر قائم ہے،عقیدہ توحید،اور نبوت ورسالت:مولاناخالدسیف اللہ رحمانی](https://jahazimedia.com/?p=1227) - [کیا مرغا بکرا عورتیں ذبح کر سکتی ہیں؟](https://jahazimedia.com/?p=1224) - [حج و عمرہ میں اسلامی اصلاحات](https://jahazimedia.com/?p=1222): انسانوں میں حج و عمرہ کا تصور بہت قدیم ہے، تاریخ کی شہادت کے مطابق اس کی شروعات حضرت آدم علیہ السلام نے کی ہے۔ ابن جوزی فرماتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام نے ہندستان سے پیدل چالیس حج کیے تھے۔ اقناع میں ہے کہ سبھی انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام نے حج کیے ہیں۔ عثمان ابن ساج کہتے ہیں کہ مجھے سعید نے بتایا کہ حضرت آدم علیہ السلام نے ستر پیدل حج کیے ہیں ۔ وماقالہ ابن الجوزی اخرجہ الحاکم عن الثوری۔ و اول من حج آدم علیہ السلام۔ حج من الھند ماشیا اربعین سنۃ۔ و قیل ما من نبی الا حج، کذا فی الاقناع، و فی القریٰ لقاصد ام القریٰ، عن عثمان بن ساج قال: آخبرنی سعید ان آدم علیہ السلام حج علیٰ رجلیہ سبعین حجۃ ماشیا۔ الیٰ آخر الحدیث۔ خرجہ الازرقی۔ (حجۃ الوداع وجزء عمرات النبی ﷺ، ص۲۴)لیکن حضرت آدم علیہ السلام کے حج کا کیا طریقہ تھا، اس کی کوئی تفصیل نہیں ملتی۔ البتہ حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل علیہما السلام نے تعمیر بیت اللہ کے بعد جو حج فرمایا تھا، وہی حج سابقہ امتوں میں جاری و ساری تھا۔چنانچہ کلام پاک میں ارشاد ہے کہ وَأَذِّن فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ یَأْتُوکَ رِجَالًا وَعَلَی کُلِّ ضَامِرٍ یأْتِینَ مِن کُلِّ فَجٍّ عَمِیقٍ (27)لِّیشْھَدُوا مَنَافِعَ لَھُمْ وَیذْکُرُوا اسْمَ اللَّہِ فِي أَیَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ عَلیٰ مَا رَزَقَھُم مِّن بَھِیمۃِ الْأَنْعَامِ ، فَکُلُوا مِنْھَا وَأَطْعِمُوا الْبَاءِسَ الْفَقِیرَ (28) ثُمَّ لْیَقْضُوا تَفَثَھُمْ وَلْیُوفُوا نُذُورَھُمْ وَلْیطَّوَّفُوا بِالْبَیتِ الْعَتِیقِ (الحج)اور لوگوں میں حج کا اعلان کرو، کہ وہ تمھارے پاس پیدل آئیں، اور دور دراز سے راستوں سے سفر کرنے والی اونٹنیوں پر سوار ہوکر آئیں جو (لمبے سفر سے) دبلی ہوگئی ہوں۔ تاکہ وہ ان فوائد کو آنکھوں سے دیکھیں جو ان کے لیے رکھے گئے ہیں، اور متعین دنوں میں ان چوپایوں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نے انھیں عطا کیے ہیں، چنانچہ (مسلمانو) ان جانوروں میں سے خود بھی کھاو اور تنگ دست محتاج کو بھی کھلاو۔پھر (حج کرنے والے ) لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنا میل کچیل دور کریں ، اور اپنی منتیں پوری کریں اور اس بیت عتیق کا طواف کریں۔(آسان ترجمہ قرآن)حضرت ابراہیم علیہ السلام سے حج و عمرہ کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا ، وہ قبل از اسلام بھی جاری رہا اور بعد از اسلام بھی جاری ہے۔ زمانہ جاہلیت کے لوگ بھی حج و عمرہ کیا کرتے تھے اور یہ ان کے دین کے بنیادی فریضے میں شامل تھے۔ اور حج کا صحیح طریقہ وہی سمجھا جاتا تھا، جو ابراہیمی طریقہ تھا۔لیکن انھوں نے حج و عمرہ کے ابراہیمی طریقے میں کچھ بدعتیں شامل کر دیتی تھیں۔ اسلام نے ان تمام بدعتوں کا خاتمہ کردیا اور ابراہیمی طریقے کو دوبارہ بحال کیا۔ ذیل کی سطروں میں ہم انھیں بدعتوں اور اسلامی اصلاحات کا جائزہ لیں گے۔بدعت نمبر ۱۔ وقوف عرفہ سے پرہیزقبیلہ عرب کے قریش خانہ کعبہ کے متولی تھے اوراس تولیت کی بدولت اپنے آپ اور اپنے خاندان کو اعلیٰ خاندان سمجھتے تھے، جس کی وجہ سے انھوں نے اپنے لیے یہ عقیدہ بنالیا تھا کہ قریش حدود حرم سے باہر نہیں جاسکتا ۔ میدان عرفہ چوں کہ حدود حرم سے باہر ہے، لہذا وہ عرفہ کا وقوف نہیں کرتے تھے، بلکہ اس کے بجائے وہ مزدلفہ میں قیام کرتے تھے ۔ بعثت سے پہلے کا واقعہ ہے کہ عرفہ کے دن حضرت جبیر ابن مطعم رضی اللہ عنہ کا اونٹ گم ہوگیا ، وہ اسے ڈھونڈھنے کے لیے عرفہ گئے۔ وہاں انھوں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا ، تو تعجب ہوا کہ یہ قریشی شخص عرفہ کے دن یہاں کیوں ہے، ان کا بیان ہے کہ عَنْ أَبِیہ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: أَضْلَلْتُ بَعِیرًا لِي، فَذَھَبْتُ أَطْلُبہ یَوْمَ عَرَفَۃَ، فَرَأَیْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا بِعَرَفۃَ، فَقُلْتُ: ھَذَا وَاللہِ مِنَ الحُمْسِ فَمَا شَأْنُہُ ھَا ھُنَا ( صحیح بخاری، کتاب الحج، باب الوقوف بعرفۃ)’’میرا اونٹ کھو گیا۔ عرفہ کے دن میں اُسے تلاش کرتا ہوا گیا تو میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میدان عرفات میں کھڑے ہیں۔ میں نے خیال کیاکہ بخدا یہ تو قریش میں سے ہیں، پھر یہ یہاں کیا کررہے ہیں؟‘‘اس بدعت کی اصلاح کرتے ہوئے قرآن کریم نے اعلان کیا کہ ثُمَّ أَفِیضُوا مِنْ حَیثُ أَفَاضَ النَّاسُ ( البقرۃ، آیۃ نمبر 199، پارہ ایک)اس کے علاوہ (یہ بات بھی یاد رکھو کہ ) تم اسی جگہ سے روانہ ہو جہاں سے عام لوگ روانہ ہوتے ہیں۔ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی اکرم ﷺ نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ میدان عرفات سے دور کھڑے تھے ۔ آپ نے ان لوگوں کو اطلاع بھجوائی کہ تم اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی وراثت پر ہو، لہذا حج طریق ابراہیمی کے مطابق کرو۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ صَفْوَانَ عَنْ خَالٍ لہَُ یُقَالُ لہُ یَزِیدُ بْنُ شَیْبَانَ قَالَ: کُنَّا فِي مَوْقِفٍ لَنَا بِعَرَفۃَ یُبَاعِدُہُ عَمْرٌو مِنْ مَوْقِفِ الْإِمَامِ جِدًّا فَأَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ: إِنِّي رَسُولُ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَیْکُمْ یَقُولُ لَکُمْ: 171قِفُوا عَلَی مَشَاعِرکُمْ فَإِنَّکُمْ عَلَی إِرْثِ من إِرْثِ أَبِیکُمْ إِبْرَاھِیمَ عَلَیہِ السَّلَامُ187 . - [حج و عمرہ میں اسلامی اصلاحات](https://jahazimedia.com/?p=1218): عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ صَفْوَانَ عَنْ خَالٍ لہَُ یُقَالُ لہُ یَزِیدُ بْنُ شَیْبَانَ قَالَ: کُنَّا فِي مَوْقِفٍ لَنَا بِعَرَفۃَ یُبَاعِدُہُ عَمْرٌو مِنْ مَوْقِفِ الْإِمَامِ جِدًّا فَأَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ: إِنِّي رَسُولُ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَیْکُمْ یَقُولُ لَکُمْ: 171قِفُوا عَلَی مَشَاعِرکُمْ فَإِنَّکُمْ عَلَی إِرْثِ من إِرْثِ أَبِیکُمْ إِبْرَاھِیمَ عَلَیہِ السَّلَامُ187 . - [قربانی میں اسلامی اصلاحات](https://jahazimedia.com/?p=1215): قربانی کی تاریخقرآن کی گواہی کے مطابق اس روئے زمین پر کوئی بھی قوم ایسی نہیں گذری ہے، جس میں قربانی کی روایت نہ رہی ہو۔ اس سے یہ دعویٰ کرنا خلاف واقعہ نہیں ہوگا کہ قربانی کی رسم اتنی ہی پرانی ہے، جتنی کی خود نوع انسانی کی تاریخ۔ ارشاد خداوندی ہے۔وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکًا لِّیَذْکُرُوا اسْمَ اللہِ عَلٰی مَا رَزَقَہُمْ مِّن بَہِیْمَۃِ الْاَنْعَامِ (الحج، آیۃ: 34)اور ہم نے ہر اُمت کے لیے قربانی کا طریق مقرر کردیا ہے تاکہ جو مویشی چارپائے خدا نے ان کو دیے ہیں (ان کے ذبح کرنے کے وقت) ان پر خدا کا نام لیں۔کلام پاک میں ایک دوسری جگہ سدنا حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں: ہابیل اور قابیل کی قربانیوں کا قصہ مذکور ہے۔وَاتْلُ عَلَیْہِمْ نَبَاَ ابْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ، اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدھِمَا وَلَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَر، قَالَ لَاَقْتُلَنَّک، قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللہُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ (المائدۃ، آیۃ: 27)اور (اے محمد) ان کو آدم کے دو بیٹوں (ہابیل اور قابیل) کے حالات (جو بالکل) سچے (ہیں) پڑھ کر سنا دو کہ جب ان دونوں نے خدا (کی جناب میں) کچھ نیازیں چڑھائیں تو ایک کی نیاز تو قبول ہو گئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی (تب قابیل ہابیل سے) کہنے لگا کہ میں تجھے قتل کروں گا اس نے کہا کہ خدا پرہیزگاروں ہی کی (نیاز) قبول فرمایا کرتا ہے ۔آدم کے بیٹے ہابیل بھیڑ بکریاں چراتا تھا اور قابیل کسان تھا۔ ان دونوں نے اللہ کے حضور قربانی پیش کی۔ ہابیل نے کچھ جانور پیش کیے، جبکہ قابیل نے اناج نذر کیا۔ ہابیل کی قربانی قبول ہو گئی مگر قابیل کی قبول نہیں ہوئی۔ اُس زمانے میں قربانی کی قبولیت کی علامت یہ ہوتی تھی کہ آسمان سے ایک شعلہ آتا تھا اور وہ قربانی کو جلا کر بھسم کر دیتا تھا۔ اوریہی قبولیت کی علامت ہوتی تھی۔ جس کی قربانی پر آسمانی آگ نازل نہیں ہوتی تھی، اس کی قربانی نامنظور ہوتی تھی۔ اس تعلق سے ایک حوالہ ملاحظہ کیجیے۔قد تکلمنا علی ھذہ القصۃ، في سورۃ المائدۃ، في التفسیر بما فیہ کفایۃ، وللہ الحمد.ولنذکر ھنا ملخص ما ذکرہ أئمۃ السلف في ذلک، فذکر السدي، عن أبي مالک، وأبي صالح، عن ابن عباس، وعن مرۃ، عن ابن مسعود، وعن ناس من الصحابۃ: أن آدم کان یزوج ذکر کل بطن بأنثی الأخریٰ، وأن قابیل أراد أن یتزوج بأخت ھابیل، وکان أکبر من ھابیل، وأخت قابیل أحسن، فأراد قابیل أن یستأثر بھا علیٰ أخیہ، وأمرہ آدم علیہ السلام أن یزوجہ إیاھا فأبیٰ، فأمرھما أن یقربا قربانًا۔ وذھب آدم لیحج إلیٰ مکۃ، واستحفظ السماوات علیٰ بنیہ، فأبین، والأرضین، والجبال فأبین، فتقبل قابیل بحفظ ذلک.فلما ذھب قربا قربانھما، فقرب ھابیل جذعۃ سمینۃ، وکان صاحب غنم، وقرب قابیل حزمۃ من زرع من رديء زرعہ، فنزلت نار، فأکلت قربان ھابیل، وترکت قربان قابیل، فغضب، وقال: لأقتلنک حتیٰ لا تنکح أختي، فقال: إنما یتقبل اللہ من المتقین۔ (البدایۃ والنھایۃ، الجزء الاول، باب خلق آدم علیہ السلام، قصۃ قابیل و ھابیل)قربانی کا تصور دیگر مذاہب میںاسلام کے علاوہ دیگر مذاہب میں بھی قربانی کا رواج رہا ہے۔ یہودیوں میں عید فصیح کے موقع پر ایک سالہ بھیڑ کی قربانی کی جاتی ہے اور اس کا گوشت تبرکا آپس میں تقسیم کرتے ہیں، پھر اس کے پچاس دن بعد یوم خمس مناتے ہیں، جس میں سات بھیڑیں یا بیل اور دو دنبے ذبح کرتے ہیں اور ان کا گوشت غریبوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔دین مسیحیت میں بھی قربانی کی جاتی ہے۔ یہ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نام قربانی کرتے ہیں اور خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اسے دفن کردیتے ہیں۔سکھ مذہب میں ہولا کے تہوار کے موقع پر بھیڑ کی قربانی پیش کی جاتی ہے۔ اس قوم کے جھچے دار ایک ہی جھٹکے میں قتل کرکے خون کو جمع کرتے ہیں اور نہنگ گروہ کے سردار کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔ بعض قوموں میں قربانی اتنی افضل اور اہم عبادت قرار دی گئی ہے کہ وہ جانوروں کے ساتھ ساتھ انسانوں کی بھی قربانی اور بلی چڑھانے لگیں، چنانچہ اہل دوما میں انسانی جانوں کو ذبح کرنے کی تاریخ ملتی ہے۔ ہندستان کی غیر مسلم اقوام میں تو اب تک اس کا رواج چلا آرہا ہے، چنانچہ جتنا بڑا مقصد ہوتا ہے، اتنی ہی بڑی قربانی پیش کی جاتی ہے ، حتیٰ کہ کتے بلی وغیرہ کے علاوہ انسانی بچوں اور بڑوں کی بلی دی جاتی ہے۔( تفصیلی مطالعہ کے لیے دیکھیے : المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام، ج:۶، ص؍ ۱۹۸)اسلام کی قربانی کی تاریخاسلام میں قربانی کا جو طریقہ رائج ہے، وہ وہ طریقہ ہے، جس کی شروعات سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہوئی ہے۔ اس کی مختصر تاریخ یہ ہے کہایک دن ابراہیم علیہ السلام نے اسماعیل علیہ السلام سے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ تمہیں ذبح کررہا ہوں۔ اب تم بتاؤ کہ تمہاری کیا رائے ہے؟ اسماعیل علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ مجھے ثابت قدیم پائیں گے۔ جب ابراہیم علیہ السلام نے اسماعیل علیہ السلام کو منہ کے بل ذبح کرنے لیے لٹایا تو خدا کی طرف سے آواز آئی: اے ابراہیم! - [ایسی ہوتی ہے مزاج شناس بیوی](https://jahazimedia.com/?p=1209): قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: هُوَ أَسْكَنُ مَا كَانَ. - [حجۃ الوداع](https://jahazimedia.com/?p=1204): راستہ میں جب ’’وادی روحاء “ پر پہنچے تو حضور ﷺ نے وہاں نماز پڑھی اور یہ فرمایا کہ ستر نبیوں نے اس جگہ نماز پڑھی۔ حضور اقدس ﷺ کا سامان اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہا کا سامان سب ایک اونٹ پر تھا، جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام کے سپردگی میں تھا، جب ” وادی عرج‘‘ میں پہنچے، تو دیر تک یہ حضرات ان کا انتظار فرماتے رہے۔بڑی دیر میں وہ آئے اور کہا کہ اونٹ تو کھویا گیا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کو مارا کہ ایک ہی تو اونٹ تھا، وہ بھی گم کردیا اورحضور ﷺ تبسم فرما کر ارشاد فرمارہے تھے کہ ان محرم کو دیکھو! - [فکر و عمل میں فرقہ واریت کی شمولیت](https://jahazimedia.com/?p=1202) - [مسائل متفرقہ](https://jahazimedia.com/?p=1199) - [مسائل نماز و طواف](https://jahazimedia.com/?p=1197) - [طواف کے ارکان، شرائط، واجبات، مستحبات مکروہات](https://jahazimedia.com/?p=1195) - [طواف کا بیان](https://jahazimedia.com/?p=1193): حضرت عمرؓ نے زمزم کا پانی پیتے ہوئے کہا : یا اللہ! - [مسجد حرام میں نماز پڑھنے کا بیان](https://jahazimedia.com/?p=1191) - [مسجد حرام میں داخل ہونے کے آداب کا بیان](https://jahazimedia.com/?p=1189) - [مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کا بیان](https://jahazimedia.com/?p=1187) - [مباحات احرام کا بیان](https://jahazimedia.com/?p=1185) - [ممنوعات احرام کا بیان](https://jahazimedia.com/?p=1183): ائے ایمان والو! - [عورت کے احرام کا بیان](https://jahazimedia.com/?p=1181) - [تلبیہ کی فضیلت کا بیان اوراحرام کی نماز کا بیان](https://jahazimedia.com/?p=1179): حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تلبیہ پڑھنے والے ، تکبیر کہنے والے جنتی ہیں ۔ جب کوئی بندہ حج میں تلبیہ پڑھتا ہے اور تکبیر کہتا ہے تو اس کو بشارت دی جاتی ہے ۔ کسی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! - [قیام اسرائیل اور قرآن (ایک شرعی تجزیہ)](https://jahazimedia.com/?p=855) - [قصہ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم](https://jahazimedia.com/?p=853) - [بدلتے بھارت میں، بدلہ لینے کا پروان چڑھتا ذہن](https://jahazimedia.com/?p=850) - [مولانا معز الدین احمدؒ یادیں ان کی ، ان کی باتیں](https://jahazimedia.com/?p=848): جمعیت علمائے ہند کی تاریخ کے کچھ حصے تو وہ ہیں، جو کسی نہ کسی کتاب میں چھپے ہوئے ہیں؛ لیکن کچھ تاریخیں ایسی بھی ہیں، جو آج تک حیطہ تحریر میں نہیں لایا گیا ہے، وہ سینہ بہ سینہ ہی منتقل ہوتا آرہا ہے۔ تاریخ کے اس حصہ کا ایک وافر ذخیرہ مولانا کے سینہ میں محفوظ تھا۔ائے کاش! - [مکمل آزادی کا مطالبہ سب سے پہلے کس نے کیا؟](https://jahazimedia.com/?p=845) - [بھارت کی قسطوں کی آئینی آزادی](https://jahazimedia.com/?p=843): پھر 1947ء میں ماؤنٹ بیٹن بھارت کا آخری وائسرائے بن کر آیا۔ پہلے انھوں نے کیبنٹ مشن کے پلان کو منظور کرنے کے لیے کہا؛ لیکن جب مسلم لیگ، جمعیت علمائے ہند اور کانگریس کے درمیان متحدہ قومیت، اکھنڈ بھارت اور مطالبہ پاکستان کے مختلف و متضاد نظریات نے ماؤنٹ بیٹن کو کوئی متفقہ فیصلہ کرنے سے قاصر رکھا، تو بیٹن نے تقسیم ہند کے مطالبہ کو منظور کرتے ہوئے ، 14/اگست1947 کو پاکستان اور 15/اگست 1947 کو بھارت کو مکمل طور پر آزادی دینے کا فیصلہ کردیا. - [قائد جمعیت کی قیدوبند](https://jahazimedia.com/?p=840) - [تہذیب کا جنازہ اور اسٹیج کی چکاچوند](https://jahazimedia.com/?p=838) - [آئینی روایت کا امتحان کرناٹک میں گورنر کا طرزِ عمل اور جمہوریت](https://jahazimedia.com/?p=835) - [واپسی](https://jahazimedia.com/?p=832): ہنستی تھیں، سرگوشیاں کرتیں، اور باپ نصیحت کرتا تو طنز اتر آتا۔ ابا! - [حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کی کتاب التشرف بمعرفۃ احادیث التصوف کی طباعتوں پر ایک نظر](https://jahazimedia.com/?p=830) - [رہبرکارواں جاتارہا!حضرت مولانا خورشید عالم صاحبؒسابق شیخ الحدیث دارالعلوم وقف](https://jahazimedia.com/?p=827) - [ہندستان کے ایک معروف سیاسی قائد اورطبی معالج ڈاکٹر عبدالرحمن ڈمرانوی](https://jahazimedia.com/?p=825) - [تحقیق وتصنیف کے زریں اصول](https://jahazimedia.com/?p=823) - [پرزور اسلوب](https://jahazimedia.com/?p=820): ’’اے مغرور انسان ! - [رنگین اسلوب](https://jahazimedia.com/?p=817): اس شعر کے دوسرے مصرعے کامطلب یہ ہے کہ مرغ کا دل تڑپنا دیکھ کر صیاد کا دم پھڑک جائے، لیکن الفاظ کی نشست میں الٹ پھیر ہونے کی وجہ سے’ تعقید لفظی ‘پیدا ہوگئی ہے؛ کیوں کہ فوری طور پر ذہن اس معنی کی طرف منتقل نہیں ہوتا ؛ بلکہ یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اے مرغ دل ! - [پر شکوہ اسلوب](https://jahazimedia.com/?p=814): ’’اے میری بلبل ہزارداستاں! اے میری طوطیِ شیوہ بیاں! اے میری قاصد! اے میری ترجمان! اے میری وکیل! اے میری زبان! - [مصورانہ اسلوب](https://jahazimedia.com/?p=811): ’’(۱)کیا سمندر سوکھ گئے جو بادل نہیں آتے ؟ سوکھ گئے ۔ سمندر بھی سوکھ گئے ۔ (۲)سمندر ! - [موجز اسلوب](https://jahazimedia.com/?p=808) - [بے تکلف اسلوب](https://jahazimedia.com/?p=805): ’’جب آفتاب چھپا اور ماہتاب نکلا۔ خجستہ یا س بھری ہوئی رخصت لینے طوطے کے پاس گئی اور کہنے لگی اے طوطے! - [سلیس اور سادہ اسلوب](https://jahazimedia.com/?p=802): اے دبدبۂ نظم ! - [مقالہ نگاری کے چند رہ نما اصول](https://jahazimedia.com/?p=799) - [حرف نون کا اعلان وسقوط](https://jahazimedia.com/?p=796) - [تراکیب مُہَنَّد](https://jahazimedia.com/?p=793) - [رموز اوقاف](https://jahazimedia.com/?p=790): (۵) ندائیہ لفظوں کے بعد، جیسے: بھائیو، بہنو، دوستو، بزرگو! - [اردو املا: چند ضروری اصول](https://jahazimedia.com/?p=787) - [مصوتے، مصمتے اور فارسی و عربی الاصول کی شناخت کے اصول](https://jahazimedia.com/?p=784) - [اردو کی تاریخ اور مدارس کی اردو خدمات](https://jahazimedia.com/?p=781) - [آنکھوں کی ٹھنڈک](https://jahazimedia.com/?p=779): سیرت کا ایک اور اہم واقعہ بھی رجب ہی میں پیش آیا ، جو معراج ہی سے متعلق ہے اوروہ ہے : پانچ وقتوں کی نمازوں کا فرض ہونا ، یوں تو نمازیں پہلی اُمتوں پر بھی فرض تھیں ، خود قرآن مجید میں اس کا اشارہ موجود ہے ، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبۃ اللہ کی تعمیر کرتے ہوئے اس کی غرض یہی بتائی کہ یہاں نمازیں قائم کی جائیں گی ، (ابراہیم: ۳۵) اور اپنے ساتھ ساتھ اپنی ذریت کے لئے بھی دُعا فرمائی کہ بار الٰہا ! - [ہندستان اس طرح آزاد ہوا](https://jahazimedia.com/?p=777) - [خلاصہ تحریک آزادی ہند اور جمعیت علمائے ہند](https://jahazimedia.com/?p=771): اس کانفرنس کے ایک اجلاس میں مولانا محمد علی جوہر صاحب نے یہ تاریخی جملہ کہا کہ: ’’ مائی لارڈ! - [جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: بارھواں سال: 1930ء](https://jahazimedia.com/?p=768) - [جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم:گیارھواں سال:1929ء](https://jahazimedia.com/?p=766) - [جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم:دسواں سال: 1928ء](https://jahazimedia.com/?p=764) - [جمعیت علمائے ہند قدم بہ قدم: نواں سال:1927ء](https://jahazimedia.com/?p=761) - [جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: ساتواں سال: 1925ء](https://jahazimedia.com/?p=756) - [جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: چھٹا سال: 1924ء](https://jahazimedia.com/?p=753) - [حجۃ الاسلام اکیڈمی دیوبند کی کامیابی کا راز](https://jahazimedia.com/?p=751) - [ایک روحانی سفر کی روداددیوبند سے بوڑیہ (ہریانہ) تک](https://jahazimedia.com/?p=749) - [حضرت مولاناحافظ پیرذوالفقار احمدصاحب نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ](https://jahazimedia.com/?p=745) - [جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم:آٹھواں سال: 1926ء](https://jahazimedia.com/?p=742) - [جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم:پانچواں سال: 1923ء](https://jahazimedia.com/?p=740) - [جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم:چوتھا سال: 1922ء](https://jahazimedia.com/?p=737) - [جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: تیسرا سال:1921ء](https://jahazimedia.com/?p=731) - [جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: دوسرا سال: 1920ء](https://jahazimedia.com/?p=729) - [جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: پہلا سال: 1919ء](https://jahazimedia.com/?p=727) - [مولانا سید ہاشم ندوی](https://jahazimedia.com/?p=723) - [ہندوتو، آگے کا سوال](https://jahazimedia.com/?p=718) - [فرقہ واریت کی زد میں تعلیم اور مسلمانوں کا غیر محفوظ مستقبل](https://jahazimedia.com/?p=714) - [کیا مسلمانوں کے اندر اتحاد کی گنجائش ہے؟](https://jahazimedia.com/?p=712) - [آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں](https://jahazimedia.com/?p=709) - [وحی خداوندی به مقابله عقل انسانی](https://jahazimedia.com/?p=706) - [جناب پرواز رحمانی کی وفات](https://jahazimedia.com/?p=704): دہلی کے سابق ایڈیٹر جناب پرواز رحمانی کی وفات پر ہندوستان ہی نہیں بلکہ اردوکی نئی پرانی بستیوںخصوصاً میدان صحافت میں ایک قسم کاسناٹاساچھایااورماتم کے گھنے بادل دکھائی پڑتے ہیں کہ آج جناب عبدالحق بہ تخلص پروازؔ رحمانی کی صورت میں اردوکی ایماندارانہ اورعادلانہ صحافت کے ایک عہدکاخاتمہ ہوگیاہے،اللہ تعالیٰ سےدعاہے کہ رب غفوران کواپنے شایان شان سایہ عاطفت میںخلدبریں میں مقام عطافرمائے۔اس رنج کی گھڑی میں ہر چار چھ گھنٹے کے وقفہ وقفہ سے کسی نہ کسی قلم کار، اردو کے سپاہی، صحافت وعلم وادب کے دلدادہ کامرحوم کو خراج عقیدت یاتعزیتی پیغام واٹس ایپ ،نیز دیگر سوشل میڈیا پر دیکھنے کو مل رہاہے ،احقر نے بھی موصوف کی الفت کے تقاضہ سے سرشار ایک قطعہ تاریخ وفات کہاہے، حالانکہ مرحوم کے حق میں محترم دوست اورمشہور قطعہ تاریخ وفیات کے ماہر شاعر جناب مظفرنایابؔ صاحب کاشاندارخراج تحسین قطعہ تاریخ کی صورت میں کل ہی موصول ہوگیاتھا۔بہرحال! - [همیں خود اپنا احتساب كرنا چاهئے!](https://jahazimedia.com/?p=701) - [نئے بھارت کی بھیانک تصویر](https://jahazimedia.com/?p=698) - [خدا كا وجود اور كائنات كی شهادت](https://jahazimedia.com/?p=694) - [سال نو کا جشن اورمسلمان](https://jahazimedia.com/?p=691) - [جارحانہ و نفرت پسند ہندوتو کی زد میں بھارت](https://jahazimedia.com/?p=688) - [نصابِ دارالعلوم ہی کیوں ؟](https://jahazimedia.com/?p=685) - [انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!](https://jahazimedia.com/?p=683): اسلام کی نگاہ میں سب سے بڑا گناہ اللہ کے ساتھ شرک اور کفر ہے ، اس کی سزا ہمیشہ کے لئے دوزخ ہے ، جو شخص کفر کی حالت میں دنیا سے چلا جائے ، اس پر جنت کے دروازے بند ہیں اور ہمیشہ کے لئے آتشیں دوزخ کی آغوش اس کی رفیق رہے گی ، کفر کے بعد ایک ہی عمل ہے جس کے بارے میں فرمایا گیا کہ اس کا مرتکب ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا ، اس پر اللہ کا غضب ہوتا رہے گا اور اللہ کی لعنت برستی رہے گی ، کتنا گھبرادینے اور تڑپا دینے والا ہے یہ ارشاد ربانی : وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَھَنَّمُ،خَالِدًا فِیْھَا وَغَضَبَ اﷲُ عَلَیْہِ وَلَعْنَہٗ وَاَعَدَّ لَہٗ عَذَابًا عَظِیْمًا ۔ (النساء : ۹۳)جو جان بوجھ کر کسی مسلمان کو قتل کرے اس کا بدلہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا ، اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہو اور اللہ نے اس کے لئے بھیانک عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ کتنی لرزہ براندام کردینے والی ہے یہ آیت ! - [پریم بنام پرستش](https://jahazimedia.com/?p=681) - [جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ گڈا کا سالانہ تعلیمی رپورٹ](https://jahazimedia.com/?p=671) - [تعارف مفتی محمد نظام الدین قاسمی بانی مہتمم جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ](https://jahazimedia.com/?p=669): معزز علمائے کرام! - [سکریٹری رپورٹ جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے ضلع گڈا جھارکھنڈ](https://jahazimedia.com/?p=666): اس بیداری مہم کے بعد جمعیت کو لوگوں نے قریب سے جانا اور ممبر سازی میں زبر دست انقلاب آیا اور پہلی بار بلاک سطح پر اڑتالیس سو سے زائد ممبر سازی ہوئی جمعیۃ علماء بلاک بسنت رائے ضلع گڈا کی انتخابی نشست کا انعقاد بعد نماز مغرب مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ کے دفتر میں عمل میں آیا، اس انتخاب کی خصوصیت یہ رہی کہ اس میں دستوری انتخابی ضابطہ کی مکمل پاسداری کی گئی، اس میں نگراں کی حیثیت سے مولانا محمد یاسین صاحب جہازی انچارج شعبہ دعوت اسلام جمعیۃ علمائے ہند کی شرکت رہی، مولانا یاسین صاحب نے تلاوت کلام پاک کے بعد انتخاب کے اصول و ضوابط کو نہ صرف پڑھ کر سنایا بلکہ بہت سے مقامات پر استفسار کے بعد مکمل وضاحت کی، اس کے بعد ہی انتخابی کارروائی عمل میں آئی، چنانچہ ضابطہ کے مطابق 59 افراد مجلس منتظمہ کے ممبران قرار پائے پھر مجلس منتظمہ کے ان ممبران کے ذریعہ مجلس منتظمہ کے عہدیداران کا انتخاب عمل میں آیا، اس کے مطابق مفتی سفیان ظفر قاسمی استاد مدرسہ حسینیہ تجوید القرآن دگھی کو صدر اور مفتی نظام الدین قاسمی مہتمم مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہازقطعہ کو جنرل سکریٹری مقرر کیا گیا، جمعیۃ کے خازن مولانا سرفراز قاسمی نائب مہتمم مدرسہ رحمانیہ جہازقطعہ قرار پائے جبکہ نائب صدر کے طور پر مولانا محمد سرفراز قاسمی سانکھی سابق استاذ:دارالعلوم الاسلامیہ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ اور قاری ارشاد صاحب کدمہ سابق استاد مدرسہ عربیہ اسلامیہ خرد سانکھی کو منتخب کیا گیا اور نائب ناظم کے طور پر مفتی زاہد امان قاسمی مہتمم جامعہ خدیجۃ الکبری بسنت رائے اور ڈاکٹر نسیم صاحب مانجر اور معاون کے طور پر محمد شاہد جھپنیاں کو منتخب کیا گیا. - [استقبالیہ برائے مفتی محمد نظام الدین قاسمی](https://jahazimedia.com/?p=660): معزز صدرِ محفل، دہلی سے تشریف لائے ڈاکٹر انیس الرحمان صاحب اور مولانا محمد یاسین جہازی صاحب،محترم علما و مفتیانِ کرام، جامعۃ الہدی جہاز قطعہ کے اراکین ، طلبا، اساتذہ اور عملہ ،جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے کے ذمہ داران، معزز ائمہ و خطبا، سماجی و سیاسی شخصیات، عمر دراز بزرگوں، نوجوانوں، ساتھیو اور دور و نزدیک سے تشریف لانے ہوئے مہمانانِ گرامی! - [کارروائی رپورٹ سالانہ تعلیمی پروگرام جامعۃ الہدی جہاز قطعہ گڈا جھارکھنڈو تقریب استقبالیہ جمعیت علمائے بسنت رائے](https://jahazimedia.com/?p=655) - [کارروائی رپورٹ سالانہ تعلیمی پروگرام جامعۃ الہدی جہاز قطعہ گڈا جھارکھنڈ](https://jahazimedia.com/?p=657): معزز صدرِ محفل، دہلی سے تشریف لائے ڈاکٹر انیس الرحمان صاحب اور مولانا محمد یاسین جہازی صاحب،محترم علما و مفتیانِ کرام، جامعۃ الہدی جہاز قطعہ کے اراکین ، طلبا، اساتذہ اور عملہ ،جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے کے ذمہ داران، معزز ائمہ و خطبا، سماجی و سیاسی شخصیات، عمر دراز بزرگوں، نوجوانوں، ساتھیو اور دور و نزدیک سے تشریف لانے ہوئے مہمانانِ گرامی! - [مسجد ضرار کی بنیاد](https://jahazimedia.com/?p=652) - [جہاد کے متعلق جہالت و بے خبری](https://jahazimedia.com/?p=650) - [جہاد، حقیقت اور پروپیگنڈه](https://jahazimedia.com/?p=648) - [اقتدار کے ایوانوں میں لرزش کانگریس کی داخلی جنگ اور کرناٹک کا بے چین سیاسی منظرنامہ](https://jahazimedia.com/?p=644) - [دائرہ حربیہ کے متعلق جمعیت علما کا ایک اہم فیصلہ](https://jahazimedia.com/?p=641) - [بھارت كی تعمیر وترقی میں مسلمانوں كا حصه](https://jahazimedia.com/?p=639) - [ہندستانی تاریخ کے تین عجوبے](https://jahazimedia.com/?p=636): تعجب ہے کہ برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندستان پر قبضہ بھی کیا، ظلم بھی کیے، پھر کہیں برطانیہ پوری دنیا میں بدنام نہ ہوجائے، اس لیے تاجِ برطانیہ نے اسی کمپنی کو پونے چار کروڑ پاؤنڈ کے عوض خرید لیا—مگر اس کی ادائیگی ہندستان کے کھاتے میں ڈال دی! - [مسجد کا پیغام](https://jahazimedia.com/?p=633): اس بات میں کسی کو اختلاف نہیں ہو سکتا کہ موجودہ دور میں ہم مسلمانوں پر شدید قسم کی غفلت اور بے عملی مسلط ہوگئی ہے۔ اور اس بے عملی کا تعلق کسی خاص شعبہ حیات سے نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبہ میں ہم اپنے فرائض سے مجرمانہ غفلت برت رہے ہیں۔ اس عمومی دینی انحطاط کا ایک چھوٹا سا شعبہ یہ بھی ہے کہ ہم نے مساجد کا حق ادا کرنے اور اس کے پیغام کی نشر و اشاعت میں اس حد تک غفلت سے کام لیا کہ اندیشہ ہے کہ ہم پر حضور علی ہے کا یہ ارشاد صادق نہ آرہا ہو کہ مساجدهم عامرة وهى خراب انکی مسجدیں ( ظاہری طور پر آباد ہوں گی لیکن ( در حقیقت ) ویران ۔ ۔ جب ہم قرآن کریم سنت المان نماز امربالم جب ہم قرآن کریم سنت نبویہ خیرالقرون کے تعامل اور سلف صالحین کے طرز پر غور کرتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ اس دور کی مسجدیں در حقیقت مسلمانوں کے روحانی مراکز کی حیثیت رکھتی تھیں ۔ مساجد ہ ہیں ذکر اللہ نماز امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جیسے فرائض ادا کیے جاتے تھے۔ انہی میں قرآن وسنت کی تعلیم اسلام کی طرف دعوت کا اہتمام نو خیرنس کی صحیح اسلامی تربیت باطنی تزکیہ اور عوام الناس کے ذہنوں کو دینی نقل و حرکت اور اپنی ہر ادا سے اسلام کی تبلیغ کرتے تھے۔ خطوط پر استوار کیا جاتا تھا۔ یہی سے دین اسلام کی دعوت کے وہ سپاہی نمودار ہوتے تھے جو صرف زبان اور ہاتوں سے نہیں بلکہ اپنی ایک ایکجب یہ سارے کام اسی سرگرمی سے مسجد میں انجام دیئے جاتے تھے تو ہر مسجد اپنے محلہ کیلئے ہر بھلائی کا منبع اور ہر ہدایت کا سر چشمہ بن گئی تھی۔ جو مسلمانوں میں خالص دینی روح پھونکی تھی اور ان میں ایسی دینی غیرت و حمیت پیدا کر و حمیت پیدا کر دی تھی کہ وہ نہ کبھی کسی بیرونی ترغیب و ترہیب کے آگے سرجھکانے کیلے تیار تھے اورنہ کی باطل نظریہ عمل کواپنانے کا خیال ان کے دل میں آسکتا تھا۔ خواہ اس باطل نظریہ عمل کا ظاہری روکار کتنا دلکش ہو اور خواہ ساری دنیا اس کی شہرت اور رواج سے گونج رہی ہو۔اگر ہم مختصر لفظوں میں مسجد کے پیغام کو تعبیر کرنا چاہیں تو وہ یہ ہے دعوت الی اللہ کلمہ حق کی نشر واشاعت خالص اسلامی ذہنیت کی تعمیر اور ایک ایسی عام دینی و روحانی فضا کا قیام جس میں نیکیوں کو خود بخود فروغ ہو اور برائیاں اپنی موت آپ مر جائیں۔ جن مساجد میں یہ سارے کام قابل ذکر اہتمام کے ساتھ ہوتے ہیں انکی تعداد بہت تھوڑی ہے یا جو حضرات اپنی مسجدوں میں ان دینی خدمات کا اہتمام کرتے ہیں تو عام طور سے یہ سارے کام کسی طور پر انجام دیتے ہیں جو عموما اپنی حقیقت اور روح سے خالی ہوتے ہیں۔ جو صرف کانوں تک پہنچتے ہیں دل میں داخل نہیں ہوتے ۔مسجد کے پیغام کو زندہ کرنے کیلئے چندا ہم تجاویز1ائمہ مساجد ایسے علماء میں سے منتخب کئے جائیں جنہوں نے اسلامی علوم کو ماہر اساتذہ سے حاصل کیا ہو۔-2 ہر مسجد میں ایک ایسی کمیٹی ہو جو امام اور اہل محلہ پر مشتمل ہو ۔ جو دعوت و تبلیغ کیلئے ایک عملی نظام بنائے ۔ جس کے تحت یہ سبلوگ ہر روز یا ہر ہفتے محلے کی عوام کے پاس جا کر ان سے شخصی ملاقاتیں کرے ۔ انہیں نماز کی پابندی، مسجد کی حاضری کی دعوت، نیکیوں کی ترغیب اور برائیوں سے باز رہنے کی تلقین کریں۔ لیکن یہ سارا کام نرمی، محبت و شفقت اور حکمت و موعظہ حسنہ کے اصول پر ہونا چاہیے۔3. - [بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر](https://jahazimedia.com/?p=630): 🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔المعہد العالی الاسلامی میں منعقدہ سہ روزہ سمینار کا اختتاممولانا عتیق بستوی، مولانا خالد سیف اللّٰہ رحمانی اور دیگر کے خطابات ، مختلف تجاویز کی منظوریحیدرآباد،23نومبر(پریس نوٹ) المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد کے زیر اہتمام منعقدہ قومی سیمینار بہ عنوان :”بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار”بتاریخ 21، 22، 23 نومبر 2025ء میں مختلف موضوعات پر 60 سے زائد مقالات پیش کئے گئے، سیمینار اس ناقابل انکار حقیقت کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے کہ ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل ہے، سیمینار کی مختلف نشستوں میں ملک کے علماء ودانشوران، مؤرخین، ماہرین تعلیم، محققین اور سماجی وسیاسی رہنماؤں نے اپنی وقیع آراء سے یہ حقیقت اجاگر کی کہ مسلمان نہ صرف اس ملک کے معمارِ اوّل رہے ہیں بلکہ آج بھی اس کے استحکام، امن اور ترقی کے ضامن ہیں۔ان علمی وفکری مباحث کے نتیجے میں جو نکات سامنے آئے، ان کی روشنی میں درجِ ذیل تجاویز وسفارشات اتفاقِ رائے سے پیش کی جا رہی ہیں تاکہ یہ سیمینار محض علمی نشست نہ رہے بلکہ ایک فکری تحریک اور عملی منشور کی صورت اختیار کرے۔ اختتامی نشست میں جناب اقبال احمد انجینیئر معزز ٹرسٹی معہد نے یہ تجاویز پڑھ سنائے ،تجاویز و سفارشات1. - [بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام](https://jahazimedia.com/?p=627) - [جمعیت علمائے ہند کے 106سال مکمل، تاسیس کی مستند کہانی](https://jahazimedia.com/?p=622) - [بم دھماکے ، اسلامی نقطۂ نظر](https://jahazimedia.com/?p=619): بم دھماکوں سکے واقعات بڑھتے جارہے ہیں ، جہاز اور ٹرین میں تو دھماکے ہوہی رہے تھے ، اب عبادت گاہیں بھی ان کا نشانہ بن رہی ہیں ، عبادت گاہ خواہ کسی قوم کی ہو ، اس کا بنیادی مقصد ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بندگی کرنا ہوتا ہے ، ایسی جگہوں کی بے احترامی سے گذرکر وہاں آنے والوں پر جان لیوا حملے کرنا یقیناً انسانیت سوز عمل ہے ۔حالت امن کی تو بات ہی اور ہے ، حالت جنگ میں بھی صحابہ ؓ کو جن باتوں کی تلقین کی جاتی اور رسول ﷺ فوج بھیجتے وقت جو ہدایات دیتے ، ان میں ایک یہ بھی ہوتی کہ مذہبی پیشواؤں اور عبادت گاہوں کے خادموں کو قتل نہ کیا جائے ؛ چنانچہ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما کی روایت میں ہے کہ رسول اﷲ ﷺ فوج روانہ کرتے وقت یہ ہدایات دیتے :تم لوگ اﷲ کے نام سے نکلو ، ایمان نہ لانے والوں سے اﷲ ہی کے لئے جہاد کرو ، دھوکہ نہ دو ، خیانت نہ کرو ، کسی کو مثلہ نہ کرو ، بچوں کو اور چرچ والوں کو قتل نہ کرو ۔ ( مسند احمد،حدیث نمبر:۲۷۲۸ )اس سے اسلام کی فراخدلی ، وسیع القلبی اور کشادہ چشمی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عین جنگ کے وقت جب اکثر قانون کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے اور یہ بھی اس زمانہ میں جب قوموں کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں تھا اور نہ جنگ کے کسی قانون پر حکومتوں نے دستخط کئے تھے ،یک طرفہ طورپر آپ ﷺنے مہذب قوانین جنگ انسانیت کو دیا اور دوسری قوموں کے مذہبی جذبات کو ملحوظ رکھا ۔بم دھماکوں کے سلسلے میں اسلامی نقطۂ نظر کو جاننے کے لئے چند اُمور کو ملحوظ رکھنا چاہئے :(۱) ان دھماکوں میں صرف قصور وار اور مجرمین کی جانیں نہیں جاتیں ؛ بلکہ بے قصور لوگ بھی اس کی زد میں آجاتے ہیں ۔(۲) ان دھماکوں میں بوڑھے ، بچے ، عورتیں بھی نشانہ بنتے ہیں ۔(۳) مہلوکین کی جانیں اس طرح جاتی ہیں کہ ان کے جسم کے پرخچے اُڑ جاتے ہیں ، بعض دفعہ تو سر ایسا غائب ہوتا ہے کہ بغیر سر کے آخری رسوم انجام دی جاتی ہیں ۔(۴) یہ بنیادی طورپر آتشیں ہتھیار ہے ، اسی لئے دھماکہ کا شکار ہونے والوں کے چہرے جھلس جاتے ہیں ؛ بلکہ پورا جسم ہی ، بارود وغیرہ سے بنیادی طورپر آگ پیدا ہوتی ہے اوریہی آگ دوسرے مہلک مادوں کو لے کر پوری طاقت کے ساتھ اپنے ماحول میں بکھرجاتی ہے اورجہاں تک پہنچتی ہے ، آفت ڈھاتی چلی جاتی ہے ۔اب آئیے ان نکات کے بارے میں شرعی نقطۂ نظر سے غور کریں :(۱) حالت ِامن میں شریعت کا اُصول واضح ہے کہ جو شخص مجرم نہ ہو ، اس پر ہاتھ اُٹھانا جائز نہیں ؛ کیوںکہ ایک کے عمل کی ذمہ داری دوسرے پر نہیں :’’ لا تزر وازرۃ وزر اُخریٰ ‘‘ بلکہ ممکن حد تک میدانِ جنگ میں بھی اس کو ملحوظ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے ، عرب میں لوگ مزدوروں اور غلاموں کو پکڑلیتے تھے اور زبردستی اپنے ساتھ جنگ میں لے جاتے تھے ، ان کی رضامندی شامل نہیں ہوتی تھی ، اسی لئے آپ ﷺ نے مزدوروں اور غلاموں کو بھی جنگ میں نشانہ بنانے سے منع فرمایا : ’’فنهانا أن نقتل العسفاء والوصفاء‘‘۔ ( مسند احمد،حدیث نمبر:۱۵۴۲۰)(۲) بوڑھوں ، بچوں اور عورتوں کو عام حالات میں تو کجا ؟ حالت جنگ میں بھی نشانہ بنانے سے منع کیا گیا ہے ، حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے بہ سند صحیح منقول ہے کہ آپ ﷺنے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ، (مجمع الزوائد : ۵؍۳۱۶)،اسی مضمون کی روایت حضرت کعب بن مالک ؓ کے صاحبزادے سے بھی منقول ہے ، (حوالۂ سابق : ۵؍۳۱۵) ایک اور روایت میں بوڑھوں کا ذکر بھی ہے اور اس کے راوی بھی حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما ہیں ، (حوالۂ سابق : ۵؍۳۱۷) بعض جنگوں میں آپ ﷺنے خواتین کی لاش دیکھی تو اس پر سخت ناگواری کا اظہار فرمایا ، (دیکھئے : حوالۂ سابق : ۵؍۳۱۶) جب حالت جنگ میں بوڑھوں ، خواتین اور بچوں کی یہ رعایت ہے تو معتدل حالات میں میں کیوں کر ایسے اقدام کا جواز ہوسکتا ہے ، جس میں ان کمزوروں کی جانیں جائیں ؟(۳) حدیث میں بار بار مثلہ سے منع کیا گیا ہے ، یہ ممانعت عام حالات میں تو ہے ہی ، جنگ میں بھی اس کو خاص طورپر منع فرمایا گیا ؛ کیوںکہ عربوں کا طریقہ یہ تھا کہ وہ جب اپنے دشمنوں پر فتح پاتے تو نہ صرف ان کو قتل کرتے ؛ بلکہ نہایت ایذا رسانی سے ان کی جان لیتے اورپھر ان کومثلہ بھی کرتے ، ناک کاٹ دیتے ، آنکھیں نکال لیتے ، کان کاٹ دیتے ، یہاں تک کہ مقتول کی کھوپڑی میں شراب پی کر اپنی بڑائی اور قوت کا اظہار کرتے ، رسول اﷲ ﷺ نے اس غیر انسانی حرکت کو نہایت شدت سے منع کیا اور فرمایا کہ اگر کوئی شخص قتل کا مستحق ہو ، یعنی قانونی طور پر اس كا جرم ثابت هو تو اسے بہتر طریقہ پر قتل کرو ، ایذا نہ پہنچاؤ اور مثلہ نہ کرو ، جنگ کے موقع پر آپ ﷺنے جو ہدایات دی ہیں ، ان میں کثرت سے مثلہ کی ممانعت کا ذکر موجود ہے ، (دیکھئے : باب مانہی عن قتلہ من النار وغیر ذالک ، مجمع الزوائد : ۵؍۱۸-۳۱۵) بلکہ اگر کسی شخص نے کسی بے قصور کو قتل کرتے وقت ایذا رسانی اورمثلہ کرنے کا طریقہ اختیار کیا ہو ، تب بھی حکم ہے کہ جب بدلہ میں اسے قتل کیا جائے ، تو سیدھے طور پر تلوار سے قتل کردیا جائے : ’’ لا قود إلا بالسیف‘‘(ابن ماجہ ، عن نعمان بن بشیر،حدیث نمبر:۲۶۶۷) دھماکہ کے ذریعہ انسانی جسم کا جو حشر ہوتا ہے ، وہ یقیناً مثلہ کی بدترین صورت ہے ۔(۴) رسول اﷲ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی انسان دوسرے انسان یاحیوان کو آگ میں جلانے کی سزا دے ؛ کیوںکہ یہ سزا دینا اﷲ ہی کے شایانِ شان ہے : ’’فإنہ لا یعذب بالنار الا رب النار‘‘( سنن ابوداؤد،حدیث نمبر:۲۶۷۳)؛ بلکہ آپ ﷺنے تو کھیتیوں کو بھی جلانے سے منع فرمایا ، ( مجمع الزوائد عن ثوبان : ۵؍۳۱۷) اور بم بنیادی طورپر آتش گیر ہتھیار ہے ۔اس لئے شرعی نقطۂ نظر سے بم دھماکہ جنگ کے علاوہ عام حالات میں کرنا کسی طرح درست نہیں ، اس طرح کے دھماکو ں کو ایشیاء میں دراصل یہودی دہشت گردوں نے رواج دیا ، جنھوں نے ۱۹۴۷ء میں بڑے پیمانے پر فلسطین میں بم دھماکے کئے ، مسلمانوں اور عیسائیوں کو اس کا نشانہ بنایا اور اب یہ انتقام و احتجاج کا ایک اندھا ہتھیار ہوگیا ہے ،جن جمہوری ممالک میں دستوری معاہدہ کی بنیاد پر مختلف قومیں ایک دوسرے کے ساتھ رہتی ہیں اور وہاں احتجاج اور حصول انصاف کے جائز راستے کھلے ہوئے ہیں ، وہاں ایسے دھماکوں کا کوئی جواز نہیں ہوسکتا ، رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس نے کسی مُعاهِد پر ظلم کیا ، یا اس کو نقصان پہنچایا تو میں اس کی طرف سے قیامت کے دن فریق بن کر کھڑا ہوں گا :الا من ظلم معاھداً أو أنقض … فأنا حجیجہ یوم القیامۃ ۔ ( ابوداؤد ، حدیث نمبر : ۳۰۵۲)البتہ ہماری حکومت کے لئے دو باتیں قابل غور ہیں : ایک یہ کہ کسی شخص کو ثبوت و شواہد کے بغیر مجرم کے کٹہرے میں کھڑا کردینا کھلی ہوئی ناانصافی ہے ، مسلمانوں پر ظلم روا رکھا جاتا ہے ، خود حکومت کے قائم کئے ہوئے کمیشن فرقہ پرست تنظیموں اور پولیس عہدیداروں کو قصور وار ٹھہراتی ہیں ؛ لیکن ان کے خلاف کوی ایکشن نہیں لیا جاتا اور اگر اکثریت کو کہیں کوئی نقصان پہنچے تو بلا ثبوت مسلمانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے ؛ حالاںکہ اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لئے فرقہ پرستوں نے ان کے خلاف سازش رچی ہو ۔دوسرے : مسلمان محسوس کرتے ہیں کہ ان پر جو ظلم و ستم ہوتا ہے ، اس پر ظالموں کے ہاتھ تھامے نہیں جاتے ، نہ پولیس انھیں انصاف دیتی ہے ، نہ عدالتیں ان کو انصاف دینے کے لئے حرکت میں آتی ہیں ، بھاگلپور ، مرادآباد اور گجرات کے قتل عام کو عرصہ ہوگیا ؛ لیکن کوئی قابل ذکر کارروائی نہیںکی گئی ؛ بلکہ شقی القلب عہدیداروں کو ترقیوں سے نوازا گیا ؛ لیکن جب مسلمانوں پر کوئی الزام آتا ہے ، تو نہایت برق رفتاری کے ساتھ اس کی تحقیق کی جاتی ہے ، یہاں تک کہ بعض بے قصور لوگوں کو مجرم کے کٹہرے میں کھڑا کردیا جاتا ہے ، جب تک یہ ناانصافی اور دو نظری ختم نہیں ہوگی ، ملک میں حقیقی امن و آشتی قائم نہ ہوسکے گی ۔بہرحال ! - [مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں](https://jahazimedia.com/?p=616) - [سلطنت آصفیہ کی ہندو نوازی](https://jahazimedia.com/?p=614) - [وندے ماترم کا نیا شوشہ](https://jahazimedia.com/?p=610) - [تکبیرِ تشریق کی شرعی حیثیت](https://jahazimedia.com/?p=607) - [قلمِ رواں کی ایک اور روشن کاوش](https://jahazimedia.com/?p=604): الحمدللہ یہ خبر دل میں مسرت کے چراغ روشن کر گئی کہ قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان، نئی دہلی کی جانب سے آپ کی ساتویں تصنیف *"خزانوں کی تلاش"* زیورِ طبع سے آراستہ ہو کر اہلِ ذوق کے لیے دسترس میں آگئی ہے۔ بے شک یہ آپ کی علمی جستجو، مسلسل محنت اور اخلاصِ نیت کا روشن ثمرہ ہے، جس پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ بالخصوص بچوں کے لیے سائنسی کہانیاں نہایت دلچسپ اور موثر اسلوب میں پیش کرنا، اُنہیں جمادات کے فوائد اور روزمرہ زندگی میں ان کے سائنسی استعمال سے واقف کروانا، ایک نہایت کارآمد، بامقصد اور قابلِ قدر تعلیمی خدمت ہے۔ یقیناً یہ کتاب نئی نسل میں مشاہدہ، غور و فکر، اور تحقیق کی روشنی کوپروان چڑھائے گی. - [اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے 34ویں فقہی سمینار کی روداد](https://jahazimedia.com/?p=602): علم و بصیرت کی روشنی میں اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا 34واں تین روزہ فقہی سمینار 8 نومبر 2025 کو جمشید پور (جھارکھنڈ) کی روح پرور فضا میں نہایت پُروقار انداز میں منعقد ہوا۔افتتاحی اجلاس کی صدارت حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی دامت برکاتہم (صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ) نے فرمائی۔پروگرام کا آغاز قاری فیروز انصاری کی خوش الحان تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس نے ماحول کو نورِ قرآن سے منور کر دیا۔بعد ازاں مولانا زاہد حسین ندوی نے کلامِ اقبال کے اشعار پیش کر کے فکری و ادبی فضا کو معطر کر دیا۔مولانا زین العابدین مظاہری نے پرتاثیر انداز میں مہمانوں کا خیر مقدم کیا اور اکیڈمی کے سیکرٹری مفتی عبید اللہ اسعدی صاحب نے سمینار کے اغراض و مقاصد اور موضوعات کا تعارف کرایا۔اسٹیج پر ملک کے مقتدر و ممتاز علماء جلوہ افروز تھے، جن میں مولانا عتیق احمد بستوی، مفتی احمد دیولوی، مولانا انیس الرحمن قاسمی، مولانا رحمت اللہ میر قاسمی، مفتی صادق محی الدین نظامی اور ڈاکٹر عبد اللہ جولم شامل تھے۔ان حضرات نے مختصر؛ مگر جامع خطابات کے ذریعے شرکاء کو فکر و بصیرت کی روشنی بخشی۔افتتاحی تقریب کی نظامت ڈاکٹر محمد اعظم ندوی نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دی،جب کہ آخر میں مفتی نشاط احمد مظاہری نے تمام مہمانانِ گرامی کا شکریہ ادا کیا۔*شرکاء اور موضوعات*اس فقہی سمینار میں ملک بھر کے تقریباً 250 ممتاز علماء، مفتیانِ کرام، ماہرینِ فقہ اور محققین نے شرکت فرمائی۔سمینار میں چار نہایت اہم اور عصری موضوعات زیرِ بحث آئے:1. - [غزہ کی خاموش چیخیں اور ایمان کا چراغ](https://jahazimedia.com/?p=599): زمین کی گود میں کبھی ایسی بستیاں آباد تھیں جہاں اذانوں کی صدا فضا کو معطر کرتی، جہاں بچوں کی ہنسی اور ماؤں کی دعائیں امن کی نشانی تھیں۔ مگر آج وہی بستیاں خون و آنسو میں لتھڑی ہیں۔ غزہ وہ مقدس اور متبرک شہر جس نے انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والتسلیم کے قدموں کی خاک جذب کی، آج ظلم و بربریت کی دھول میں لپٹا ہوا ہے۔ وہاں کے لوگ خالی پیٹ ضرور ہیں، لیکن دلوں میں ایمان کی روشنی روشن ہے۔ وہ بھوکے ہیں مگر صبر اور غیرت کے پیکر ہیں۔ دنیا کے شور و شر کے بیچ ان کے ہونٹ خاموش ہیں، مگر دلوں میں یقین کی صدا گونج رہی ہے۔ یہ وہ قوم ہے جو ملبے پر بھی "اللّٰہ اکبر" کہہ کر اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔فرمانِ الٰہی ہے: "وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ" (سورۃ البقرہ، آیت: 155) ترجمہ: اور دیکھو ہم تمہیں آزمائیں گے ضرور، (کبھی) خوف سے ، اور (کبھی) بھوک سے، اور (کبھی) مال و جان اور پھلوں میں کمی کرکے۔ اور جو لوگ (ایسے حالات میں) صبر سے کام لیں ان کو خوشخبری سنا دو۔ (آسان ترجمہ قرآن از مفتی محمد تقی عثمانی جلد اول صفحہ 109) غزہ کی سرزمین آج بھی اپنے زخمی وجود کے ساتھ آسمان کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہی ہے۔ وہاں کے چہرے، جن پر کبھی ایمان کی روشنی اور عزم کی چمک دیکھی جاتی تھی، آج بھوک، پیاس، اور اذیت کے غبار میں چھپ چکے ہیں۔ یہ وہی ارضِ مقدس ہے جہاں انبیائے کرام علیہم السلام نے توحید کی مشعلیں روشن کیں، مگر آج وہاں کے بچے نوالۂ رزق کے لیے آسمان کی طرف ہاتھ پھیلائے کھڑے ہیں۔ ان کے ہونٹ خشک ہیں، مگر زبانوں پر شکوہ نہیں۔ سسکیاں ہیں مگر دلوں میں یقین کی حرارت باقی ہے۔ یہیں سے سنائی دیتی ہیں غزہ کی خاموش چیخیں، جو دلوں کو جھنجوڑ کر ایمان کے چراغ کو روشن کرتی ہیں۔ دنیا کے ضمیر پر گویا پتھر رکھ دیا گیا ہے۔ وہی اقوام جو انسانیت، آزادی، اور مساوات کے نعرے لگاتی ہیں، آج ظلم کے مجرموں کے ساتھ کھڑی ہیں۔ وہی طاقتیں جو امن کے سفیر ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں، آج خاموش تماشائی بن کر معصوم بچوں کے جسموں پر برسنے والے بارود کو دیکھ رہی ہیں۔ انسانی حقوق کے علمبردار، انسانیت کے سب سے بڑے قاتلوں کے حامی بن چکے ہیں۔ ظلم نے اپنی آخری حدوں کو پار کر لیا ہے اور انصاف کہیں گہرے غاروں میں دفن ہوچکا ہے۔خداوندِ قدوس نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا: "وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللّٰهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ" (سورۃ آلِ عمران، آیت: 169) ترجمہ: اور (اے پیغمبر!) - [ووٹ کی شرعی حیثیت اور ہماری قومی و ملی ذمہ داریاں](https://jahazimedia.com/?p=595): محمد ابوذر مفتاحی! - [تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟](https://jahazimedia.com/?p=585) - [الیکشن میں مسلمانوں کے لئے ترجیحات](https://jahazimedia.com/?p=581) - [بہار الیکشن میں مسلم ووٹنگ بینک کی سیاست۔ مفادپرستی یا مجبوری](https://jahazimedia.com/?p=579) - [متفقہ فتویٰ علمائے ہند پر دستخط کرنے والے 460 علمائے کرام کی فہرست](https://jahazimedia.com/?p=572) - [باب اول در بیان انجام مداہنت](https://jahazimedia.com/?p=569): اگر علمائے کرام بھی علمائے یہود کی طرح مداہنت اختیار کریں گے ،یعنی 1۔ ائمہ مساجد،حق جانتے ہوئے بھی مقتدیوں کی اصلاح نہیں کریں گے ،اور متولی سے ڈریں گے۔2۔ خطبائے کرام، حق جانتے ہوئے بھی نہیں بولیں گے اور نذرانہ کا خوف کریں گے ۔3۔ علمائے کرام، ارباب مدارس ،اور اسلامی ذمہ اداروں کے ذمے داران شرعی امور کے خلاف انجام پانے معاملات پر آواز بلند نہیں کریں گے، 4۔ ذمہ دار سماجی و سیاسی رہ نما اپنے فرائض منصبی سے کوتاہی برتتے ہوئے حق گوئی سے کام نہیں لیں گے، خلاصہ یہ کہ مداہنت سے کام لیں گے ،تو انھیں بھی علمائے یہود و نصاری کے اس انجام کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔دیکھیے درج ذیل تفسیری حوالہ"یہودیوں کی اخلاقی و عملی بر بادیآگے یہاں دوسری و تیسری آیت میں بھی انہی یہو دو بد باطنوں کا ذکر ہے اور ان کی اخلاقی اور عملی بر بادی کو ظاہر فرمایا گیا ہے۔بنی اسرائیل یعنی یہود کا یہی حال تھا کہ یہ لوگ عموماً دنیوی لذات و شہوات میں منہمک ہو کر خدا تعالیٰ کی عظمت و جلال اور اس کے قوانین و احکام کو بھلا بیٹھے اور جو مذہبی پیشوا کہلاتے تھے انہوں نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ترک کر دیا کیونکہ دنیا کی حرص اور اتباع شہوات میں وہ اپنے عوام سے بھی آگے تھے۔ مخلوق کا خوف یا دنیا کا لالچ حق کی آواز بلند کرنے سے مانع ہوتا تھا علمائے یہود کی اس غلط روش کو سخت بری عادت بتلایا گیا کہ جو اپنا فرض منصبی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر چھوڑ بیٹھے تھے اور یہ جانتے بوجھتے ہوئے کہ اگر ہم عوام کو ان کی غلط باتوں پر روک ٹوک اور منع کریں گے تو وہ ہماری بات سنیں گے اور باز آ جائیں گے پھر بھی عوام کے نذرانوں کے لالچ یا ان کے بد اعتقاد ہو جانے کے خوف سے ان مذہبی پیشوا اور علمائے یہود کے دلوں میں حمایت حق کا کوئی داعیہ پیدا نہ ہوتا اور سکوت و مداہنت برتتے اور یہ ان کے عوام بدکاروں کے اعمال بد سے بھی زیادہ اشد جرم تھا۔علماء و مشائخ کی مداہنت کے نتائجعلماء و مشائخ کے اسی سکوت اور مداہنت سے پہلی قومیں تباہ ہوئیں۔ اس لئے امت محمدیہ کو قرآن وحدیث کے بیشمار نصوص میں بہت ہی سخت تاکید و تہدید کی گئی ہے کہ کسی وقت اور کسی شخص کے مقابلہ میں اس فرض امر بالمعروف اور نہی عن المنکر “ کے ادا کرنے سے تغافل نہ برتیں۔ چنانچہ بلیغ اشارہ اس امر کی طرف اس آیت میں بھی ہے کہ مشائخ اور علماء پر لازم ہے کہ عوام کو حق تعالیٰ کی نافرمانی اور دینی اور اخلاقی تباہی سے روکیں اور جہاں تک ممکن ہو قو لی اور عملی کوششیں لوگوں کی اصلاح و نصیحت کے واسطے صرف کریں۔حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ مشائخ اور علماء کی ڈانٹ اور تنبیہہ کے لئے اس سے زیادہ سخت آیت قرآن پاک میں کوئی نہیں ہے۔ حضرت علی نے اپنے ایک خطبہ میں اللہ تعالیٰ کی حمدوث ثنا کے بعد فرمایا۔ لوگو! - [سیاسی شعور کی موت](https://jahazimedia.com/?p=567) - [باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش](https://jahazimedia.com/?p=563) - [کرناٹک میں قیادت کی خاموش جنگ ](https://jahazimedia.com/?p=560) - [حلال ذبیحہ کا مسئلہ](https://jahazimedia.com/?p=552) - [قائد جمعیت مولانا محمود اسعد مدنی صاحب کی تاریخ و  تحسین و تبریک](https://jahazimedia.com/?p=546) - [مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم 2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب](https://jahazimedia.com/?p=542): نئی دہلی، 29 اکتوبر 2025:جمعیت علمائے ہند کی عاملہ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس آج نئی دہلی کے آئی ٹی او واقع مدنی ہال میں جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وقف ترمیمی ایکٹ 2025، مسلمانوں پر دراندازی اور آبادیاتی تبدیلی کے الزامات، فلسطین امن معاہدہ اور ملک کی موجودہ صورتحال میں مسلم اقلیتوں کے خلاف گھیراؤ جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔--- مولانا محمود اسعد مدنی دوبارہ صدر منتخباجلاس میں جمعیت علمائے ہند کے دستور کی دفعہ 52 کے تحت نئے دورِ صدارت کے لیے مولانا محمود اسعد مدنی کو اتفاقِ رائے سے صدر منتخب کیا گیا۔ تمام ریاستی عاملہ کمیٹیوں نے بھی ان کے نام کی سفارش کی۔اس طرح 2024 تا 2027 کے لیے مولانا محمود اسعد مدنی کو صدر منتخب قرار دیا گیا اور انہوں نے آئینی ضوابط کے مطابق عہدہ سنبھال لیا۔--- عاملہ کمیٹی کی اہم تجاویز و بیانات1. - [فلسفے کی تعلیم: روایت نہیں، ضرورت](https://jahazimedia.com/?p=540) - [فلسفے کی تعلیم: روایت نہیں، ضرورت](https://jahazimedia.com/?p=538) - [محترم مولانا ابوالکلام آزاد کا خطاب](https://jahazimedia.com/?p=534) - [دھرم پریورتن، سچائی اور پروپیگنڈه](https://jahazimedia.com/?p=532): آر ایس ایس اور اس كے زیر اثر بی جے پی كی طرف سے بار بار تبدیلیٔ مذهب كے خلاف آواز اٹھتی رهتی هے، بھگوا دهشت گرد پریشان هیں كه آخر كیسے هندو سماج كواپنے دھرم پر قائم ركھا جائے اور ان كو اپنے مذهب سے باهر جانے سے روكا جائے، اس كے لئے مختلف ریاستوں میں ’’دھرم پریورتن ‘‘كا قانون لایا گیا، جو لوگ قانونی تقاضوں كو پورا كرتے هوئے مذهب بدلتے اور خاص كر اسلام قبول كرتے، ان كے خلاف ایف آئی آر درج كی جاتی هے، ابھی سپریم كورٹ نے اتر پردیش كی حكومت كو اس حركت پر پھٹكار لگائی هے، افسوس كه بھگوا گروپ اپنی كمی كو دوسروں میں تلاش كرنا چاه رها هے، وه اس پر غور نهیں كرتا كه خود همارے اندر كیا كمی هے؛ بلكه وه مسلمانوں اور عیسائیوں میں قصور تلاش كرتا هے، ان پر ظلم كرتا هے، ان كو بدنام كرتا هے، ان كے خلاف پروپیگنڈه كرتا هے، مسلم لڑكیوں كو مرتد كرنے كے لئے بڑے بڑے انعامات كا اعلان كرتا هے؛ حالاں كه ان كو خود اپنے دامن كا داغ دیكھنے كی ضرورت هے۔اصل بات یه هے كه ہندو مذہب میں بنیادی طور پر کوئی ایسا ٹھوس عقیدہ نہیں پایا جاتا ، جس کو ہندو عقیدہ اور آئیڈیا لوجی (Ideo Logg) کا نام دیا جاسکے ، جو لوگ ’’ رام ‘‘ کو بھگوان اور خدا مانتے ہوں ، وہ بھی ہندو ہیں اور جوگ ’’ راون ‘‘ کو خدا قرار دیتے ہوں اور رام کو بُرا بھلا کہتے ہوں ، وہ بھی ہندو مذہب ہی کے علمبردار ہیں اور نہرو وغیرہ جیسے دانشور جو مورتی پوجا اور دیوی دیوتاؤں کے وجود کو توہم پرستی قرار دیتے ہوں وہ بھی ہندو ہیں ، غرض ہندو مذہب ’’ موم کی ناک ‘‘ ہے ، اس کی جو صورت چاہو ، بنا لو ، توہم پرستی ہی کے نتیجے میں طبقاتی تقسیم ہندو عقیدہ کا اٹوٹ جزء ہے اور اسی لئے ہندستان میں ہزاروں سال سے دبے کچلے ہوئے لوگوں کا احساس ہے کہ ہندو مذہب در اصل مذہبی قالب میں ’’ برہمن واد‘‘ کی حفاظت سے عبارت ہے ، اس نظام نے صدیوں سے دلت اور پست طبقات کو اپنے طاقتور پنجہ میں دبا رکھا ہے ، جب بھی انھوں نے انگڑائی لینے کی کوشش کی ، نہایت ذہانت کے ساتھ ان پر اپنی گرفت اور مضبوط کردی گئی۔حالاںکہ ہمارا موجودہ جمہوری ڈھانچہ ذات پات کے تصور کی نفی کرتا ہے ؛ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ آج بھی برہمنوں کی تعداد تو چارپانچ فیصد سے زیادہ نہیں ، حکومت کے کلیدی عہدوں پر ان کی تعداد ۶۴ فیصد ہے ، سیاسی تبدیلیوں سے چہرے بدلتے ہیں ؛ لیکن اس حقیقت میں کوئی تبدیلی نہیں آتی ، آج تک پست اقوام میں کوئی شنکر اچاریہ اور مٹھ کا سربراہ نہیں بن سکا ، اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ہندو قوم میں یہ مسئلہ محض ایک سماجی مسئلہ نہیں ؛ بلکہ اس کی جڑیں عقیدہ کی گہرائیوں میں پیوست ہیں ، ان حالات نے دبے کچلے لوگوں کو اس بات پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ ہندو ازم کے اس قید خانے سے اپنے آپ کو باہر نکالیں اور باعزت انسان کی طرح سماج میں زندہ رہیں ، اس کے لئے مشہور رہنما امبیڈکر نے بودھ ازم کو قبول کیا ؛ لیکن جلد ہی سمجھ دار اور باشعور لوگوں نے اس حقیقت کو سمجھ لیا کہ یہ شراب کو آب سمجھنے کے مترادف ہے ، بدھسٹ سماج کو ہندو سماج نے اس طرح جذب کر لیا ہے کہ گویا یہ قید خانہ کی ایک کوٹھری سے نکل کر دوسری کوٹھری میں داخل ہونا ہے ، وہی سماج ، وہی تہذیب ، وہی رسوم ورواج ، بس خداؤں میں ایک خدا کا اضافہ ، یا کچھ دیوتاؤں کی تبدیلی ، یہاں تک کہ دستورِ ہند کے مطابق بھی اس تبدیلی ٔمذہب کے باوجود وہ ہندو ہی شمار کیا جاتا ہے ، لوگ یہ بھی محسوس کرنے لگے ہیں کہ جن مذاہب کی پیدائش اور نشوو نما ہندوستان کی سر زمین میں ہوئی ہے ، برہمنوں نے اپنی ذہانت سے ان کا ایسا ’’ ہندو کرن‘‘ کر دیا ہے ، کہ اب کسی کے لئے ان مذاہب میں سے کسی کو اختیار کرنے کے باوجود ہندو سماج کے مظالم سے نجات پانا اور انصاف حاصل کرنا ممکن نہیں ۔اس لئے بے چین اور بے قرار ذہن و فکر رکھنے والوں کے لئے دو ہی راستے رہ گئے ہیں ، عیسائیت یا اسلام ؟ اس سے کسی حقیقت پسند غیر مسلم کو بھی انکار نہیں کہ اسلام کے عقائد اوراُصول جتنے صاف و شفاف ، عقل و فطرت سے ہم آہنگ ، متوازن اور انسانی ضروریات کے لئے موزوں اور مناسب ہیں ، کسی اور مذہب میں اس کی مثال نہیں ملتی ، اللہ کی وحدت اورانسانوں کی وحدت ، یہ اسلام کا انقلابی تصور ہے اور دونوں ایک دوسرے سے مربوط ہیں ، اگر خدا ایک ہے ، اس کا کوئی خاندان ، کنبہ نہیں اور کسی انسانی طبقہ سے اس کی قرابت مندی اوررشتہ داری نہیں تو اس سے خود بخود انسانی وحدت اور مساوات کا تصور اُبھرتا ہے ، پھر اسلام میں کوئی عقیدہ ’’پہیلی‘‘ کی طرح نہیں کہ اس کا سمجھنا مشکل اور سمجھانا مشکل تر ہو ، جیساکہ ہمارے عیسائی بھائیوں کے یہاں ایک میں تین اور تین میں ایک کا تصور (Concept of the Trinity) ہے ، یا ’’ عقیدۂ کفارہ ‘‘ (The Ataoement) ہے کہ غلطی کوئی کرے اور سزا حضرت مسیح علیہ السلام کو جھیلنی پڑے ، اسی لئے مسلمان حالاںکہ اس ملک میں بہت تھوڑی تعداد میں آئے ؛ لیکن اس ملک کے باشندوں نے جو طبقاتی تقسیم کی وجہ سے ظلم وجور سے دو چار تھے اوردیوتاؤں کی ایک فوج کی پرستش کرتے کرتے عاجز آچکے تھے ، انھوں نے اسلام کی دعوت پر لبیک کہا ، افغانستان سے لے کر بنگلہ دیش اور برما تک جو مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد موجود ہے ،وہ اسلام کی اسی کشش کا نتیجہ ہے ۔ بعض لوگ غلط فہمی پیدا کرتے ہیں کہ مسلمانوں نے اس ملک میں جبرا تبدیلی ٔمذہب کرایا ہے ؛ لیکن یہ ایسا جھوٹ ہے کہ خود عقل عام اس کو جھٹلا تی ہے ، ہندوستان کے جنوبی اورساحلی علاقوں میں تو اسلام حضرت عمر فاروق ؓ ہی کے عہد میں آچکا تھا اور نہ صرف پَرْجَا ؛بلکہ بعض راجاؤں نے بھی اسلام قبول کیا تھا ، اس وقت یقیناً درۂ خیبر سے کوئی فوجی قافلہ ہندوستان نہیں پہنچا تھا ، اس وقت جبر و دباؤ کی کیا گنجائش تھی ؟ پھر غو ر کیجئے کہ مسلمانوں نے اس ملک کے مختلف حصوں پر کم و بیش آٹھ سو سال تک حکومت کی ہے ، آج جب حکومت کے بغیر ہندو سماج میں تبدیلی ٔ مذہب کا طوفان اُٹھا ہوا ہے اور کئی ریاستوں میں آبادی کا توازن بدل چکا ہے ، تو اگر اتنا طویل عرصہ جبر و دباؤ سے کام لیا جاتا تو کیا یہ ملک مسلم اکثریت نہیں بن گیا ہوتا ؟ حقیقت یہ ہے کہ جبرو دباؤ تو الگ چیز ہے ، مسلمان حکمرانوں نے تو عام طور پر اسلام کی تبلیغ ودعوت کی طرف بھی توجہ نہیں کی اور اشاعت ِدین کی طرف سے انتہائی تغافل برتا ، ورنہ اگر اس سلسلہ میں تھوڑی بھی کوشش کی جاتی تو اسلام میں جو کشش ہے ، یہی لوگوں کو اسلام کی طرف راغب کرنے کے لئے کافی ہوتی ۔اسلام کے بعد اس ملک کے لوگوں کے لئے زیادہ قابل توجہ مذہب عیسائیت ہے اوراس میں شبہ نہیں کہ پچھلے سو سال میں ہندؤں کی بہت بڑی تعداد نے عیسائیت کو قبول کیا ہے ، اور جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ، کئی ریاستوں میں تو عیسائیت اکثریتی مذہب بن گیا ، میرے خیال میں اس کی بنیادی وجہ دو ہے ، ایک تو مادی وسائل کا استعمال ، ہسپتال ، درسگاہیں اور معاشی فلاح کے مراکز کے قیام و انتظام نے عیسائیت کو اس بات کا موقع فراہم کیا کہ مقامی آبادی میں اثر ونفوذ حاصل کرے اور ان میں داخل ہو سکے ، دوسرے گو عیسائیت ایک عالمی مذہب اور ترقی یافتہ قوم کا مذہب ہونے کی وجہ سے ہندو ازم کے ساتھ مکمل طور پر جذب نہیں کی جاسکتی ؛ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ عیسائیت کا کوئی سماجی تشخص ، نہیں ہے ، شادی ، بیاہ ، سماجی رسم ورواج وغیرہ میں وہ ہندو سماج ہی کا ایک حصہ بن گئے ہیں ، ان کے پاس حلال و حرام اور جائز وناجائز کا کوئی مکمل نظامِ حیات نہیں ، جو ان پر قیود و حدود عائد کرتا ہو اور اپنے پہلے معمولات سے روکتا ہو ، اکثر اوقات تو نام بھی تبدیل نہیں کئے جاتے ، بس کچھ تہواروں کا فرق ہوتا ہے ، شرک پہلے بھی تھا اور اب بھی ہے ، مورتی کی پرستش پہلے بھی تھی اور اب بھی ہے ، اس لئے جب کوئی ہندو عیسائی مذہب قبول کرتا ہے تو اسے بہت ہی معمولی تبدیلیوں سے گذرنا پڑتا ہے ، اس کی عملی زندگی میں تو کوئی انقلاب آتا ہی نہیں اور اسے فکر و عقیدہ کے اعتبار سے بھی کسی غیر معمولی تبدیلی سے گذرنا نہیں پڑتا ۔اسلام مذہب کے معاملہ میں ایسی دو رنگی اور دو عملی کوروا نہیں رکھتا ، اسلام قبول کرنے کا مطلب خداؤں میں ایک خدا کا اضافہ نہیں ؛ بلکہ اللہ سے رشتہ جوڑ کر تمام توہمات سے رشتہ توڑنا ہے ، اس کی عبادتیں الگ ہیں ، اس کے تہوار الگ ہیں ، وہ غیر مسلم خاندانوں سے شادی بیاہ کا تعلق قائم نہیں رکھ سکتا ، وہ ایمان لانے کے بعد اپنے والدین کے ترکہ سے حصہ نہیں پاسکتا ، اس کو کھانے ، پینے ، خریدنے ، بیچنے ، کمانے غرض زندگی کے ہر شعبہ میں حلال و حرام کی حدیں قائم کرنی پڑتی ہیں اور حرام سے بچنا پڑتا ہے ، دین یقیناً آسان ہے ؛ لیکن جو نفس کی ہر خواہش پر لبیک کہنے کا عادی بن چکا ہو ، اس کے لئے حق پر گامزن ہونا ، لوہے کا چنا چبانے کے مترادف ہے ، گویا مسلمان ہونے کے بعد انسان ایک سماج سے دوسرے سماج کی طرف ہجرت کرتا ہے ، اس لئے یہ پھولوں کی سیج نہیں ؛ بلکہ کانٹوں کا فرش ہے ، اسی بنا ء پر جو لوگ خدا سے ڈر کر سچائی اورحقیقت کی تلاش کے جذبے سے معمور ہو کر اور عزم و ارادہ کی قوت سے مسلح ہو کر قدم اُٹھانا چاہیں ، وہی اس راہ پر آسکتے ہیں ، کسی بھی شخص کو حقیر ، معمولی اور مادی مقاصد کے تحت اس راہ میں آبلہ پائی کا حوصلہ نہیں ہو سکتا ؛ چنانچہ ایک تو ان مشکلات اور دوسری طرف دعوتِ اسلام کے کاموں سے غفلت کی بناء پر آزاد ہندوستان میں عیسائیت کی طرف ہندو سماج کا رُجوع زیادہ ہوا ہے ۔ ہندوستان ایک سیکولر اور جمہوری ملک ہے ، جو ہر شخص کو اپنے ضمیر کی آواز پر عمل کرنے کی گنجائش فراہم کرتا ہے ؛ چنانچہ دستورِ ہند کے بنیادی حقوق کی دفعہ : ۲۵ میں تمام شہریوں کے لئے آزادیٔ ضمیر اور آزادی سے مذاہب پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا مساوی حق شامل ہے ، اس لئے سنگھ پریوار کا ’’ دھرم پری ورتن ‘‘ پرچیں بہ جبیں ہونا یقیناً ہندوستان کے دستور سے بغاوت کرنے کے مترادف ہے ، اپنی بیماری کو دور کرنے کے بجائے ان لوگوں کو بُرا کہنا جو بیماری کو بیماری سمجھتے ہیں ، بے وقوفی ہی کہی جاسکتی ہے ۔ اسلام نے بھی ضمیر و اعتقاد کی آزادی کو تسلیم کیا ہے ، اللہ تعالیٰ نے صاف ارشاد فرمایا کہ ہدایت گمراہی کے مقابلہ واضح ہو چکی ہے ؛ لہٰذا دین کے معاملہ میں کوئی جبر و دباؤ نہیں ہے : لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ(البقرۃ : ۲۵۶) رسول اللہ ﷺسے صاف ارشاد فرمایا گیا کہ آپ کا کام صرف نصیحت کرنا ہے ، آپ داروغہ نہیں ہیں کہ ان کو اپنی بات ماننے پر مجبور کردیں : اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَکِّرٌ لَسْتَ عَلَیْھِمْ بِمُصَیْطِرٍ (الغاشیہ : ۲۱-۲۲) ایک موقع پر ارشاد ہوا کہ اگر اللہ چاہتا تو تمام انسان ہی مومن ہو جاتے ، پھر کیا آپ لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور کر دیں گے ؟: اَفَاَنْتَ تُکْرِہُ النَّاسَ حَتّٰی یَکُوْنُوْا مُوْمِنِیْنَ (یونس : ۹۹) پیغمبر اسلام ﷺکو ہدایت فرمائی گئی کہ اگر وہ آپ کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کردیں تو آپ پر کوئی ذمہ داری نہیں ، آپ پر تو محض یہ ہے کہ پیغامِ ہدایت کو صاف صاف اورکھلے طور پر پہنچا دیں اور بس : فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْکَ الْبَلاَغُ الْمُبِیْنُ(النحل : ۸۲) آپ سے فرمایا گیا کہ جو لوگ کفر پر بضد ہیں ان سے کہہ دو کہ تمہارے لئے تمہارا دین ہے اورمیرے لئے میرا دین : لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْن( الکافرون: ۶) ایک اور موقع پر آپ کی زبان سے کہلا گیا کہ ہمارے لئے ہمارےاعمال ہیں اور تمہارے لئے تمہارے اعمال : لَـنَا اَعْمَالُنَا وَ لَکُمْ اَعْمَالُکُمْ( الشوریٰ : ۱۵) غرض عقیدہ و ضمیر کی آزادی کا قائل اسلام بھی ہے ، وہ کسی شخص کو مسلمان ہونے پر مجبور نہیں کرتا ، ہاں جہاں اسلامی حکومت ہو اور ایک شخص نے مسلمان ہونے کی حیثیت سے شہریت قبول کی ہو اور حقوق حاصل کئے ہوں ، اس کا اسلام سے کفر کی طرف سفر کرنا نہ صرف روشنی سے تاریکی کی طرف سفر کرنا ہے ؛ بلکہ گویا ملک سے بغاوت ہے اور بغاوت کسی بھی سیاسی نظام میں ناقابل برداشت ہے ، اسی لئے جہاں اسلامی حکومت ہو وہاں ارتداد موجب قتل ہے ۔ بہرحال تبدیلی ٔ مذہب پر ہونے والی یہ بحثیں مسلمانوں کے لئے مایۂ عبرت ہیں کہ ہندو سماج جو پاکیزہ مذہبی تصورات اور عقل انسانی سے ہم آہنگ عقائد سے محروم اور توہمات کے شکنجہ میں قید ہے اور جو روحانی سکون کے لئے مضطرب اور طبقاتی تقسیم کی وجہ سے مظلوم اور ستم رسیدہ ہے ، اسلام جیسا صاف ستھرا ، پاکیزہ ، روحانی اور اخلاقی قدروں سے معمور ، عقل و فطرت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ، انقلاب انگیز اور انسانیت کی اصلاح کے لئے غیر معمولی صلاحیت کا حامل اور اثر انگیز مذہب و عقیدہ کا حامل ہونے کے باوجود انھوں نے اپنے فرائض سے بےاعتنائی برتی اور آج تک بھی ہم کوئی منظم اور منصوبہ بند ، دعوتی اور تبلیغی سعی و کاوش نہیں کر رہے ہیں ؛ حالاںکہ یہی فریضہ ہے ، جو نصرت خداوندی کی کلید اور خدا کے غیبی نظام کے تحت مسلمانوں کی حفاظت و صیانت کا سب سے بڑا ہتھیار ہے ۔ . - [پریانک کھرگے کا آئینہ جمہوریت کی خود احتسابی کی دعوت](https://jahazimedia.com/?p=528) - [وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی](https://jahazimedia.com/?p=521) - [قرآن حکیم غیر مسلموں کی نظر میں](https://jahazimedia.com/?p=519) - [غزل از حفیظ میرٹھی](https://jahazimedia.com/?p=516): غزلپھر رہے ہیں خود نمائی کو وہ بے پردہ کیے اس ہوس نے کیسے کیسے خوب رو رسوا کیے ہم ضرورت اور انا کی کش مکش دیکھا کیےبھیک ٹھکرایا کیے دامن بھی پھیلایا کیے دیکھنے دیتے نہیں، کچھ سوچنے دیتے نہیں وہ جو بیٹھے ہیں نگاہ و فکر پر قبضہ کیے یہ نہ سنا، یہ نہ پڑھنا، یہ نہ بن جانا کہیں شوق کے دروازے ان پابندیوں نے وا کیے وار کو ان کے کبھی خاطر میں لایا ہی نہیں کتنے دشمن میں نے اس تدبیر سے پسپا کیے چاند کا کردار اپنایا ہے ہم نے دوستو! - [علی گڑھ تحریک اور برصغیر کے مسلمانوں کی فکری و تعلیمی بیداری](https://jahazimedia.com/?p=512) - [ویسٹ یا انویسٹ](https://jahazimedia.com/?p=508) - [16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا](https://jahazimedia.com/?p=504) - [مسلمان اور معاشی دشواریوں کا حل](https://jahazimedia.com/?p=502) - [نشہ کی حقیقت اور اس کا علاج اسلامی تعلیمات کی روشنی میں](https://jahazimedia.com/?p=497): خامہ بکف✍🏻 محمد عادل ارریاوی _____________________________________قارئین کرام : جب انسان اپنی فطری راہوں سے ہٹ کر خواہشات کی بھٹی میں جلنے لگے تب وہ اپنی ہی ذات کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن جاتا ہے ایسی ہی ایک مہلک بیماری نشہ خوری کی عادت ہے جو بظاہر وقتی خوشی دیتاہے حالانکہ یہ خوشی نہیں مگر نشہ خوراس کو خوشی اور سرور تصور کرتے ہیں مگر درحقیقت یہ ایک زہر ہے جو جسم وروح رشتوں سماج اور پوری تہذیب کو اندر ہی اندر کھاجاتا ہے۔سماجی اثرات خاندانوں کا بکھرنا رشتوں کا ٹوٹنا نشہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا ناسور بن جاتا ہے وہ باپ جو کبھی بچوں کا محافظ ہوا کرتا تھا نشے کی گرفت میں آ کر خود ان کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ وہ بیٹا جو ماں کی آنکھوں کا تارا تھا نشے کے دھن کھوجاتاہے،ایسے میں گھر کا سکون تباہ وتاراج ہوجاتاہے،رشتوں کی مضبوطی کمزورپڑ جاتی ہے اور معاشرتی زندگی میں گھن لگ جاتاہے،نشہ کرکےگلیوں میں لڑکھڑاتے ہوئے ،پارکوں میں نشے کے عادی اور سڑکوں پر ادھم مچاتےلڑکےماحول کوخراب کرتے دکھائی دیتےہیں، اوریہ سب ہمارے سماج کے چہرے پر بدنما داغ بن چکے ہیں۔اسلام جو فطرت کی آواز ہے نشے کی ہر قسم کو حرام قرار دیتا ہے قرآنِ حکیم میں ارشاد ہوتا ہے اے ایمان والو! - [تعلیم میں تفریح کی آڑ میں تعلیم کا زوال](https://jahazimedia.com/?p=485) - [سلف صالحین سے بدگمانی سے بچیں](https://jahazimedia.com/?p=475) - [مسجد کے قیام کا مقصد ماضی، حال اور مستقبل ( پہلی قسط )](https://jahazimedia.com/?p=473) - [دعا مومن کا ہتھیار ہے لیکن پیش قدمی بھی ضروری ہے!](https://jahazimedia.com/?p=441) - [جنگل کا قانون](https://jahazimedia.com/?p=424) - [کیا گاندھی جی کے اصول دور حاضر میں بھی کارآمد ہیں؟](https://jahazimedia.com/?p=421) - [حضرت نظام الدین اولیاءؒ کی حیات اور افکار](https://jahazimedia.com/?p=415) - [ووٹ چوری ایک سنگین جرم!](https://jahazimedia.com/?p=382): گناہوں کی قران وحدیث میں بہت مذمت کی گئی ہے ،اور جس کو لوگوں کے عرف میں بھی بہت مذموم سمجھا جاتا ہے،ان میں ایک چوری ہے،اصل میں چوری مالک کی اجازت کے بغیر ایسے مال کے چھپا کر لینے کو کہتے ہیں،جس کو اس نے حفاظت میں رکھا ہو،مثلا اپنے کمرے میں یا اپنے صندوق میں رکھا ہو،اور چوری کی جو شرعی سزا ہے:ہاتھ کا کاٹنا،وہ اسی نوعیت کے فعل پر ہے،اگر کوئی شخص بظاہر کسی غیر محفوظ جگہ سے کوئی چیز اٹھا لے،تو اگرچہ یہ بھی چوری ہے؛لیکن اس پر چوری کی سزا نافذ نہیں ہوتی ،چوری کی سزا کا ذکر خود قرآن مجید میں موجودہے، اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا ہے:چوری کرنے والا مرد ہو یا عورت اس کا ہاتھ کاٹ دو(مائدہ :۳۸)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سزا کو نافذ بھی کیا ہے ،اور چور کا دایاں ہاتھ گٹوں سے کٹوایا ہے(مسلم عن عائشہؓ، حدیث نمبر: ۱۶۸۴، باب حد السرقۃ) اس سے اس جرم کی شناعت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے، چوری اُن سنگین جرائم میں شامل ہے،جن کے لئے حدود مقرر ہیں اور اس کے مرتکب کو مقررہ سخت سزا دی جاتی ہے۔حقیقت میں تو چوری کا تعلق مال کے لینے سے ہے،مگر بے جا طور پر چھپا کر کوئی چیز حاصل کرنے اور اپنی ذمہ داری میں کوتاہی برتنے کو بھی ’’چوری‘‘ کہا جاتا ہے،رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو شخص بغیر دعوت کے کسی دعوت میں شریک ہو جائے،وہ آیا چور بن کر اور واپس ہوا غارت گر بن کر: دخل سارقا وخرج مغیرا (ابو داؤد ،حدیث‌ نمبر: ۳۷۴۱, باب ما جاء فی اجابۃالدعوہ)اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کی چوری کا ذکر فرمایا، اگر کوئ شخص نماز ادا کرے اس کے ظاہری افعال کو انجام دے؛ لیکن صحیح طریقہ پر رکوع سجدہ نہ کرے، تو‌ وہ بد ترین چوری ہے،(سنن دارمی عن ابی قتادہ،حدیث نمبر:۱۳۶۷)گویا اس نے اللہ تعالیٰ کے حق میں سے چوری کی ہے،ایسی چوریوں پر اگرچہ شرعی سزا نافذ نہیں ہوگی؛لیکن یہ بھی ایک سنگین جرم ہے،اور اس سے بچنا بھی ضروری ہے ، اسی طرح اگر کوئی مال اس طرح محفوظ نہ کیا گیا جیسے مثلا کؤی چیز بغیر قفل کے عوامی جگہ پر چھوڑ دی گئی،اور کسی نے اس کو بلا اجازت استعمال کر لیا،تو یہ بھی چوری کے دائرہ میں آتا ہے، جیسے بجلی کی چوری،ظاہر ہے بجلی کسی کمرے یا صندوق میں بند کر کے نہیں رکھی جاتی؛لیکن اگر کوئی شخص غیر مجاز طریقہ پر استعمال کرے اور اس کا بل ادا نہ کرے تو یہ بھی چوری میں شامل ہے،اسی طرح اگر حکومت کو اپنی آمدنی کے بارے میں صحیح معلومات فراہم نہیں کی گئیں، حکومت نے منصفانہ طور پر اس کی آمدنی میں جو ٹیکس رکھا ہے،اس کو ادا نہیں کرے ، اپنی دولت کو چھپائے اور غلط بیانی سے کام لے تو یہ بھی ٹیکس کی چوری ہے اور اس پر بھی انسان اللہ کے پاس جواب دہ ہو سکتا ہے، چوری کی بعض اور صورتیں بھی ہمارے سماج میں پائی جاتی ہیں،جن کا مال سے براہ راست تعلق نہیں ہے ؛مگر عرف میں ان کو چوری کہا جاتا ہے، جیسے امتحان میں کوئی امیدوار کتاب دیکھ کر پرچہ لکھے،یا کسی دوسرے کی مدد سے لکھے تو یہ بھی چوری کہلاتی ہے ، اسی طرح چوری کی ایک قسم وہ ہے،جس کا تعلق تصنیف وتالیف اور علمی سرمایہ سے ہے،کسی کی کتاب دوسرا شخص اپنے نام سے چھاپ لے،کسی کے مضمون کو اس کا حوالہ دیے بغیر اپنے نام سے شائع کر لے،کسی کی تحقیق کو اس کا ذکر کئے بغیر اپنی طرف منسوب کر لے، یا اپنی تحقیق کی حیثیت سے پیش کرے، یہ سب علمی سرقہ کی مختلف شکلیں ہیں اور یہ پہلے بھی پیش آتی رہی ہیں،ایک بڑے صاحب علم نے اپنے معاصر کی اس حرکت کو ہدف بناتے ہوئے ایک رسالہ ’’الفارق بین المصنف والسارق‘‘ تالیف کیا ہے،یہ اور اس طرح کی چوری کی بہت سی صورتیں ہیں، جس پر اگرچہ چوری کی شرعی سزا نافذ نہیں کی جا سکتی؛ مگر یہ ہے بہت مذموم اور شرمناک ، اور جھوٹ اور دھوکہ کے گناہ کو شامل ہے، موجودہ دور میں چوری کی ایک نئی شکل سامنے آئی ہے، جس کا نقصان مال و زر کی چوری سے بھی بڑھ کر ہے، اور وہ ہے ووٹ کی چوری ، یہ چوری چھوٹے موٹے غریب و مفلس اور ان پڑھ لوگ نہیں کرتے؛ بلکہ پڑھے لکھے، ذی حیثیت مالدار اور سماج میں اثر ورسوخ رکھنے والے افراد کرتے ہیں،اور اکثر اوقات اس چوری کا مقصد ہوتا ہے نا جائز طریقہ پر کسی عہدے کو ہتھیا لینا،جو اس کا اصل مستحق تھا اس کو اس سے محروم کر دینا، اور بے جا طریقہ پر اقتدار کی کرسی پر مسلط ہو جانا، جن ممالک میں آمرانہ نظام قائم ہے یا بادشاہت کا دور دورہ ہے، وہاں تو یہ چوری کھلے عام ہوتی ہے ؛ کیونکہ اس کو قانون اور دستور کا حصہ بنا‌ لیا گیا ہے، نہ کؤی زبان ہے جو اسے ٹوک سکے اور نہ کؤی قلم ہے جو اسے روک سکے؛ لیکن وہ ممالک جو جمہوریت اور سیکولرزم کا نعرہ لگاتے ہیں، اور یہ نظریہ ان کے دستور کا حصہ ہے، وہاں بھی مختلف طریقوں پر کہیں چھپ کر، کہیں زور زبردستی سے اور کہیں دھوکہ دہی کے ذریعہ اس عمل کو انجام دیا جاتا ہے، اس وقت ہمارا ملک اسی صورتحال سے دوچار ہے ، پورا ملک ووٹ چوری کے نعرے سے گونج رہا ہے، موجودہ حکومت نے اقتدار کے حرص میں ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانے پر ہیر پھیر کی ہے، جو نام نہیں تھے انہیں شامل کیا گیا ہے ، جو نام‌ شامل تھے انہیں بلا وجہ نکال دیا گیا ہے ، اور دیدہ دلیری یہ ہے کہ جو لوگ اس کے مرتکب ہیں، وہ ووٹر لسٹ کی فہرست اور ووٹنگ کی الیکٹرانک رپورٹ بھی دینے کو تیار نہیں ہیں۔اس پس منظر میں بجا طور پر پورے ملک میں کہرام برپا ہے،اللہ کرے اس کا کچھ بہتر نتیجہ سامنے آئے ۔اگر ہم شرعی نقطۂ نظر سے غور کریں تو بعض اعمال کی حیثیت مقصود کی ہوتی ہے ، قرآن وحدیث میں متعین طور پر ان کا حکم دیا گیا ہے ، جیسے نماز و روزہ ، حج و زکوٰۃ وغیرہ ، بعض اعمال مقصود نہیں ہوتے ہیں ، ان کی حیثیت ذریعہ اور وسیلہ کی ہوتی ہے ، تو جو عمل جس بات کا ذریعہ ہو ، جو حکم اس کا ہوگا ، وہی حکم اس ذریعہ کا بھی ہے ، جیسے چلنا ایک عمل ہے ، اگر انسان اس لئے چلے کہ اسے نماز ادا کرنے کے لئے مسجد پہنچتا ہے ، تو اس کا یہ چلنا بھی عبادت کے درجہ میں ہے ، اوراسے ہر قدم پر نیکی ملے گی ، خود حدیث میں اس کا ذکر آیا ہے ، (مسلم، حدیث نمبر: ۶۵۴) اور اگر کوئی شخص شراب پینے کی نیت سے چلے اور اس کا قدم شراب خانہ کی طرف بڑھ رہا ہو ، تو صرف اس کا شراب پینا ہی گناہ نہیں ہے ؛ بلکہ شراب خانہ کی طرف جانا بھی گناہ ہے ، جوں ہی وہ گھر سے شراب خانہ کی طرف شراب پینے کی نیت سے نکلا ، اسی وقت سے گناہ کا عمل شروع ہو گیا ؛ اس لئے جس عمل کے بارے میں شریعت میں جائز و ناجائز یا پسندیدہ و ناپسندیدہ ہونے کا حکم صریحاً موجود نہیں ہو ، دیکھنا چاہئے کہ وہ کس بات کا ذریعہ بنتا ہے ، ایسی بات کا جو شریعت میں پسندیدہ ہے یا ایسی بات کا جو شرعاً ناپسندیدہ ہے ؟ووٹ کا حق حاصل کرنا اور موقع پر اس حق کا استعمال کرنا اس بات کا ذریعہ بنتا ہے کہ آپ اچھے لوگوں کے ہاتھ میں حکومت کی باگ ڈور سونپیں ، اور بُرے لوگوں کو کرسی اقتدار سے دُور رکھیں ، اور یہ ایک شرعی فریضہ ہے کہ جو شخص جس ذمہ داری کا اہل ہے ، اس کو وہ ذمہ داری سونپی جائے : ’’أنْ تُؤدُّوا لْاَمَانَاتِ اِلٰی اَھْلِھَا‘‘(النساء:۵۸) اور یہ بھی ضروری ہے کہ ظالم کو ظلم سے روکا جائے ، جس کی ایک صورت یہ ہے کہ اس کو اس مقام پر پہنچنے نہیں دیا جائے ، جہاں وہ دوسروں کے ساتھ ظلم ونا انصافی کا ارتکاب کر سکتا ہے : ’’ وَلَا تَرْکَنُوْا اِلَی الَّذِینَ ظُلِمُوا‘‘ (ھود:۱۱۳) اس لئے مسلمانوں کو نہ صرف ایک قومی فریضہ ؛ بلکہ ایک دینی فریضہ کی حیثیت سے بھی اس عمل کو دیکھنا چاہئے ، اور کوشش کرنی چاہئے کہ صد فیصد مسلمانوں کے نام ؛ بلکہ تمام شہریوں کے نام ووٹر لسٹ میں درج ہو جائیں ۔ہندوستان میں اس وقت صورت حال یہ ہے کہ فرقہ پرست اور مسلم مخالف طاقتوں نے چوطرفہ حملہ شروع کر دیا ہے ، اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے اور کمزورکرنے کے لئے جتنے ہتھیار ہو سکتے ہیں ، وہ سب آزمائے جا رہے ہیں ، فسادات کرائے جاتے ہیں ، ہجوم کے ذریعہ قتل کی واردات پیش آرہی ہیں ، ذرائع ابلاغ کو مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے کی اجازت دی گئی ہے ؛ بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کی جار ہی ہے ، سوشل میڈیا کی ایک تربیت یافتہ فوج شب وروز جھوٹی خبریں پھیلانے کا کام کر رہی ہے ، غرض مختلف جہتوں سے اسلام ، مسلمان اور مسلم تاریخ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ، ان سب کے پیچھے اصل میں جو طاقت کام کر رہی ہے ، وہ ہے اقتدار کی طاقت ، اور ہندوستان جیسے ملک میں طاقت کا سرچشمہ ووٹ ہے ۔اللہ تعالیٰ کاا رشاد ہے :اور (اے مسلمانو!) - [آسام کے وزیر اعلیٰ کو بلاتاخیر معطل کیا جائے اور ہیٹ اسپیچ کے مقدمات درج کیے جائیں](https://jahazimedia.com/?p=379) - [ماونٹ بیٹن پلان:تقسیم کے انتظامی مسائل](https://jahazimedia.com/?p=373) - [جمعیت علماء سے وابستگی دنیا میں امن آخرت میں سرخروئی کا ذریعہ ](https://jahazimedia.com/?p=371) - [ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند کی حضرت مفتی محمودؒ کی قبر پر حاضری](https://jahazimedia.com/?p=368) - [مفتی نظام الدین قاسمی جمعیت بلاک بسنت رائے کا بلا مقابلہ صدر منتخب](https://jahazimedia.com/?p=366) - [راجہ مہندر پرتاپ کی ایک نایاب تقریر](https://jahazimedia.com/?p=362) - [جمعیت علمائے ہندکا ہاتھ تقسیم ہندستان کے خون سے پاک ہے](https://jahazimedia.com/?p=359) - [جمعیت اور سنگھ میں زمین وآسمان کا فرق ہے: مسٹر جے پرکاش نرائن](https://jahazimedia.com/?p=356) - [سیاسی تربیت گاہ دار الصنائع کمپنی لمیٹڈ کے متعلق ایک اہم فارمولا](https://jahazimedia.com/?p=354) - [مرحبا سرکار کی آمد مرحبا ( صلی اللہ علیہ وسلم)](https://jahazimedia.com/?p=351) - [جمعیت علمائے گڈا جھارکھنڈ کا دستوری انتخاب](https://jahazimedia.com/?p=349) - [اف ؛ مسلمانوں میں بڑھتا ہوا اختلاف!! ( اللہ رحم کرے)](https://jahazimedia.com/?p=347) - [جمعیۃعلماء چاندنی چوک کا انتخاب بحسن و خوبی مکمل](https://jahazimedia.com/?p=322) - [نئی دہلی میں جمعیت کا انتخابی اجلاس پُرسکون اور روحانی فضا میں منعقد ہوا](https://jahazimedia.com/?p=319) - [ہندوستان کا ترنگا: منظر و پس منظر](https://jahazimedia.com/?p=309) - [کمپنی”گلک” میں خرید و فرخت کا شرعی حکم](https://jahazimedia.com/?p=306): قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! - [اچھے برے حالات پر ہمارا طرز عمل](https://jahazimedia.com/?p=303) - [وقف بائی یوزر کے فیصلے پر جمعیت علمائے ہند کی یہ ہے رائے](https://jahazimedia.com/?p=300) - [اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)](https://jahazimedia.com/?p=297): اﷲ کی طرف سے جو نبی و رسول آتے ہیں ، وہ انسانیت کے لئے نمونہ اور آئیڈیل ہوتے ہیں ، ان کا ہر عمل لوگوں کے لئے دلیل کی حیثیت رکھتا ہے ؛ اسی لئے وہ زندگی کے تمام شعبوں میں اعلیٰ ترین معیار پر قائم رہتے ہیں ، ان کی عبادتیں خشوع و خضوع کا نمونہ ہوتی ہیں ، ان کے معاملات راست گوئی اور پاکیزگی پر مبنی ہوتے ہیں ، ان کی معاشرت حسن سلوک اورسماج کے مختلف طبقہ کے ساتھ اچھے برتاؤ اور حقوق کی ادائیگی کی بہترین مثال ہوتی ہے ، وہ اخلاق کی اعلیٰ ترین سطح پر ہوتے ہیں ، یہ بات اس لئے بھی ضروری ہے کہ نبی کا بنیادی فریضہ دعوت و تبلیغ ہے اور دعوت کے مؤثر ہونے کے لئے ضروری ہے کہ مدعو پر اس کے اخلاق وسلوک کے بہترین نقوش ثبت ہوں ؛ کیوںکہ محبت اور خوش اخلاقی سخت سے سخت دل کو بھی پگھلانے کی طاقت رکھتی ہے ، قرآن مجید میں مختلف انبیاء کرام اور ان کی اقوام کے واقعات ذکر کئے گئے ہیں ، ان واقعات میں قوموں کی اپنے انبیاء کے ساتھ بد سلوکی و بد زبانی اور اس کے مقابلہ میں انبیاء کی طرف سے انتہائی درجہ تحمل و بردباری اور خوش گفتاری کا ذکر ملتا ہے ۔جناب محمد رسول اﷲ ﷺکی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ بلند اخلاق کی اعلیٰ ترین سطح پر تھے ؛ اسی لئے قرآن مجید میں آپ ﷺکے بارے میں کہا گیا ہے : إِنَّـکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ (القلم :۴ ) اکثر اخلاقی کمزوریوں کی بنیاد یہ ہوتی ہے کہ انسان کے قول و فعل میں تضاد ہوتا ہے ، وہ گفتگو تو بہت اونچی کرتا ہے ؛ لیکن عمل میں بہت نیچی سطح پر ہوتا ہے ، آپ ﷺ کی زندگی میں قول و فعل کا تضاد بالکل نہیں تھا ، آپ ﷺ لوگوں کو جس بات کی دعوت دیتے اسی پر آپ ﷺ کا عمل ہوتا ؛ اسی لئے حضرت عائشہؓ نے ایک شخص کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اخلاق محمدی کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ ﷺ سراپا قرآن تھے : کان خلقہ القرآن (مسند احمد : ۶؍۹۱ )آپ ﷺکے مزاج کا نمایاں پہلو تواضع و انکساری کا تھا ، آپ مقام نبوت پر فائز ہیں اور پورا جزیرۃ العرب آپ کے قدموں میں ہے ؛ لیکن تواضع اور سادگی کا حال یہ تھا کہ گھر پر خود جھاڑو دے لیتے، بازار سے سودا لاتے ، جوتی پھٹ جاتی تو اسے سی لیتے ، بکری کا دُودھ دوہ لیتے ، (مسند احمد ، حدیث نمبر : ۲۵۶۶۲) کھانے کے لئے بیٹھتے تو نہایت تواضع کی کیفیت کے ساتھ ، اور فرماتے کہ میں اس طرح کھاتا ہوں جیسے غلام کو کھانا چاہئے : ’’ أنا آ کل کما یأ کل العبد‘‘ اگر کوئی غریب آدمی کسی معمولی سی چیز پر مدعو کرتا تو اس کی دعوت بھی قبول فرمالیتے ، مریضوں کے گھر پہنچ کر ان کی عیادت کرتے ، غلاموں کی دعوت بھی قبول فرماتے ، ہر عام وخاص کے جنازہ میں شریک ہوتے ، گدھے کو معمولی سواری سمجھا جاتا تھا ، مگر آپ اس کی بھی سواری کیا کرتے تھے اور اگر کوئی غلام دعوت دے تو اسے بھی قبول فرماتے تھے ۔ (مدارج السالکین : ۲؍۳۲۸)لوگ تعظیم کے لئے کھڑے ہوتے تو منع فرمادیتے ، اگر کسی باندی کا بھی کوئی کام ہوتا اور وہ بھی سرِ راہ اپنی کسی ضرورت کے لئے روکتی تورُک جاتے ، بڑے تو بڑے ، چھوٹے بچوں کو بھی سلام فرماتے ، (بخاری ، عن انس ؓ، حدیث نمبر : ۶۲۴۷) رفقاء کے ساتھ اس طرح بیٹھتے کہ امتیازی شناخت نہ ہونے کی بناپر لوگ آپ کو پہچان نہیں پاتے ، اپنے لئے تعظیم کے جائز الفاظ بھی پسند نہیں فرماتے ، ایک بار بعض حاضرین نے عرض کیا : آپ ﷺ ہمارے آقا ( سید ) ہیں ، فرمایا : ’’نہیں ، آقا تو خدا کی ذات ہے ‘‘ ایک بار لوگوں نے عرض کیا : آپ ہم میں سب سے افضل وبرتر ہیں ، آپ ﷺ نے اس تعبیر کو بھی پسند نہیں فرمایا ، تواضع و فروتنی کا یہ حال تھا کہ فتح مکہ کے موقعہ پر جب دس ہزار مسلح جاں نثار آپ ﷺکے گرد و پیش تھے ، انکساری کی وجہ سے آپ کا سرمبارک اس قدر جھکا ہوا تھا کہ بار بار اونٹنی کے کوہان سے ٹکراجاتا تھا ۔آپ کا رہن سہن بھی تواضع کا مظہر تھا ؛ ایک بار حضرت عمرؓ بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوئے تو دیکھا کہ آپ کھلی چٹائی پر آرام فرمارہے ہیں ، جس پر کوئی بستر بھی نہیں ہے اورسرمبارک کے نیچے چمڑے کا تکیہ ہے ، جس میں چھالیں بھری ہوئی ہیں ، بدن مبارک پر چٹائی کے نشانات ہیں ، حضرت عمر ؓیہ منظر دیکھ کر رونے لگے ، آپ ﷺنے سبب دریافت کیا ، کہنے لگے : اللہ کے رسول ! - [سری لنکا بنگلہ دیش اور نیپال،، کیا سے کیا ہوگیا!! –(تبدیلی کی لہر)](https://jahazimedia.com/?p=292) - [بعثت نبوی اور ہیٹ کرائم کا خاتمہ](https://jahazimedia.com/?p=253): حجۃ الوداع کے موقع پر نبی نے فرمایا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ، وَأَبَاكُمْ وَاحِدٌ، لَا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى أَعْجَمِيٍّ، وَلَا لِأَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ، إِلَّا بِالتَّقْوَى. - [(قسط رابع) وصالِ نبوی کے بعد ہیٹ کرائم کا دوبارہ آغاز اور اس کی عالمی توسیع](https://jahazimedia.com/?p=250) - [کشمیر کا چار روزہ سفر](https://jahazimedia.com/?p=247) - [جھارکھنڈ کے صوبائی انتخاب میں صدر مولانا عبد القیوم اور خازن شاہ عمیر کے بننے پر مبارک باد](https://jahazimedia.com/?p=243) - [مسلمانوں سے آزاد بھارت بی جے پی کا خواب](https://jahazimedia.com/?p=240) - [مولانا توقیر رضا خان اور دیگر تمام گرفتار شد گان کو فی الفور رہا کیا جائےیوپی حکومت پوری ریاست کو فرقہ پرستی کی آگ میں جھونک رہی ہےآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ](https://jahazimedia.com/?p=236) - [مسجد کے قیام کا مقصد ماضی حال اور مستقبل ( دوسری قسط)](https://jahazimedia.com/?p=231): عَنْ أَنَسٍ قَالَ أُمِرَ بِلاَلٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ، وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ. - [اہل سنت والجماعت کے 15 عقیدے](https://jahazimedia.com/?p=225): مسلک دیو بند کوئی جدید مسلک ہے اور نہ کوئی نیا مذہب؛ بلکہ یہ مسلک قرآن و سنت کا پاسبان، احکام خداوندی اور نصائح محمدی کا منار ہے، ان کا عقیدہ، ذاتی نظریہ اور رجحان خالص قرآن اور احادیث کے مطابق ہے جس میں ( با وجود چودہ سو سال گزر جانے کے) ذرہ برابر فرق، حبہ برابر کمی اور نہ رائی کے دانے کے برابر اختلات پیدا ہوا ہے اور نہ پیدا ہو گا۔ ذیل میں ہم عالم اسلام کے بطل جلیل حضرت اقدس مولانا مفتی سيد عبد الشکور صاحب ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کے مشہور رسالہ عقائد اہل سنت و الجماعت (خلاصہ عقائد اہل سنت والجماعت) کی تلخیص کر کے قارئین کے سامنے پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔عقیدہ نمبر 01: ہمارے اور ہمارے اکابرو مشائخ کے نزدیک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت اعلیٰ درجے کی مراتب، باعث سعادت اور سبب حصول درجات ہے بلکہ واجب کے قریب ہےعقیدہ نمنر 02: مدینہ منورہ کا سفر کرتے وقت رسول اقدس کی قبر اطہر کی زیارت کی نیت کرے اور ساتھ ہی مسجد نبوی اور دیگر مقامات و زیارت گاہ ہائے متبرکہ کی بھی نیت کرے ۔عقیدہ نمبر 03: رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم جہاں پر آرام فرما رہے ہیں وہ جگہ دنیا و ما فیہا؛ حتی کہ عرش و کرسی سے بھی افضل اور بابرکت ہے.عقیدہ نمبر 04: ہمارے اور ہمارے علمائے کرام کے نزدیک دعاؤں میں بزرگان عظام اور صلحائے کرام کا توسل (وسیلہ جائز ہے، مثلاً یوں کہے "اے اللہ میں بوسیلہ فلاں بزرگ کے دعا کی قبولیت اور حاجت برآری چاہتا ہوں یا اس جیسے اور کلمات کہے. - [برادران وطن كے مذهبی تیوهار اورمسلمان!](https://jahazimedia.com/?p=222) - [اورنگ زیب عالمگیرؒ سچائی اور پروپیگنڈه(۲)](https://jahazimedia.com/?p=219) - [اورنگ زیب عالمگیرؒ سچائی اور پروپیگنڈه](https://jahazimedia.com/?p=216) - [عقیدهٔ توحید اور توهم پرستی](https://jahazimedia.com/?p=213) - [اسلامی تناظر میں بہن کے ساتھ حسن سلوک کا واقعہ](https://jahazimedia.com/?p=210): واقعہفتح مکہ کے بعد غزوۂ حنین میں قبیلۂ ہوازن کے کچھ لوگ قیدی بنے۔ ان میں حضرت شیماء رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا:> "میں آپ کی رضاعی بہن ہوں، اور یہ میرا ثبوت ہے۔”نبی ﷺ نے فوراً ان کی بات سنی، ان کا ثبوت مانا، اور پھر نہایت محبت اور عزت سے پیش آئے۔— نبی ﷺ کا حسن سلوک۔1.آپ ﷺ نے انہیں فوراً آزاد فرمایا، اور فرمایا:> "اگر تم چاہو تو میرے ساتھ رہو، اور اگر چاہو تو اپنے قبیلے واپس چلی جاؤ۔”حضرت شیماء رضی اللہ عنہا نے اپنے قبیلے واپس جانے کا انتخاب کیا، تو آپ ﷺ نے ان کے لیے تحفے، سواری اور سامان مہیا کیا۔2. - [پاکستان کے متعلق حضرت مولانا شاہ عطاء اللہ بخاری ؒ کی پوری ہوتی پیشین گوئیاں](https://jahazimedia.com/?p=206): حضرات! آج میں نے کوئی تقریر نہیں کرنی؛ بلکہ چند حقائق ہیں، جنھیں بلا تمہید کہنا چاہتا ہوں۔ آئینی اور غیر آئینی دنیا میں خواہ اس علاقے کا تعلق ایشیا سے ہو، یا یورپ سے، اس وقت جو بحث چل رہی ہے، وہ یہ ہے کہ ہندستان کی ہندو اکثریت کو مسلم اکثریت سے جدا کر کے برصغیر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے، قطع نظر اس کے کہ اس کا انجام کیا ہوگا؟مجھے پاکستان بن جانے کا اتناہی یقین ہے، جتنا اس بات پر کہ صبح کو سورج مشرق ہی سے طلوع ہوگا؛ لیکن یہ پاکستان وہ پاکستان نہیں ہو گا، جو دس کروڑ مسلمانوں کے ذہنوں میں موجود ہے اور جس کے لیے آپ بڑے خلوص سے کوشاں ہیں۔ ان مخلص نو جوانوں کو کیا معلوم کہ کل اُن کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ بات جھگڑے کی نہیں، بات سمجھنے اور سمجھانے کی ہے۔ سمجھا دو، مان لوں گا، لیکن تحریک پاکستان کی قیادت کرنے والوں کے قول و فعل میں بلا کا تضاد ہے اور بنیادی فرق ہے۔ اور اگر مجھے کوئی اس بات کا یقین دلا دے کہ منقسم پاکستان کے کسی قصبے کی گلی میں کسی شہر کے کسی کوچے میں حکومت الہیہ کا قیام اور شریعت اسلامیہ کا نفاذ ہونے والا ہے، تو رب کعبہ کی قسم! - [لڑکی ہے تو گلا کاٹ دیں کیا](https://jahazimedia.com/?p=199): اور جب ان میں سے کسی کو لڑکی کی خوشخبری سنائی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے اور دل ہی دل میں گھٹنے لگتا ہے، جو بری خبر اسے دی گئی ہے اس کی وجہ سے لوگوں سے منہ چھپائے پھرتا ہے۔ سوچتا ہے کہ کیا اس کو ذلت ورسوائی کے باوجود اپنے پاس رکھے، یا اسے زندہ در گورکردے، آہ! - [رحم مادر میں بیٹی کے نام ماں کا خط](https://jahazimedia.com/?p=196): میری پیاری و لاڈلی نور نظر ! - [‬ڈاکٹر سید احمد قادری : افسانے سے صحافت تک](https://jahazimedia.com/?p=193) - [نیا سال 2025](https://jahazimedia.com/?p=176) - [اردو ہے جس کا نام](https://jahazimedia.com/?p=169) - [گاندھی جینتی یا یوم عدم تشدد](https://jahazimedia.com/?p=161) - [ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے](https://jahazimedia.com/?p=158): (۹)ترجمے والی زبان میں الفاظ کی ترتیب کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے، کیوں کہ کبھی ایسا ہوتاہے کہ جملے کے ہر ہر جز کا ترجمہ تو صحیح ہوتاہے، لیکن الفاظ کی ترتیب میں الٹ پھیر ہونے کی وجہ سے جملے کا مفہوم ہی بدل جاتاہے، جیسے: ’حامد پڑھ رہاہے‘ کا انگریزی میں ترجمہ کیا جائے؛ تو ترجمہ ہوگا: Hamid is reading. - [آئی لو محمد۔۔ بٹ!!](https://jahazimedia.com/?p=151) - [صوبہ دہلی کے ضلعی جمعیتوں کے انتخابات شروع۔ ضلع شاہدرہ کا انتخاب مکمل ۔مولانا خلیل احمد متفقہ طور پر صدر منتخب](https://jahazimedia.com/?p=145) - [مومن وہ ہے جو لغو اور لا یعنی سے بچے !](https://jahazimedia.com/?p=120) - [بچوں کے لیے تعلیمی چیزیں،جو تدریس و تفہیم کے لیے ضروری ہیں](https://jahazimedia.com/?p=1801) - [قرآن سے گیتا تک: انسانیت، محبت اور بھائی چارے کا پیغام](https://jahazimedia.com/?p=1795): یعنی مفہوم یہ ہے کہ اے ارجن! - [تعلیمی تصورات بچوں کی حقیقی زندگی سے اٹیچ ہونا ضروری ہیں](https://jahazimedia.com/?p=1792) - [سختی اور تحقیر نہیں، آسانی اور حسنِ سلوک](https://jahazimedia.com/?p=1788): وَكَانَ يُحِبُّ التَّخْفِيفَ وَالْيُسْرَ عَلَى النَّاسِ. - [دارالمصنفین کی مطبوعات کے بارے میں ایک سوال](https://jahazimedia.com/?p=1785) - [کہانیوں پر مبنی تشکیل نصاب کے طریقے](https://jahazimedia.com/?p=1782): ​ضرورت کے وقت جو دوست کام آئے، وہی اصل دوست ہوتا ہے! - [پروجیکٹ پر مبنی تعلیم کا طریقہ](https://jahazimedia.com/?p=1779) - [ریاضی اور فنونِ لطیفہ کے تدریسی نصاب کے مواد کی نوعیت](https://jahazimedia.com/?p=1776): ​(اگلا منظر): "گرمی کی لہر (heat wave) کی وجہ سے جنگل میں شدید آگ لگ گئی۔ بڑا ہاتھی ایک چھوٹے سوراخ (hole) میں پھنس گیا۔ ہاتھی بہت محفوظ ہے۔ ہاتھی سوراخ کی طرف بڑھتا ہے..." - [زبان سکھانے والی نصابی کتاب کیسے لکھیں](https://jahazimedia.com/?p=1774): Come to our house. - [بچوں کی نصابی کتابیں مرتب کرنے کے جامع اصول](https://jahazimedia.com/?p=1771): ھ۔ مواد کو ابھرتی ہوئی صلاحیتوں یعنی بچوں کی انفرادی خصوصیات سے منسلک ہونا چاہیے. - [آپ کی پوری زندگی عورتوں کے ساتھ رحمت ،شفقت، حسن سلوک اور نگہداشت کا روشن نمونہ ہے:مولانا سہیل ندوی](https://jahazimedia.com/?p=1768): Best Regards..... - [درس گاہوں کے ماحول کی نفسیاتی ترتیب](https://jahazimedia.com/?p=1764) - [اماموں کی تربیت پر جمعیت علمائے ہند کا ایک صدی قبل کا فیصلہ اور حضرت بجنوری نقشبندی دامت برکاتہم کی جامع رہ نمائی](https://jahazimedia.com/?p=1760) - [ازواج مطهرات كے ساتھ پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم كا سلوك](https://jahazimedia.com/?p=1758): عدل و انصاف کے معاملے میں احتیاط کا حال یہ تھا کہ حضرت عائشہؓ کی ذہانت اورصلاحیت کی وجہ سے آپ ﷺکی ان کی طرف زیادہ رغبت تھی ، تو اگرچہ ظاہری سلوک میں آپ ﷺاس کا کوئی اثر ظاہر نہیں ہونے دیتے تھے ؛ لیکن قلبی جھکاؤ کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ میں جس چیز کا مالک ہوں ، یہ اس میں میری (مساویانہ ) تقسیم ہے ؛ لیکن خدا وندا ! - [ارکان پارلیمنٹ کی افسوس ناک کارکردگی اورمودی کی شاہ خرچی](https://jahazimedia.com/?p=1753) - [بچوں کے سامنے اساتذہ کی طرف سے بولی جانے والی مثبت اور منفی زبان اور اس کے نیک و بد اثرات](https://jahazimedia.com/?p=1750): ii. مثلاً، 'چترا، اپنے لباس کو مٹی میں مت گھسیٹو' کہنے کے بجائے آپ کہہ سکتے ہیں، 'اپنی کمر کے گرد لباس کو اس طرح باندھ لو تاکہ یہ گندا نہ ہو!' - [نیپال اور جمعیت علمائے ہند](https://jahazimedia.com/?p=1746) - [مولانا ابوالبرکات مظاہری،حیات وخدمات کے روشن نقوش](https://jahazimedia.com/?p=1736): کئی سال کے بعد ایک دن مولانا ابوالبرکات صاحب کا فون میرے پاس آیا،انکا نمبرسیو نہیں تھا،فون اٹھایا تو ادھر سے سلام کی آواز آئی اورفرمانے لگے دارالعلوم آگرہ سے ابوالبرکات مظاہری بول رہاہوں،میں خوش ہوگیا اور کچھ دیر کےلئے سکتے میں آگیا،فورا سنبھلا اور عرض کیا کہ حضرت کیسی ہے آپ کی طبیعت؟ فرمانے لگے ٹھیک ہوں،پھرمیری خیرخیریت دریافت کرنے کے بعد فرمایا! - [بچوں کی تدریس میں نظم و ضبط کی نفسیاتی انفعالیت](https://jahazimedia.com/?p=1728) - [بیسویں صدی سے متحدہ عرب ممالک اور جمعیت علمائے ہند کے روابط: چوتھی قسط](https://jahazimedia.com/?p=1725) - [بیسویں صدی سے متحدہ عرب ممالک اور جمعیت علمائے ہند کے روابط](https://jahazimedia.com/?p=1723) - [بچوں کے رویوں کی تفہیم اور مثبت انداز میں رہنمائی کے فطری طریقے](https://jahazimedia.com/?p=1721) - [بیسویں صدی سے متحدہ عرب ممالک اور جمعیت علمائے ہند](https://jahazimedia.com/?p=1716) - [بیسویں صدی سے متحدہ عرب ممالک اور جمعیت علمائے ہند کے روابط اور خدمات](https://jahazimedia.com/?p=1714) - [میلاد کیلئے ہوگیا، اب امت کیلئے بھی سوچئے](https://jahazimedia.com/?p=1712) - [ازواج مطهرات كے ساتھ پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم كا سلوك](https://jahazimedia.com/?p=1709): لیکن شوہر اور بیوی کا تعلق چوںکہ ہر سرد و گرم میں ہوتا ہے ؛ اس لئے یہاں مصنوعی اخلاق کے ذریعے اپنی بد اخلاقی کو چھپایا نہیں جاسکتا: اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے بہترین شخص اس کو قرار دیا ، جس کے اخلاق اچھے ہوں ، پھر فرمایا کہ تم میں بہتر شخص وہ ہے ، جس کا رویہ اس کے گھر والوں کے ساتھ بہتر ہو ، اور یہ کہ میں تم سب سے زیادہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ بہتر برتاؤ کرنے والا ہوں : خیرکم خیرکم لأھلہ وأنا خیرکم لأھلی (سنن ترمذی ، بسند صحیح ، حدیث نمبر : ۳۸۹۵ ، ابن ماجہ ، حدیث نمبر : ۱۹۷۷۱) اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ طیبہ اپنی بیویوں کے ساتھ حسن سلوک کا بہترین نمونہ ہے ! - [یوم رحلت نبوی صلی اللہ علیہ و سلم: 13؍ ربیع الاول11 ھ، مطابق 8؍جون 632ء، بروز سوموار](https://jahazimedia.com/?p=1706) - [تدریس اطفال میں درس گاہوں کی تزئین کی اہمیت](https://jahazimedia.com/?p=1701): حاضری کی بالٹی! - [بیسویں صدی سے دیار حبیب صلی اللہ علیہ وسلم سے ہندستانی مسلمانوں کے روابط](https://jahazimedia.com/?p=1698) - [ریاضی کی تدریس کے نفسیاتی طریقے](https://jahazimedia.com/?p=1690) - [اکیسویں صدی سے دیار حبیب صلی اللہ علیہ وسلم سے ہندستانی مسلمانوں کے روابط:پندرھویں قسط](https://jahazimedia.com/?p=1687) - [نئی زبان سکھانے کے نفسیاتی اور فطری طریقے](https://jahazimedia.com/?p=1682) - [کامل ایمان والوں کی پانچ صفات](https://jahazimedia.com/?p=1680): یعنی ایمان اگر اللہ رب العزت نے کسی کو عطا کر دیا تو یہ اس کی رضا کی ایک بہت بڑی نشانی تو ضرور ہے۔ مشکات میں وہ روایت ہے، ہمارے علماءِ کرام کے ہاں یہی ہے، ہمارے امام المفسرین امام العصر حضرت علامہ محمد یوسف بنوری نور اللہ مرقدہ کا فرمانِ مبارک خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالی دنیا کی دولت، دنیا کی حکومت، دنیا کی عزت اور دنیا کی شہرت کو ہر کس و ناکس کو عطا کر دیتے ہیں۔ یہ رضائے الہی کی دلیل نہیں ہے۔ لیکن اللہ تبارک و تعالی جس سے محبت فرماتے ہیں، جس سے راضی ہوتے ہیں، اسی کو ایمان عطا فرماتے ہیں۔ پھر ایمانِ کامل یہ اس کی رضائے کامل کی علامت ہے، یہ جملہ یاد رکھیے! - [اکیسویں صدی سے دیار حبیب صلی اللہ علیہ وسلم سے ہندستانی مسلمانوں کے روابط،چودھویں قسط](https://jahazimedia.com/?p=1678) - [اکیسویں صدی سے دیار حبیب صلی اللہ علیہ وسلم سے ہندستانی مسلمانوں کے روابط: تیرھویں قسط](https://jahazimedia.com/?p=1676) - [اکیسویں صدی سے دیار حبیب صلی اللہ علیہ وسلم (سعودی عرب) سے ہندستانی مسلمانوں کے روابط](https://jahazimedia.com/?p=1670) - [اکیسویں صدی سے دیار حبیب صلی اللہ علیہ وسلم (سعودی عرب) سے ہندستانی مسلمانوں کے روابط](https://jahazimedia.com/?p=1668) - [نبی اکرم ﷺ کی تاریخ ولادت اور تاریخ وفات کیا ہے؟](https://jahazimedia.com/?p=1665): تاریخ ولادت: 12/ربیع الاول: اعلی حضرت مولانا احمد رضا صاحب۔تاریخ ولادت:9/ربیع الاول : محمود پاشا فلکی مشہور مصری ہیئت داں ۔تاریخ ولادت:9/ربیع الاول، مطابق20/اپریل 571ء بروز پیر:ماہر فلکیات مولانا ثمیر الدین قاسمی چیئرمین ہلال کمیٹی لندن۔ اقرب الی الصواب: ناسا کے کلینڈر کے حساب سے 12/ربیع الاول23؍اپریل 571 کو جمعرات کا دن پڑتا ہے، جب کہ یوم پیدائش پیر کے روز ہے۔ اس لیے اقرب الی الصواب 9/ربیع الاول، مطابق20/اپریل 571ء بروز پیر ہے، جیسا کہ دونوں ماہرین فلکیات متفق ہیں۔تاریخ وفات: 12/ربیع الاول11ھ: اعلی حضرت مولانا احمد رضا صاحب۔تاریخ وفات: یکم ربیع الاول 11ھ، مطابق27/مئی632:محمود پاشا فلکی ۔تاریخ وفات: 13/ربیع الاول11ھ، مطابق8/جون632:مولانا ثمیر الدین قاسمی۔اقرب الی الصواب:12/ربیع الاول11ھ ، مطابق 7؍جون 632 کو اتوار کا دن ہوتا ہے، جب کہ پیر کا دن ہونا ضروری ہے۔لہذا اعلیٰ حضرت کا قول درست معلوم نہیں ہوتا۔ اسی طرح یکم ربیع الاول 11ھ، مطابق27/مئی632 کوبدھ کا روز پڑتا ہے، جب کہ پیر کا دن ہونا ضروری ہے۔ لہذا محمود پاشا فلکی کا قول بھی درست معلوم نہیں ہوتا۔البتہ 13/ربیع الاول11ھ، مطابق8/جون632 کو پیر کا دن پڑتا ہے، اس لیے مولانا ثمیر الدین قاسمی صاحب کا قول ہی اقرب الیٰ الصواب معلوم ہوتا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔سرور کائنات ﷺ کی تاریخ ولادت کے حوالے سے حضرت فاضل بریلوی نور اللہ مرقدہ نے دو الگ الگ سوالوں کا جواب دیتے ہوئے لکھا ہے کہ بالاتفاق دو شنبہ اور صحیح و مشہور قول جمہور ماہ ربیع الاول ہے۔ اس کے بعد کئی صفحات تک علما کے اقوال و تحقیق پیش کی ہے۔ پھر آگے لکھا ہے کہ سائل نے تاریخ کے بارے میں سوال نہیں کیا ہے، تاہم حضرت ؒ نے تاریخ بتاتے ہوئے 12/ کو درست قرار دیا ہے۔ اور پھر مختلف اقوال پیش کیے ہیں ۔ تفصیلات کے لیے دیکھیں : نطق الہلال بارخ ولادۃ الحبیب والوصال، ص/4)تاریخ ولادت کے حوالے سے علامہ شبلی نعمانی رحمۃ اللہ لکھتے ہیں کہ”تاریخ ولادت کے متعلق مصر کے مشہور ہیئت دان عالم محمود پاشا فلکی نے ایک رسالہ لکھا ہے، جس میں انھوں نے دلائل ریاضی سے ثابت کیا ہے کہ آپ کی ولادت 9/ ربیع الاول روز دوشنبہ، مطابق 20/ اپریل 571میں ہوئی تھی“۔ (سیرۃ النبی،ج/1، ص/ 136)اس مقام پر محشی رقم طراز ہیں کہ”محمود فلکی نے جو استدلال کیا ہے، وہ کئی صفحوں میں آیا ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے۔ (۱) صحیح بخاری میں ہے کہ ابراہیم رضی اللہ عنہ (آں حضرت ﷺ کے صغیر السن صاحب زادے) کے انتقال کے وقت آفتاب میں گہن لگا تھا (ابواب الکسوف، باب الصلاۃ فی کسوف الشمس، 1043) اور 10ھ تھا۔ (اور اس وقت آپ کی عمر کا تریسٹھواں سال تھا۔ (۲) ریاضی قاعدے کے حساب لگانے سے معلوم ہوتا ہے کہ 10ھ کا) گرہن 7/ جنوری 632، 8/ بج کر 30منٹ پر لگا تھا۔ (۳) اس حساب سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر قمری 63برس پیچھے ہٹیں تو آ پ کی پیدائش کا سال 571 جس میں از روئے قواعد ہیئت ربیع الاول کی پہلی تاریخ 12/ اپریل 571کے مطابق تھی۔ (۴) تاریخ ولادت میں اختلاف ہے؛ لیکن اس قدر متفق علیہ ہے کہ وہ ربیع الاول کا مہینہ اور دو شنبہ کا دن تھا اور تاریخ 8سے لے کر 12/ تک میں منحصر ہے۔ (۵) ربیع الاول مذکور کی ان تاریخوں میں دو شنبہ کا دن نویں تاریخ کو پڑتا ہے، ان وجود کی بنا پر تاریخ ولادت قطعا 20/ اپریل 571تھی۔“ (حاشیہ سیرۃ النبی، جلد اول، ص/137)تاریخ وفاتحضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے رسالہ نطق الہلال بارخ ولادۃ الحبیب والوصال کے فصل دوم میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ”قول و مشہور و معتمد جمہور دوازدہم ربیع الاول شریف ہے۔“ (سلسلہ رسائل فتاویٰ رضویہ، جلد چھبیسویں ، رسالہ نمبر4، ص/ 11)۔ پھر کے اس کے بعد متعدد روایتوں کا تذکرہ کرنے کے بعد قول جمہور کو ہی اقرب الیٰ الصواب بتایا ہے۔صاحب سیرت النبی ﷺ نے قمری مہینوں کا حساب لگاکر ثابت کیا ہے کہ چوں کہ سوموار کا دن ہونا قطعی الثبوت ہے اور 12ربیع الاول کو سوموار ہوتا ہی نہیں ہے، لہذا یہ تاریخ ہوہی نہیں سکتی؛ البتہ صحیح امکانی صورت یکم ربیع الاول ہے، اس لیے تاریخ وفات نبوی ﷺ یکم ربیع الاول ہے۔ تفصیلات کے لیے سیرت النبی کی مکمل عبارت پیش خدمت ہے۔”تاریخ وفات کی تعیین میں راویوں کا اختلاف ہے۔ کتب حدیث کا تمام تر دفتر چھان ڈالنے کے بعد بھی تاریخ وفات کی مجھ کو کوئی روایت احادیث میں نہیں مل سکی۔ ارباب سیر کے ہاں تین روایتیں ہیں : یکم ربیع الاول۔ دوم ربیع الاول اور 12/ ربیع الاول۔ ان تینوں روایتوں میں باہم ترجیح دینے کے لیے اصول روایت و درایت دونوں سے کام لینا ہے۔ اور روایت دوم ربیع الاول کی روایت،ہشام بن محمد بن سائب کلبی اور ابو مخنف کے واسطہ سے مروی ہے۔ (طبری، ج/4، ص/ 1815)۔ اس روایت کو گو اکثر قدیم مورخوں (مثلا یعقوبی و مسعود وغیرہ) نے قبول کیا ہے؛ لیکن محدثین کے نزدیک یہ دونوں مشہور دروغ گو اور غیر معتبر ہیں ۔ یہ روایت واقدی سے بھی ابن سعد و طبری نے نقل کی ہے۔ (طبقات ابن سعد، جز 2، ص/ 57، جز وفات)۔ لیکن واقدی کی مشہور ترین روایت جس کو اس نے متعدد اشخاص سے نقل کیا ہے، وہ 12/ ربیع الاول کی ہے۔ (ایضا، ص/ 58) البتہ بیہقی نے دلائل میں بسند صحیح سلیمان التیمی سے دوم ربیع الاول کی روایت نقل کی ہے۔ (نور النبراس ابن سید الناس ذکر وفات)۔ لیکن یکم ربیع الاول کی روایت ثقہ ترین ارباب سیر موسیٰ بن عقبہ سے اور مشہور محدث امام لیث مصری سے مروی ہے۔ (فتح الباری، ج/8، ص/ 98)۔ امام سہیلی نے روض الانف میں اسی روایت کو اقرب الیٰ الحق لکھا ہے۔ (ج/2، ص/372 ذکر وفات مطبع جمالیہ مصر: 1332ھ/ 1914)۔ اور سب سے پہلے امام مذکور ہی نے درایۃ اس نکتہ کو دریافت کیا کہ 12/ ربیع الاول کی روایت قطعا ناقابل تسلیم ہے، کیوں کہ دو باتیں یقینی طور پر ثابت ہیں : روز وفات دو شنبہ کا دن تھا(صحیح البخاری1387، و صحیح مسلم60945) اس سے تقریبا تین مہینے پہلے ذی الحجہ 10ھ کی نویں تاریخ کو جمعہ کا دن تھا۔ (صحیح بخاری، تفسیر الیوم اکملت لکم دینکم: 6:460)۔ 9/ ذی الحجہ 10ھ بروز جمعہ سے 12ربیع الاول ذی الحجہ تک حساب لگاؤ۔ ذی الحجہ، محرم، صفر، ان تینوں مہینوں کو خواہ 29-29، خواہ 30-30۔ بعض 30؛ کسی حالت اور کسی شکل سے 12ربیع الاول کو دو شنبہ کا دن نہیں پڑسکتا۔ اس لیے درایۃ بھی یہ تاریخ قطعا غلط ہے۔ دوم ربیع الاول کے حساب سے اس وقت دو شنبہ پڑسکتا ہے، جب تینوں مہینے 29کے ہوں ۔ جب دو پہلی صورتیں صحیح نہیں ہیں ، تو اب صرف تیسری صورت رہ گئی ہے، جو کثیر الوقوع ہے، یعنی یہ کہ دو مہینے 29کے اور ایک مہینہ 30کا لیا جائے، اس حالت میں یکم ربیع الاول کو دو شنبہ کا روز واقع ہوگا اور یہ ثقہ اشخاص کی روایت ہے۔ ذیل کے نقشہ سے معلوم ہوگا کہ اگر 9/ ذی الحجہ کو جمعہ ہو تو اوائل ربیع الاول میں اس حساب سے دو شنبہ کس کس دن واقع ہوسکتا ہے:مفروضہ صورت1: ذی الحجہ، محرم اور صفر سب 30دن کے ہوں ،6،13۔ مفروضہ صورت 2: ذی الحجہ،محرم اور صفر سب29 دن کے ہوں ۔2، 9، 16۔ مفروضہ صورت 3۔ذی الحجہ29، محرم29اور صفر 30کا ہو۔1،8،15۔ مفروضہ صورت4: ذی الحجہ 30/ محرم29اور صفر29کا ہو۔1،8، 15۔ مفروضہ صورت 5: ذی الحجہ29، محرم30اور صفر29کا ہو: 1،8،5۔مفروضہ صورت6: ذی الحجہ 30، محرم29اور صفر30کا ہو: 7، 14۔مفروضہ صورت7:ذی الحجہ 30، محرم30اور صفر29کا ہو۔7،14۔مفروضہ صورت8 : ذی الحجہ 29اور محرم30اور صفر30کا ہو: 7،14۔ان مفروضہ تاریخوں میں میں سے 6-7-8-9-13-14-15خارج از بحث ہیں کہ علاوہ اور وجوہ کے ان کی تائید میں کوئی روایت نہیں ۔ رہ گئیں یکم اور دوم تاریخیں ۔ دوم تاریخ صرف ایک صورت میں پڑ سکتی ہے، جو خلاف اصول ہے۔ یکم تاریخ تین صورتوں میں واقع ہوسکتی ہے اور تینوں کثیر الوقوع ہیں اور روایت ثقات ان کی تائید میں ہیں ، اس لیے وفات نبوی کی صحیح تاریخ ہمارے نزدیک یکم ربیع الاول 11ھ ہے۔ اس حساب میں فقط رویت ہلال کا اعتبار کیا گیا ہے، جس پر اسلامی قمری مہینوں کی بنیاد ہے، اصول فلکی سے ممکن ہے کہ اس پر خدشات وارد ہوسکتے ہیں ۔ کتب تفسیر میں آیت: الیوم اکملت لکم دینکم، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اس آیت کے یوم نزول (9/ ذی الحجہ10ہجری) سے روز وفات تک کے 81دن ہیں ۔ دیکھو ابن جریر، ج/6ص/44و ابن کثیر، ج/2، ص/ 13و بغوی وغیرہ)۔ ہمارے حساب سے9/ ذی الحجہ10ھ سے لے کریکم ربیع الاول تک دو 29اور ایک مہینہ 30لے کر جو ہماری مفروضہ صورت ہے، پورے 81/ دن ہوتے ہیں ۔ ابو نعیم نے بھی دلائل میں بسند یکم ربیع الاول تک تاریخ وفات نقل کی ہے۔ (ص/146)۔“ (حاشیہ سیر ت النبی، جلد دوم، ص/ 530-31)جدید تحقیقاتجدید فلکیات کے ماہر حضرت مولانا ثمیر الدین صاحب قاسمی چیئرمین ہلال کمیٹی لندن کی تحقیق یہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ کی تاریخ پیدائش9/ربیع الاول، مطابق20/اپریل 571ء (ثمیری کلینڈر ، ص؍29)اور تاریخ وصال13/ربیع الاول11ھ، مطابق8/جون 632ء بروز پیر ہے۔ (ثمیری کلینڈر، ص/341)ماہر فلکیات مولانا ثمیر الدین قاسمی چیئرمین ہلال کمیٹی لندن لکھتے ہیں کہ:26؍ جنوری 632ءکی شام کو مکہ مکرمہ کے افق پر پونے سات ڈگری (6:44) ڈگری چاند اونچا تھا ، عام حالات میں ؍9 ڈگری پر چاند نظر آتا ہے ،لیکن پونے سات ڈگری پر دور بین سے نظر آنا ممکن ہے اہل فلکیات ایسا کہتے ہیں ، اس لیے جب9؍ذی الحجہ10ھ کو جمعہ کا دن مانیں، تو یہ کہنا پڑے گا کہ26؍ جنوری632ء کی شام کو حضوراکرم ﷺ نے چاند دیکھا اور 27؍ جنوری 632ء کو ذی الحجہ10 ھ کی پہلی تاریخ ہوئی ۔ اور جمعہ کے دن 9؍ ذی الحجہ 10ھ ہوئی ۔ یہ ایک حقیقت ہے۔ (ثمیری کلینڈر، ص؍337)حضرت ماہر فلکیات اسی کلینڈر میں آگے تحریر فرماتے ہیں کہ:حضور ﷺ کے وصال کی تاریخ:عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ...... - [اکیسویں صدی سے دیار حبیب صلی اللہ علیہ وسلم (سعودی عرب) سے ہندستانی مسلمانوں کے روابط](https://jahazimedia.com/?p=1659) - [پیرنٹنگ](https://jahazimedia.com/?p=1654) - [آج کے دور میں جمعیت علما کے فارمولے کی اہمیت](https://jahazimedia.com/?p=1650) - [اکیسویں صدی سے دیار حبیب صلی اللہ علیہ وسلم (سعودی عرب) سے ہندستانی مسلمانوں کے روابط](https://jahazimedia.com/?p=1645) - [اسلام ، تصورِ آزادی كا معمار](https://jahazimedia.com/?p=1643): حضرت انسؓ راوی ہیں کہ ہم لوگ حضرت عمر ؓ کے پاس تھے کہ مصر کے ایک قبطی نے فریاد کی ، آپ ؓ نے دریافت کیا تو اس نے کہا : عمر وبن العاص ؓ نے مصر میں گھوڑ دوڑ کرائی ، جس میں میرا گھوڑا آگے نکل گیا اور لوگوں نے اسے دیکھا بھی ، مگر محمد بن عمر و بن العاصؓ کہنے لگے کہ بخدا ! - [بچوں کی تدریس کے سولہ جامع اصول: مولانا سید محمد میاں صاحب](https://jahazimedia.com/?p=1641) - [تعلیم و تدریس کا انتہائی اہم اصول:تعلیم بالمقاصد: مولانا سید محمد میاں صاحب](https://jahazimedia.com/?p=1639) - [21 ویں صدی سے دیار حبیب صلی اللہ علیہ وسلم ( سعودی عرب) سے ہندستانی مسلمانوں کے روابط](https://jahazimedia.com/?p=1636) - [قرآن کریم](https://jahazimedia.com/?p=1633): اور اس میں آدمی یہ بھی سوچتا ہے میں گھر میں بیٹھ کر بھی دیکھ سکتا ہوں، ایسا نہیں ہوتا۔ قرآنِ پاک کو کیسے سمجھایا جائے گا تو اس کو علماء کہتے ہیں: «يُفَسِّرُ بَعْضُهُ بَعْضًا»، قرآنِ پاک کی ایک آیت دوسری آیت کی تشریح کرتی ہے۔ آدمی خود ہی دیکھنے لگے گا تو اُلٹ-سُلٹ ہو جائے گا۔ مثلاً قرآنِ پاک میں ایک جگہ ہے: «يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ» اللہ کے رسول آپ سے پوچھتے ہیں یہ لوگ جوئے اور شراب کے بارے میں؟ تو وہاں جواب دیا: «قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ» اس میں گناہ بہت ہے لیکن تھوڑا فائدہ بھی ہے۔ تو عام آدمی سوچے گا اگر یہی بات ہے تو بھئی میں احتیاط کے ساتھ شراب بھی پی لوں گا، جوا بھی کھیلوں گا، لیکن جب دوسری جگہ پانچویں پارے میں جائے گا، وہاں ہے: «لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَىٰ» جب نشے کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب بھی مت جاؤ۔ تو جو صرف اتنا پڑھے گا وہ کہے گا بھئی نماز کے وقت مت جاؤ، باقی ٹائم تو شاید گنجائش ہے۔ تیسری جگہ جا کے ساتویں پارے میں ہے: «رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ» یہ تو شیطان کے کاموں میں سے پلید ترین، اتنا پاک ترین کام ہے «فَاجْتَنِبُوهُ» اس سے بہت دور ہو جاؤ، بچو! - [اکیسویں صدی سے دیار حبیب صلی اللہ علیہ وسلم (سعودی عرب) سے ہندستانی مسلمانوں کے روابط](https://jahazimedia.com/?p=1631) - [6 چیزوں پر جنت کی ضمانت](https://jahazimedia.com/?p=1629): بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمدہ ونصلی علی رسولہ الكريم اما بعد! - [بچوں کو کھیل کے ذریعے تعلیم دینے کے لیے چند ضروری ہدایات](https://jahazimedia.com/?p=1626) - [دنیا کی سب سے اثر ترین شخیت: اس کا معیار فورتھ کلاس ملازمین ہے](https://jahazimedia.com/?p=1624) - [ایک کروڑ کے لیے کیا کروگے؟ ٹک ٹاک کا سوال](https://jahazimedia.com/?p=1622): ٹک ٹاک پر ایک عام سا سوال اکثر پوچھا جاتا ہے: "آپ ایک کروڑ کے لیے کیا کرو گے؟ کوئی مرچ کا پورا کھا جائے گا، کوئی فلاں کو جا کر تھپڑ لگائے گا، ایک کروڑ، پانچ کروڑ یا دس کروڑ کے لیے آپ کیا کرو گے؟" یہ سب ایک مذاق اور کھیل ہوتا ہے۔ہمارا اصل سوال یہ ہے کہ آپ اپنے ایمان کے لیے کیا دو گے؟ کتنا دو گے؟ سو کروڑ یا ایک ارب؟ تو کوئی سمجھدار مسلمان یا سچا مسلمان کہے گا کہ "اگر پوری دنیا کی دولت دے دو، تب بھی اس کے مقابلے میں ایک 'سبحان اللہ' دینے کے لیے تیار نہیں،" اور پھر اس کے بعد کہے گا کہ "ایک 'الحمدللہ' دینے کے لیے بھی تیار نہیں۔"کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے پاس جو دولت ہے، ہم کسی صورت میں بھی اس کو دینے کے لیے تیار نہیں، کیونکہ اس کا کوئی فائدہ ہی نہیں۔ یہ دولت تو آخرت کے لیے ہے۔اب ایمان والے، جب حضرت جبرائیل امین علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور سوال کیا: "ما الاسلام؟ ما الایمان؟ ما الاحسان؟" تو پتہ چلا کہ اللہ تعالی نے درجات مقرر کیے ہیں۔ انبیاء تو تھے ہی، صحابہ تو تھے ہی، اور ہمارے اکابر کے اندر اور تمام ہر انسان کے اندر یہ ہوتا ہے کہ جتنا ہو سکے ہر فیلڈ کے اندر سب سے اعلی مقام حاصل کرے، لیکن یہ ہر ایک کے لیے نہیں ہوتا۔ کروڑوں علماء گئے، الحمدللہ جنہوں نے جو کچھ کیا، لیکن تاریخ دیکھی جائے تو کتنے ملیں گے؟ چند ہزار، چلو لاکھوں بھی ہوں، لیکن تاریخ کے حساب سے ان میں بھی پھر اگر دیکھی جائے تو ہر صدی میں حضرت مولانا الیاس صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے تو لکھی ہے 'تاریخ دعوت و عزیمت'، بڑے بڑے جید علماء جو اپنے اپنے زمانے کے مجدد تھے، ان کا حال لکھا۔تو یہ اللہ تعالی نے جو مقام مقرر کیے ہیں، ہمارے اکابر اور ہر ایک کا، جب کہ حضرت جبرائیل امین نے جب پوچھا کہ "ما الاحسان؟" تو اس کا مطلب یہی ہے کہ احسان کی کوشش کرو۔حضرت گنگوہی نور اللہ مرقدہ فرمانے لگے ایک مرتبہ کہ ایک زمانہ گیا میں گنگوہ میں ہمارے شیخ، مکہ مکرمہ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی نور اللہ مرقدہ، لیکن میں کوئی کام ان کی اجازت کے بغیر نہیں کرتا تھا۔ اچھا! - [برادران وطن کے ساتھ ہندستانی مسلمانوں کا رشتہ](https://jahazimedia.com/?p=1619): اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔> إذا جاء نصر اللہ والفتح، ورایت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجا، فسبح بحمد ربک واستغفره، إنه کان توابا.> میرے بزرگورو اور بھائیو! - [مکتب کی تعلیم کے بغیر نماز میں قلب (دل) کے بجائے کلب (کتا) ہوسکتا ہے](https://jahazimedia.com/?p=1617): کورونا میں، دسمبر میں، مسجد کی شہادت کا واقعہ ہوا۔ اس کے بعد وہ مکمل پابندی کے ساتھ نماز پڑھنے لگے۔ میں نے ان سے پوچھا بھائی یہ اچانک تبدیلی کیسے آئی؟ کہنے لگے کہ قرآن ملے گا، مسجد کی شہادت کا انتقام نہیں ہوتا نا وہ دیکھ کر۔ اب کیا کر سکتے ہیں ہم کیا کر سکتے ہیں؟ تو میں نے اپنے آپ سے کہا کہ میں اپنے آپ کو نمازی تو بنا سکتا ہوں۔ میں نماز پڑھنا شروع کر دوں، یہ تو کر سکتا ہوں؟ بس، میں نے شروع کر دیا۔ایک دوست تھے، سگریٹ بہت پیتے تھے۔ رات گئے، کہیں شور ایسے سگریٹ ختم ہوگئی۔ ان کی آنکھ کھلی۔ وہ سگریٹ ڈھونڈ رہے ہیں، سگریٹ نہیں ہے۔ جان کے دیکھ رہے ہیں، پی کر پھینکی ہوئی ہو، تھوڑی بہت پی لو، وہ بھی نہیں۔ انہوں نے طے کیا کہ آج کے بعد سگریٹ نہیں پیئں گے۔ زندگی میں ایسی باتیں ہوتی ہیں۔ ایک آدمی ہے، جماعت میں چلا گیا، نیک کام میں لگ گیا، اب اس کو شوق ہوا، میں نماز پڑھوں، قرآن پڑھوں۔عربی الفاظ نہیں، زبان سے نکلتے۔ اردو زبان نہیں سیکھی ہے۔ اب وہ ہندی یا انگریزی کی مدد سے قرآن پڑھنا شروع کرتا ہے۔ ایک بڑی تعداد لوگوں کی ہے، جو قرآن ہندی یا انگریزی سے پڑھ رہے ہیں۔ وہ ذرا لوگوں سے سنے۔ عربی زبان بڑی زبان ہے۔ وہ حروف نہ ہندی میں ہیں، نہ انگریزی میں ہیں۔ اردو کے علاوہ انہی زبانوں کے اندر بولی جا رہی ہے، کسی زبان میں الفاظ نہیں ہیں۔جیسے، جو ادا کرے گا، مثلاً:جیم, زال, زے, صواد, زوئے۔پھر ریپیٹ کرتا ہوں:جیم, زال, زے, صواد, زوئے۔اب لائیے انگلش میں آپ، ج (J)، یا زیڈ (Z)۔اس کے اندر، وہاں جو کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ کیا چیز ہے؟کہ جیم ہے، کہ زال ہے، کہ زے ہے، کہ صواد ہے، کہ زوئے ہے، کیسے بات کرو گے؟جب کہ عربی میں حروف کے بدلنے سے معنی بدل جاتے ہیں۔جیم سے آپ کہیں، جَلّ (عظمت کے معنی میں، اللہ جَلَّ جَلَالُهُ)۔زال سے کہیے، زَلَّ (ذلت کے معنی میں، رسوائی کے معنی)۔زے سے کہیے، زَلَّ (لغزش کے معنی میں)۔صواد سے کہیے، زَلَّ (گمراہی کے معنی میں)۔زوء سے کہیے، زَلَّ (سایہ پڑنے کے معنی میں)۔یہ میں نے آپ کو مثال دی۔یہ الفاظ اردو میں تو ہیں۔ اردو زبان عربی زبان کو کور کرتی ہے۔ دیگر ہندی، انگلش، سنسکرت، کنڑ، گجراتی، مراٹھی، کوئی بھی زبان کور نہیں کرتی۔ وہ حرف ہوتے ہی نہیں۔اسی لیے کہا جاتا ہے کہ بچوں کو بچپن میں قرآنِ پاک عربی تلفظ کے ساتھ پڑھوائیے۔ آج سے پچیس تیس سال پیچھے آپ دوڑ جائیں، تو مکاتب کے اندر ایک کتابچہ ہوتا تھا، یسرنا القرآن، جس کو آپ سندر قرآن کہتے ہو۔ ایک استاد، پچاس بچے بیٹھے ہیں۔ استاد نے چھڑی کھینچی ہوئی، ہاتھ۔ اب اس زمانے کے پڑھے ہوئے لوگ نمازی بنیں گے، چھوٹی سی، بڑی سی، چھوٹا کام، بڑا کام۔ جب انہوں نے سین اور شین میں فرق نہیں کیا، ان کو چھوٹی سین کہا جب تو بڑی سین کہا تو سین ہی رہ گیا، شین تو نکلتی نہیں تھی۔ ایک چھوٹا کام، ایک بڑا کام، اب فرق کیا کروایا؟ کام نکلے گا کیسے؟ اب فرق کیا ہوگا؟ جس کو آپ چھوٹا کام کہہ رہے ہیں، جس کو آپ بڑا کام کہہ رہے ہیں، اس سے کہیے، کل... - [اکیسویں صدی سے دیار حبیب صلی اللہ علیہ وسلم (سعودی عرب) سے ہندستانی مسلمانوں کے روابط](https://jahazimedia.com/?p=1614) - [اکیسویں صدی سے دیار حبیب صلی اللہ علیہ وسلم (سعودیہ عربیہ) سے ہندستانی مسلمانوں کے روابط](https://jahazimedia.com/?p=1611) - [دل پل میں تولہ ہوتا ہے اور پل میں ماشا: مولانا محمود مدنی صاحب](https://jahazimedia.com/?p=1599): تین چیزیں ایسی ہیں، جن کا ذکر کرنے والے کو حاصل ہونے والا ایک تو نیت کا اختلاف ہے جب بندہ کوئی عمل کر رہا ہوتا ہے تو اس عمل کے دو مقصد ہو سکتے ہیں۔ ایک مقصد اللہ تعالی کی رضا، اس کے ہاں قبولیت اور دوسرا مقصد وہ جو نیت کے بگاڑ کی وجہ سے ہوتا ہے، دکھاوا، نمائش اور دنیا کی تعریف، اس کا مقصد تو اللہ تعالی کے ذکر کی برکت سے اگر اس پر مداومت ہو جائے، تو اللہ تعالی کے ذکر کی برکت سے نیت کے بگاڑ میں یہ ترمیم ہو جاتی ہے کہ اگر بگاڑ اتا بھی ہے تو باقی نہیں رہتا۔ انسان فوراً متوجہ ہو جاتا ہے، کبھی دیر لگتی ہے متوجہ ہونے میں، لیکن متوجہ ہو جاتا ہے کہ نہیں۔ اس طرح سے کام کرنے سے کام نہیں ہوتا۔ اور ہمارے کام کرنے کا یہ مقصد بھی نہیں۔ تو اس فقر کے فائدوں میں سے سب سے بڑا فائدہ تو ایمان کا خاتمہ ہے، جس کا تذکرہ بار بار ہوتا ہے۔ کہ اللہ تعالی کے ذکر پر مداومت۔ مداومت کا مطلب پابندی۔ اگر پابندی سے اللہ کا ذکر کیا جائے، چاہے تھوڑا ہی ہو، لیکن پابندی سے کیا جائے، ریگولر کیا جائے۔ وہ جو آدمی کو کبھی شوق ہوتا ہے اور اس شوق میں پیدا ہوا اور جذبہ پیدا ہو گیا، خوب شوق پیدا ہو گیا، بندے نے دن دن جاگ کر، رات کو جاگ کر خوب عبادت کرلی اور پھر پڑھ کر سو گئے، اب مانو ہفتہ بھی چھٹی ہو گئی۔ تو یہ خاص خاص موقعے آتے ہیں آپ نے دیکھا ہوگا تو سب لوگوں کو شوق ہوتا ہے۔ اچھی بات ہے، خاص موقعوں پر بھی کرنا چاہیے، رمضان المبارک آتا ہے، لیکن روزانہ کے معاملات، ان میں صبح شام کچھ ذکر ضرور ہونا چاہیے۔ تو پابندی سے، مداومت سے جو لوگ اللہ کا ذکر کرتے ہیں، ان کو سب سے بڑا اور پہلا انعام تو یہی ملتا ہے کہ ایمان پر خاتمہ ہے۔ خاتمہ ایمان پر چاہیے تو اللہ تعالی کے ذکر پر مداومت ضروری ہے۔ آسان راستہ ہے اس اگر کسی کے دل میں یہ طلب ہو جائے پیدا کہ پروردگار! - [چار ملعون لوگ](https://jahazimedia.com/?p=1597): بسم اللہ الرحمن الرحیمنحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم اما بعد:عن ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: "اربع ملعونون فی الدنیا والآخرة ومؤمنۃ الملائکة: رجل جعله اللہ ذکراً فأنث وخنث بنفسه، وامرأة جعلها اللہ أنثى فتذکرت وتشبھت بالرجال، ورجل یضل الأعمی، ورجل حصور ولم یجعل اللہ حصوراً الا یحیی بن زکریا علیہ الصلاۃ والسلام" أو کما قال علیہ الصلاۃ والسلام۔درود پاک کا نذرانہ پیش فرمائیں:"اللہم صلی علی سیدنا و مولانا محمد و علی آلہ و صحبہ و بارک و سلم"بھائیوں اور بزرگوں، نوجوان احباب اور دینی حضرات! - [نجات دین اسلام ماننے ہی میں ہے: مولانا اشرف عباس صاحب استاذ دارالعلوم دیوبند](https://jahazimedia.com/?p=1595): ہم سب سب ماننے، ایک اللہ کو ماننے والے اور ہم تک یہ دین پہنچا اور ہم کو سب سے بڑا رہنماء اور واسطہ بنے سرور کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کہ سب ماننے والے اور سب کی تائید کرنے والے۔اس لیے ہمارے یہاں دین کا عقیدہ، جیسے توحید کا عقیدہ دنیا کی آخری حد ہے، اسی طرح رسالت کا عقیدہ بھی انتہائی پر کشش اور انسان کے لیے بہت اہم ہے۔ ایک ہے توحید اور ایک ہے رسالت، اور ایک ہے معاد (یعنی مرنے کے بعد دوبارہ سب کو زندہ ہونا)۔تو رسالت کا یا عقیدے کا مطلب یہ ہے کہ ہم سب کو دل سے اس بات کا یقین رکھنا ہے کہ اپنے اپنے وقت میں جو انبیاء کرام علیہم السلام اللہ تعالی کا پیغام اس کے بندوں کے نام لے کر آئے، وہ سب برحق تھے, سچے تھے اور آخر میں سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم یہ پیغام لے کر آئے، آپ اللہ کے آخری رسول اور آخری پیغمبر بنے۔اس لیے آپ کے بعد نہ کوئی نبوت کا دعویٰ کر سکتا ہے، نہ کوئی رسالت کا دعویٰ کر سکتا ہے، یہ ہمارے عقیدے کا حصہ ہے، اس لیے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جو رسالت اور آپ کا جو پیغام ہے، یہ پوری دنیا کے لیے ہے، تمام خطوں میں بسنے والے سارے انسانوں کے لیے ہے، اور رہتی دنیا تلک ہے۔اور انبیاء کرام علیہم السلام آتے تھے، وہ کسی خاص خطے کی طرف مبعوث کیے جاتے تھے، خاص لوگوں کی طرف، لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سب لوگوں کے لیے بھیجے گئے اور ہمیشہ کے لیے، اب آپ کے بعد کسی نئے پیغام کی ضرورت نہیں ہے، نہ کسی نئے پیغمبر کی ضرورت ہے، نہ کسی چیز کی ضرورت ہے۔دنیا میں اور بھی انبیاء کرام علیہم السلام کو ماننے والے غلط یا صحیح جس طریقے پر بھی ہو دین کے نام لیتے ہیں، لیکن آج تک دنیا میں کسی نبی نے یہ دعویٰ نہیں کیا ہے کہ میں پوری انسانیت کے لیے، پوری کائنات کے لیے ہوں۔ نہ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ بات کہی، ظاہر ہے کہ آج بھی اگر کوئی یہودی بننا چاہے تو نہیں بن سکتا، اس لیے کہ موسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے خود ہی کہتے ہیں کہ ہمارا جو دین ہے، وہ نسلی مذہب ہے، کسی اور نسل سے تعلق رکھنے والے کے لیے یہ دین نہیں ہے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام بائبل کا جو ایڈیشن ہے، آپ اس کے ٹائٹل پر دیکھ سکتے ہیں، فوٹو بنا رکھا ہے کہ ایک بزرگ شخصیت ہیں، وہ ادھر ادھر جو بکریاں بھاگ رہی ہیں، ان کو راہِ راست پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بائبل میں ایک چیپٹر ہے، اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ میں تو صرف بنی اسرائیل کی جو گڈی ہوئی بکریاں ہیں, جو ریوڑ سے بھاگ رہی ہیں، انہیں راہِ راست پر لانے کے لیے آیا ہوں۔تو یہ انبیاء کرام علیہم السلام جن کے جو فالوورز ہیں اور جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا مذہب عالمی ہے، خود یہ انبیاء کرام علیہم السلام کی تصریح موجود ہے کہ نہیں، ہم کسی خاص نسل کے لیے ہیں، خاص وقت کے لیے ہیں، خاص خطے کے لوگوں کے لیے ہیں۔ لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واحد پیغمبر ہیں، آخری پیغمبر ہیں، پہلے اور آخری پیغمبر ہیں، جنہوں نے کہا: "یا ایہا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا" (لوگو! - [درس قرآن کی مجلس میں ضرور شرکت کریں: نائب امیر الہند مفتی محمد سلمان منصور پوری استاذ دارالعلوم دیوبند کا بیان](https://jahazimedia.com/?p=1593): محضرات علمائے کرام، حاضرین و محترم!جمعیت علماء ہند کے تعمیری پروگرام میں ایک اہم جز یہ ہے کہ جابجا درسِ قرآن کریم کا سلسلہ جاری کیا جائے۔ چونکہ ہدایت کی تاثیر جیسی اللہ تعالی کے کلام میں ہو سکتی ہے، وہ کسی مخلوق کے کلام میں نہیں ہو سکتی۔ اور امت کو زیادہ سے زیادہ قرآن کریم سے جوڑنے کی اور وابستہ کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ قرآن کریم روشنی کا مینار، العروة الوثقیٰ ہے، جو بھی اس سے وابستہ ہو جائے گا، انشاء اللہ اس کا دنیا آخرت میں بیڑا پار ہو جائے گا۔ہمارے اکابر رحمہ اللہ نے اس سلسلے میں جابجا محنتیں فرمائیں اور جہاں جہاں بھی یہ سلسلہ جاری ہوا، عوام و خواص میں اس کے فوائد و ثمرات ظاہر ہوئے۔ اسی مناسبت سے یہاں مرکزی دفتر میں ہر روز عصر کے بعد کچھ دیر درسِ قرآن کا سلسلہ جاری کیا گیا ہے تاکہ یہ یاد دہانی کا اور دوسرے لوگوں کو اپنے اپنے مقامات پر جا کر اس سلسلے کو جاری کرنے کا ذریعہ بن جائے۔مولانا یاسین صاحب روزانہ اس کو بیان فرماتے ہیں۔ جس کو بھی موقع ہو، پانچ دس منٹ کی بات ہے، وہ اپنی قربانی دے کر اس میں شریک ہونا چاہیے۔ یہ نہیں کہ بس سلام پھیرا اور چل دیے۔ کوئی بات قرآن پاک کی کان میں پڑ جائے گی تو انشاء اللہ ضرور نفع بخش ہوگی۔اس وقت آپ کے سامنے ایک آیت پڑھی ہے جو بار بار آپ نے سنی ہوگی، اور جمعہ کے خطبے میں بھی، دوسرے خطبے میں بھی پڑھی جاتی ہے۔ اور چونکہ آج جمعہ کا دن بھی ہے، اس لیے مزید اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالی فرما رہے ہیں کہ اللہ تعالی اور تمام فرشتے پیغمبر علیہ السلام پر صلاۃ بھیجتے ہیں۔اور صلاۃ کی نسبت جب اللہ تعالی کی طرف ہوتی ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نبی پر رحمتیں نازل فرماتے ہیں۔ بے شمار رحمتیں ہر وقت پیغمبر علیہ السلام پر نازل ہوتی ہیں۔ اور فرشتوں کی طرف جب صلاۃ کی نسبت ہوگی تو مطلب یہ ہے فرشتے دعائے رحمت کرتے ہیں۔اور فرشتے ایک دو نہیں ہیں، لاکھوں، لاکھ، کروڑوں، کروڑ، اربوں، ارب، کھربوں، کھرب ہیں۔ وما يعلم جنود ربك إلا هو (اللہ تعالی نے فرمایا کہ تیرے رب کے لشکروں کو رب کے علاوہ کوئی جانتا ہی نہیں)۔ اور سب فرشتے الملائکہ میں، الف لام جو ہے عموم کو ثابت کرنے کے لیے، تمام فرشتے پیغمبر علیہ السلام خاتم النبیین علیہ الصلوۃ والسلام کے لیے دعائے رحمت فرماتے رہتے ہیں۔اس کے بعد اللہ تعالی نے ہمیں اور آپ کو اور قیامت تک انے والے تمام اہل ایمان کو خطاب کیا ہے کہ جس عظیم شرافت والے کام میں تمام فرشتے لگے ہوئے ہیں، اے ایمان والو! - [کیا ہم نے اپنے وطن کی قدر کرنا چھوڑ دیا ہے؟](https://jahazimedia.com/?p=1589) - [بھارت چھوڑو تحریک" کا سبق – صرف ماضی کی یاد نہیں، حال کی رہنمائی بھی ہےایم. ڈبلیو. انصاری (آئی.پی. ایس) ریٹائرڈ، ڈی. جی](https://jahazimedia.com/?p=1587) - [کھلونا پر مبنی تدریس (Toy-Based Learning)](https://jahazimedia.com/?p=1585): یہ کھیل پر مبنی تدریسی طریقہ کار کا ایک اہم ذیلی حصہ ہے۔ چھوٹے بچے براہ راست تجربات اور حقیقی اشیاء کے ساتھ کام کرنے کے ذریعے سیکھتے ہیں۔ وہ کوشش کرتے ہیں، دریافت کرتے ہیں اور سیکھتے ہیں۔ کلاس روم کے ماحول کو کھلونوں اور چھوٹی اشیاء کے ساتھ کھیلنے کے ذریعے دریافت کے اس جذبے کو پروان چڑھانا چاہیے۔ ہر بچے کے اردگرد بہت سے مقامی کھلونے آسانی سے دستیاب ہوتے ہیں۔ درس و تدریس کے لیے ان کا استعمال کیا جانا چاہیے۔چاہے کھلونا سادہ ہو یا پیچیدہ، اس میں بچے کے سیکھنے کے لیے کوئی نہ کوئی سبق پوشیدہ ہوتا ہے۔ جب کوئی بچہ کسی کھلونے کو پکڑتا ہے اور اس کے ساتھ حرکت کرتا ہے، تو وہ اپنی حسی حرکی مہارتوں (motor skills) کی مشق کر رہا ہوتا ہے اور اپنے ہاتھ اور آنکھ کے توازن کے ساتھ ساتھ جسمانی طاقت کو مضبوط بنا رہا ہوتا ہے۔ ایسے کھلونے جن میں بچوں کو دھکیلنے، کھینچنے، پکڑنے، دبانے، گھمانے، یا کسی اور طریقے سے اپنے ہاتھوں اور جسم کا استعمال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ کھلونا کوئی کام کرے، بچے کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جب کوئی بچہ بلاکس سے کوئی مینار بناتا ہے اور آخرکار اسے زمین پر گرتے ہوئے دیکھتا ہے، تو وہ مختلف تصورات سیکھتا ہے اور اس گرنے کے عمل کو روکنے کے لیے کسی حل کے بارے میں سوچتا ہے۔ ایک پہیلی (puzzle) بچے کو نمونے (patterns) دریافت کرنے میں مدد کرتی ہے۔ جب بچے بلاکس، گڑیا، جانوروں والے کھلونے، گیندیں، چھوٹی کاریں، یا فرضی کھلونے استعمال کرتے ہیں، تو وہ کہانیاں بنانا اور اپنے ذہنوں میں مختلف مناظر کو جینا شروع کر دیتے ہیں۔ بورڈ گیمز بچوں کو سادے اصولوں پر عمل کرنا سکھاتے ہیں اور زبان اور ریاضی کی سمجھ بوجھ کو بہتر بناتے ہیں۔پہیلیوں (Puzzles) میں وجہ اور اثر، اسٹریٹجک سوچ اور مسئلہ حل کرنے کے عمل کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ دستکاری کے مواد کا استعمال جیسے کہ چکنی مٹی (clay)، موتی، کولاج کا مواد، رنگ، دھلنے والے انک پیڈ اور مہریں (stamps)، دھلنے والے مارکر، اور کینچی، تخلیقی اظہار اور جمالیاتی شعور کو فروغ دیتے ہیں۔ پیچیدہ تعمیراتی سیٹس اور لوازمات بچوں کو اس بات کا تجربہ کرنے کی اجازت دیتے ہیں کہ اشیاء کیسے فٹ ہوتی ہیں اورایک ساتھ کام کرتی ہیں، ان کی باریک حسی حرکی مہارتوں (fine motor skills) میں اضافہ کرتی ہیں، اور ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کرتی ہیں۔ فٹنس اور تفریحی اشیاء جیسے کہ گیندیں، بین بیگ (beanbags) اور رسی کودنے والے بچوں کو خود اعتمادی حاصل کرنے، ورزش کرنے، تناؤ دور کرنے، دوسروں کے ساتھ مزہ کرنے، اور باریک اور موٹی حسی حرکی مہارتوں (fine and gross motor skills) کو فروغ دینے میں مدد کرتے ہیں۔کھلونے آسانی سے دستیاب اشیاء جیسے کہ کپڑے، بوتلیں، گتے کے ڈبے، سوت، کھانا پکانے کے برتن، چوڑیاں، پائپ کلینرز اور صنوبر کے شنک (pinecones) سے بھی بنائے جا سکتے ہیں۔روایتی طور پر استعمال ہونے والے کھلونوں کی کچھ مثالیں درج ذیل ہیں: * رنگ سیٹ پزل (Ring Set Puzzle): یہ لکڑی سے بنے ہوئے چھوٹے بڑے دائروں (rings) کا ایک سیٹ ہے۔ کرناٹک کے علاقے چناپٹنا میں تیار کردہ، اسے ترتیب وار (seriation) سیکھنے کے لیے استعمال کیا جا सकता ہے اور یہ باریک اور موٹی حسی حرکی مہارتوں کی نشوونما، اور رنگ اور شکل کی سمجھ بوجھ میں بھی مدد کرتا ہے۔ * دھنگلی (سوتی گڑیا - Dhingli): دھنگلی گجرات کے روایتی روایتی کھلونوں میں سے ایک ہے۔ یہ روئی سے بنی ہوتی ہے اور اسے مختلف دلکش رنگوں جیسے کہ سرخ، نیلے، سبز، پیلے رنگ کے کڑھائی والے کپڑے سے سجایا جاتا ہے۔ یہ گڑیا چھوٹے اور بڑے دونوں سائز میں دستیاب ہیں۔ انہیں فرضی کھیل (dramatic play) کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ بہت چھوٹے بچوں کے ساتھ سونے اور خود کو محفوظ محسوس کرنے کے لیے بھی استعمال کی جاتی ہیں۔ * رسوئی (کچن سیٹ - Rasoi): رسوئی ہندوستان کے کئی حصوں میں بچوں کی طرف سے کھیل کے لیے استعمال ہونے والے باورچی خانے کے برتنوں کا ایک سیٹ ہے۔ یہ لکڑی سے بنے ہوتے ہیں اور دلکش اور پرکشش نظر آنے کے لیے ان پر رنگ کیا جاتا ہے۔این سی ای آر ٹی (NCERT) کی 'کھلونا پر مبنی تدریسی طریقہ کار' کی ہینڈ بک اس کے لیے ایک بہترین رہنما ہے۔4.4.4 گیت اور نظمیں (Songs and Rhymes)بچے گیت اور نظمیں گانا، اور موسیقی پر رقص کرنا پسند کرتے ہیں۔ گیت زبان سیکھنے کا ایک شاندار ذریعہ بھی ہیں۔ایسے گیت منتخب کیے جا سکتے ہیں جو اس تصور کی تائید کریں جو بچوں کو سیکھنے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر، گیت 'پانچ چھوٹے بندر بستر پر چھلانگ لگا رہے تھے، ایک نیچے گر گیا اور اس کے سر پر چوٹ لگ گئی، ماں نے ڈاکٹر کو فون کیا اور ڈاکٹر نے کہا، اب بستر پر کوئی بندر چھلانگ نہیں لگائے گا'۔یہ گیت جانوروں، ان کی حرکت، محتاط رہنے، چوٹ لگنے، ڈاکٹر کے کام اور گنتی کے بارے میں جاننے کے لیے استعمال کیا جا सकता ہے! - [طرحی غزل](https://jahazimedia.com/?p=1582) - [ویں صدی سے دیار حبیب صلی اللہ علیہ وسلم (سعودی عرب) سے ہندستانی مسلمانوں کے روابط](https://jahazimedia.com/?p=1579) - [ہر شخص ذمہ دار ہے اور اپنی ذمہ داری پر جواب دہ=مہتمم دارالعلوم دیوبند](https://jahazimedia.com/?p=1577): "الحمد للہ نحمده ونستعينه ونستغفره، ونؤمن به ونتوكل عليه، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا ومن سيئات أعمالنا، من يهد الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمدا عبده ورسوله.أما بعد، فاعوذ بالله من الشیطان الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم، "ألا كلكم راع وكلكم مسئول عن رعيته"محترم حضرات! - [بچوں کو کہانیوں کے ذریعے تعلیم دینے کے نفسیاتی طریقے](https://jahazimedia.com/?p=1574): کہانیاں بچوں کے لیے دنیا کی ایک کھڑکی کی مانند ہیں۔ وہ دلکش، خوبصورت اور سحر انگیز ہوتی ہیں! - [گناہوں کا ریویزن](https://jahazimedia.com/?p=1571): آج سوشل میڈیا کا استعمال صرف معلومات اور روابط تک محدود نہیں رہا، بلکہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ گناہوں کی تجدید (ریویزن) کا ایک ذریعہ بھی بنتا جا رہا ہے۔ انسان کو جن لغزشوں کو بھول جانا چاہیے، وہ انہیں بار بار دیکھا کر تازہ کرتا رہتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ خطرناک پہلو یہ ہے کہ بعض اوقات نیک اعمال، جیسے صدقہ، عبادت یا خدمتِ خلق، جب سوشل میڈیا پر نمود و نمائش اور شہرت کی نیت سے پیش کیے جاتے ہیں تو وہ اخلاص سے خالی ہو کر ریاکاری میں بدل جاتے ہیں، اور یوں ثواب کے بجائے گناہ کا سبب بن جاتے ہیں۔ایسی نازک صورتحال میں نبی کریم ﷺ کی ہدایت ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے کہمیری تمام امت کو معاف کیا جائے گا سوائے گناہ کا علانیہ (کھلم کھلا) کرنے والوں کے۔ اور علانیہ گناہ کرنے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ ایک آدمی رات کو کوئی (گناہ کا) کام کرے، پھر صبح ہو اور اللہ نے اس کا وہ گناہ چھپا رکھا ہو، لیکن وہ خود کہے کہ: 'اے فلاں! - [قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ](https://jahazimedia.com/?p=1568) - [بچوں کو کھیل کھیل میں تعلیم کے 27 طریقے: سید الملت حضرت مولانا محمد میاں صاحب نور اللہ مرقدہ](https://jahazimedia.com/?p=1563) - [کھیل کے ذریعے تعلیم](https://jahazimedia.com/?p=1561): سیکشن 4.4: کھیل کے ذریعے سیکھنا – گفتگو، کہانیاں، کھلونے، موسیقی، آرٹ اور کرافٹچھوٹے بچوں کے لیے کلاس رومز متحرک اور زندگی سے بھرپور ہوتے ہیں۔ بچے کئی طریقوں سے سیکھنے سے لطف اندوز ہوتے ہیں - بات چیت، سننا، کھلونوں کا استعمال، مواد کے ساتھ کام کرنا، پینٹنگ اور ڈرائنگ، گانا، ناچنا، بھاگنا اور کودنا۔ اساتذہ کے طور پر، ہم اپنے بچوں کے ساتھ کام کرنے کے لیے ان تمام طریقوں کا استعمال کرتے ہیں۔4.4.1 گفتگو (Conversations)زبان وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعے بچے اپنے آپ سے اور دوسروں سے بات کرتے ہیں، اور یہ الفاظ ہی ہیں جن کی مدد سے وہ اپنی حقیقت کو سمجھنا اور اسے بنانا شروع کرتے ہیں۔ زبان کو واضح اور مدلل طریقے سے سمجھنے اور استعمال کرنے کی صلاحیت سیکھنے کے لیے ضروری ہے۔> گفتگو بچوں کی لوگوں اور اپنے ارد گرد کی چیزوں سے جڑنے کی صلاحیت کے لیے بہت اہم ہے۔ کلاس روم میں بچوں کے ساتھ مسلسل گفتگو سے اعتماد کے تعلقات قائم کرنے میں مدد ملتی ہے۔کلاس روم میں گفتگو دو قسم کی ہو سکتی ہے: a. - [اکیسویں صدی سے دیار حبیب صلی اللہ علیہ وسلم (سعودی عرب) سے ہندستانی مسلمانوں کے روابط](https://jahazimedia.com/?p=1558) - [تعدد ازدواج كو روكنے كا قانون](https://jahazimedia.com/?p=1555) - [بھارت کی موجودہ حکومت،ایسٹ انڈیا کمپنی کی راہ پر!](https://jahazimedia.com/?p=1553) - [اکیسویں صدی سے دیار حبیب صلی اللہ علیہ وسلم (سعودی عرب) اور ہندستانی مسلمانوں کے روابط](https://jahazimedia.com/?p=1550) - [خیانت اعین: مولانا ابراہیم تاراپوری](https://jahazimedia.com/?p=1546): الحمد للہ، الحمد للہ نحمدہ ونستعینہ ونستغفره، ونعوذ باللہ من شرور انفسنا ومن سیئات اعمالنا، من یھدہ اللہ فلا مضل لہ ومن یضللہ فلا ھادی لہ۔> ونشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ، ونشھد ان سیدنا وحبیبنا ومولانا محمدا عبدہ ورسولہ۔> صلی اللہ تعالی علیہ وعلی آلہ واصحابہ وازواجہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا۔> اما بعد! - [اللہ تعالی ایمان والوں کے ولی ہیں: مفتی سلمان منصور پوری](https://jahazimedia.com/?p=1543): اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ، صَلَّى اللّٰهُ تَبَارَكَ وَتَعَالٰى عَلَيْهِ وَعَلٰى اٰلِهِ وَاَصْحَابِهِ وَذُرِّيَّاتِهِ اَجْمَعِيْنَ۔اَمَّا بَعْدُ! - [دل کی اصلاح: 7دسمبر 2024 کو مسجد عبد النبی نئی دہلی میں ماہانہ نشست سے مولانا محمود اسعد مدنی صاحب کا خطاب](https://jahazimedia.com/?p=1541): بعد الحمد والصلاۃیہ جو دل ہے، یہ انسان کا سردار ہے۔ اگر یہ سدھر جائے تو سب چیز سدھر جائے، اور اگر یہ بگڑ جائے تو سب چیز بگڑ جائے۔تو ذکر کرنے کے فائدوں میں سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ دل کا بگاڑ دور ہوتا ہے۔ ہر گندی چیز کو، خراب چیز کو صاف کرنے کے لیے الگ الگ طرح کی چیزیں ہوتی ہیں۔ صابن ہوتا ہے، پاؤڈر ہوتا ہے، سرف ہوتا ہے، فلاں ہوتا ہے، فلاں ہوتا ہے۔ دل کے زنگ کو اور میل کو دور کرنا، یہ اللہ کے ذکر کے ذریعے سے ہی ہو سکتا ہے۔اب دل کی خرابیاں کیا کیا ہیں؟تو بہت ساری خرابیوں میں سے چند خرابیاں ایسی ہیں جو بہت معروف ہیں، مشہور ہیں اور ہم سب لوگ اکثر ان میں مبتلا رہتے ہیں۔ اس میں لالچ ہے، حسد ہے، بُغض ہے (بغض کا مطلب دشمنی پال لینا، کینہ بھی اسی سے ملتی جلتی قسم ہے کینے کی، کہ وہ برائی جاتی ہی نہیں دل سے)، اسی طرح تکبر ہے (کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ایک صفت ہے، اسی کو زیب دیتا ہے وہ، تو انسان تکبر کرے تو وہ خدا کے ساتھ مقابلہ کرنے کے مترادف ہے۔ اللہ تعالیٰ کو جن چیزوں پر بہت غصہ آتا ہے، ان میں سے ایک تکبر ہے)، جھوٹ ہے۔تو اس طرح کی جو یہ بیماریاں ہم لوگوں نے پال رکھی ہیں، ان کو دور کرنے کے لیے اور اچھی خصوصیات دل میں جاگزیں کرنے کے لیے بہت سارے طریقے ہیں، ان طریقوں میں ذکر سب سے آسان اور سب سے اقرب (قریب ترین) طریقہ ہے۔اس کی مثال ایسی دیا کرتے ہیں، اکابر نے دی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کا قرب نصیب ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا قرب بھی نصیب ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کی توجہ بھی حاصل ہوتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ برائیوں سے... - [اکیسویں صدی سے دیار حبیب صلی اللہ علیہ وسلم اور ہندستانی مسلمان کے باہمی روابط](https://jahazimedia.com/?p=1538) - [تدریس کے 35 جدید طریقے](https://jahazimedia.com/?p=1534) - [ایجوکیشن کمیشن اور مدارسِ اسلامیہ](https://jahazimedia.com/?p=1531) - [وندے ماترم کو قانونی لزوم دینا مذہبی و آئینی آزادی پر حملہ ہےآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ](https://jahazimedia.com/?p=1529): آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے ترمیمی بل منظور کرکے وندے ماترم کی توہین کو قابلِ سزا جرم قرار دینے کے اقدام پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملک کے آئینی، سیکولر اور جمہوری مزاج کے منافی اور شہریوں کی مذہبی آزادی پر ایک سنگین حملہ قرار دیا ہے۔ بورڈ کے مطابق قانون سازی کے ذریعے کسی مخصوص مذہبی تصور یا عقیدے کو ملک کے تمام شہریوں پر مسلط کرنا دستورِ ہند کی بنیادی روح سے متصادم ہے۔آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے جاری کردہ اپنے بیان میں کہا کہ وندے ماترم کو قانونی جبر کے ذریعے تمام طبقات اور مذہبی برادریوں پر لازم کرنے کی کوشش نہ صرف نازیبا بلکہ دستور کے بنیادی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ دستور سازی کے مرحلے میں دستور ساز اسمبلی نے گہرے غور و خوض کے بعد وندے ماترم کے ابتدائی دو بندوں کو ہی قومی سطح پر قبول کیا تھا، جبکہ اس کے دیگر حصوں کے مذہبی مفاہیم کو ملک کے سیکولر کردار کے ساتھ ہم آہنگ نہیں سمجھا گیا تھا۔ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ وندے ماترم کے بعض مندرجات ایسے مذہبی تصورات پر مبنی ہیں جن میں وطن کو ایک دیوی کی صورت میں پیش کرکے اس کی وندنا کی دعوت دی گئی ہے۔ مسلمان کے لیے یہ تصور اس کے بنیادی عقیدۂ توحید سے صریحاً متصادم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسلمان صرف اللہ وحدۂ لاشریک کی عبادت کرتا ہے اور اس کی ذات، صفات، حقوق واختیارات میں کسی بھی درجے کا شرک اس کے ایمان کے منافی ہے۔ چنانچہ کسی مسلمان کو اس کے عقیدے کے خلاف کسی مذہبی مفہوم کے حامل گیت، نعرے یا عمل میں شرکت پر مجبور کرنا ناقابلِ قبول ہے۔انہوں نے کہا کہ دستورِ ہند کی دفعہ 25 ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل اور اس کی پیروی کی آزادی عطا کرتی ہے، جبکہ دفعہ 19 اظہارِ رائے کی آزادی کی ضمانت فراہم کرتی ہے۔ ان آئینی ضمانتوں کا واضح تقاضا ہے کہ کسی شہری کو اس کے مذہبی عقیدے اور ضمیر کے خلاف کسی گیت، نعرے، نظریے یا علامت کو اختیار کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ترجمان نے سپریم کورٹ کے معروف فیصلہ Bijoe Emmanuel بنام ریاستِ کیرالہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالتِ عظمیٰ نے حتیٰ کہ قومی ترانے جن گن من کے معاملے میں بھی یہ اصول تسلیم کیا کہ اگر کسی شخص کا مذہبی عقیدہ اسے کسی مخصوص عمل میں شرکت سے روکتا ہو تو اسے محض عدمِ شرکت کی بنیاد پر سزا نہیں دی جاسکتی۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ اظہارِ رائے کی آزادی میں بعض حالات میں خاموش رہنے کا حق بھی شامل ہے اور احترام کے ساتھ عدمِ شرکت کو بے احترامی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ وطن سے محبت اور وطن کی پوجا دو الگ تصورات ہیں۔ مسلمان اپنے وطن سے محبت کو اپنے دینی و شہری فریضے کا حصہ سمجھتے ہیں، لیکن وہ وطن کو معبود یا دیوی کا درجہ نہیں دے سکتے۔ انہوں نے کہا کہ حب الوطنی کا معیار کسی مخصوص نعرے یا گیت کی ادائیگی نہیں بلکہ ملک، اس کے آئین، عوام اور ان کے حقوق کے ساتھ وفاداری ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ ایسے حساس اور تقسیم پیدا کرنے والے اقدامات کے بجائے ملک کو درپیش حقیقی مسائل—بے روزگاری، مہنگائی، غربت، تعلیم، صحت، معاشی عدمِ مساوات اور سماجی ناانصافی—کے حل پر توجہ مرکوز کرے۔ عوام کی توجہ بنیادی مسائل سے ہٹا کر جذباتی اور مذہبی تنازعات کو ہوا دینا نہ ملک کے مفاد میں ہے اور نہ ہی جمہوریت کے۔ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ ایک مضبوط اور متحد ہندوستان وہی ہوگا جہاں ہر شہری کو مساوی عزت، انصاف اور آزادی حاصل ہو، جہاں کسی کی حب الوطنی کو اس کے مذہبی عقیدے کے ترازو میں نہ تولا جائے اور جہاں آئین کی بالادستی، مذہبی آزادی اور شہری حقوق کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جائے۔جاری کردہڈاکٹر وقار الدین لطیفیآفس سکریٹری--------------------------------------------PRESS RELEASEMaking Vande Mataram Legally Mandatory Is an Attack on Religious and Constitutional FreedomAll India Muslim Personal Law Board New Delhi, 31 July 2026:The All India Muslim Personal Law Board has expressed grave concern over the passage of an Amendment Bill by both Houses of Parliament making alleged disrespect to Vande Mataram a punishable offence. - [پنشادی:پڑھانے کے پانچ مراحل پر مشتمل طریقہ کار](https://jahazimedia.com/?p=1526) - [تدریس کی منصوبہ بندی (Planning for Teaching)](https://jahazimedia.com/?p=1524): تدریس ایک سوچا سمجھا اور ارادی عمل ہے جو بچوں میں سیکھنے کا عمل پیدا کرنے کی نیت سے کیا جاتا ہے۔ اس ارادی عمل کی بہترین منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے۔ منصوبہ بندی اچھی تدریس کی بنیاد (مرکز) ہے۔منصوبہ بندی میں حاصل کی جانے والی صلاحیتوں (competencies) اور نتائج، اپنائے جانے والے طریقہ تدریس (pedagogy)، استعمال ہونے والے وسائل، اور کی جانے والی جانچ (assessment) کے مطابق کلاس روم کے کاموں کی ساخت اور تنظیم شامل ہے۔ منصوبہ بندی میں بچوں کے لیے معاون سرگرمیاں، ہوم اسائنمنٹس، اور جو کچھ پڑھایا جا رہا ہے اس سے متعلق کلاس روم میں ڈسپلے (نمائش) بھی شامل ہیں۔منصوبے پورے تعلیمی سال، ٹرم (Term)، ہفتے، دن اور کسی ایک سبق (Lesson) کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ سالانہ اور ٹرم کے منصوبے بنانے کی ذمہ داری ریاست/ضلع/اسکول کی ہو سکتی ہے۔ اس لیے اساتذہ کو ہفتے، دن اور سبق کے لیے منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔4.2.1 تدریسی منصوبے کے اہم اجزاء (Components of a Teaching Plan)ایک اچھی منصوبہ بندی کے لیے نصابی مقاصد، حاصل کی جانے والی صلاحیتوں اور امکانی سیکھنے کے نتائج (Learning Outcomes) کے ساتھ ساتھ ان بچوں کے سابقہ معلومات (Prior Learning) کی سمجھ ہونا ضروری ہے جن کے لیے منصوبہ بنایا جا رہا ہے، اور دستیاب تدریسی مواد و موادِ تعلیم (TLM) کا علم ہونا ضروری ہے۔تدریسی منصوبے کے اہم اجزاء درج ذیل ہیں:a. - [اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ایک سہ روزہ سمر کیمپ کا افتتاحی پروگرام](https://jahazimedia.com/?p=1521): گزشتہ کل بعد نماز مغرب المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد کے اشتراک کے ساتھ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوا، فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی حفظہ اللہ نے اپنے صدارتی خطاب میں فرمایا کہ دین کے بہت سے کام ہیں، ہر کام اپنی جگہ قابل تحسین ہے ؛ اس لیے جس کام سے بھی مناسبت ہو وہ کریں ؛ لیکن ہمیشہ دین اور ملت کے تمام کاموں میں معاون رہیں، کبھی مخالف نہ بنیں ؛ لیکن ایک کام ایسا ہے جو بنیادی طور پر علماء کا ہے اور وہ کام دفاع دین کا ہے ؛ اس لیے اسلاموفوبیا کے زمانہ میں اسلامی احکامات کو عقل اور فطرت کے ترازو پر رکھ کر پیش کیے جائیں، یہ کام علماء اور فضلاء مدارس کا ہے اور اس کی سخت ضرورت ہے ؛ کیونکہ اگر آپ اسلام پر کیے جانے والے اعتراضات کی فہرست بنانا شروع کریں تو پوری ایک مکمل کتاب بن جائے ؛ اس لیے آپ اپنے آپ کو ایسا تیار کریں کہ کسی بھی مسئلہ پر سامنے والے کی ذہنیت کے مطابق بات رکھ سکیں، اس کے لیے خود اپنے گھر سے اچھی واقفیت ضروری ہے اور دوسروں کے گھر سے آگہی بھی ؛ تاکہ آپ اپنی خصوصیات اور دوسرے کی خامیوں اور نقصانات سے باخبر رہیں، آپ اعداد و شمار اور ڈیٹا سے بات کریں، عصری معلومات سے لیس ہوکر ان کا جواب دے سکیں، تب جاکر آپ اسلام کے دفاع میں مرد مجاہد ثابت ہوں گے۔جناب ڈاکٹر قاسم رسول الیاس صاحب نے ”مسلم پرسنل لاء سے متعلق عدالتوں میں زیر دوراں مقدمات اور قانونی چیلنجیز“ کے عنوان سے کلیدی خطاب کیا، جس میں انہوں نے بڑے ہی Comprehensive انداز سے باتیں واضح کیں،انہوں نے کہا کہ یہ ہندوستان کے تازہ دم موضوعات میں سے ہے ؛ کیونکہ آج کل عدلیہ کے تمام فیصلے ہمارے خلاف آ رہے ہیں، چند سالوں سے ڈیلیبریٹلی ایسے افراد کو متعین کیا جا رہا ہے جو ایک رخ کے مطابق فیصلہ کریں ؛ مگر یہ چیزیں بہت پہلے سے چلی آ رہی ہیں ؛ کیونکہ تمام عدالتیں یہ سمجھتی ہیں کہ ہم کسی بھی مذہبی کتاب میں انٹرپریٹ کر سکتے ہیں جس کا تعلق عقائد و عبادات سے نہیں ہے، اسی طرح تمام مذاہب کی طرح اسلام کو بھی حالات کے اعتبار سے تبدیل ہو سکنے والا مانتی ہیں اور ضروری مذہبی اعمال (essential religious practice) کی تعیین بھی خود ہی کرنے لگتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ ۱۹۳۷ کے شریعت ایپلیکیشن ایکٹ کی خلاف ورزی کرتی ہیں، مثلا طلاق ثلاثہ، طلاق کے پہلے تحکیم ، طلاق میں مرد کا اختیار، طلاق کے بعد بھی تاحیات نفقہ، خواہ جیل میں ہی کیوں نہ ہو، اسی طرح وراثت کی تقسیم وغیرہ ؛ حالاں کہ یہ احکام طبعی صحت اور انسانی فطرت کے مطابق دیے گئے ہیں، خود غیر مسلم بھائی اس کا اعتراف کرتے ہیں۔پھر انہوں نے اسی ذیل میں بابری مسجد کے فیصلہ پر بھی بحث کی کہ سپریم کورٹ میں مسجد کے حق میں تمام دلائل، ثبوت اور مشاہدات ہونے کے باوجود کورٹ نے محض آستھہ کی بنیاد پر فیصلہ مسجد کے خلاف اور مندر کے حق میں صادر کردیا : ،جس سے یہ احساس ہونے لگا ہے کہ یہ فیصلے دلیل اور فیکٹ کی بنیاد پر نہیں ہوتے ہیں، خواہ کوئی بھی قانون بن جائے، جیساکہ places of worship act بنا، اس کے باؤجود گیان واپی مسجد، متھرا کی عید گاہ اور کمال مولی مسجد کے خلاف قانونی داؤ پینچ کھیلا گیا، یہ داؤ آپ کو اپنے دین سے روکنے کے لیے ہے، اسی طرح دلفریب باتیں کرکے UCC لانے کی کوشش جاری ہے، اتراکھنڈ، آسام اور مدھیہ پردیش میں کامیاب ہو چکے اور مہاراشٹر و بنگال میں اس کی تیاری جاری ہے، وندے ماترم پڑھنا لازم کیا جا رہا ہے۔اب ایسے ماحول میں ہمیں اسلام کی مصلحت بتانی پڑے گی،اسلامی قانون کی معنویت و افادیت کو اہل ملک کے سامنے ان کی زبان میں پیش کرنی چاہیے، دوسرے طبقات کے ساتھ ڈائیلاگ کرنے کی کوشش کریں، جمہوری ملک کے اندر عوام کی طاقت ہی سب سے بڑی طاقت ہے جس کا عملی نمونہ ہم نے جنتر منتر پر دیکھا ؛ اس لیے جب کبھی ہماری ملی تنظیموں کی طرف سے کال آئے تو ہمیں میدان عمل میں آنا ہوگا۔سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کا مقصد اور اس کی اہمیت و افادیت پر گفتگو کرتے ہوئے مفتی امتیاز احمد قاسمی( اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا) نے کہا کہ ہر زمانہ میں تربیتی پروگرام اور علمی ورکشاپ کی اہمیت و افادیت رہی ہے، لیکن ٹیکنالوجی کے موجودہ دور میں ہر شعبہ حیات میں تیزی سے ترقی ہورہی ہے، درس و تدریس اور تعلیم و تحقیق کے میدان میں بھی خاصی ترقی ہوئی ہے، بحث و تحقیق کے نئے ذرائع و وسائل نے ایسے پنہاں گوشوں کو کھول دیئے ہیں جن کا تصور پچھلے سالوں میں نہیں کیا جاسکتا تھا، وہیں دوسری طرف ہمارے سامنے نئے نئے چیلنجز اور تحدیات سامنے آرہی ہیں، جن کا سامنا کرنا اور حل پیش کرنا نوجوان علماء کی ذمہ داری ہے اس پس منظر میں اس طرح کے تربیتی پروگرام کی اہمیت اور اس کی ضرورت بڑھ جاتی ہے. - [تدریسی اصول (Principles of Pedagogy)](https://jahazimedia.com/?p=1519): تدریسی اصول، بنیادی مرحلے (Foundational Stage) کے لیے مناسب کلاس روم کی تدریسی حکمت عملیوں سے متعلق تمام فیصلوں کی بنیاد ہوتے ہیں۔درج ذیل اصول کلاس روم کی منصوبہ بندی اور تدریس کی رہنمائی کرتے ہیں:a. - [نسلِ جدید](https://jahazimedia.com/?p=1517) - [مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی مخالفت کی جائے گی: مولانا حلیم اللہ قاسمی](https://jahazimedia.com/?p=1513) - [حضرت العلامہ معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ علیہ](https://jahazimedia.com/?p=1507) - [موجودہ ہندستان کی شرعی حیثیت کیا ہے؟](https://jahazimedia.com/?p=1504): مکرمی محترم مفتی صاحب ! - [پاکستان کا بھوت کھڑا کرکے ہندستانی مسلمانوں کو مرعوب نہیں کیا جاسکتا](https://jahazimedia.com/?p=1500) - [فرقہ پرستوں کے اعتراض کا علمی و تاریخی جواب نمبر (1)](https://jahazimedia.com/?p=1498) - [بسنت رائے میں " گلوبل ٹریول" حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح](https://jahazimedia.com/?p=1494) - [فرقہ پرستوں کا ایک اہم اعتراض اور اس کا جواب](https://jahazimedia.com/?p=1491) - [جناحی افکار، متحدہ قومیت اور عصرِ حاضر کے چیلنجز: ایک تنقیدی جائزہ](https://jahazimedia.com/?p=1489) - [ہماری مساجد کی تعمیر ہماری ذمہ داری](https://jahazimedia.com/?p=1486) - [عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان](https://jahazimedia.com/?p=1483) - [نکاح کو سب سے زیادہ مشکل لڑکیوں نے بنایا ہے](https://jahazimedia.com/?p=1481) - [اف! یہ بے حجاب برقعے والیاں!](https://jahazimedia.com/?p=1478) - [نظرِ بد: ایک عالمگیر انسانی تصور اور مختلف تہذیبوں کا نقطۂ نظر](https://jahazimedia.com/?p=1476) - [قیام اسرائیل اور قرآن (ایک شرعی تجزیہ)](https://jahazimedia.com/?p=855) - [قصہ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم](https://jahazimedia.com/?p=853) - [بدلتے بھارت میں، بدلہ لینے کا پروان چڑھتا ذہن](https://jahazimedia.com/?p=850) - [مولانا معز الدین احمدؒ یادیں ان کی ، ان کی باتیں](https://jahazimedia.com/?p=848): جمعیت علمائے ہند کی تاریخ کے کچھ حصے تو وہ ہیں، جو کسی نہ کسی کتاب میں چھپے ہوئے ہیں؛ لیکن کچھ تاریخیں ایسی بھی ہیں، جو آج تک حیطہ تحریر میں نہیں لایا گیا ہے، وہ سینہ بہ سینہ ہی منتقل ہوتا آرہا ہے۔ تاریخ کے اس حصہ کا ایک وافر ذخیرہ مولانا کے سینہ میں محفوظ تھا۔ائے کاش! - [مکمل آزادی کا مطالبہ سب سے پہلے کس نے کیا؟](https://jahazimedia.com/?p=845) - [بھارت کی قسطوں کی آئینی آزادی](https://jahazimedia.com/?p=843): پھر 1947ء میں ماؤنٹ بیٹن بھارت کا آخری وائسرائے بن کر آیا۔ پہلے انھوں نے کیبنٹ مشن کے پلان کو منظور کرنے کے لیے کہا؛ لیکن جب مسلم لیگ، جمعیت علمائے ہند اور کانگریس کے درمیان متحدہ قومیت، اکھنڈ بھارت اور مطالبہ پاکستان کے مختلف و متضاد نظریات نے ماؤنٹ بیٹن کو کوئی متفقہ فیصلہ کرنے سے قاصر رکھا، تو بیٹن نے تقسیم ہند کے مطالبہ کو منظور کرتے ہوئے ، 14/اگست1947 کو پاکستان اور 15/اگست 1947 کو بھارت کو مکمل طور پر آزادی دینے کا فیصلہ کردیا. - [قائد جمعیت کی قیدوبند](https://jahazimedia.com/?p=840) - [تہذیب کا جنازہ اور اسٹیج کی چکاچوند](https://jahazimedia.com/?p=838) - [آئینی روایت کا امتحان کرناٹک میں گورنر کا طرزِ عمل اور جمہوریت](https://jahazimedia.com/?p=835) - [واپسی](https://jahazimedia.com/?p=832): ہنستی تھیں، سرگوشیاں کرتیں، اور باپ نصیحت کرتا تو طنز اتر آتا۔ ابا! - [حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کی کتاب التشرف بمعرفۃ احادیث التصوف کی طباعتوں پر ایک نظر](https://jahazimedia.com/?p=830) - [رہبرکارواں جاتارہا!حضرت مولانا خورشید عالم صاحبؒسابق شیخ الحدیث دارالعلوم وقف](https://jahazimedia.com/?p=827) - [ہندستان کے ایک معروف سیاسی قائد اورطبی معالج ڈاکٹر عبدالرحمن ڈمرانوی](https://jahazimedia.com/?p=825) - [تحقیق وتصنیف کے زریں اصول](https://jahazimedia.com/?p=823) - [پرزور اسلوب](https://jahazimedia.com/?p=820): ’’اے مغرور انسان ! - [رنگین اسلوب](https://jahazimedia.com/?p=817): اس شعر کے دوسرے مصرعے کامطلب یہ ہے کہ مرغ کا دل تڑپنا دیکھ کر صیاد کا دم پھڑک جائے، لیکن الفاظ کی نشست میں الٹ پھیر ہونے کی وجہ سے’ تعقید لفظی ‘پیدا ہوگئی ہے؛ کیوں کہ فوری طور پر ذہن اس معنی کی طرف منتقل نہیں ہوتا ؛ بلکہ یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اے مرغ دل ! - [پر شکوہ اسلوب](https://jahazimedia.com/?p=814): ’’اے میری بلبل ہزارداستاں! اے میری طوطیِ شیوہ بیاں! اے میری قاصد! اے میری ترجمان! اے میری وکیل! اے میری زبان! - [مصورانہ اسلوب](https://jahazimedia.com/?p=811): ’’(۱)کیا سمندر سوکھ گئے جو بادل نہیں آتے ؟ سوکھ گئے ۔ سمندر بھی سوکھ گئے ۔ (۲)سمندر ! - [موجز اسلوب](https://jahazimedia.com/?p=808) - [بے تکلف اسلوب](https://jahazimedia.com/?p=805): ’’جب آفتاب چھپا اور ماہتاب نکلا۔ خجستہ یا س بھری ہوئی رخصت لینے طوطے کے پاس گئی اور کہنے لگی اے طوطے! - [سلیس اور سادہ اسلوب](https://jahazimedia.com/?p=802): اے دبدبۂ نظم ! - [مقالہ نگاری کے چند رہ نما اصول](https://jahazimedia.com/?p=799) - [حرف نون کا اعلان وسقوط](https://jahazimedia.com/?p=796) - [تراکیب مُہَنَّد](https://jahazimedia.com/?p=793) - [رموز اوقاف](https://jahazimedia.com/?p=790): (۵) ندائیہ لفظوں کے بعد، جیسے: بھائیو، بہنو، دوستو، بزرگو! - [اردو املا: چند ضروری اصول](https://jahazimedia.com/?p=787) - [مصوتے، مصمتے اور فارسی و عربی الاصول کی شناخت کے اصول](https://jahazimedia.com/?p=784) - [اردو کی تاریخ اور مدارس کی اردو خدمات](https://jahazimedia.com/?p=781) - [آنکھوں کی ٹھنڈک](https://jahazimedia.com/?p=779): سیرت کا ایک اور اہم واقعہ بھی رجب ہی میں پیش آیا ، جو معراج ہی سے متعلق ہے اوروہ ہے : پانچ وقتوں کی نمازوں کا فرض ہونا ، یوں تو نمازیں پہلی اُمتوں پر بھی فرض تھیں ، خود قرآن مجید میں اس کا اشارہ موجود ہے ، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبۃ اللہ کی تعمیر کرتے ہوئے اس کی غرض یہی بتائی کہ یہاں نمازیں قائم کی جائیں گی ، (ابراہیم: ۳۵) اور اپنے ساتھ ساتھ اپنی ذریت کے لئے بھی دُعا فرمائی کہ بار الٰہا ! - [ہندستان اس طرح آزاد ہوا](https://jahazimedia.com/?p=777) - [خلاصہ تحریک آزادی ہند اور جمعیت علمائے ہند](https://jahazimedia.com/?p=771): اس کانفرنس کے ایک اجلاس میں مولانا محمد علی جوہر صاحب نے یہ تاریخی جملہ کہا کہ: ’’ مائی لارڈ! - [جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: بارھواں سال: 1930ء](https://jahazimedia.com/?p=768) - [جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم:گیارھواں سال:1929ء](https://jahazimedia.com/?p=766) - [جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم:دسواں سال: 1928ء](https://jahazimedia.com/?p=764) - [جمعیت علمائے ہند قدم بہ قدم: نواں سال:1927ء](https://jahazimedia.com/?p=761) - [جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: ساتواں سال: 1925ء](https://jahazimedia.com/?p=756) - [جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: چھٹا سال: 1924ء](https://jahazimedia.com/?p=753) - [حجۃ الاسلام اکیڈمی دیوبند کی کامیابی کا راز](https://jahazimedia.com/?p=751) - [ایک روحانی سفر کی روداددیوبند سے بوڑیہ (ہریانہ) تک](https://jahazimedia.com/?p=749) - [حضرت مولاناحافظ پیرذوالفقار احمدصاحب نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ](https://jahazimedia.com/?p=745) - [جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم:آٹھواں سال: 1926ء](https://jahazimedia.com/?p=742) - [جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم:پانچواں سال: 1923ء](https://jahazimedia.com/?p=740) - [جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم:چوتھا سال: 1922ء](https://jahazimedia.com/?p=737) - [جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: تیسرا سال:1921ء](https://jahazimedia.com/?p=731) - [جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: دوسرا سال: 1920ء](https://jahazimedia.com/?p=729) - [جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: پہلا سال: 1919ء](https://jahazimedia.com/?p=727) - [مولانا سید ہاشم ندوی](https://jahazimedia.com/?p=723) - [ہندوتو، آگے کا سوال](https://jahazimedia.com/?p=718) - [فرقہ واریت کی زد میں تعلیم اور مسلمانوں کا غیر محفوظ مستقبل](https://jahazimedia.com/?p=714) - [کیا مسلمانوں کے اندر اتحاد کی گنجائش ہے؟](https://jahazimedia.com/?p=712) - [آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں](https://jahazimedia.com/?p=709) - [وحی خداوندی به مقابله عقل انسانی](https://jahazimedia.com/?p=706) - [جناب پرواز رحمانی کی وفات](https://jahazimedia.com/?p=704): دہلی کے سابق ایڈیٹر جناب پرواز رحمانی کی وفات پر ہندوستان ہی نہیں بلکہ اردوکی نئی پرانی بستیوںخصوصاً میدان صحافت میں ایک قسم کاسناٹاساچھایااورماتم کے گھنے بادل دکھائی پڑتے ہیں کہ آج جناب عبدالحق بہ تخلص پروازؔ رحمانی کی صورت میں اردوکی ایماندارانہ اورعادلانہ صحافت کے ایک عہدکاخاتمہ ہوگیاہے،اللہ تعالیٰ سےدعاہے کہ رب غفوران کواپنے شایان شان سایہ عاطفت میںخلدبریں میں مقام عطافرمائے۔اس رنج کی گھڑی میں ہر چار چھ گھنٹے کے وقفہ وقفہ سے کسی نہ کسی قلم کار، اردو کے سپاہی، صحافت وعلم وادب کے دلدادہ کامرحوم کو خراج عقیدت یاتعزیتی پیغام واٹس ایپ ،نیز دیگر سوشل میڈیا پر دیکھنے کو مل رہاہے ،احقر نے بھی موصوف کی الفت کے تقاضہ سے سرشار ایک قطعہ تاریخ وفات کہاہے، حالانکہ مرحوم کے حق میں محترم دوست اورمشہور قطعہ تاریخ وفیات کے ماہر شاعر جناب مظفرنایابؔ صاحب کاشاندارخراج تحسین قطعہ تاریخ کی صورت میں کل ہی موصول ہوگیاتھا۔بہرحال! - [همیں خود اپنا احتساب كرنا چاهئے!](https://jahazimedia.com/?p=701) - [نئے بھارت کی بھیانک تصویر](https://jahazimedia.com/?p=698) - [خدا كا وجود اور كائنات كی شهادت](https://jahazimedia.com/?p=694) - [سال نو کا جشن اورمسلمان](https://jahazimedia.com/?p=691) - [جارحانہ و نفرت پسند ہندوتو کی زد میں بھارت](https://jahazimedia.com/?p=688) - [نصابِ دارالعلوم ہی کیوں ؟](https://jahazimedia.com/?p=685) - [انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!](https://jahazimedia.com/?p=683): اسلام کی نگاہ میں سب سے بڑا گناہ اللہ کے ساتھ شرک اور کفر ہے ، اس کی سزا ہمیشہ کے لئے دوزخ ہے ، جو شخص کفر کی حالت میں دنیا سے چلا جائے ، اس پر جنت کے دروازے بند ہیں اور ہمیشہ کے لئے آتشیں دوزخ کی آغوش اس کی رفیق رہے گی ، کفر کے بعد ایک ہی عمل ہے جس کے بارے میں فرمایا گیا کہ اس کا مرتکب ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا ، اس پر اللہ کا غضب ہوتا رہے گا اور اللہ کی لعنت برستی رہے گی ، کتنا گھبرادینے اور تڑپا دینے والا ہے یہ ارشاد ربانی : وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَھَنَّمُ،خَالِدًا فِیْھَا وَغَضَبَ اﷲُ عَلَیْہِ وَلَعْنَہٗ وَاَعَدَّ لَہٗ عَذَابًا عَظِیْمًا ۔ (النساء : ۹۳)جو جان بوجھ کر کسی مسلمان کو قتل کرے اس کا بدلہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا ، اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہو اور اللہ نے اس کے لئے بھیانک عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ کتنی لرزہ براندام کردینے والی ہے یہ آیت ! - [پریم بنام پرستش](https://jahazimedia.com/?p=681) - [جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ گڈا کا سالانہ تعلیمی رپورٹ](https://jahazimedia.com/?p=671) - [تعارف مفتی محمد نظام الدین قاسمی بانی مہتمم جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ](https://jahazimedia.com/?p=669): معزز علمائے کرام! - [سکریٹری رپورٹ جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے ضلع گڈا جھارکھنڈ](https://jahazimedia.com/?p=666): اس بیداری مہم کے بعد جمعیت کو لوگوں نے قریب سے جانا اور ممبر سازی میں زبر دست انقلاب آیا اور پہلی بار بلاک سطح پر اڑتالیس سو سے زائد ممبر سازی ہوئی جمعیۃ علماء بلاک بسنت رائے ضلع گڈا کی انتخابی نشست کا انعقاد بعد نماز مغرب مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ کے دفتر میں عمل میں آیا، اس انتخاب کی خصوصیت یہ رہی کہ اس میں دستوری انتخابی ضابطہ کی مکمل پاسداری کی گئی، اس میں نگراں کی حیثیت سے مولانا محمد یاسین صاحب جہازی انچارج شعبہ دعوت اسلام جمعیۃ علمائے ہند کی شرکت رہی، مولانا یاسین صاحب نے تلاوت کلام پاک کے بعد انتخاب کے اصول و ضوابط کو نہ صرف پڑھ کر سنایا بلکہ بہت سے مقامات پر استفسار کے بعد مکمل وضاحت کی، اس کے بعد ہی انتخابی کارروائی عمل میں آئی، چنانچہ ضابطہ کے مطابق 59 افراد مجلس منتظمہ کے ممبران قرار پائے پھر مجلس منتظمہ کے ان ممبران کے ذریعہ مجلس منتظمہ کے عہدیداران کا انتخاب عمل میں آیا، اس کے مطابق مفتی سفیان ظفر قاسمی استاد مدرسہ حسینیہ تجوید القرآن دگھی کو صدر اور مفتی نظام الدین قاسمی مہتمم مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہازقطعہ کو جنرل سکریٹری مقرر کیا گیا، جمعیۃ کے خازن مولانا سرفراز قاسمی نائب مہتمم مدرسہ رحمانیہ جہازقطعہ قرار پائے جبکہ نائب صدر کے طور پر مولانا محمد سرفراز قاسمی سانکھی سابق استاذ:دارالعلوم الاسلامیہ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ اور قاری ارشاد صاحب کدمہ سابق استاد مدرسہ عربیہ اسلامیہ خرد سانکھی کو منتخب کیا گیا اور نائب ناظم کے طور پر مفتی زاہد امان قاسمی مہتمم جامعہ خدیجۃ الکبری بسنت رائے اور ڈاکٹر نسیم صاحب مانجر اور معاون کے طور پر محمد شاہد جھپنیاں کو منتخب کیا گیا. - [استقبالیہ برائے مفتی محمد نظام الدین قاسمی](https://jahazimedia.com/?p=660): معزز صدرِ محفل، دہلی سے تشریف لائے ڈاکٹر انیس الرحمان صاحب اور مولانا محمد یاسین جہازی صاحب،محترم علما و مفتیانِ کرام، جامعۃ الہدی جہاز قطعہ کے اراکین ، طلبا، اساتذہ اور عملہ ،جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے کے ذمہ داران، معزز ائمہ و خطبا، سماجی و سیاسی شخصیات، عمر دراز بزرگوں، نوجوانوں، ساتھیو اور دور و نزدیک سے تشریف لانے ہوئے مہمانانِ گرامی! - [کارروائی رپورٹ سالانہ تعلیمی پروگرام جامعۃ الہدی جہاز قطعہ گڈا جھارکھنڈو تقریب استقبالیہ جمعیت علمائے بسنت رائے](https://jahazimedia.com/?p=655) - [کارروائی رپورٹ سالانہ تعلیمی پروگرام جامعۃ الہدی جہاز قطعہ گڈا جھارکھنڈ](https://jahazimedia.com/?p=657): معزز صدرِ محفل، دہلی سے تشریف لائے ڈاکٹر انیس الرحمان صاحب اور مولانا محمد یاسین جہازی صاحب،محترم علما و مفتیانِ کرام، جامعۃ الہدی جہاز قطعہ کے اراکین ، طلبا، اساتذہ اور عملہ ،جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے کے ذمہ داران، معزز ائمہ و خطبا، سماجی و سیاسی شخصیات، عمر دراز بزرگوں، نوجوانوں، ساتھیو اور دور و نزدیک سے تشریف لانے ہوئے مہمانانِ گرامی! - [مسجد ضرار کی بنیاد](https://jahazimedia.com/?p=652) - [جہاد کے متعلق جہالت و بے خبری](https://jahazimedia.com/?p=650) - [جہاد، حقیقت اور پروپیگنڈه](https://jahazimedia.com/?p=648) - [اقتدار کے ایوانوں میں لرزش کانگریس کی داخلی جنگ اور کرناٹک کا بے چین سیاسی منظرنامہ](https://jahazimedia.com/?p=644) - [دائرہ حربیہ کے متعلق جمعیت علما کا ایک اہم فیصلہ](https://jahazimedia.com/?p=641) - [بھارت كی تعمیر وترقی میں مسلمانوں كا حصه](https://jahazimedia.com/?p=639) - [ہندستانی تاریخ کے تین عجوبے](https://jahazimedia.com/?p=636): تعجب ہے کہ برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندستان پر قبضہ بھی کیا، ظلم بھی کیے، پھر کہیں برطانیہ پوری دنیا میں بدنام نہ ہوجائے، اس لیے تاجِ برطانیہ نے اسی کمپنی کو پونے چار کروڑ پاؤنڈ کے عوض خرید لیا—مگر اس کی ادائیگی ہندستان کے کھاتے میں ڈال دی! - [مسجد کا پیغام](https://jahazimedia.com/?p=633): اس بات میں کسی کو اختلاف نہیں ہو سکتا کہ موجودہ دور میں ہم مسلمانوں پر شدید قسم کی غفلت اور بے عملی مسلط ہوگئی ہے۔ اور اس بے عملی کا تعلق کسی خاص شعبہ حیات سے نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبہ میں ہم اپنے فرائض سے مجرمانہ غفلت برت رہے ہیں۔ اس عمومی دینی انحطاط کا ایک چھوٹا سا شعبہ یہ بھی ہے کہ ہم نے مساجد کا حق ادا کرنے اور اس کے پیغام کی نشر و اشاعت میں اس حد تک غفلت سے کام لیا کہ اندیشہ ہے کہ ہم پر حضور علی ہے کا یہ ارشاد صادق نہ آرہا ہو کہ مساجدهم عامرة وهى خراب انکی مسجدیں ( ظاہری طور پر آباد ہوں گی لیکن ( در حقیقت ) ویران ۔ ۔ جب ہم قرآن کریم سنت المان نماز امربالم جب ہم قرآن کریم سنت نبویہ خیرالقرون کے تعامل اور سلف صالحین کے طرز پر غور کرتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ اس دور کی مسجدیں در حقیقت مسلمانوں کے روحانی مراکز کی حیثیت رکھتی تھیں ۔ مساجد ہ ہیں ذکر اللہ نماز امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جیسے فرائض ادا کیے جاتے تھے۔ انہی میں قرآن وسنت کی تعلیم اسلام کی طرف دعوت کا اہتمام نو خیرنس کی صحیح اسلامی تربیت باطنی تزکیہ اور عوام الناس کے ذہنوں کو دینی نقل و حرکت اور اپنی ہر ادا سے اسلام کی تبلیغ کرتے تھے۔ خطوط پر استوار کیا جاتا تھا۔ یہی سے دین اسلام کی دعوت کے وہ سپاہی نمودار ہوتے تھے جو صرف زبان اور ہاتوں سے نہیں بلکہ اپنی ایک ایکجب یہ سارے کام اسی سرگرمی سے مسجد میں انجام دیئے جاتے تھے تو ہر مسجد اپنے محلہ کیلئے ہر بھلائی کا منبع اور ہر ہدایت کا سر چشمہ بن گئی تھی۔ جو مسلمانوں میں خالص دینی روح پھونکی تھی اور ان میں ایسی دینی غیرت و حمیت پیدا کر و حمیت پیدا کر دی تھی کہ وہ نہ کبھی کسی بیرونی ترغیب و ترہیب کے آگے سرجھکانے کیلے تیار تھے اورنہ کی باطل نظریہ عمل کواپنانے کا خیال ان کے دل میں آسکتا تھا۔ خواہ اس باطل نظریہ عمل کا ظاہری روکار کتنا دلکش ہو اور خواہ ساری دنیا اس کی شہرت اور رواج سے گونج رہی ہو۔اگر ہم مختصر لفظوں میں مسجد کے پیغام کو تعبیر کرنا چاہیں تو وہ یہ ہے دعوت الی اللہ کلمہ حق کی نشر واشاعت خالص اسلامی ذہنیت کی تعمیر اور ایک ایسی عام دینی و روحانی فضا کا قیام جس میں نیکیوں کو خود بخود فروغ ہو اور برائیاں اپنی موت آپ مر جائیں۔ جن مساجد میں یہ سارے کام قابل ذکر اہتمام کے ساتھ ہوتے ہیں انکی تعداد بہت تھوڑی ہے یا جو حضرات اپنی مسجدوں میں ان دینی خدمات کا اہتمام کرتے ہیں تو عام طور سے یہ سارے کام کسی طور پر انجام دیتے ہیں جو عموما اپنی حقیقت اور روح سے خالی ہوتے ہیں۔ جو صرف کانوں تک پہنچتے ہیں دل میں داخل نہیں ہوتے ۔مسجد کے پیغام کو زندہ کرنے کیلئے چندا ہم تجاویز1ائمہ مساجد ایسے علماء میں سے منتخب کئے جائیں جنہوں نے اسلامی علوم کو ماہر اساتذہ سے حاصل کیا ہو۔-2 ہر مسجد میں ایک ایسی کمیٹی ہو جو امام اور اہل محلہ پر مشتمل ہو ۔ جو دعوت و تبلیغ کیلئے ایک عملی نظام بنائے ۔ جس کے تحت یہ سبلوگ ہر روز یا ہر ہفتے محلے کی عوام کے پاس جا کر ان سے شخصی ملاقاتیں کرے ۔ انہیں نماز کی پابندی، مسجد کی حاضری کی دعوت، نیکیوں کی ترغیب اور برائیوں سے باز رہنے کی تلقین کریں۔ لیکن یہ سارا کام نرمی، محبت و شفقت اور حکمت و موعظہ حسنہ کے اصول پر ہونا چاہیے۔3. - [بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر](https://jahazimedia.com/?p=630): 🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔المعہد العالی الاسلامی میں منعقدہ سہ روزہ سمینار کا اختتاممولانا عتیق بستوی، مولانا خالد سیف اللّٰہ رحمانی اور دیگر کے خطابات ، مختلف تجاویز کی منظوریحیدرآباد،23نومبر(پریس نوٹ) المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد کے زیر اہتمام منعقدہ قومی سیمینار بہ عنوان :”بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار”بتاریخ 21، 22، 23 نومبر 2025ء میں مختلف موضوعات پر 60 سے زائد مقالات پیش کئے گئے، سیمینار اس ناقابل انکار حقیقت کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے کہ ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل ہے، سیمینار کی مختلف نشستوں میں ملک کے علماء ودانشوران، مؤرخین، ماہرین تعلیم، محققین اور سماجی وسیاسی رہنماؤں نے اپنی وقیع آراء سے یہ حقیقت اجاگر کی کہ مسلمان نہ صرف اس ملک کے معمارِ اوّل رہے ہیں بلکہ آج بھی اس کے استحکام، امن اور ترقی کے ضامن ہیں۔ان علمی وفکری مباحث کے نتیجے میں جو نکات سامنے آئے، ان کی روشنی میں درجِ ذیل تجاویز وسفارشات اتفاقِ رائے سے پیش کی جا رہی ہیں تاکہ یہ سیمینار محض علمی نشست نہ رہے بلکہ ایک فکری تحریک اور عملی منشور کی صورت اختیار کرے۔ اختتامی نشست میں جناب اقبال احمد انجینیئر معزز ٹرسٹی معہد نے یہ تجاویز پڑھ سنائے ،تجاویز و سفارشات1. - [بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام](https://jahazimedia.com/?p=627) - [جمعیت علمائے ہند کے 106سال مکمل، تاسیس کی مستند کہانی](https://jahazimedia.com/?p=622) - [بم دھماکے ، اسلامی نقطۂ نظر](https://jahazimedia.com/?p=619): بم دھماکوں سکے واقعات بڑھتے جارہے ہیں ، جہاز اور ٹرین میں تو دھماکے ہوہی رہے تھے ، اب عبادت گاہیں بھی ان کا نشانہ بن رہی ہیں ، عبادت گاہ خواہ کسی قوم کی ہو ، اس کا بنیادی مقصد ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بندگی کرنا ہوتا ہے ، ایسی جگہوں کی بے احترامی سے گذرکر وہاں آنے والوں پر جان لیوا حملے کرنا یقیناً انسانیت سوز عمل ہے ۔حالت امن کی تو بات ہی اور ہے ، حالت جنگ میں بھی صحابہ ؓ کو جن باتوں کی تلقین کی جاتی اور رسول ﷺ فوج بھیجتے وقت جو ہدایات دیتے ، ان میں ایک یہ بھی ہوتی کہ مذہبی پیشواؤں اور عبادت گاہوں کے خادموں کو قتل نہ کیا جائے ؛ چنانچہ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما کی روایت میں ہے کہ رسول اﷲ ﷺ فوج روانہ کرتے وقت یہ ہدایات دیتے :تم لوگ اﷲ کے نام سے نکلو ، ایمان نہ لانے والوں سے اﷲ ہی کے لئے جہاد کرو ، دھوکہ نہ دو ، خیانت نہ کرو ، کسی کو مثلہ نہ کرو ، بچوں کو اور چرچ والوں کو قتل نہ کرو ۔ ( مسند احمد،حدیث نمبر:۲۷۲۸ )اس سے اسلام کی فراخدلی ، وسیع القلبی اور کشادہ چشمی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عین جنگ کے وقت جب اکثر قانون کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے اور یہ بھی اس زمانہ میں جب قوموں کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں تھا اور نہ جنگ کے کسی قانون پر حکومتوں نے دستخط کئے تھے ،یک طرفہ طورپر آپ ﷺنے مہذب قوانین جنگ انسانیت کو دیا اور دوسری قوموں کے مذہبی جذبات کو ملحوظ رکھا ۔بم دھماکوں کے سلسلے میں اسلامی نقطۂ نظر کو جاننے کے لئے چند اُمور کو ملحوظ رکھنا چاہئے :(۱) ان دھماکوں میں صرف قصور وار اور مجرمین کی جانیں نہیں جاتیں ؛ بلکہ بے قصور لوگ بھی اس کی زد میں آجاتے ہیں ۔(۲) ان دھماکوں میں بوڑھے ، بچے ، عورتیں بھی نشانہ بنتے ہیں ۔(۳) مہلوکین کی جانیں اس طرح جاتی ہیں کہ ان کے جسم کے پرخچے اُڑ جاتے ہیں ، بعض دفعہ تو سر ایسا غائب ہوتا ہے کہ بغیر سر کے آخری رسوم انجام دی جاتی ہیں ۔(۴) یہ بنیادی طورپر آتشیں ہتھیار ہے ، اسی لئے دھماکہ کا شکار ہونے والوں کے چہرے جھلس جاتے ہیں ؛ بلکہ پورا جسم ہی ، بارود وغیرہ سے بنیادی طورپر آگ پیدا ہوتی ہے اوریہی آگ دوسرے مہلک مادوں کو لے کر پوری طاقت کے ساتھ اپنے ماحول میں بکھرجاتی ہے اورجہاں تک پہنچتی ہے ، آفت ڈھاتی چلی جاتی ہے ۔اب آئیے ان نکات کے بارے میں شرعی نقطۂ نظر سے غور کریں :(۱) حالت ِامن میں شریعت کا اُصول واضح ہے کہ جو شخص مجرم نہ ہو ، اس پر ہاتھ اُٹھانا جائز نہیں ؛ کیوںکہ ایک کے عمل کی ذمہ داری دوسرے پر نہیں :’’ لا تزر وازرۃ وزر اُخریٰ ‘‘ بلکہ ممکن حد تک میدانِ جنگ میں بھی اس کو ملحوظ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے ، عرب میں لوگ مزدوروں اور غلاموں کو پکڑلیتے تھے اور زبردستی اپنے ساتھ جنگ میں لے جاتے تھے ، ان کی رضامندی شامل نہیں ہوتی تھی ، اسی لئے آپ ﷺ نے مزدوروں اور غلاموں کو بھی جنگ میں نشانہ بنانے سے منع فرمایا : ’’فنهانا أن نقتل العسفاء والوصفاء‘‘۔ ( مسند احمد،حدیث نمبر:۱۵۴۲۰)(۲) بوڑھوں ، بچوں اور عورتوں کو عام حالات میں تو کجا ؟ حالت جنگ میں بھی نشانہ بنانے سے منع کیا گیا ہے ، حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے بہ سند صحیح منقول ہے کہ آپ ﷺنے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ، (مجمع الزوائد : ۵؍۳۱۶)،اسی مضمون کی روایت حضرت کعب بن مالک ؓ کے صاحبزادے سے بھی منقول ہے ، (حوالۂ سابق : ۵؍۳۱۵) ایک اور روایت میں بوڑھوں کا ذکر بھی ہے اور اس کے راوی بھی حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما ہیں ، (حوالۂ سابق : ۵؍۳۱۷) بعض جنگوں میں آپ ﷺنے خواتین کی لاش دیکھی تو اس پر سخت ناگواری کا اظہار فرمایا ، (دیکھئے : حوالۂ سابق : ۵؍۳۱۶) جب حالت جنگ میں بوڑھوں ، خواتین اور بچوں کی یہ رعایت ہے تو معتدل حالات میں میں کیوں کر ایسے اقدام کا جواز ہوسکتا ہے ، جس میں ان کمزوروں کی جانیں جائیں ؟(۳) حدیث میں بار بار مثلہ سے منع کیا گیا ہے ، یہ ممانعت عام حالات میں تو ہے ہی ، جنگ میں بھی اس کو خاص طورپر منع فرمایا گیا ؛ کیوںکہ عربوں کا طریقہ یہ تھا کہ وہ جب اپنے دشمنوں پر فتح پاتے تو نہ صرف ان کو قتل کرتے ؛ بلکہ نہایت ایذا رسانی سے ان کی جان لیتے اورپھر ان کومثلہ بھی کرتے ، ناک کاٹ دیتے ، آنکھیں نکال لیتے ، کان کاٹ دیتے ، یہاں تک کہ مقتول کی کھوپڑی میں شراب پی کر اپنی بڑائی اور قوت کا اظہار کرتے ، رسول اﷲ ﷺ نے اس غیر انسانی حرکت کو نہایت شدت سے منع کیا اور فرمایا کہ اگر کوئی شخص قتل کا مستحق ہو ، یعنی قانونی طور پر اس كا جرم ثابت هو تو اسے بہتر طریقہ پر قتل کرو ، ایذا نہ پہنچاؤ اور مثلہ نہ کرو ، جنگ کے موقع پر آپ ﷺنے جو ہدایات دی ہیں ، ان میں کثرت سے مثلہ کی ممانعت کا ذکر موجود ہے ، (دیکھئے : باب مانہی عن قتلہ من النار وغیر ذالک ، مجمع الزوائد : ۵؍۱۸-۳۱۵) بلکہ اگر کسی شخص نے کسی بے قصور کو قتل کرتے وقت ایذا رسانی اورمثلہ کرنے کا طریقہ اختیار کیا ہو ، تب بھی حکم ہے کہ جب بدلہ میں اسے قتل کیا جائے ، تو سیدھے طور پر تلوار سے قتل کردیا جائے : ’’ لا قود إلا بالسیف‘‘(ابن ماجہ ، عن نعمان بن بشیر،حدیث نمبر:۲۶۶۷) دھماکہ کے ذریعہ انسانی جسم کا جو حشر ہوتا ہے ، وہ یقیناً مثلہ کی بدترین صورت ہے ۔(۴) رسول اﷲ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی انسان دوسرے انسان یاحیوان کو آگ میں جلانے کی سزا دے ؛ کیوںکہ یہ سزا دینا اﷲ ہی کے شایانِ شان ہے : ’’فإنہ لا یعذب بالنار الا رب النار‘‘( سنن ابوداؤد،حدیث نمبر:۲۶۷۳)؛ بلکہ آپ ﷺنے تو کھیتیوں کو بھی جلانے سے منع فرمایا ، ( مجمع الزوائد عن ثوبان : ۵؍۳۱۷) اور بم بنیادی طورپر آتش گیر ہتھیار ہے ۔اس لئے شرعی نقطۂ نظر سے بم دھماکہ جنگ کے علاوہ عام حالات میں کرنا کسی طرح درست نہیں ، اس طرح کے دھماکو ں کو ایشیاء میں دراصل یہودی دہشت گردوں نے رواج دیا ، جنھوں نے ۱۹۴۷ء میں بڑے پیمانے پر فلسطین میں بم دھماکے کئے ، مسلمانوں اور عیسائیوں کو اس کا نشانہ بنایا اور اب یہ انتقام و احتجاج کا ایک اندھا ہتھیار ہوگیا ہے ،جن جمہوری ممالک میں دستوری معاہدہ کی بنیاد پر مختلف قومیں ایک دوسرے کے ساتھ رہتی ہیں اور وہاں احتجاج اور حصول انصاف کے جائز راستے کھلے ہوئے ہیں ، وہاں ایسے دھماکوں کا کوئی جواز نہیں ہوسکتا ، رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس نے کسی مُعاهِد پر ظلم کیا ، یا اس کو نقصان پہنچایا تو میں اس کی طرف سے قیامت کے دن فریق بن کر کھڑا ہوں گا :الا من ظلم معاھداً أو أنقض … فأنا حجیجہ یوم القیامۃ ۔ ( ابوداؤد ، حدیث نمبر : ۳۰۵۲)البتہ ہماری حکومت کے لئے دو باتیں قابل غور ہیں : ایک یہ کہ کسی شخص کو ثبوت و شواہد کے بغیر مجرم کے کٹہرے میں کھڑا کردینا کھلی ہوئی ناانصافی ہے ، مسلمانوں پر ظلم روا رکھا جاتا ہے ، خود حکومت کے قائم کئے ہوئے کمیشن فرقہ پرست تنظیموں اور پولیس عہدیداروں کو قصور وار ٹھہراتی ہیں ؛ لیکن ان کے خلاف کوی ایکشن نہیں لیا جاتا اور اگر اکثریت کو کہیں کوئی نقصان پہنچے تو بلا ثبوت مسلمانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے ؛ حالاںکہ اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لئے فرقہ پرستوں نے ان کے خلاف سازش رچی ہو ۔دوسرے : مسلمان محسوس کرتے ہیں کہ ان پر جو ظلم و ستم ہوتا ہے ، اس پر ظالموں کے ہاتھ تھامے نہیں جاتے ، نہ پولیس انھیں انصاف دیتی ہے ، نہ عدالتیں ان کو انصاف دینے کے لئے حرکت میں آتی ہیں ، بھاگلپور ، مرادآباد اور گجرات کے قتل عام کو عرصہ ہوگیا ؛ لیکن کوئی قابل ذکر کارروائی نہیںکی گئی ؛ بلکہ شقی القلب عہدیداروں کو ترقیوں سے نوازا گیا ؛ لیکن جب مسلمانوں پر کوئی الزام آتا ہے ، تو نہایت برق رفتاری کے ساتھ اس کی تحقیق کی جاتی ہے ، یہاں تک کہ بعض بے قصور لوگوں کو مجرم کے کٹہرے میں کھڑا کردیا جاتا ہے ، جب تک یہ ناانصافی اور دو نظری ختم نہیں ہوگی ، ملک میں حقیقی امن و آشتی قائم نہ ہوسکے گی ۔بہرحال ! - [مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں](https://jahazimedia.com/?p=616) - [سلطنت آصفیہ کی ہندو نوازی](https://jahazimedia.com/?p=614) - [وندے ماترم کا نیا شوشہ](https://jahazimedia.com/?p=610) - [تکبیرِ تشریق کی شرعی حیثیت](https://jahazimedia.com/?p=607) - [قلمِ رواں کی ایک اور روشن کاوش](https://jahazimedia.com/?p=604): الحمدللہ یہ خبر دل میں مسرت کے چراغ روشن کر گئی کہ قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان، نئی دہلی کی جانب سے آپ کی ساتویں تصنیف *"خزانوں کی تلاش"* زیورِ طبع سے آراستہ ہو کر اہلِ ذوق کے لیے دسترس میں آگئی ہے۔ بے شک یہ آپ کی علمی جستجو، مسلسل محنت اور اخلاصِ نیت کا روشن ثمرہ ہے، جس پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ بالخصوص بچوں کے لیے سائنسی کہانیاں نہایت دلچسپ اور موثر اسلوب میں پیش کرنا، اُنہیں جمادات کے فوائد اور روزمرہ زندگی میں ان کے سائنسی استعمال سے واقف کروانا، ایک نہایت کارآمد، بامقصد اور قابلِ قدر تعلیمی خدمت ہے۔ یقیناً یہ کتاب نئی نسل میں مشاہدہ، غور و فکر، اور تحقیق کی روشنی کوپروان چڑھائے گی. - [اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے 34ویں فقہی سمینار کی روداد](https://jahazimedia.com/?p=602): علم و بصیرت کی روشنی میں اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا 34واں تین روزہ فقہی سمینار 8 نومبر 2025 کو جمشید پور (جھارکھنڈ) کی روح پرور فضا میں نہایت پُروقار انداز میں منعقد ہوا۔افتتاحی اجلاس کی صدارت حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی دامت برکاتہم (صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ) نے فرمائی۔پروگرام کا آغاز قاری فیروز انصاری کی خوش الحان تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس نے ماحول کو نورِ قرآن سے منور کر دیا۔بعد ازاں مولانا زاہد حسین ندوی نے کلامِ اقبال کے اشعار پیش کر کے فکری و ادبی فضا کو معطر کر دیا۔مولانا زین العابدین مظاہری نے پرتاثیر انداز میں مہمانوں کا خیر مقدم کیا اور اکیڈمی کے سیکرٹری مفتی عبید اللہ اسعدی صاحب نے سمینار کے اغراض و مقاصد اور موضوعات کا تعارف کرایا۔اسٹیج پر ملک کے مقتدر و ممتاز علماء جلوہ افروز تھے، جن میں مولانا عتیق احمد بستوی، مفتی احمد دیولوی، مولانا انیس الرحمن قاسمی، مولانا رحمت اللہ میر قاسمی، مفتی صادق محی الدین نظامی اور ڈاکٹر عبد اللہ جولم شامل تھے۔ان حضرات نے مختصر؛ مگر جامع خطابات کے ذریعے شرکاء کو فکر و بصیرت کی روشنی بخشی۔افتتاحی تقریب کی نظامت ڈاکٹر محمد اعظم ندوی نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دی،جب کہ آخر میں مفتی نشاط احمد مظاہری نے تمام مہمانانِ گرامی کا شکریہ ادا کیا۔*شرکاء اور موضوعات*اس فقہی سمینار میں ملک بھر کے تقریباً 250 ممتاز علماء، مفتیانِ کرام، ماہرینِ فقہ اور محققین نے شرکت فرمائی۔سمینار میں چار نہایت اہم اور عصری موضوعات زیرِ بحث آئے:1. - [غزہ کی خاموش چیخیں اور ایمان کا چراغ](https://jahazimedia.com/?p=599): زمین کی گود میں کبھی ایسی بستیاں آباد تھیں جہاں اذانوں کی صدا فضا کو معطر کرتی، جہاں بچوں کی ہنسی اور ماؤں کی دعائیں امن کی نشانی تھیں۔ مگر آج وہی بستیاں خون و آنسو میں لتھڑی ہیں۔ غزہ وہ مقدس اور متبرک شہر جس نے انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والتسلیم کے قدموں کی خاک جذب کی، آج ظلم و بربریت کی دھول میں لپٹا ہوا ہے۔ وہاں کے لوگ خالی پیٹ ضرور ہیں، لیکن دلوں میں ایمان کی روشنی روشن ہے۔ وہ بھوکے ہیں مگر صبر اور غیرت کے پیکر ہیں۔ دنیا کے شور و شر کے بیچ ان کے ہونٹ خاموش ہیں، مگر دلوں میں یقین کی صدا گونج رہی ہے۔ یہ وہ قوم ہے جو ملبے پر بھی "اللّٰہ اکبر" کہہ کر اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔فرمانِ الٰہی ہے: "وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ" (سورۃ البقرہ، آیت: 155) ترجمہ: اور دیکھو ہم تمہیں آزمائیں گے ضرور، (کبھی) خوف سے ، اور (کبھی) بھوک سے، اور (کبھی) مال و جان اور پھلوں میں کمی کرکے۔ اور جو لوگ (ایسے حالات میں) صبر سے کام لیں ان کو خوشخبری سنا دو۔ (آسان ترجمہ قرآن از مفتی محمد تقی عثمانی جلد اول صفحہ 109) غزہ کی سرزمین آج بھی اپنے زخمی وجود کے ساتھ آسمان کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہی ہے۔ وہاں کے چہرے، جن پر کبھی ایمان کی روشنی اور عزم کی چمک دیکھی جاتی تھی، آج بھوک، پیاس، اور اذیت کے غبار میں چھپ چکے ہیں۔ یہ وہی ارضِ مقدس ہے جہاں انبیائے کرام علیہم السلام نے توحید کی مشعلیں روشن کیں، مگر آج وہاں کے بچے نوالۂ رزق کے لیے آسمان کی طرف ہاتھ پھیلائے کھڑے ہیں۔ ان کے ہونٹ خشک ہیں، مگر زبانوں پر شکوہ نہیں۔ سسکیاں ہیں مگر دلوں میں یقین کی حرارت باقی ہے۔ یہیں سے سنائی دیتی ہیں غزہ کی خاموش چیخیں، جو دلوں کو جھنجوڑ کر ایمان کے چراغ کو روشن کرتی ہیں۔ دنیا کے ضمیر پر گویا پتھر رکھ دیا گیا ہے۔ وہی اقوام جو انسانیت، آزادی، اور مساوات کے نعرے لگاتی ہیں، آج ظلم کے مجرموں کے ساتھ کھڑی ہیں۔ وہی طاقتیں جو امن کے سفیر ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں، آج خاموش تماشائی بن کر معصوم بچوں کے جسموں پر برسنے والے بارود کو دیکھ رہی ہیں۔ انسانی حقوق کے علمبردار، انسانیت کے سب سے بڑے قاتلوں کے حامی بن چکے ہیں۔ ظلم نے اپنی آخری حدوں کو پار کر لیا ہے اور انصاف کہیں گہرے غاروں میں دفن ہوچکا ہے۔خداوندِ قدوس نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا: "وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللّٰهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ" (سورۃ آلِ عمران، آیت: 169) ترجمہ: اور (اے پیغمبر!) - [ووٹ کی شرعی حیثیت اور ہماری قومی و ملی ذمہ داریاں](https://jahazimedia.com/?p=595): محمد ابوذر مفتاحی! - [تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟](https://jahazimedia.com/?p=585) - [الیکشن میں مسلمانوں کے لئے ترجیحات](https://jahazimedia.com/?p=581) - [بہار الیکشن میں مسلم ووٹنگ بینک کی سیاست۔ مفادپرستی یا مجبوری](https://jahazimedia.com/?p=579) - [متفقہ فتویٰ علمائے ہند پر دستخط کرنے والے 460 علمائے کرام کی فہرست](https://jahazimedia.com/?p=572) - [باب اول در بیان انجام مداہنت](https://jahazimedia.com/?p=569): اگر علمائے کرام بھی علمائے یہود کی طرح مداہنت اختیار کریں گے ،یعنی 1۔ ائمہ مساجد،حق جانتے ہوئے بھی مقتدیوں کی اصلاح نہیں کریں گے ،اور متولی سے ڈریں گے۔2۔ خطبائے کرام، حق جانتے ہوئے بھی نہیں بولیں گے اور نذرانہ کا خوف کریں گے ۔3۔ علمائے کرام، ارباب مدارس ،اور اسلامی ذمہ اداروں کے ذمے داران شرعی امور کے خلاف انجام پانے معاملات پر آواز بلند نہیں کریں گے، 4۔ ذمہ دار سماجی و سیاسی رہ نما اپنے فرائض منصبی سے کوتاہی برتتے ہوئے حق گوئی سے کام نہیں لیں گے، خلاصہ یہ کہ مداہنت سے کام لیں گے ،تو انھیں بھی علمائے یہود و نصاری کے اس انجام کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔دیکھیے درج ذیل تفسیری حوالہ"یہودیوں کی اخلاقی و عملی بر بادیآگے یہاں دوسری و تیسری آیت میں بھی انہی یہو دو بد باطنوں کا ذکر ہے اور ان کی اخلاقی اور عملی بر بادی کو ظاہر فرمایا گیا ہے۔بنی اسرائیل یعنی یہود کا یہی حال تھا کہ یہ لوگ عموماً دنیوی لذات و شہوات میں منہمک ہو کر خدا تعالیٰ کی عظمت و جلال اور اس کے قوانین و احکام کو بھلا بیٹھے اور جو مذہبی پیشوا کہلاتے تھے انہوں نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ترک کر دیا کیونکہ دنیا کی حرص اور اتباع شہوات میں وہ اپنے عوام سے بھی آگے تھے۔ مخلوق کا خوف یا دنیا کا لالچ حق کی آواز بلند کرنے سے مانع ہوتا تھا علمائے یہود کی اس غلط روش کو سخت بری عادت بتلایا گیا کہ جو اپنا فرض منصبی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر چھوڑ بیٹھے تھے اور یہ جانتے بوجھتے ہوئے کہ اگر ہم عوام کو ان کی غلط باتوں پر روک ٹوک اور منع کریں گے تو وہ ہماری بات سنیں گے اور باز آ جائیں گے پھر بھی عوام کے نذرانوں کے لالچ یا ان کے بد اعتقاد ہو جانے کے خوف سے ان مذہبی پیشوا اور علمائے یہود کے دلوں میں حمایت حق کا کوئی داعیہ پیدا نہ ہوتا اور سکوت و مداہنت برتتے اور یہ ان کے عوام بدکاروں کے اعمال بد سے بھی زیادہ اشد جرم تھا۔علماء و مشائخ کی مداہنت کے نتائجعلماء و مشائخ کے اسی سکوت اور مداہنت سے پہلی قومیں تباہ ہوئیں۔ اس لئے امت محمدیہ کو قرآن وحدیث کے بیشمار نصوص میں بہت ہی سخت تاکید و تہدید کی گئی ہے کہ کسی وقت اور کسی شخص کے مقابلہ میں اس فرض امر بالمعروف اور نہی عن المنکر “ کے ادا کرنے سے تغافل نہ برتیں۔ چنانچہ بلیغ اشارہ اس امر کی طرف اس آیت میں بھی ہے کہ مشائخ اور علماء پر لازم ہے کہ عوام کو حق تعالیٰ کی نافرمانی اور دینی اور اخلاقی تباہی سے روکیں اور جہاں تک ممکن ہو قو لی اور عملی کوششیں لوگوں کی اصلاح و نصیحت کے واسطے صرف کریں۔حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ مشائخ اور علماء کی ڈانٹ اور تنبیہہ کے لئے اس سے زیادہ سخت آیت قرآن پاک میں کوئی نہیں ہے۔ حضرت علی نے اپنے ایک خطبہ میں اللہ تعالیٰ کی حمدوث ثنا کے بعد فرمایا۔ لوگو! - [سیاسی شعور کی موت](https://jahazimedia.com/?p=567) - [باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش](https://jahazimedia.com/?p=563) - [کرناٹک میں قیادت کی خاموش جنگ ](https://jahazimedia.com/?p=560) - [حلال ذبیحہ کا مسئلہ](https://jahazimedia.com/?p=552) - [قائد جمعیت مولانا محمود اسعد مدنی صاحب کی تاریخ و  تحسین و تبریک](https://jahazimedia.com/?p=546) - [مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم 2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب](https://jahazimedia.com/?p=542): نئی دہلی، 29 اکتوبر 2025:جمعیت علمائے ہند کی عاملہ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس آج نئی دہلی کے آئی ٹی او واقع مدنی ہال میں جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وقف ترمیمی ایکٹ 2025، مسلمانوں پر دراندازی اور آبادیاتی تبدیلی کے الزامات، فلسطین امن معاہدہ اور ملک کی موجودہ صورتحال میں مسلم اقلیتوں کے خلاف گھیراؤ جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔--- مولانا محمود اسعد مدنی دوبارہ صدر منتخباجلاس میں جمعیت علمائے ہند کے دستور کی دفعہ 52 کے تحت نئے دورِ صدارت کے لیے مولانا محمود اسعد مدنی کو اتفاقِ رائے سے صدر منتخب کیا گیا۔ تمام ریاستی عاملہ کمیٹیوں نے بھی ان کے نام کی سفارش کی۔اس طرح 2024 تا 2027 کے لیے مولانا محمود اسعد مدنی کو صدر منتخب قرار دیا گیا اور انہوں نے آئینی ضوابط کے مطابق عہدہ سنبھال لیا۔--- عاملہ کمیٹی کی اہم تجاویز و بیانات1. - [فلسفے کی تعلیم: روایت نہیں، ضرورت](https://jahazimedia.com/?p=540) - [فلسفے کی تعلیم: روایت نہیں، ضرورت](https://jahazimedia.com/?p=538) - [ایس آئی آر کے تعلق سے بیداررہنے کی ضرورت، غفلت نہ برتی جائے](https://jahazimedia.com/?p=1473) - [سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات](https://jahazimedia.com/?p=1471): جمعیت علمائے ہند اور جماعت اسلامی ہند کے اشتراک سے جواہر لال نہرو بھون نئی دہلی میں 27 ؍جولائی 2024 ءکو بروز ہفتہ ووٹر بیداری کے تعلق سے ایک پروگرام منعقد کیا گیا، جس میں جمعیت علمائے ہند سے مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی جنرل سکریٹری جمعیت علمائے ہند ،مولانا غیور احمد قاسمی آرگنائزر جمعیت علمائے ہند ،مولانا ذاکر قاسمی آرگنائزر جمعیت علمائے ہند ،مولانا وحید الزماں صاحب قاسمی آرگنائزر جمعیت علمائے ہند اور راقم محمد یاسین جہازی نے شرکت کی ریاستی جمعیت علمائے ہریانہ کی طرف سے مولانا محمد یحییٰ کریمی صاحب ناظم اعلیٰ جمعیت علمائے ہریانہ،پنجاب ہماچل پردیش کی قیادت اور مفتی سلیم احمد ساکرس کی نگرانی میں ایک بڑی تعداد نے شرکت کی. - [جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں](https://jahazimedia.com/?p=1469): ایجوکیشن پیسہ کمانے کے لیے نہیں؛ بلکہ تہذیب اور زندگی میں ڈسپلن پیدا کرنے کے لیے ہے. ایسا فارمولہ صرف مذہب اسلام کے پاس ہے، اس لیے سچا پکا مسلمان بنیں. - [توہین رسالت کے مجرمین کے  خلاف کرنے کےضروری کام](https://jahazimedia.com/?p=1467) - [اصلاح معاشرہ کانفرنس لوگائیں گڈا (22مئی 2009ء)کی ایک رپورٹ](https://jahazimedia.com/?p=1465) - [۱۸؍ اور ۲۱؍ سے پهلے نكاح](https://jahazimedia.com/?p=1463) - [پاکستان اور ہندستانی مسلمان](https://jahazimedia.com/?p=1461) - [کیا یورپ واقعی سونے کی چڑیا ہے؟](https://jahazimedia.com/?p=1455) - [عوامی و فرقہ وارانہ اتحاد، توڑنے کی مہم](https://jahazimedia.com/?p=1453) - [کب تک بیٹیاں رشتوں کے انتظار میں بیٹھی رہیں گی؟](https://jahazimedia.com/?p=1451) - [عملی اسلام کہاں ہے……؟](https://jahazimedia.com/?p=1449) - [حکومت اپنے شہریوں کو مشکوک کیوں بنارہی ہے؟](https://jahazimedia.com/?p=1447) - [شہری حقوق کے تحفظ کے لیے SIR کے عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ضروری: مولانا محمد یاسین جہازی](https://jahazimedia.com/?p=1445) - [ظلم کبھی دائمی نہیں ہوتا](https://jahazimedia.com/?p=1443) - [گیروا ندی کے ساحل سے بلند ہوا ذکر و ضرب کا غلغلہ](https://jahazimedia.com/?p=1440): ـپروگرام کے اختتام پر پرتکلف ضیافت کا اہتمام کیا گیا، جس کی میزبانی شاعرِ اسلام و مداحِ خیرالانام مولانا محمد شمیم صاحب نے اپنے مدرسہ میں نہایت خلوص کے ساتھ کی۔ آخر میں ان کا شکریہ ادا کیا گیا، اور جمعیت علمائے بسنت رائے کا وفد رات گئے خستہ حال سڑکوں سے گزرتے ہوئے تقریباً 11 بجے اپنے اپنے گھروں کو پہنچا. - [گنگا کے پار دو دلوں کا ملاپ — ایک یادگار علمی، فکری اور دعوتی سفر کی داستان](https://jahazimedia.com/?p=1437): لوٹ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو! - [دھپرا بستی میں جمعیت علمائے بسنترائے کے زیر اہتمام “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” میں ایس آئی آر پر رہنمائی](https://jahazimedia.com/?p=1433) - [ہندستانی جیل خانوں کے بڑھتے مسائل،توجہ کی ضرورت!](https://jahazimedia.com/?p=1431) - [اقوام متحدہ کی فلسطین رپورٹ میں لرزہ خیز انکشافات](https://jahazimedia.com/?p=1428) - [تعلیمی پالیسی اور مدارسِ اسلامیہ: تحفظ اور اصلاح کا متوازن راستہ](https://jahazimedia.com/?p=1423) - [نیشنل کریکولم فریم ورک فار فاؤنڈیشنل اسٹیج کے حوالے سے چند ضروری خلاصے](https://jahazimedia.com/?p=1421) - [ایک اور ایک دو نہیں گیارہ بنیں: مولانا محمود مدنی صدر جمیعت علمائے ہند](https://jahazimedia.com/?p=1417) - [دھرمستھلا، کراس ووٹنگ اور قیادت کا بحرانکرناٹک کی سیاست آخر کس سمت بڑھ رہی ہے؟](https://jahazimedia.com/?p=1414) - [ووٹر لسٹ کی خصوصی نظر ثانی اور ہماری ذمہ داریاں: صدر جمعیت علمائے بسنت رائے کا ایک ضروری خطاب](https://jahazimedia.com/?p=1411): ترجمہ: نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون کرو اور گناہ و زیادتی کے کاموں میں تعاون نہ کرو۔ (المائدۃ: 2)معزز حاضرینِ مسجد! - [حضرت حسین ہم شرمندہ ہیں](https://jahazimedia.com/?p=1408): ہم شرمندہ ہیں، کیونکہ ہم نے آپ کی پاکیزہ قربانی کو ناپاک کر دیا۔ ہم شرمندہ ہیں، کیونکہ ہم نے آپ کی شہادت کا مذاق بنا دیا۔ ہم شرمندہ ہیں، کیونکہ ہم نے آپ کی آل و اولاد کی عظیم قربانیوں کو ڈرامہ بنا کر اسٹیجوں کی زینت بنا دیا اور لوگوں کی آنکھوں اور کانوں کی تفریح کا سامان مہیا کیا۔ ہم شرمندہ ہیں، کیونکہ ہم نے آپ کی مصیبت کو ایک تہوار اور پارٹی کا رنگ دے کر دیگیں چڑھانی شروع کر دیں۔ ہم شرمندہ ہیں، کیونکہ ہم نے باطل کے سامنے آپ کے ڈٹ جانے اور جم جانے کے عظیم کردار کو سمجھنے کے بجائے محض نمائش بنا کر دنیا کے سامنے پیش کیا۔اے نواسۂ رسولؐ! - [اہل بیت اور اہل سنت](https://jahazimedia.com/?p=1406): اللہ تعالیٰ نے نیکی کے کاموں میں تعاون کرنے کا حکم دیا ہے ، اور گناہ کے کاموں میں مددگار بننے سے منع فرمایا ہے : تَعَاوَنُوْا عَلیَ البِرِّ وَالتَّقْویٰ وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الإثمِ وَالعُدْوَان (المائدۃ :۲) نیکی کے کام میں تعاون کی صورتوں میں ایک نہایت ہی اہم صورت یہ ہے کہ داعیان حق کا ساتھ دیاجائے ؛ کیوں کہ اگر خیر و بھلائی کی دعوت میں بہت سے لوگ شریک ہو جائیں تو اس کا نتیجہ خیز اور ثمر آور ہونا آسان ہو جاتا ہے ، اور دعوت کا کام ایک انفرادی عمل سے بڑھ کر تحریک بن جاتا ہے ، دنیا میں جتنے لوگوں نے خیر و صلاح کی دعوت دی ہے ، ان میں سب سے برگزیدہ ہستیاں وہ تھیں ، جن کے سروں پر اللہ تعالیٰ نے نبوت کا تاج رکھا تھا ، ان ہی ہستیوں کو ہم نبی کہتے ہیں ، انبیاء کا کام بہت دشوار ہوا کرتا تھا ؛ کیوں کہ وہ اس دور میں مبعوث کئے جاتے تھے ، جب سماج میں بگاڑ اپنی انتہا پر پہنچ جاتا تھا اور عمل کے بگاڑ کے ساتھ انسان کی سوچ بھی بگڑ جاتی تھی ، یہاں تک کہ وہ بری باتوں کو اچھی بات ، تاریکی کو روشنی اور رات کو دن سمجھنے لگتے تھے ، ان کو اس غلط موقف سے ہٹانے اور صحیح راستہ پر لانے کے لئے بڑی محنتوں اور ریاضتوں سے گزرنا پڑتا تھا ، علمی بصیرت ، کردار کی پاکیزگی ، تفہیم کی صلاحیت اور سب سے بڑھ کر خیر خواہی اور درد مندی کا غیر معمولی جذبہ، یہ سب مل کر حالات کو بدلتے تھے ؛ اسی لئے انبیاء کے رفقائے عالی مقام کا بڑا اونچا مقام ہے ۔قرآن مجید نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مخلص ساتھیوں، حضرت یوشع علیہ السلام کے فرماں بردار سپاہیوں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ثابت قدم حواریوں کا اسی حیثیت سے ذکر کیا ہے، رسول اللہ ﷺ پر چوں کہ سلسلۂ نبوت ختم کر دیا گیا ،آپ ﷺ کی نبوت کسی ایک گروہ ، علاقہ، نسل اور خاندان کے لئے نہیں تھی؛ بلکہ پوری دنیائے انسانیت کے لئے تھی؛ اس لئے آپ کو نسبتاً زیادہ مخلص ، جاں نثار، صاحب ِبصیرت ، عالی حوصلہ ، جذبۂ ایمانی سے سرشار ، مصیبتوں اور آزمائشوں کی آگ سے گزرنے اور طوفان سے ٹکرانے کی صلاحیت رکھنے والے معاونین وانصار عطا فرمائے گئے ؛ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے خود قرآن مجید میں ان کی تعریف وتوصیف فرمائی، اور پیغمبر اسلام ﷺ کی زبانِ حق ترجمان سے ان کے لئے مژدۂ حق سنایا گیا ، رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ ۔نبی کے علاوہ کسی کی شخصیت معصوم نہیں ہوتی ، اس میں صحابہؓ اور اهل بیت بھی شامل ہیں ؛ بلکہ یہ بھی ہوا کہ جس بات کا ارتکاب نبی کے شایان شان نہیں تھا ، من جانب اللہ صحابہ سے اس کا ارتکاب کرایا گیا ؛ تاکہ اُمت جن واقعات سے دو چار ہو سکتی ہو ، اس کا حل اس کے سامنے آجائے ؛ اسی لئے اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ جس شخص نے بھی بحالت ایمان رسول اللہ ﷺ کا دیدار کیا اور ایمان ہی پر اس کی موت ہوئی ، وہ صحابی ہے ، اور ہر صحابی عادل اور عنداللہ مغفور ہے،صحابہؓکی عظمت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دو بار فرمایا کہ میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو ، اللہ سے ڈرو ، ان سے محبت میری محبت کی دلیل ہے اور ان سے بغض مجھ سے بغض رکھنا ہے : اللّٰه اللّٰه فی أصحابی، لا تتخذوھم غرضاً من بعدي ، من أحبھم فبحبي أحبھم ، ومن أبغضھم فببغضي أبغضھم (ترمذی ، حدیث نمبر: ۳۸۶۲) بعض روایتوں میں یہ بھی ہے کہ آپ نے اپنے تمام صحابہؓ کو ستاروں کے مماثل قرار دیا ہے : أصحابي کالنجوم بأیھم اقتدیتم اھتدیتم (جمع الفوائد ، حدیث نمبر: ۸۵۵۴)اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہر صحابی کو اللہ تعالیٰ نے اپنی خوبیوں کے اعتبار سے اُمت کے لئے مشعل راہ بنایا ہے ، اگرچہ یہ روایت سند کے اعتبار سے حد درجہ ضعیف ہے ؛ بلکہ بعض حضرات نے موضوع (من گھڑت) قرار دیا ہے ؛ لیکن بعض اہل فن جیسے : امام احمدؒ کے نزدیک دوسری روایات سے مطابقت کی وجہ سے مضمون کے اعتبار سے اس کو معتبر مانا گیا ہے ۔ (المعتبر فی تخریج احادیث المنھاج والمختصر:۴۸)پھر یوں تو تمام ہی صحابہ آپ کے برگزیدہ رفقاء اور اُمت کے لئے مرکز محبت اورلائق احترام ہیں؛ لیکن صحابہ میں بھی فرق مراتب ہے ، خلفاء راشدین سب سے افضل ہیں ، یہاں تک کہ امام ابو حنیفہؒ نے حضرت ابو بکرؓ وعمرؓ کی فضیلت کے قائل ہونے اور حضرت عثمانؓ و علیؓ سے محبت رکھنے کو اہل سنت والجماعت کا شعار قرار دیا ہے، اسی طرح ایمان لانے کے اعتبار سے جن لوگوں نے شرفِ سبقت حاصل کیا، ان لوگوں کا خصوصی درجہ ہے ، جن کو قرآن نے ’’سَابِقُوْنَ اوّلُوْنَ ‘‘(التوبۃ : ۱۰۰) کہا ہے ، ان میں اُم المؤمنین حضرت خدیجہ ، حضرت ابو بکر، حضرت عثمان غنی ، حضرت علی اور حضرت زید بن حارثہ-- رضی اللہ عنہم -- شامل ہیں ، پھر وہ صحابہؓ ہیں جو مدینہ ہجرت کرنے سے پہلے مشرف بہ ایمان ہوئے ، ان ہی میں مہاجرین حبشہ بھی ہیں ، پھر بدری صحابہؓ ہیں ، جنھوں نے جان ہتھیلی پر رکھ کر حق وباطل کے اس پہلے معرکہ میں شرکت کی، رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا : یہ بارگاہ ربانی کے وہ مقبول بندے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا : آج کے بعد تم سب مغفور ہو ، (بخاری ، حدیث نمبر: ۹۰۴۸) اس کے بعد ان صحابہؓ کا نمبر آتا ہے ، جو ۶؍ھ میں صلح حدیبیہ کے موقع سے بیعت رضوان میں شریک ہوئے ، اس وقت صورت حال ایسی تھی کہ ظاہری اسباب کے اعتبار سے اگر جنگ ہوتی تو ان میں سے کوئی فرد شاید بچ نہیں پاتا ؛ اسی لئے بعض صحابہؓ نے اس بیعت کو موت پر بیعت قرارد دیا ہے ، (بخاری ، حدیث نمبر: ۴۱۶۹) اس واقعہ کے دو سال بعد فتح مکہ کا معرکہ پیش آیا، اور جوق درجوق لوگ ایمان لائے،بحیثیت مجموعی ان کو آخری درجے میں رکھا گیا ہے ۔بعض دوسری حیثیتوں سے بھی صحابہؓ کے درمیان فرق مراتب پایاجاتا ہے ، جیسے اُمور قضاء میں حضرت علیؓ کو ، فقہ میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓکو ، تفسیر میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ کو، اور حدیث میں حضرت ابوہریرہؓ کو خصوصی مقام حاصل ہے، اور اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ تو علوم اسلامی کے تمام ہی میدانوں میں نمایاں حیثیت کی حامل ہیں ، بعض صحابہ کو مخصوص اخلاقی اوصاف میں خصوصی مقام حاصل تھا ، جیسے حضرت ابوبکر صدیقؓ اُمت کے ساتھ رحم اورفتنہ ارتداد کے مقابلہ میں ، حضرت عمرؓ جوش حق اور معاملہ فہمی میں ، حضرت عثمان غنیؓ حیا اورانفاق میں ، حضرت ابو ذر غفاریؓ زہد میں ، حضرت خالد بن ولیدؓ اور حضرت ابو عبیدہؓ جذبۂ جہاد میں ، حضرت سلمان فارسیؓ دعوتِ اسلام میں ، اور شعراء بارگاہِ نبوی حضرت حسان بن ثابتؓ اورحضرت عبداللہ بن رواحہؓ وغیرہ شعروادب کے ذریعہ اسلام اور پیغمبر اسلام کے دفاع میں ؛ اگرچہ ان اوصاف میں دوسرے صحابہ بھی شریک تھے ؛ لیکن ان کو امتیازی حیثیت حاصل تھی ۔اسی طرح فضیلت کا ایک اہم سبب رسول اللہ ﷺ سے قرابت ہے ، یوں تو مکہ کے اکثر خاندانوں میں آپ کی رشتہ داریاں تھیں اور بنو اُمیہ اور بنو ہاشم دو بڑے قبائل تھے ، جن میں باہم کافی رشتہ داریاں تھیں ، خود آپ کے دو داماد حضرت عثمان غنیؓ اور حضرت ابو العاصؓ بنو اُمیہ سے تھے ؛ لیکن بنو ہاشم اور بنو مطلب سے آپ کی قربت سب سے بڑھ کر تھی ، انھوں نے اسلام اور پیغمبر اسلام کی نصرت و حمایت میں سب سے زیادہ حصہ لیا، اور دین حق کے لئے سب سے زیادہ آزمائشوں اور ابتلاؤں کو برداشت کیا ، یہاں تک کہ بنو ہاشم جب دامن اسلام میں نہیں آئے تھے ، اس وقت بھی انھوں نے رسول اللہ ﷺ کی مکمل پشت پناہی کی ، شعب ابی طالب میں بائیکاٹ کا جو تکلیف دہ واقعہ پیش آیا ، اس میں بھی بنوہاشم آپ کے ساتھ رہے ، اورآپ کا ساتھ دینے کی وجہ سے وہ بھی اس آزمائش سے دوچار کئے گئے ، اللہ کا جو فیصلہ ہو وہ تو پورا ہو کر ہی رہتا ہے ؛ لیکن ظاہری اسباب کے لحاظ سے اگر بنو ہاشم مشکلات اور مصیبت کی ان گھڑیوں میں آپ کے ساتھ نہیں ہوتے تو آپ کا تیرہ سال تک مکہ مکرمہ میں قیام کرنا دشوار ہوتا ؛ اس لئے بحیثیت قبیلہ وخاندان بنو ہاشم کو خاص فضیلت حاصل ہے ؛ چنانچہ حضرت واصلہ بن اسقعؓ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کنانہ کو ، کنانہ میں سے قریش کو ، قریش میں سے بنو ہاشم کو اور بنو ہاشم میں سے مجھ کو منتخب فرمایا ، (مسلم عن ابی عمار ، حدیث نمبر: ۲۲۷۶) رسول اللہ ﷺتک بعض لوگوں کی کچھ بات پہنچی جو آپ کو ناگوار گزری ، آپ منبر پر چڑھے ، دریافت فرمایا : میں کون ہوں ؟ صحابہؓ نے عرض کیا : آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : میں عبداللہ بن عبدالمطلب کا بیٹا محمد ہوں ، اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو مجھے سب سے بہتر مخلوق میں رکھا ، قبائل کو پیدا فرمایا تو مجھے سب سے بہتر قبیلے میں رکھا ، ان کو مختلف گھروں میں بانٹا تو مجھے سب سے اچھے گھرانے میں رکھا ، تو میں گھرانے کے اعتبار سے بھی اور اپنی ذات کے اعتبار سے بھی تم سب میں بہتر ہوں : أنا خیر کم بیتا وخیرکم نفسا (مسند احمد عن عباد ، حدیث نمبر: ۱۷۸۸) اس لئے بنو ہاشم کو ایک خاص فضیلت حاصل ہے ، اور انھیں بعض خصوصیات نبوی میں شامل کیا گیا ہے ، جیسے انبیاء کے لئے صدقہ حرام ہے ، اور بنو ہاشم کے لئے بھی آپ نے صدقہ کو منع فرمادیا ، پھر بنو ہاشم میں آپ کی اولاد اطہار اور ازواج مطہرات کا خاص درجہ ہے ، ازواج مطہرات کی آپ سے قربت اور آپ کے مشن کو کامیاب کرنے کے لئے ان کی قربانیاں نیز آپ کے علوم کی نشر و اشاعت میں ان کا حصہ محتاج بیان نہیں ہے ، وہ پوری اُمت کی مائیں ہیں ، خود ارشاد خداوندی ہے کہ نبی اہل ایمان کے لئے ان کی اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں ، اورنبی کی تمام ازواج مطہرات پوری اُمت کی واجب الاحترام مائیں ہیں : ’’ اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَاَزْوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمْ‘‘ (الاحزاب:۶) رسول اللہ ﷺسے جو درود شریف منقول ہیں ، ان میں عام طور پر تو آل اطہار کو شریک فرمایا گیا ہے ، جیسے درود ابراہیمی’ ’اللّٰھم صل علی محمد وعلیٰ آلہ‘‘ لیکن بعض درودوں میں آپ کی اولاد اطہار کے ساتھ ساتھ ازواج مطہرات کو بھی شامل کیا گیا ہے، جیسے : اللّٰھم صلی علیٰ محمد وأزواجہ وذریتہ (بخاری عن ابی حمید ساعدی ، حدیث نمبر: ۳۳۶۹)آپ کے اہل بیت میں براہِ راست جو حضرات شامل تھے ، حضرت عائشہؓ کی روایت میں ایک واقعہ نقل کیا گیا ہے ، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرت فاطمہ ، حضرت علی ، حضرت حسن اور حضرت حسین -- رضی اللہ تعالیٰ عنہم -- تھے ، (مسلم ، حدیث نمبر : ۲۴۲۴) نیز حضرت عمر بن ابی سلمہؓ سے روایت ہے کہ جب آپ ﷺ پر اہل بیت سے متعلق یہ آیت نازل ہوئی : اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًا (الاحزاب: ۳۳) تو آپ ﷺ نے حضرت فاطمہؓ، حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کو بلایا ، ان کو ایک کپڑا اوڑھایا اور اپنے پیچھے حضرت علی كرم الله وجھه کو رکھا ، اور ان کو بھی کپڑا اوڑھایا اور دُعاء فرمائی : اے اللہ ! - [ہماری نسل نو کے ایمان و تعلیم کے لیے فرشتے نہیں،رسول نہیں ،دہلی مُمبئی کے علما نہیں ، بلکہ ہمیں خود آنا ہوگا](https://jahazimedia.com/?p=1403): پروگرام کے اختتام پر مفتی قاضی عبد الرحمن قاسمی نے تمام شرکاء، علماء، ذمہ داران اور بالخصوص خواتین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں تعاون کرنے والے تمام افراد کی خدمات کو سراہا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ علاقے میں اصلاحِ معاشرہ اور دینی بیداری کی یہ کوشش آئندہ بھی جاری رہے گی۔قابلِ ذکر ہے کہ اس پروگرام کی مکمل تیاری، رابطہ کاری اور انتظامی ذمہ داری مفتی قاضی عبد الرحمن قاسمی نے انجام دی، جنہوں نے مقامی ذمہ داران اور عوام کو ساتھ لے کر اس پروگرام کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ جبکہ پروجیکٹر اور تکنیکی انتظامات کی ذمہ داری محمد اسماعیل صاحب اور محمد فرقان صاحب نے بحسن و خوبی انجام دی۔بعد ازاں مولانا عرفان صاحب مظاہری نے دعا خوانی کرائی اور یہ پروگرام اختتام پذیر ہوا . - [گاؤں گاؤں بیداری پروگرام سے جنرل سکریٹری جمعیت علمائے گڈا کا حیات افروز پیغام](https://jahazimedia.com/?p=1400) - [خطرے میں شہریوں کی آزادی و حقوق](https://jahazimedia.com/?p=1398) - [مختصر واقعہ شہادت حضرت حسین رضی اللہ عنہ](https://jahazimedia.com/?p=1396): حضرت علیؓ نے کوفہ کو اپنا دارالخلافہ قرار دیا تھا ۔ اس لیے وہاں ان کے حامی بہت زیادہ تھے۔حضرت علی کی شہادت کے بعد لوگوں نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔ آپ کے اعلان خلافت سے اہل شام نے کوفہ پر حملہ کا ارادہ کیا اور دونوں فوجوں کا مدائن میں سامنا ہوا، لیکن قبل از جنگ حضرت حسن نے خلافت سے دستبرداری پر صلح کرلی ۔اور حضرت امیر معاویہ کو بادشاہ تسلیم کرلیا گیا۔حضرت امیر معاویہؓ کے انتقال کے بعد کوفیوں نے یزید کو اپنا خلیفہ تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور حضرت حسین کو لکھا کہ آپ تشریف لائیے ۔ ہم آپ کا ساتھ دیں گے۔ ادھر یزید نے حاکم مدینہ ولید بن عتبہ کو لکھا کہ وہ یزید کے لیے حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے بیعت لیں ، جب قاصد کے ذریعے یہ خبر ان تک پہنچائی ، تو انھوں نے کہا کہ مجھ جیسا آدمی خفیہ بیعت نہیں کرسکتا ، جب بیعت عام ہوگی تو میں بھی آجاوں گا۔ اور یہ کہہ کر مدینہ سے مکہ چلے آئے اور کوفیوں کے خطوط کے پیش نظر پہلے اپنے چچا حضرت مسلم بن عقیل کو بیعت کے لیے بھیجا ۔ جب حضرت مسلم وہاں پہنچے تو حالات کو سازگار پایا اور اٹھارہ ہزار کوفیوں نے حضرت حسین کے نام پر آپ کے ہاتھ پر بیعت کی، جس کی وجہ سے انھوں نے حضرت حسین کو لکھ دیا کہ آپ تشریف لائیں ، یہاں کے حالات سازگار ہیں۔ خط پاکر حضرت حسین رضی اللہ عنہ سفر کی تیاری کرنے لگے حالاں کہ روانگی کی خبر سن کر حضرت عبد اللہ ابن عباسؓ ،حضرت عبداللہ ابن جعفرؓ اور دیگر حضرات نے یہی مشورہ دیا کہ عراق والے دغاباز ہیں۔ آپ وہاں جانے کا ارادہ ترک کردیجیے؛ لیکن حضرت حسین رضی اللہ عنہ پھر بھی نکل پڑے۔مکہ سے روانگی کے راستے میں مقام صفاح پر مشہور شاعر فرزدق سے ملاقات ہوئی تو ان سے وہاں کے حالات پوچھے جانے پر ان کاجواب تھا کہ ان کے دل آپ کے ساتھ ہیں؛ مگر تلواریں بنی امیہ کے ساتھ ہیں۔نواسہ رسول کی آمد کی خبر سن کر اہل عراق بہت زیادہ پرجوش ہوگئے۔ یہ جوش دیکھ کر حاکم عراق عبیداللہ ابن زیاد کی سخت گیری شروع کردی ، جس سے اہل کوفہ ڈر گئے اور حضرت مسلم ابن عقیل کا ساتھ چھوڑرتے چلے گئے، یہاں تک کہ آپ جب کوفہ کی مسجد میں پہنچے ، تو اٹھارہ رہزار میں سے صرف تین آدمی آپ کے ساتھ رہ گئے تھے۔ پھر بالآخر آپ کو شہید کردیا گیا۔زرود یا ثعلبیہ نامی مقام پر مسلم بن عقیل کی شہادت کی خبر ملی، تو آپ نے واپسی کا ارادہ فرمالیا ، مگر ان کے رشتہ داروں کی ضد کی وجہ سے پھر عا زم سفر ہوگئے۔قادسیہ سے تھوڑا آگے بڑھے تو والی عراق عبید اللہ بن زیاد کے عامل حصین بن نمیرتیمی کی طرف سے حر بن یزید حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا راستہ روکنے کے لیے ایک ہزار فوج لے کر آگئے ، دونوں میں گفت و شنید ہونے کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ اس راستہ کو اختیار کریں گے جو نہ کوفہ جاتا ہو اور نہ مدینہ۔اور حر اپنی فوج کے ساتھ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ ساتھ رہا اور کہیں جانے دینے سے راستہ روکے رکھا، بالآخر ۲؍ محرم الحرام ۶۱ ہجری مطابق ۲؍ اکتوبر ۶۸۰ ء کو عبیداللہ بن زیاد کی طرف ایک خط آیا جس میں یہ لکھا تھا کہ حضرت حسین اور ان کے ساتھیوں کو کہیں جانے مت دو اور ایک ایسی جگہ اترنے پر مجبور کرو جو چٹیل میدان ہو ، پانی کا انتظام نہ ہو ، غرض وہاں کوئی بھی وسائل حیات میسر نہ ہو۔ چنانچہ حر نے اس خط پرعمل کرتے ہوئے مقام کربلا پر اترنے پر مجبور کردیا۔۳ ؍ محرم کو عمرو ابن سعد ،ابن زیاد کے حکم سے چار ہزار اور بروایت دیگر چھ ہزار فوج لے کر یہاں پہنچ گیا اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے آنے کا سبب معلوم کیا ، تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیتے ہوئے کوفہ والوں کی طرف سے بھیجے گئے دعوتی خطوط دکھائے اور کہا کہ میں کوفہ والوں کے بلانے پر آیا ہوں۔لیکن اگر میرا آنا گوارا نہیں ہے ، تو میں لوٹ جانے کے لیے تیار ہوں۔یہ بات عمرو بن سعد نے عبیداللہ بن زیاد کو بتائی ، تو اس نے لکھا کہ پنجہ میں پھنسنے کے بعد نجات پانا چاہتا ہے، اس لیے حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں پر سختیاں بڑھا دو۔ معاملہ کے سلجھانے کے لیے حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے عمرو بن سعد کے ساتھ کئی خفیہ ملاقاتیں کیں ،جن میں آپ رضی اللہ عنہ نے تین صورتیں پیش کیں کہ (۱) جہاں سے میں آیا ہوں مجھے وہیں لوٹ جانے دو۔(۲) مجھے خود یزید سے اپنا معاملہ طے کرنے دو۔(۳) مجھے مسلمانوں کی کسی سرحد پر نکل جانے دو۔اس مضمون پر مشتمل ایک خط عمرو بن سعد نے عبیداللہ بن زیاد کو لکھا ۔ اس خط کی اس کے مشیر شمر ذی الجوشن نے مخالفت کی اور کہا کہ قبضہ میں آئے شخص کو جانے دیں گے تو وہ عزت و قوت حاصل کرلیں گے اور آپ کمزور ہوجائیں گے۔ چنانچہ عبیداللہ بن زیاد نے شمر کے مشورہ پر عمل کرتے ہوئے شمر کو ہی ایک خط دے کر کربلا بھیجا جس کا مضمون یہ تھا کہ اگر حضرت حسین رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہمارے حوالے ہوجائیں، تو لڑائی نہ کی جائے ، ورنہ وہ جنگ کے لیے تیار رہیں۔۱۰؍ محرم۶۱ ھ مطابق ۱۰؍ اکتوبر ۶۸۰ ء کو ایک طرف سے عمرو بن سعد فوج لے کر نکلا ،ادھر حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے حامیوں کی صفیں قائم کیں۔ ادھر سے پانچ ہزار فوج تھی جب کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ کل ۷۲؍ آدمی تھے۔جب صفیں تیار ہوگئیں تو حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے فوجوں کے سامنے نہایت پرجوش تقریر کی ، جس میں انھوں نے کہا کہ میرا حسب و نسب یاد کرو، میں کوں ہوں؟ کیا میں تمھارے نبی کا نواسہ نہیں ہوں؟ کیا سید الشھدا حضرت حمزہ میرے چچا نہیں تھے؟ کیا تم نے رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان میرے بارے میں نہیں سنا کہ الحسن والحسین سیدا شباب اہل الجنۃ؟، سنو ، ذرا غور کرو کہ کیا تم اس پیشانی کو زخمی کروگے جس کو بارہارسول خدا چوما کرتے تھے، کیا ان آنکھوں کو بینائی سے محروم کروگے ، جنھوں نے رسول اللہ کا دیدار کیا ہے، یہ میرے سر پر پگڑی دیکھوسرور کائنات کی ہے ، کیا تم اسے خاک و خون میں غلطاں کروگے، میرے ہاتھ میں یہ تلوار حیدر کرار کی ہے، کیا تم اس سے مقابلہ کروگے۔ بہر کیف حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی کسی بات کا ان پر اثر نہیں ہوا اور عمرو ابن سعد نے پہلا تیر چلاتے ہوئے جنگ کاآغاز کردیا۔ایک ایک کرکے فدائے حسینی شہید ہوگئے ، یہاں تک کہ خاندان نبوت کے ایک ایک چراغ جام شہادت نوش کرتے چلے گئے ، سب سے پہلے علی اکبر شہید ہوئے پھر حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے بیٹے حضرت قاسم نے جام شہادت پیا۔ عین لڑائی کے دوران حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے یہاں ایک بچے کی پیدائش ہوئی ۔ آپ رضی اللہ عنہ کان میں اذان دینے کے لیے آگے بڑھے ہی تھے کہ ایک تیر آیا اور اس نومولود بچے کو زخمی کر شہید کرگیا۔ آپ نے وہ تیر حلق سے نکالا تو خون کا فورا پھوٹ پڑا، خون کو چلو لے کر آپ نے آسمان کی طرف اچھالتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ائے اللہ! - [جمعیت علمائے بسنت رائے کا بارھواں ’عوامی بیداری پروگرام‘ سمری میں کامیابی کے ساتھ منعقد؛ نوجوانوں کی فکری و تعلیمی تربیت پر زور](https://jahazimedia.com/?p=1393) - [گیارھواں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام میں مدنی مسجد ہوئی نورانی](https://jahazimedia.com/?p=1390) - [حضرت عبد الرحمن بن زبیر القرضی اور حضرت تمیمہ بنت وہب (میاں بیوی) رضی اللہ عنہما کے کھدبۃ الثوب کا مکمل واقعہ](https://jahazimedia.com/?p=1383): حضرت رفاعہ قرظی رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی تمیمہ بنت وہب رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی، تو انہوں نے عبدالرحمن بن زبیر قرظی رضی اللہ عنہ سے نکاح کر لیا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ تمیمہ ایک سبز رنگ کی اوڑھنی اوڑھے ہوئے آئیں اور انہوں نے اپنے نئے شوہر کی مار پیٹ کی شکایت کی اور حضرت عائشہ کو اپنی جلد پر پڑنے والے نیلے یا سبز نشانات دکھائے۔ چنانچہ جب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور عورتیں ایسے معاملات میں ایک دوسرے کی مدد کرتی ہی ہیں تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: میں نے کبھی ایسا ظلم نہیں دیکھا جیسا مومن عورتوں پر ہوتا ہے! - [نوجوانوں نے لیا ریل کے بجائے ری یل زندگی گزارنے کا عہد](https://jahazimedia.com/?p=1380) - [بنگلہ دیش اور جمعیت علمائے ہند کا تاریخی کردار](https://jahazimedia.com/?p=1377) - [چاۓ پینا تو اک بہانہ ہے](https://jahazimedia.com/?p=1375) - [جمعیت علمائے بسنت رائے کا نواں ”گاؤں گاؤں نوجوانوں اور عوامی بیداری پروگرام“ جمنی کولہ میں کامیابی کے ساتھ منعقد](https://jahazimedia.com/?p=1372) - [نیا ڈیہہ بانکا بہار میں اکابر علمائے کرام کی بہار](https://jahazimedia.com/?p=1369) - [اہلِ مدارس کے لیے تعلیمی ایجوکیشن پالیسیز میں اہم فارمولے](https://jahazimedia.com/?p=1367): حکومت کی جانب سے ہر چند سال بعد ملکی سطح پر تعلیمی جائزے کے حوالے سے ایک جامع رپورٹ اور تعلیمی پالیسی سامنے آتی ہے، جس میں عصری تقاضوں اور موجودہ دور کے بچوں کی نفسیات کے مطابق تدریسی طریقے اور رہنما اصول پیش کیے جاتے ہیں۔ یہ دستاویزات دراصل دنیا کے ممتاز اور انتہائی ماہرینِ تعلیم کے طویل تجربات، گہرے مشاہدات اور غور و فکر کا نچوڑ ہوتی ہیں۔ چنانچہ، اربابِ مدارس اور ذمہ دارانِ تعلیم کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان رپورٹس کا گہرا مطالعہ کریں، ان کے تعمیری پہلوؤں سے فائدہ اٹھائیں اور اپنے اپنے اداروں کے مزاج و ماحول کی مناسبت سے، جہاں تک ممکن ہو، ان مفید فارمولوں کو نافذ العمل کرنے کی کوشش کریں۔اسی سلسلے میں قومی نصابی فریم ورک 2023 (NCF 2023) اور قومی تعلیمی پالیسی کے تحت ایک ایسے طالب علم کا خاکہ پیش کیا گیا ہے جس کی شخصیت کی ہمہ جہت اور متوازن ترقی (Holistic Development) ہوئی ہو۔ اس کے بنیادی نکات اور ان کا عملی مفہوم درج ذیل ہیں:A. - [احوال و کوائف اور تعارف حضرت مولانا مفتی محمد شوکت علی صاحب بھاگلپوری دامت برکاتہم شیخ الحدیث : دار العلوم سعادتِ دارین ستپون ، ضلع : بھروچ ، گجرات](https://jahazimedia.com/?p=1365): ایک قابل ذکربات یہ ہے کہ۱۴۰۴؁ھ کے وسط میں مدرسہ مظاہرعلوم سہارنپور کے قضیۂ نامرضیہ کے بعد ، حضرت اقدس مفتی محمود حسن گنگوہی نور اﷲ مرقدہٗ حالات سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے ساؤتھ افریقہ چلے گئے تھے ، اور قریب ڈیڑھ سال تک وہیں تشنگانِ راہِ سلوک کو ہدایت و معرفت کا جام پلاتے ، اور علوم و معارف کا دریا بہاتے رہے ، ڈیڑھ سال بعد غالباً اواخر ذی الحجہ ۱۴۰۵؁ھ میں واپسی ہوئی ، دیوبند تشریف لائے ، اربابِ شوریٰ دار العلوم دیوبند ، اور حضرت مہتمم صاحب کی درخواست پر خلوت گاہ قاسمیؔ چھتہ مسجد میں مستقل قیام منظور فرماکر ، اصلاح و تربیت کا سلسلہ پھر سے شروع فرمادیا ، دیکھتے ہی دیکھتے چھتہ مسجد کی پرانی بہاریں پھرسے لوٹ آئیں ، مہمانوں کی آمدو رفت ، حلقۂ ذکر،اصلاحی ، تربیتی ، روحانی خصوصی مجالس اور عصرو عشاء بعد کی عمومی مجالس کی بہاریں روز افزوں ہوگئیں ، بندہ بھی عصرو عشاء بعد کی مجلسوں میں شریک ہوکر علمی سوالات کرنے لگا ، اور حضرت سے اتنا مانوس ہوگیا کہ : کئی بار تو مناظرانہ اندازِ گفتگو تک کی نوبت آجاتی، حضرت کوئی بات فرماتے تو میں عرض کرتا کہ : سُلّم میں ایسا لکھاہے ، حضرت اُس کا جواب دیتے تو میں پھر عرض کرتاکہ : حضرت شرح عقائد میں ایسا لکھاہے، کبھی کسی اور کتاب کا حوالہ دے کر اِشکال کرتا ، حضرتِ والا انتہائی شفقت و محبت سے اِس قدر آسان انداز میں جواب مرحمت فرماتے کہ : پوری بات سمجھ میںآجاتی، حضرتِ والا نے اپنے اندازِ ظریفانہ و دلبرانہ سے میرا دل ایسا موہ لیاکہ : ایک دومہینے کے اندر بندہ حضرت والا پر بدل و جان فریفتہ و گرویدہ ہوگیا ، اِس دوران حضرتِ والا نے میرا نام ہی ’’ٹانٹ والا‘‘ رکھ دیا ، پھر ایک دِن خود ہی فرمایا : ارے جانو ہو! - [بھارت فرقہ پرستی اور تعصب کی تباہی کے دہانے پر](https://jahazimedia.com/?p=1363) - [یو پی کے علمائے کرام کا جھارکھنڈ کےجامعۃ الہدی میں استقبال](https://jahazimedia.com/?p=1360) - [بے نقاب ہوتا ہندوتو کا چہرہ](https://jahazimedia.com/?p=1358) - [نجات کے حصول کے لئے تین چیزوں پر عمل کرنے کی ضرورت](https://jahazimedia.com/?p=1356): ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جامع مسجد سجور اور مسجد ابوبکر صدیق جواکھر میں ممتاز عالم دین مولانا سرفراز احمد قاسمی کا خطاب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بھاگلپور 14 جون (پریس ریلیز)آج مسلمان پریشان ہے،در در کی ٹھوکریں کھارہاہے،مشکلات کا شکار ہے،چاروں جانب مسائل سے گھرا ہوا ہے ،ارد گرد مسائل کا انبار ہے،مسلمان ان سے نجات حاصل کرنے اور انکے حل کے لئے سرگرداں ہے،ہم نجات کی تلاش میں ہیں،چھٹکارے اور نجات کے راستے تلاش کر رہے ہیں لیکن نجات کی راہیں کیا ہیں؟یہ کہاں ملے گی؟نجات کا حصول کیسے ہوگا؟ اسکا طریقہ کار کیاہو؟ قرآن وشریعت میں یہ ساری رہنمائی اور اسکا حل پوری تفصیل کے ساتھ موجود ہے،سوال یہ ہے کہ پھر ہم اسلامی تعلیمات اور قرآنی ہدایات کو چھوڑکر دوسری طرف نجات کیوں تلاش کررہے ہیں؟ان خیالات کا اظہار ملک کے ممتاز عالم دین اور معروف صحافی مولانا سرفراز احمد قاسمی جنرل سکریٹری کل ہند معاشرہ بچاؤ تحریک حیدرآباد نے اپنے خطاب کے دوران کیا،وہ جامع مسجد سجور اور مسجد ابوبکر صدیق میں اجتماع سے خطاب کررہے تھے،انہوں نے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کی جس انداز میں تربیت اور ان کی اصلاح فرمائی،اس کی مثال تاریخ میں کہیں اور نہیں ملتی،یہ صرف اسلام ہی خصوصیت ہے،اسلام ایک ایسا واحد مذہب ہے جس نے تربیت اور ٹریننگ کے بعد صحابہ کی ایسی جماعت تیار کی جو زندگی کے ہر شعبے اور موڑ پر رہنما اور قیامت تک آنے والی انسانیت کے لیے مشعل راہ ہے،ایک حدیث کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ حضرت عقبہ ابن عامر رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ یا رسول اللہ نجات کس میں ہے؟ نجات کے حصول کا طریقہ کیا ہے اور نجات کہاں ملے گی؟مین نجات حاصل کرنا چاہتا ہوں،ذخیرہ حدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم سے اگر کوئی دنیا کا بھی سوال کرتا تو آپ ہمیشہ ایسی تعلیم دیتے جس کی بنیاد پر وہ دین کی طرف مائل ہوجاتا تھا،ایسا نہیں تھا کہ کوئی ہم سے دنیا کا راستہ پوچھے تو دنیا ہی کا راستہ بتاؤں،ایک مرتبہ حضرت حکیم ابن حزام تشریف لائے اورعرض کیا اے اللہ کے رسول! - [جمعیت علمائے ہند کا 6 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ](https://jahazimedia.com/?p=1354) - [جمعیت علمائے بسنت رائے کے گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کے سلسلے میں مفتی محمد نظام الدین کا سمری جامع مسجد میں جمعہ کا خطاب، مشاورتی نشست میں 20 جون کو عوامی بیداری پروگرام کا فیصلہ](https://jahazimedia.com/?p=1350) - [جمعیت علمائے بسنت رائے کا آٹھواں ”گاؤں گاؤں نوجوانوں اور عوامی بیداری پروگرام“ لیتھا میں کامیابی کے ساتھ](https://jahazimedia.com/?p=1348) - [رحلت نبوی ﷺ: تاریخ بہ تاریخ لمحہ بہ لمحہ](https://jahazimedia.com/?p=1343): "اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ الْأَعْلَى"(اے اللہ! - [علماء عوام کے دروازے پر: گاؤں بیداری پروگرام کے سلسلے میں جمنی کولہ میں مشاورتی نشست، 16 جون کی تاریخ طے](https://jahazimedia.com/?p=1340) - [جنود ربانی کے مقاصد اور مناصب](https://jahazimedia.com/?p=1336): مقامِ قائم مقامِ جنرل: تہران. کابل. - [تحریکِ ریشمی رومال: معاونین و ہمدردان کی ایک تاریخی فہرست](https://jahazimedia.com/?p=1332) - [مردم شماری میں حصہ لینا قومی ومذهبی فریضه](https://jahazimedia.com/?p=1330) - [اقتدار کی منتقلی سے حکمرانی کے امتحان تککرناٹک میں نئی قیادت کے سامنے سیاسی استحکام اور سماجی توازن کا چیلنج](https://jahazimedia.com/?p=1328) - [وندے ماترم کو لازمی قرار دینا بنیادی حقوق اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ](https://jahazimedia.com/?p=1326): آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے مغربی بنگال حکومت کی جانب سے ریاست کے سرکاری اسکولوں اور سرکار سے تسلیم شدہ دینی مدارس میں طلبا و طالبات کے لیے صبح کی اسمبلی میں وندے ماترم کے تمام بندوں کی قرأت کو لازمی قرار دینے کے فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس نوٹیفکیشن کو فوری طور پر واپس لیا جائے، یا کم از کم مسلم طلبا و طالبات کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے ایک پریس بیان میں کہا کہ کسی بھی طالب علم کو اس کے مذہبی عقائد کے خلاف کوئی کلمہ یا نغمہ پڑھنے پر مجبور کرنا نہ صرف دستور ہند کے بنیادی حقوق، بالخصوص آرٹیکل 19، 25 اور 28(3) کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے Bijoe Emmanuel v. - [جمعیت علمائے بسنترائے کی گاؤں گاؤں بیداری مہم جاری موکل چک میں ساتواں’’بیداری پروگرام‘‘ کا کامیاب انعقاد](https://jahazimedia.com/?p=1324) - [جمعیت علمائے بسنت رائے کے زیر اہتمام “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” کے لیے افراد سازی کے مقصد سے تربیتی نشست کا انعقاد](https://jahazimedia.com/?p=1321) - [جمعیت علمائے بسنترائے کا چھٹا "گاؤں گاؤں بیداری پروگرام" سانکھی میں کامیابی کے ساتھ منعقد](https://jahazimedia.com/?p=1319) - [بھاگلپور و اطرافِ بھاگلپور کی گمشدہ تاریخ کو منظرِ عام پر لانے کے لیے عظیم الشان سیمینار کی تیاری — دگھی گڈا میں اہم مشاورتی نشستب](https://jahazimedia.com/?p=1315) - [نوجوانوں کو مقصدِ حیات کا پیغام: جہاز قطعہ میں بیداری مہم جاری](https://jahazimedia.com/?p=1312) - [نوجوانوں کی اصلاح اور بیداری وقت کی اہم ضرورت: مفتی محمد نظام الدین قاسمی](https://jahazimedia.com/?p=1306) - [بھارت کو کیا بنانے کی کوشش ہے؟](https://jahazimedia.com/?p=1304) - [دو سادہ نکاح، سنتی طرزِ عمل کی عملی مثال — فضول رسومات کے خلاف بامعنی پیغام](https://jahazimedia.com/?p=1298) - [پچوا قطعہ میں ایمان و شعور کا محاسبہ — “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” کا مؤثر پیغام](https://jahazimedia.com/?p=1287) - [سیرتِ نبویؐ سے عملی وابستگی کی اپیل](https://jahazimedia.com/?p=1285) - [قربانی تقریبا 4300سال پرانی عبادت ہے۔جہاز قطعہ گڈا، جھارکھنڈ میں عید الاضحیٰ کا — دل کش منظر۔](https://jahazimedia.com/?p=1282) - [گوشت خوری اور مختلف مذاهب كی تعلیمات!](https://jahazimedia.com/?p=1280): اسلام نے جہاں انسان کو اپنے کرم سے سرفراز فرمایا ، وہیں بے زبان جانوروں کو بھی اپنی رحمت ِبے کراں سے مالا مال کیا ہے ، اسلام سے پہلے عربوں کے گزر بسر کا ذریعہ یہی جانور تھے ، ان کا دُودھ غذا کا کام دیتا تھا ، ان کی پشت سواری اور بار برداری کا سب سے بڑا ذریعہ تھی ، ان کی تجارت کا دارو مدار ان ہی سواریوں پر تھا ، ان کے چمڑوں سے بھی مختلف کام لئے جاتے تھے ؛ لیکن ان سب کے باوجود جانوروں کے ساتھ ان کا سلوک بڑا بےرحمانہ تھا ، آپ ﷺ نے اس کو منع فرمایا ، جانور کے منھ پر مارنے کی ممانعت کی ، (سنن ابوداؤد ، حدیث نمبر : ۲۵۶۴) لوگ جانوروں کو باہم لڑاتے اور اس کا تماشہ دیکھتے تھے، آپ ﷺ نے اس درندگی کو روکا ، (سنن ابو داؤد ، حدیث نمبر : ۲۵۶۲) جانور کی خوراک اورضروریات کی رعایت کرنے کا بھی حکم دیا ، ایک اُونٹ کو دیکھا کہ اس کا پیٹ پشت سے لگا ہوا ہے ، آپ ﷺنے فرمایا : ان کے معاملہ میں خدا سے ڈرو ، (سنن ابوداؤد ، حدیث نمبر : ۲۵۴۸) آپ ﷺ نے ہدایت فرمائی کہ اگر سر سبز و شاداب موسم میں سفر کرو تو آہستہ چلاؤ اور جانور کو اس سے فائدہ اُٹھانے کا موقع دو ، اور قحط کا موسم ہو تو تیز تیز چلاؤ ، (سنن ابو داؤد ، حدیث نمبر : ۲۵۶۹) آپ ﷺنے اس بات کی بھی تلقین کی کہ جو جانور جس کام کے لئے ہے ، اس سے وہی کام لو ؛ اس لئے آپ ﷺ نے جانور کو منبر (اسٹیج ) بنانے سے منع فرمایا ، (سنن ابو داؤد ، حدیث نمبر : ۲۵۶۹۵) مطلب یہ ہے کہ جانور کو اسٹیج کے طور پر استعمال نہ کیا جائے ؛ کیوںکہ رُکی ہوئی حالت میں بوجھ کا احساس بڑھ جاتا ہے ، چلتی ہوئی حالت میں کم ہوتا ہے ۔آپ ﷺنے فرمایا کہ آخرت کا ثواب وعذاب جانوروں کے ساتھ اچھے اور بُرے سلوک سے بھی متعلق ہے ، قیامت کے دن ایک عورت محض اس لئے دوزخ میں ڈالی جائے گی کہاس نے ایک بلی کو باندھ رکھا تھا ، اسے اس کا موقع نہیں دیا گیا کہ وہ خود کھائے اوردوڑدھوپ کر اپنی ضرورت پوری کرے ، (بخاری، باب فضل سقی الماء حدیث نمبر: ۲۳۶۵) اور ایک شخص اس بناء پر جنت میں داخل کیا جائے گا کہ اس نے ایک پیاسے کتے کی پیاس دُور کی ہوگی اور اسے پانی پلایا ہوگا ، (حوالۂ سابق، حدیث نمبر: ۲۳۶۳) آپ ﷺ نے فرمایا کہ انسان کی لگائی ہوئی کھیتیوں میں سے چرند و پرند جو کھالیں ، اس پر بھی صدقہ کا ثواب ہے ۔ ( صحیح بخاری، باب فضل الزرع والفرس، حدیث نمبر: ۲۳۲۰) اسلام نے گوشت خوری کو لازم تو نہیں کیا ہے ، مگر اس کی اجازت ضرور دی ہے ؛ لیکن بلا وجہ جانوروں کو مارنے کے درپے ہونا درست نہیں ہے ، کسی صاحب نے ایک گوریا پکڑ رکھی تھی اور اس کی ماں بے قرار تھی، آپ ﷺ نے اس پر ناگواری کا اظہار فرمایا، آپ ﷺ نے فرمایا کہ بلا ضرورت ایک گوریّا کو ذبح کرنے پر بھی جواب دہی ہے ؛ (السنن الکبریٰ للنسائی، باب من قتل عصفوراً بغیر حقہا، حدیث نمبر: ۴۵۱۹) اسی لئے جو چیزیں انسانی کام نہیں آتیں ، آپ ﷺنے ان کو مارنے سے منع فرمایا ، چیونٹی ، شہد کی مکھی اور ھُدْ ھُدْ وغیرہ کے مارنے کی آپ ﷺ نے صراحتاً ممانعت فرمائی، (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر: ۵۷۲۸) کسی جاندار کے جلانے کو آپ ﷺ نے شدت سے روکا ہے ، ایک دفعہ لوگوں نے ایسی جگہ چولہا سلگایا ، جہاں چیونٹی کے بِل تھے ، آپ ﷺنے چولہا بجھانے کا حکم دیا ، (سنن ابی داؤد، باب فی قتل الذر، حدیث نمبر: ۵۲۶۸)خود حدیث میں ایک پیغمبر کا ذکر ہے ، جن کے حکم سے چیونٹیاں جلائی گئی تھیں ، اسی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب فرمایا ۔ (صحیح مسلم ، حدیث نمبر : ۲۲۴۱)بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ اسلام نے گوشت خوری کی اجازت دے کر بے رحمی کا ثبوت دیا ہے ، ہمارے بعض ناواقف ہندو بھائیوں کے یہاں تو اسلام نام ہی گوشت خوری کا ہے ، اس سلسلہ میں اول تو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ ہندوستانی مذاہب کے سوا دُنیا کے تمام مذاہب میں گوشت خوری کی اجازت دی گئی ہے اور گوشت کو ایک اہم انسانی غذا تسلیم کیاگیا ہے ، ہندوستانی نژاد مذاہب میں بھی حقیقت یہ ہے کہ سوائے ’’ جین مذہب‘‘ کے ، تمام مذاہب میں گوشت خوری کا جواز موجود تھا ، بودھ مذہب میں بھی گوشت کھایا جاتا تھا ، بعد میںانھوں نے اہنسا کا تقاضا سمجھا کہ گوشت خوری ترک کردی جائے ، اس لئے منع کردیا گیا ، آج کل ہندو بھائیوں کے یہاں یہ بات مشہور ہوگئی ہے کہ ان کے یہاں گوشت خوری سے منع کیا گیا ہے ؛ لیکن یہ محض اپنے مذہب اور اپنی تاریخ سے ناواقفیت ہے ، خود ویدوں میں جانوروں کے کھانے پکانے اور قربانی کا تذکرہ موجود ہے، رگ وید میں ہے : اے اندر ! - [جھپنیاں بستی میں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کا دوسرا پروگرام منعقد](https://jahazimedia.com/?p=1276) - [عید قرباں](https://jahazimedia.com/?p=1273) - [یوم عرفہ](https://jahazimedia.com/?p=1271): اللہ اللہ یہ عرفات کا لق و دق ویرانہ، جو نہ انسان کے بسنے کے لائق ہے نہ حیوان کے اور جہاں سال بھر انسانی آبادی تو الگ رہی، پرندہ بھی پر نہیں مارتا، دم کے دم میں آن کی آن میں کیا سے کیا ہوجاتا ہے، دن بھر کے لیے سینکڑوں نہیں، ہزاروں کا نہیں، لاکھوں کی آبادی کا ایک عظیم الشان شہر آباد ہوجاتا ہے، ان میں بوڑھے بھی ہوتے ہیں اور جوان بھی، بچے بھی اور عورتیں بھی، شہ زور پہلوان بھی اور لب مرگ کمزور و ناتواں بھی، گورے بھی کالے بھی، سانولے بھی پیلے بھی، مشرقی بھی مغربی بھی، جنوبی بھی شمالی بھی، عالم بھی عامی بھی، امیر بھی فقیر بھی، عابد بھی و زاہد بھی، فاسق و فاجر بھی اور یہ سارا مجمع کیوں آپ ہی آپ اکٹھا ہو رہا ہے؟ کوئی دلچسپ تماشہ ہونے والا ہے؟ کوئی بزم مشاعرہ ہے؟ کوئی ہنسنے ہنسانے والی نقل دکھائی جائے گی؟ کوئی گھوڑ دوڑ ہے؟ پولو ہے، ہاکی، فٹ بال کا میچ ہے؟ رستم دوران گاما پہلوان کی کشتی کا دنگل ہے؟ ہالی ووڈ کی کوئی نئی فلم آئی ہوئی ہے؟ کوئی مشہور ایکٹرس بےحجابی کے ساتھ اسٹیج پر نمودار ہونے والی ہے؟ تجارتی مصنوعات کی نمائش ہونے والی ہے؟ ڈربی سویپ ۔(sweep)۔ہے؟ گھوڑوں اور ہاتھیوں کا بازار لگنے والا ہے؟ کسی کانفرنس کسی کانگریس کا افتتاح ہے؟ کسی لیڈر کا لکچر ہو نے والا ہے؟ کسی درگاہ پر عرس ہورہا ہے؟ کسی دیوی دیوتا کی پوجا ہونے والی ہے؟ کوئی گنگا اشنان ہے؟ کوئی کمبھ میلا ہے؟ بجز ایک اللہ کی عبادت کے، بجز ایک اللہ کے حکم کی تعمیل کے، بجز ایک اللہ کے نام پر مرمٹنے کی تمنا کے اور کون سی شے ان ہزارہا بندوں کو، ان لاکھوں کلمہ گویوں کو یہاں اس تپتی ہوئی ریت میں گھسیٹ کر لائی ہیں؟ مجمع دنیا میں اور بہت سے ہوتے رہتے ہیں۔ میلے ٹھیلے خدا معلوم کتنے ہوتے رہتے ہیں، کھیل تماشوں میں ٹھٹ کے ٹھٹ ہر جگہ لگ جاتے ہیں لیکن اللہ کے نام پر جمع ہونے والوں کا لبیک لبیک کی رٹ لگا کر اللہ کا نام جپنے والوں کا، اور محض بن دیکھے مولا و مالک کے آگے رونے اور گڑگڑانے جھکنے اور گرنے والوں کا اتنا بڑا مجمع دریاؤں اور سمندروں کو پارکر کے پہاڑوں کو پھاند کرکے دنیا کے طول و عرض میں کہیں، اور وقت کے کسی حصہ میں کبھی ہوتا ہے؟ دعائیں، ان اللہ والوں کی نہ قبول ہوں گی تو اور کس کی ہوں گی؟ بےحساب رحمتوں اور بیشمار برکتوں کا نزول ان کے سروں پر نہ ہوگا تو کس پر ہوگا؟ مشہور ہے کہ آدم علیہ السلام کی توبہ اسی مقام پر اور آج ہی کے دن قبول ہوئی تھی، یہ روایت صحیح ہو یا نہ ہو لیکن بہرحال بنی آدم اپنے گناہوں کے بخشوانے کے لیے آج سے بہتر تاریخ اور یہاں سے بہتر زمین اور کونسی ڈھونڈ کر لائیں گے؟ دنیا کی کوئی قوم، روئے زمین کا کوئی مذہب، اس خالص توحید و خالص خدا پرستی کے عظیم الشان مظاہرہ کا نمونہ پیش کرسکتا ہے؟ کسی نے کبھی پیش کیا، کوئی آج پیش کررہا ہے؟ کوئی آئندہ کبھی پیش کرے گا؟ بتوں کے بندے بے شمار، حرص و ہوا کے پرستار لاتعداد، سیر و تماشہ کے سودائی بےگنتی لیکن دنیا آئے، پارکوں اور سبزہ زاروں کی سیر کرنے والی دنیا آئے، بازاروں اور نمائش گاہوں کی گشت لگانے والی دنیا آئے، عجائب خانوں اور چڑیا خانوں میں وقت گزارنے والی، دنیا آئے اور بیسویں صدی عیسوی میں ایک بار ذرا اللہ کی فوج کے ان سپاہیوں کو، اپنے رب کے ان مستوں کو اور دیوانوں کو دیکھے کہ اس چلچاتی دھوپ میں، تپتی ہوئی ریت کے اوپر ننگے سر اور پسینہ میں شرابور، مٹی میں اٹے ہوئے اور خاک میں لتھڑے ہوئے کس کس طرح جھک جھک کر اور گر گر کر، رو رو کر، گڑ گڑا کر اپنے ان دیکھے مولا و مالک کے آگے مانگنے اور بھیک مانگنے کے لیے کن کن آرزؤں اور تمناؤں کے ساتھ ہجوم شوق و اشتیاق کے ساتھ، اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے ہیں! - [تاریخی مساجد کو مندر میں بدلنے کی مہم](https://jahazimedia.com/?p=1268) - [بلاک بسنترائے میں جمعیت علما کا گاؤں گاؤں بیداری پروگرام شروع، کیتھ پورا سے باضابطہ آغاز](https://jahazimedia.com/?p=1265) - [جھارکھنڈ کے ضلع گڈا میں واقع جمعیت علمائے بسنت رائے کی اراکینِ منتظمہ کا اہم مشاورتی اجلاس جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ میں کامیابی کے ساتھ منعقد’’جمعیت علمائے ہند ہی کیوں؟‘‘، فکری و دستوری تربیت، حالاتِ حاضرہ، نوجوانوں کی رہنمائی اور گاؤں گاؤں بیداری مہم پر جامع غور و خوض](https://jahazimedia.com/?p=1258) - [کمال مولا مسجد مقدمہ:حالیہ عدالتی فیصلے نے تاریخ، انصاف اور بھارتیہ سیکولرازم کے تئیں بھروسہ کو ختم کر دیا: ایم.ڈبلیو.انصاری -آئی پی ایس (ریٹائرڈ۔ڈی.جی)](https://jahazimedia.com/?p=1251) - [ہندوستانی مسلمان اورمناسب حکمت عملی کی ضرورت!](https://jahazimedia.com/?p=1249) - [فتنوں کے سدِّ باب میں علماءِ حق کا کردار: امت کی بقا کا ضامن](https://jahazimedia.com/?p=1247): آج جبکہ امتِ مسلمہ مختلف قسم کے فتنوں، گمراہیوں اور خود ساختہ دعووں کی زد میں ہے، ایسے وقت میں اہلِ حق علماءِ کرام کا بروقت اقدام نہ صرف قابلِ تحسین ہے بلکہ پوری امت کے لیے باعثِ اطمینان بھی ہے۔ دہلی کے علاقۂ خوریجی میں جس انداز سے ایک گمراہ کن فتنہ سر اٹھا رہا تھا، وہ اگر ابتدا ہی میں نہ روکا جاتا تو نہ جانے کتنے سادہ لوح مسلمان اس کے دامِ فریب میں گرفتار ہوجاتے۔ الحمد للہ! - [جامع مسجد مولانا کمال الدین دھار کے بارے میں چند ضروری تاریخیں](https://jahazimedia.com/?p=1245) - [قربانی میں اسلامی اصلاحات](https://jahazimedia.com/?p=1241): اسلام میں قربانی کا جو طریقہ رائج ہے، وہ وہی طریقہ ہے، جس کی شروعات سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہوئی ہے۔ اس کی مختصر تاریخ یہ ہے کہایک دن ابراہیم علیہ السلام نے اسماعیل علیہ السلام سے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ تمہیں ذبح کررہا ہوں۔ اب تم بتاؤ کہ تمہاری کیا رائے ہے؟ اسماعیل علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ مجھے ثابت قدیم پائیں گے۔ جب ابراہیم علیہ السلام نے اسماعیل علیہ السلام کو منہ کے بل ذبح کرنے لیے لٹایا تو خدا کی طرف سے آواز آئی: اے ابراہیم! - [کمال مولا مسجد کو مندر قرار دینے کا فیصلہ](https://jahazimedia.com/?p=1238) - [انصاف پسند اور مظلوم برادرانِ وطن کے ساتھ مل کر جدوجہد](https://jahazimedia.com/?p=1235) - [زہریلی تاریخ نگاری کا تدارک](https://jahazimedia.com/?p=1233) - [ملک معاشی ایمرجنسی کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے؟](https://jahazimedia.com/?p=1230) - [اسلام کی بنیاد دوچیزوں پر قائم ہے،عقیدہ توحید،اور نبوت ورسالت:مولاناخالدسیف اللہ رحمانی](https://jahazimedia.com/?p=1227) - [کیا مرغا بکرا عورتیں ذبح کر سکتی ہیں؟](https://jahazimedia.com/?p=1224) - [حج و عمرہ میں اسلامی اصلاحات](https://jahazimedia.com/?p=1222): انسانوں میں حج و عمرہ کا تصور بہت قدیم ہے، تاریخ کی شہادت کے مطابق اس کی شروعات حضرت آدم علیہ السلام نے کی ہے۔ ابن جوزی فرماتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام نے ہندستان سے پیدل چالیس حج کیے تھے۔ اقناع میں ہے کہ سبھی انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام نے حج کیے ہیں۔ عثمان ابن ساج کہتے ہیں کہ مجھے سعید نے بتایا کہ حضرت آدم علیہ السلام نے ستر پیدل حج کیے ہیں ۔ وماقالہ ابن الجوزی اخرجہ الحاکم عن الثوری۔ و اول من حج آدم علیہ السلام۔ حج من الھند ماشیا اربعین سنۃ۔ و قیل ما من نبی الا حج، کذا فی الاقناع، و فی القریٰ لقاصد ام القریٰ، عن عثمان بن ساج قال: آخبرنی سعید ان آدم علیہ السلام حج علیٰ رجلیہ سبعین حجۃ ماشیا۔ الیٰ آخر الحدیث۔ خرجہ الازرقی۔ (حجۃ الوداع وجزء عمرات النبی ﷺ، ص۲۴)لیکن حضرت آدم علیہ السلام کے حج کا کیا طریقہ تھا، اس کی کوئی تفصیل نہیں ملتی۔ البتہ حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل علیہما السلام نے تعمیر بیت اللہ کے بعد جو حج فرمایا تھا، وہی حج سابقہ امتوں میں جاری و ساری تھا۔چنانچہ کلام پاک میں ارشاد ہے کہ وَأَذِّن فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ یَأْتُوکَ رِجَالًا وَعَلَی کُلِّ ضَامِرٍ یأْتِینَ مِن کُلِّ فَجٍّ عَمِیقٍ (27)لِّیشْھَدُوا مَنَافِعَ لَھُمْ وَیذْکُرُوا اسْمَ اللَّہِ فِي أَیَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ عَلیٰ مَا رَزَقَھُم مِّن بَھِیمۃِ الْأَنْعَامِ ، فَکُلُوا مِنْھَا وَأَطْعِمُوا الْبَاءِسَ الْفَقِیرَ (28) ثُمَّ لْیَقْضُوا تَفَثَھُمْ وَلْیُوفُوا نُذُورَھُمْ وَلْیطَّوَّفُوا بِالْبَیتِ الْعَتِیقِ (الحج)اور لوگوں میں حج کا اعلان کرو، کہ وہ تمھارے پاس پیدل آئیں، اور دور دراز سے راستوں سے سفر کرنے والی اونٹنیوں پر سوار ہوکر آئیں جو (لمبے سفر سے) دبلی ہوگئی ہوں۔ تاکہ وہ ان فوائد کو آنکھوں سے دیکھیں جو ان کے لیے رکھے گئے ہیں، اور متعین دنوں میں ان چوپایوں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نے انھیں عطا کیے ہیں، چنانچہ (مسلمانو) ان جانوروں میں سے خود بھی کھاو اور تنگ دست محتاج کو بھی کھلاو۔پھر (حج کرنے والے ) لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنا میل کچیل دور کریں ، اور اپنی منتیں پوری کریں اور اس بیت عتیق کا طواف کریں۔(آسان ترجمہ قرآن)حضرت ابراہیم علیہ السلام سے حج و عمرہ کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا ، وہ قبل از اسلام بھی جاری رہا اور بعد از اسلام بھی جاری ہے۔ زمانہ جاہلیت کے لوگ بھی حج و عمرہ کیا کرتے تھے اور یہ ان کے دین کے بنیادی فریضے میں شامل تھے۔ اور حج کا صحیح طریقہ وہی سمجھا جاتا تھا، جو ابراہیمی طریقہ تھا۔لیکن انھوں نے حج و عمرہ کے ابراہیمی طریقے میں کچھ بدعتیں شامل کر دیتی تھیں۔ اسلام نے ان تمام بدعتوں کا خاتمہ کردیا اور ابراہیمی طریقے کو دوبارہ بحال کیا۔ ذیل کی سطروں میں ہم انھیں بدعتوں اور اسلامی اصلاحات کا جائزہ لیں گے۔بدعت نمبر ۱۔ وقوف عرفہ سے پرہیزقبیلہ عرب کے قریش خانہ کعبہ کے متولی تھے اوراس تولیت کی بدولت اپنے آپ اور اپنے خاندان کو اعلیٰ خاندان سمجھتے تھے، جس کی وجہ سے انھوں نے اپنے لیے یہ عقیدہ بنالیا تھا کہ قریش حدود حرم سے باہر نہیں جاسکتا ۔ میدان عرفہ چوں کہ حدود حرم سے باہر ہے، لہذا وہ عرفہ کا وقوف نہیں کرتے تھے، بلکہ اس کے بجائے وہ مزدلفہ میں قیام کرتے تھے ۔ بعثت سے پہلے کا واقعہ ہے کہ عرفہ کے دن حضرت جبیر ابن مطعم رضی اللہ عنہ کا اونٹ گم ہوگیا ، وہ اسے ڈھونڈھنے کے لیے عرفہ گئے۔ وہاں انھوں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا ، تو تعجب ہوا کہ یہ قریشی شخص عرفہ کے دن یہاں کیوں ہے، ان کا بیان ہے کہ عَنْ أَبِیہ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: أَضْلَلْتُ بَعِیرًا لِي، فَذَھَبْتُ أَطْلُبہ یَوْمَ عَرَفَۃَ، فَرَأَیْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا بِعَرَفۃَ، فَقُلْتُ: ھَذَا وَاللہِ مِنَ الحُمْسِ فَمَا شَأْنُہُ ھَا ھُنَا ( صحیح بخاری، کتاب الحج، باب الوقوف بعرفۃ)’’میرا اونٹ کھو گیا۔ عرفہ کے دن میں اُسے تلاش کرتا ہوا گیا تو میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میدان عرفات میں کھڑے ہیں۔ میں نے خیال کیاکہ بخدا یہ تو قریش میں سے ہیں، پھر یہ یہاں کیا کررہے ہیں؟‘‘اس بدعت کی اصلاح کرتے ہوئے قرآن کریم نے اعلان کیا کہ ثُمَّ أَفِیضُوا مِنْ حَیثُ أَفَاضَ النَّاسُ ( البقرۃ، آیۃ نمبر 199، پارہ ایک)اس کے علاوہ (یہ بات بھی یاد رکھو کہ ) تم اسی جگہ سے روانہ ہو جہاں سے عام لوگ روانہ ہوتے ہیں۔ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی اکرم ﷺ نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ میدان عرفات سے دور کھڑے تھے ۔ آپ نے ان لوگوں کو اطلاع بھجوائی کہ تم اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی وراثت پر ہو، لہذا حج طریق ابراہیمی کے مطابق کرو۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ صَفْوَانَ عَنْ خَالٍ لہَُ یُقَالُ لہُ یَزِیدُ بْنُ شَیْبَانَ قَالَ: کُنَّا فِي مَوْقِفٍ لَنَا بِعَرَفۃَ یُبَاعِدُہُ عَمْرٌو مِنْ مَوْقِفِ الْإِمَامِ جِدًّا فَأَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ: إِنِّي رَسُولُ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَیْکُمْ یَقُولُ لَکُمْ: 171قِفُوا عَلَی مَشَاعِرکُمْ فَإِنَّکُمْ عَلَی إِرْثِ من إِرْثِ أَبِیکُمْ إِبْرَاھِیمَ عَلَیہِ السَّلَامُ187 . - [حج و عمرہ میں اسلامی اصلاحات](https://jahazimedia.com/?p=1218): عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ صَفْوَانَ عَنْ خَالٍ لہَُ یُقَالُ لہُ یَزِیدُ بْنُ شَیْبَانَ قَالَ: کُنَّا فِي مَوْقِفٍ لَنَا بِعَرَفۃَ یُبَاعِدُہُ عَمْرٌو مِنْ مَوْقِفِ الْإِمَامِ جِدًّا فَأَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ: إِنِّي رَسُولُ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَیْکُمْ یَقُولُ لَکُمْ: 171قِفُوا عَلَی مَشَاعِرکُمْ فَإِنَّکُمْ عَلَی إِرْثِ من إِرْثِ أَبِیکُمْ إِبْرَاھِیمَ عَلَیہِ السَّلَامُ187 . - [قربانی میں اسلامی اصلاحات](https://jahazimedia.com/?p=1215): قربانی کی تاریخقرآن کی گواہی کے مطابق اس روئے زمین پر کوئی بھی قوم ایسی نہیں گذری ہے، جس میں قربانی کی روایت نہ رہی ہو۔ اس سے یہ دعویٰ کرنا خلاف واقعہ نہیں ہوگا کہ قربانی کی رسم اتنی ہی پرانی ہے، جتنی کی خود نوع انسانی کی تاریخ۔ ارشاد خداوندی ہے۔وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکًا لِّیَذْکُرُوا اسْمَ اللہِ عَلٰی مَا رَزَقَہُمْ مِّن بَہِیْمَۃِ الْاَنْعَامِ (الحج، آیۃ: 34)اور ہم نے ہر اُمت کے لیے قربانی کا طریق مقرر کردیا ہے تاکہ جو مویشی چارپائے خدا نے ان کو دیے ہیں (ان کے ذبح کرنے کے وقت) ان پر خدا کا نام لیں۔کلام پاک میں ایک دوسری جگہ سدنا حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں: ہابیل اور قابیل کی قربانیوں کا قصہ مذکور ہے۔وَاتْلُ عَلَیْہِمْ نَبَاَ ابْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ، اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدھِمَا وَلَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَر، قَالَ لَاَقْتُلَنَّک، قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللہُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ (المائدۃ، آیۃ: 27)اور (اے محمد) ان کو آدم کے دو بیٹوں (ہابیل اور قابیل) کے حالات (جو بالکل) سچے (ہیں) پڑھ کر سنا دو کہ جب ان دونوں نے خدا (کی جناب میں) کچھ نیازیں چڑھائیں تو ایک کی نیاز تو قبول ہو گئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی (تب قابیل ہابیل سے) کہنے لگا کہ میں تجھے قتل کروں گا اس نے کہا کہ خدا پرہیزگاروں ہی کی (نیاز) قبول فرمایا کرتا ہے ۔آدم کے بیٹے ہابیل بھیڑ بکریاں چراتا تھا اور قابیل کسان تھا۔ ان دونوں نے اللہ کے حضور قربانی پیش کی۔ ہابیل نے کچھ جانور پیش کیے، جبکہ قابیل نے اناج نذر کیا۔ ہابیل کی قربانی قبول ہو گئی مگر قابیل کی قبول نہیں ہوئی۔ اُس زمانے میں قربانی کی قبولیت کی علامت یہ ہوتی تھی کہ آسمان سے ایک شعلہ آتا تھا اور وہ قربانی کو جلا کر بھسم کر دیتا تھا۔ اوریہی قبولیت کی علامت ہوتی تھی۔ جس کی قربانی پر آسمانی آگ نازل نہیں ہوتی تھی، اس کی قربانی نامنظور ہوتی تھی۔ اس تعلق سے ایک حوالہ ملاحظہ کیجیے۔قد تکلمنا علی ھذہ القصۃ، في سورۃ المائدۃ، في التفسیر بما فیہ کفایۃ، وللہ الحمد.ولنذکر ھنا ملخص ما ذکرہ أئمۃ السلف في ذلک، فذکر السدي، عن أبي مالک، وأبي صالح، عن ابن عباس، وعن مرۃ، عن ابن مسعود، وعن ناس من الصحابۃ: أن آدم کان یزوج ذکر کل بطن بأنثی الأخریٰ، وأن قابیل أراد أن یتزوج بأخت ھابیل، وکان أکبر من ھابیل، وأخت قابیل أحسن، فأراد قابیل أن یستأثر بھا علیٰ أخیہ، وأمرہ آدم علیہ السلام أن یزوجہ إیاھا فأبیٰ، فأمرھما أن یقربا قربانًا۔ وذھب آدم لیحج إلیٰ مکۃ، واستحفظ السماوات علیٰ بنیہ، فأبین، والأرضین، والجبال فأبین، فتقبل قابیل بحفظ ذلک.فلما ذھب قربا قربانھما، فقرب ھابیل جذعۃ سمینۃ، وکان صاحب غنم، وقرب قابیل حزمۃ من زرع من رديء زرعہ، فنزلت نار، فأکلت قربان ھابیل، وترکت قربان قابیل، فغضب، وقال: لأقتلنک حتیٰ لا تنکح أختي، فقال: إنما یتقبل اللہ من المتقین۔ (البدایۃ والنھایۃ، الجزء الاول، باب خلق آدم علیہ السلام، قصۃ قابیل و ھابیل)قربانی کا تصور دیگر مذاہب میںاسلام کے علاوہ دیگر مذاہب میں بھی قربانی کا رواج رہا ہے۔ یہودیوں میں عید فصیح کے موقع پر ایک سالہ بھیڑ کی قربانی کی جاتی ہے اور اس کا گوشت تبرکا آپس میں تقسیم کرتے ہیں، پھر اس کے پچاس دن بعد یوم خمس مناتے ہیں، جس میں سات بھیڑیں یا بیل اور دو دنبے ذبح کرتے ہیں اور ان کا گوشت غریبوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔دین مسیحیت میں بھی قربانی کی جاتی ہے۔ یہ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نام قربانی کرتے ہیں اور خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اسے دفن کردیتے ہیں۔سکھ مذہب میں ہولا کے تہوار کے موقع پر بھیڑ کی قربانی پیش کی جاتی ہے۔ اس قوم کے جھچے دار ایک ہی جھٹکے میں قتل کرکے خون کو جمع کرتے ہیں اور نہنگ گروہ کے سردار کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔ بعض قوموں میں قربانی اتنی افضل اور اہم عبادت قرار دی گئی ہے کہ وہ جانوروں کے ساتھ ساتھ انسانوں کی بھی قربانی اور بلی چڑھانے لگیں، چنانچہ اہل دوما میں انسانی جانوں کو ذبح کرنے کی تاریخ ملتی ہے۔ ہندستان کی غیر مسلم اقوام میں تو اب تک اس کا رواج چلا آرہا ہے، چنانچہ جتنا بڑا مقصد ہوتا ہے، اتنی ہی بڑی قربانی پیش کی جاتی ہے ، حتیٰ کہ کتے بلی وغیرہ کے علاوہ انسانی بچوں اور بڑوں کی بلی دی جاتی ہے۔( تفصیلی مطالعہ کے لیے دیکھیے : المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام، ج:۶، ص؍ ۱۹۸)اسلام کی قربانی کی تاریخاسلام میں قربانی کا جو طریقہ رائج ہے، وہ وہ طریقہ ہے، جس کی شروعات سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہوئی ہے۔ اس کی مختصر تاریخ یہ ہے کہایک دن ابراہیم علیہ السلام نے اسماعیل علیہ السلام سے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ تمہیں ذبح کررہا ہوں۔ اب تم بتاؤ کہ تمہاری کیا رائے ہے؟ اسماعیل علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ مجھے ثابت قدیم پائیں گے۔ جب ابراہیم علیہ السلام نے اسماعیل علیہ السلام کو منہ کے بل ذبح کرنے لیے لٹایا تو خدا کی طرف سے آواز آئی: اے ابراہیم! - [ایسی ہوتی ہے مزاج شناس بیوی](https://jahazimedia.com/?p=1209): قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: هُوَ أَسْكَنُ مَا كَانَ. - [حجۃ الوداع](https://jahazimedia.com/?p=1204): راستہ میں جب ’’وادی روحاء “ پر پہنچے تو حضور ﷺ نے وہاں نماز پڑھی اور یہ فرمایا کہ ستر نبیوں نے اس جگہ نماز پڑھی۔ حضور اقدس ﷺ کا سامان اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہا کا سامان سب ایک اونٹ پر تھا، جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام کے سپردگی میں تھا، جب ” وادی عرج‘‘ میں پہنچے، تو دیر تک یہ حضرات ان کا انتظار فرماتے رہے۔بڑی دیر میں وہ آئے اور کہا کہ اونٹ تو کھویا گیا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کو مارا کہ ایک ہی تو اونٹ تھا، وہ بھی گم کردیا اورحضور ﷺ تبسم فرما کر ارشاد فرمارہے تھے کہ ان محرم کو دیکھو! - [فکر و عمل میں فرقہ واریت کی شمولیت](https://jahazimedia.com/?p=1202) - [مسائل متفرقہ](https://jahazimedia.com/?p=1199) - [مسائل نماز و طواف](https://jahazimedia.com/?p=1197) - [طواف کے ارکان، شرائط، واجبات، مستحبات مکروہات](https://jahazimedia.com/?p=1195) - [طواف کا بیان](https://jahazimedia.com/?p=1193): حضرت عمرؓ نے زمزم کا پانی پیتے ہوئے کہا : یا اللہ! - [مسجد حرام میں نماز پڑھنے کا بیان](https://jahazimedia.com/?p=1191) - [مسجد حرام میں داخل ہونے کے آداب کا بیان](https://jahazimedia.com/?p=1189) - [مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کا بیان](https://jahazimedia.com/?p=1187) - [مباحات احرام کا بیان](https://jahazimedia.com/?p=1185) - [ممنوعات احرام کا بیان](https://jahazimedia.com/?p=1183): ائے ایمان والو! - [عورت کے احرام کا بیان](https://jahazimedia.com/?p=1181) - [تلبیہ کی فضیلت کا بیان اوراحرام کی نماز کا بیان](https://jahazimedia.com/?p=1179): حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تلبیہ پڑھنے والے ، تکبیر کہنے والے جنتی ہیں ۔ جب کوئی بندہ حج میں تلبیہ پڑھتا ہے اور تکبیر کہتا ہے تو اس کو بشارت دی جاتی ہے ۔ کسی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! - [عربی زبان سیکھنے کی اہمیت اور مسلمانوں کی غیر عربی زبانوں کو لاطینی حروف میں لکھنے کے خطرات](https://jahazimedia.com/?p=2107): اے ہماری معزز مسلم اقوام اور بھائیو! - [تدریس کے اصول یا کلیات" (Maxims of Teaching)](https://jahazimedia.com/?p=2105) - [360ڈگری تشخیص کیا ہے](https://jahazimedia.com/?p=2102) - [چھ سات سال کے بچوں کو زبان سکھانے کا طریقہ](https://jahazimedia.com/?p=2099) - [طلبہ اور اساتذہ کے درمیان تدریسی روابط](https://jahazimedia.com/?p=2096): آج ان دنوں میں سے ایک دن تھا جب مجھے لگا کہ ایک استاد کے پاس کم از کم 4 جوڑی ہاتھ اور 3 جوڑی آنکھیں ہونی چاہئیں! - [بچوں کے امتحانات کی چھ جدید شکلیں](https://jahazimedia.com/?p=2092) - [بچوں میں ذوق جمالیات کی افزودگی](https://jahazimedia.com/?p=2089) - [زبان اور تفہیم کے درمیان نفسیاتی ربط](https://jahazimedia.com/?p=2084) - [ابرہم  ہارولڈ میسلو کا تحریکی نظریہ](https://jahazimedia.com/?p=2079): اسلام اور ہمارے اکابر نے بھی زندگی کے مختلف پہلووں پر قابل تقلید افکارو نظریات پیش کیے ہیں؛ لیکن افسوس کہ ہم نے انھیں دنیا کے سامنے اس کی زبان و اسلوب میں پیش نہیں کیا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم دنیا کی افکارو نظریات کے غلام ہوگئے ۔ اس پر افسوس صد افسوس!! - [برونر کا دماغی ترقی کا نظریہ](https://jahazimedia.com/?p=2076) - [بلوم ٹیکسونومی کا نظریہ](https://jahazimedia.com/?p=2073) - [تھورنا ڈائک(Edward Thorndike)  کا قانون تعلیم](https://jahazimedia.com/?p=2070) - [ریس کورس مسجد کو انہدامی نوٹس غیر قانونی اور غیر دستوری ہے: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈبی جے پی حکومتوں کے دور میں مساجد اور مدارس کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں انتہائی تشویشناک ہیں](https://jahazimedia.com/?p=2068) - [تحریک مسجد شہید گنج اور جمعیت علمائے ہند: ایک تاریخی جائزہ](https://jahazimedia.com/?p=2066) - [ آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ](https://jahazimedia.com/?p=2062): ہندستان کے تاریخی شہر حیدر آباد کے اورینٹ پیلس میں آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کا پہلا جلسہ مؤرخہ 7-8/اپریل 1973ئ کو منعقد ہوا، جس میں ملک کی تقریباً تمام اہم شخصیتیں شریک ہوئیں۔ اور انتہائی خوشگوار فضا میں چند ایسے تاریخی فیصلے کیے گئے، جو ملت اسلامیہ کے مستقبل پر گہرا اثر ڈالیںگے۔ ان شائ اللہ! - [تحریک مسجد شہید گنج اور جمعیت علمائے ہند](https://jahazimedia.com/?p=2060): بخدمت جناب سکریٹری صاحب مجلس اتحادملت لاہور! - [آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ](https://jahazimedia.com/?p=2058): ہندستان کے تاریخی شہر حیدر آباد کے اورینٹ پیلس میں آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کا پہلا جلسہ مؤرخہ 7-8/اپریل 1973ئ کو منعقد ہوا، جس میں ملک کی تقریباً تمام اہم شخصیتیں شریک ہوئیں۔ اور انتہائی خوشگوار فضا میں چند ایسے تاریخی فیصلے کیے گئے، جو ملت اسلامیہ کے مستقبل پر گہرا اثر ڈالیںگے۔ ان شائ اللہ! - [ہمارے لیڈر کا انداز تکلم 1947 سے پہلے والا ہے](https://jahazimedia.com/?p=2054) - [ارشاد انصاری: میرے محسن، میرے استاد اور اردو کے خاموش خادم](https://jahazimedia.com/?p=2050): ارشاد انصاری صاحب! - [قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے](https://jahazimedia.com/?p=2041): قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے. - [تحریک مدح صحابہ اور جمعیت علمائے ہند](https://jahazimedia.com/?p=2039) - [تدریس میں ٹیکنالوجی کے استعمال کے فوائد](https://jahazimedia.com/?p=2036) - [بچوں کی تعلیم میں والدین اور کمیونٹی کا کردار](https://jahazimedia.com/?p=2034): آخر میں، ہم اساتذہ والدین اور کمیونٹی سے اپنی توقعات (خاص طور پر بچوں کے اندراج اور حاضری کے حوالے سے) کا اظہار کرتے ہیں، اور ان کی شرکت کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ بال میلے واقعی ایک جشن ہیں جہاں پورا گاؤں اپنے بچوں کی تعلیم میں حصہ لینے کے لیے نکلتا ہے! - [تعلیمی اور انتظامی عہدے داروں کا کردار](https://jahazimedia.com/?p=2032) - [طلبہ اور اساتذہ کا تناسب اور تدریسی وسائل](https://jahazimedia.com/?p=2030) - [بچوں کی نفسیات کے مطابق درس گاہوں کے تعمیری ڈیزائن کی اہمیت](https://jahazimedia.com/?p=2028) - [ابتدائی درجات کے لیے تربیت یافتہ اساتذہ کی اہمیت](https://jahazimedia.com/?p=2026) - [تعلیم و تدریس کے لیے موزوں ماحول کی اہمیت](https://jahazimedia.com/?p=2023): اسکول کے اندرونی عمل (In-School Processes): منصوبہ بندی، ہفتہ وار بحث، میٹنگیں، اور ساتھی اساتذہ کے ساتھ کلاس کا مشاہدہ اور فیڈبیک. - [نیچے اور اوپر کے درجے میں روابط اور تسلسل](https://jahazimedia.com/?p=2020) - [کوٹھاری ایجوکیشن کمیشن](https://jahazimedia.com/?p=2018) - [اصلاح رسوم کمیٹی کی چند مفید تجاویز](https://jahazimedia.com/?p=2016): محترم حضرات و خواتین ..... - [تعلیمی اداروں میں طلبہ کی جسمانی،جذباتی،جنسی تحفظات](https://jahazimedia.com/?p=2013): حفاظتی آلات (مثلاً آگ بجھانے والے آلات) فوری طور پر دستیاب ہونے چاہئیں اور اچھی کام کرنے کی حالت میں برقرار رکھے جانے چاہئیں. - [معذر بچوں کی تدریس میں اساتذہ کا کردار کیا ہونا چاہیے](https://jahazimedia.com/?p=2010) - [معذروں بچوں کے لیے تعلیمی اداروں کا کیا رول ہونا چاہیے](https://jahazimedia.com/?p=2006) - [معذور بچوں کے تعلیمی مسائل، یا دیر سے سیکھنے والے طلبہ کے تدریسی طریقے](https://jahazimedia.com/?p=2001) - [دن کی تنظیم و ترتیب (Organising the Day)](https://jahazimedia.com/?p=1998) - [امتحان کے نتائج کو ریکارڈ میں رکھنا اور تجربات کے لیے مستقبل میں فائدہ اٹھانا](https://jahazimedia.com/?p=1995) - [موثر تدریس کے لیے بچوں کے ردِعمل کے تجزیاتی اصول](https://jahazimedia.com/?p=1993): a. اساتذہ کو اپنے پڑھائے جانے والے بچوں کے প্রতি غیر جانبدار اور کشادہ دل ہونا چاہیے. - [بچوں کے امتحان کے لیے ضروری آلات](https://jahazimedia.com/?p=1991) - [درجہ ایک تا پانچ کے بچوں کے امتحان کے طریقے](https://jahazimedia.com/?p=1986) - [تحریک مدح صحابہ اور جمعیت علمائے ہند](https://jahazimedia.com/?p=1982) - [](https://jahazimedia.com/?p=1979) - [آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے تاسیسی اجلاس کی تجاویز](https://jahazimedia.com/?p=1977): (ب) اس بورڈ کی ایک جنرل کونسل ہوگی جو 151 ارکان پرمشتمل ہوگی اور کنونشن کی اسٹیرنگ کمیٹی ارکان اس کے بنیادی رکن (FOUNDER MEMBER) ہوں گے. - [طلبہ کے امتحانات کے مختلف النوع طریقے](https://jahazimedia.com/?p=1975) - [درس گاہوں کا نفسیاتی ماحول](https://jahazimedia.com/?p=1973) - [کال سنٹر کی ملازمت  !](https://jahazimedia.com/?p=1971): بہر حال کال سنٹرس کی ملازمتوں کو روز گار کا ایک نیا راستہ تصور کیا جارہا ہے اور یقیناً اس سے بہت سے لوگوں کو معاشی فوائد پہنچ رہے ہیں ؛ لیکن اس کے اخلاقی اور دینی نقصانات معاشی فوائدسے بڑھ کر ہیں ؛ اس لئے اس میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہے ! - [ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کے اچھے دن!](https://jahazimedia.com/?p=1969) - [وہی تنظیم قائم رہتی ہے، جو وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے](https://jahazimedia.com/?p=1967) - [تو ہم کہہ دیں گے کہ یہ ملک ہندو اسٹیٹ بن گیا ہے](https://jahazimedia.com/?p=1965): ہمارا ملک سیکولر ہے، ہمارا نظام حکومت سیکولر ہے۔ سیکولرزم کا مطلب ہے کہ حکومت کا کوئی مذہب نہیں ہوگا، سب لوگوں کو اپنی پسند کا مذہب اختیار کرنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تعلیم دلانے کا حق ہوگا۔ سیکولرزم کا مطلب یہ ہے کہ حکومتوں کو مذہبی معاملات سے کوئی تعلق نہ ہوگا؛ لیکن اگر حکومت نے ایسے معاملات میں مداخلت کی، جن کو کہ لوگ اپنے دین کا حصہ سمجھتے ہیں، تو نظام حکومت سیکولر نہ رہے گا۔ اگر ہمارے نجی مذہبی معاملات کو قانون و اکثریت کی طاقت سے بدلنے کی کوشش کی گئی اور حکومت نے قانون ساز اداروں کے ذریعہ اکثریت کے بل پر اس کوبد لنا چاہا، تو سیکولرزم کا مطلب مذہب دشمن حکومت ہوجائے گا۔ اگر ایسی کوئی بڑی تبدیلی کی گئی، تو سیکولرزم کا کوئی مطلب نہ رہے گا ۔اگر ایسا کیا گیا، تو ہم کہہ دیں گے کہ ملک ’’ہندو اسٹیٹ‘‘ بن گیا ہے اور ہمارے مسائل پر نئے سرے سے غور کیا جائے۔ اس سلسلہ میں مداخلت ہمارے بنیادی حق کو توڑنے کے مرادف ہوگی۔ ایک مفاہمت کی بنا پر ہمارے بزرگوں نے کانگریس کی تائید کی ہے، اس کے بعد وہ مفاہمت ختم ہو جائے گی، اس کا اثر دستور کی بنیاد پر پڑے گا ،اس کی ذمہ دار حکومت ہوگی۔ ایسے کچھ لوگوں سے حکومت اپنے مقاصد کو پورا کرائے گی، تو ملک میں بہت خراب حالات پیدا ہوں گے۔ یا درکھو! - [طریقہ تعلیم پر اہل حدیث عالم کا نظریہ](https://jahazimedia.com/?p=1963) - [مذہب اسلام میں انصاف کا نظریہ](https://jahazimedia.com/?p=1961) - [متحدہ قومیت پر اہل حدیث عالم مولانا عبد الوہاب آروی کا نظریہ](https://jahazimedia.com/?p=1959) - [اجلاس اور تجاویز](https://jahazimedia.com/?p=1957) - [تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے خلاصے سے اہم اقتباسات](https://jahazimedia.com/?p=1955): 21.17۔ بہرحال، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ 19 تاریخ کی شام انسپکٹر جنرل پولیس کی جانب سے کوڈ شدہ ٹیلی گرام موصول ہونے کے فوراً بعد حفاظتی اور انسدادی اقدامات نہیں کیے گئے۔ ہم پہلے بھی اس بات کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ شرپسند عناصر کو گرفتار کرنے یا حراست میں لینے کے لیے کوئی احکامات جاری نہیں کیے گئے تھے۔ شہادت کے مطابق احتیاطی طور پر صرف 13 افراد کو پاٹن میں گرفتار کیا گیا۔ ضلع مجسٹریٹ نے تسلیم کیا ہے کہ دوسرے مقامات پر ایسی کوئی احتیاطی گرفتاریاں نہیں کی گئیں، اور اس کی وجہ انہوں نے یہ بیان کی ہے کہ وہ... - [درسی کتابوں کی بنیادی خصوصیات](https://jahazimedia.com/?p=1953) - [درسی کتابیں کیسے تیاری کریں](https://jahazimedia.com/?p=1951): الف۔ نصاب کے دستاویز کی تشکیل (Creation of a syllabus document): نصاب کے رہنما اصولوں، بیان کردہ صلاحیتوں (Competencies)، سیکھنے کے نتائج (Learning Outcomes)؛ موضوع کی نوعیت، تدریس اور تشخیص سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے، نصاب کے دستاویز میں درج ذیل باتیں شامل ہو سکتی ہیں: کسی موضوع کو پڑھانے کے مقاصد، شامل کیے جانے والے مواد کا طریقہ کار (تصور یا خیال)، نصاب کے دستاویز کی ساخت (بطور سوالات، کلیدی تصورات، تجویز کردہ حکمت عملی یا سرگرمیاں)، اور ایسا مواد چننا جو ادراکی اور سماجی و ثقافتی اعتبار سے متعلقہ ہو. - [درسی کتابوں کی ڈیزائننگ کے اصول](https://jahazimedia.com/?p=1947): ب۔ مضامینی اصول (Discipline Principle): درسی کتاب بنانے والوں کو اطلاقی لسانیات (applied linguistics) اور ریاضی کا اچھے سے علم ہونا چاہیے. - [مسئلہ آسام اور جمعیت علمائے ہند](https://jahazimedia.com/?p=1944) - [تدریسی نصابی کتابیں تصنیف کرنے کے زریں نفسیاتی اصول](https://jahazimedia.com/?p=1941): الف) بنیادی مرحلے کے پہلے تین سالوں میں، جو کہ 3 سے 6 سال کی عمر کے لیے ہیں، بچوں کے لیے کوئی تجویز کردہ درسی کتاب نہیں ہونی چاہیے. - [بھارت میں فرقہ وارانہ اتحاد و انتشار کی راہ](https://jahazimedia.com/?p=1938) - [راشٹرواد](https://jahazimedia.com/?p=1934): اسی تسلسل میں وینایک دامودر ساورکر نے 1923ء میں اپنی کتاب Essentials of Hindutva، جسے Hindutva: Who Is a Hindu? - [راشٹرواد (15)۔ جہازی فارمولے](https://jahazimedia.com/?p=1928) - [گاندھی جی اور جمعیت علمائے ہند](https://jahazimedia.com/?p=1924): کانگریس نے 8/ اگست 1942کو انگریزو! - [آپ کس سمت سے نکلیں گے بچاکے دامن](https://jahazimedia.com/?p=1920) - [راشٹرواد (14)۔ ملک دو راہے پر آگے کا راستہ کیا؟](https://jahazimedia.com/?p=1917) - [برطانوی راج کے دوران 1892ء سے 1920ء کے درمیان تیار کیے گئے کیڈسٹرل سرو( Cadastral Survey)اور کھتیان کے بارے میں ایک مختصر تحریر، جسے بی جے پی کا ترمیم کردہ وقف ایکٹ ’’امید‘‘ (UMEED) کے مخفف سے موسوم حالیہ وقف قانون میں نظر انداز کر دیا گیا ہے، جو اس ایکٹ کی سب سے بڑی خامی ہے۔](https://jahazimedia.com/?p=1915) - [ناقابل عفو گناه!](https://jahazimedia.com/?p=1912): ناقابل عفو گناه! - [جماعت اسلامی ہند؛ شاخیں سکڑ رہی ہیں یا قیادت کا دائرہ؟](https://jahazimedia.com/?p=1909) - [شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)](https://jahazimedia.com/?p=1904) - [راشٹر واد(13) قیام پاکستان کی مخالفت کیو ں کی گئی؟](https://jahazimedia.com/?p=1900): آخری اور فیصلہ کن بات! - [راشٹر واد(12) انگریزوں کی وفاداری کے بجائے آزادی کی راہ کیوں اختیار کی گئی؟](https://jahazimedia.com/?p=1898) - [بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ ](https://jahazimedia.com/?p=1896) - [بھارت کو پٹری سے اتارنے کی مہم](https://jahazimedia.com/?p=1893) - [اسلام کا ہمہ گیر نظام حیات](https://jahazimedia.com/?p=1891): پھر ذرا تصور کرو کہ اگر ان میں بادشاہت، اس کے لوازم اور شان و شوکت پیدا ہو جائے، رعایا کو اپنا غلام بنا لیں اور ان پر مسلط ہو جائیں تو ان کا کیا حال ہوگا! - [اسلامی ریاست ایک انسانی ریاست](https://jahazimedia.com/?p=1889): اے فضیلۃ الامام الاکبر، معزز علماء اور بزرگانِ گرامی! - [عرب جمہوریات کا اتحاد](https://jahazimedia.com/?p=1886): - ایک منصوبہ بندی کمیٹی قائم کی جائے... - [راشٹر واد(11)۔لمحوں کی خطا کیا تھی؟---صدیوں کی سزا کیا ہوگی؟](https://jahazimedia.com/?p=1884) - [جمیعت علمائے ہند کی تاریخ](https://jahazimedia.com/?p=1882): جب انگریزوں نے دیکھا کہ مسلمان اور غیر مسلم رہنما آزادی کے حصول کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جدوجہد کی تبلیغ کر رہے ہیں تو وہ پریشان ہو گئے اور انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کے جذبات کو ایک ایسے مسئلے کے ذریعے بھڑکانے کی سازش کی کہ... - [راشٹر واد(10)۔الزام غداری اور وفاداری کا مطالبہ](https://jahazimedia.com/?p=1879) - [حکیم الاسلام کے حکیمانہ جوابات کی رسمِ اجراعلمی و فکری حلقوں میں کتاب کی پذیرائی](https://jahazimedia.com/?p=1875) - [سود كی لعنت اور اس كا علاج](https://jahazimedia.com/?p=1873): Director : Al Mahadul A'ali Al Islami Hyderabad. - [بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ](https://jahazimedia.com/?p=1871) - [کیا پاکستان ہندستانی مسلمانوں کے راشٹرواد پر ایک سوالیہ نشان ہے](https://jahazimedia.com/?p=1869) - [قرآن کتاب تلاوت بھی ہے اور کتاب ہدایت بھی:مفتی سلمان منصور پوری صاحب](https://jahazimedia.com/?p=1867) - [راشٹرواد(8) راشٹرواد کا ہندو ورژن](https://jahazimedia.com/?p=1858) - [تعلیم کے ڈیجیٹل وسائل پر بچوں کے واجبی اور متوازن حقوق](https://jahazimedia.com/?p=1855): آڈیو: سننے کی صلاحیتوں کو بہتر بنائے گا اور زبان کی نشوونما میں مدد کرے گا. - [جبری نظام اور فاشسٹ ملک میں بدل چکا بھارت](https://jahazimedia.com/?p=1853) - [راشٹرواد (7 ) راشٹر کی غلامانہ حیثیت بدلنے کے لیے ہندستان کی شرعی حیثیت کا معاملہ](https://jahazimedia.com/?p=1849) - [راشٹرواد (6) ہندستانیوں کی قومیت کی مختلف تشریحات](https://jahazimedia.com/?p=1844) - [راشٹر واد (5) جمعیت علمائے ہند کے قیام کا پس منظر اور اس کا متحدہ راشٹرواد کا نظریہ](https://jahazimedia.com/?p=1842) - [راشٹرواد (4)۔ متحدہ قومیت کے خلاف فرقہ پرستانہ ذہنیت کے فروغ کے لیے برطانوی حکومت ہند کی سازشیں](https://jahazimedia.com/?p=1838): اسی تسلسل میں وینایک دامودر ساورکر نے 1923ء میں اپنی کتاب Essentials of Hindutva، جسے Hindutva: Who Is a Hindu? - [اردو کے لیے دروازہ کب کھلے گا؟](https://jahazimedia.com/?p=1834) - [راشٹرواد (3) (3) ہندستان کو آزاد کرانے کے لیے متحدہ قومیت کی راہ اختیار کرنا](https://jahazimedia.com/?p=1831) - [راشٹرواد(02) ہندستانی مسلمانوں کا راشٹرواد](https://jahazimedia.com/?p=1828) - [جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کی گاؤں گاؤں مثالی مسجد مہم کی تیسری کڑی سہوڑہ میں](https://jahazimedia.com/?p=1825) - [یمن: ایک صدی سے ہندی مسلمانوں کا تاریخی رشتہ](https://jahazimedia.com/?p=1821) - [راشٹرواد(01)](https://jahazimedia.com/?p=1817) - [دھپرا کی مسجد میں فجر کے بعد اصلاحی نشست، آئندہ بدھ سے مستقل درس قرآن شروع کرنے کا عزم](https://jahazimedia.com/?p=1814) - [اکثریت واد کا بڑھتا دباؤ و رجحان](https://jahazimedia.com/?p=1811) - [بھارت، انسانیت و روحانیت کی تلاش میں](https://jahazimedia.com/?p=1809) ## Pages - [ہمارے بارے میں](https://jahazimedia.com/?page_id=278) - [کتابیں](https://jahazimedia.com/?page_id=276) - [شیئرنگ کے بارے میں](https://jahazimedia.com/?page_id=274) - [قوائد و ضوابط](https://jahazimedia.com/?page_id=190) - [کاپی رائٹس](https://jahazimedia.com/?page_id=187) - [پرائیویسی پالیسی](https://jahazimedia.com/?page_id=3) - [ہوم](https://jahazimedia.com/): ملاحظات مولانا عبدالحمید نعمانی مسلمانوں کے خلاف ،ملک میں کس طرح حالات پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اس کی طرف بہت سے معروف شخصیات کے علاوہ کئی عالمی ادارے بھی واضح اشارے آئے دن کرتے رہتے ہیں، یوپی کے وزیر اعلی، جس میں... - [رابطہ](https://jahazimedia.com/?page_id=83) ## Optional - [Agent (MCP protocol)](websites-agents.hostinger.com/jahazimedia.com/mcp) [comment]: # (Generated by Hostinger Tools Plugin)